Scan the QR code on the poster to become the member of APMSO 🙌
We are delighted to unveil the Official Poster of APMSO’s 48th Foundation Day.
48 Years of Struggle, Leadership & Student Empowerment
📅 11 June 2026
“علم سے عمل تک” ✨
#11JuneComingSoon
ایم کیو ایم فیڈرل بی ایریا سیکٹر کے کارکنان عامر قریشی اور فیصل قریشی کی پھوپھی سلمیٰ یونس،حیدرآباد زون کے ایڈوکیٹ منصور قریشی کے ہم زلف محمد شریف قریشی اور اوباڑوسٹی کے کارکن محمد خالد ملک کی اہلیہ کے انتقال پر بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اظہار افسوس
پاکستان میں کیا ہورہا ہے؟ ملک میں کون خوش ہے؟ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں ہورہا ہے؟ عوام کو انصاف کیوں نہیں مل رہا ہے؟
عمران خان کی بہنوں کی ملاقات کیوں نہیں کرائی گئی؟ کراچی میں سہیل آفریدی کو جلسہ کیوں نہ کرنے دیا گیا؟ PTI کیوں خاموش رہی؟
جین زی سوچے اور سوال اٹھائے۔
ایم کیوایم بلدیہ ٹاؤن، لائنزایریا اوراورنگی ٹاؤن کے کارکنان سےبانی وقائد الطاف حسین کا اظہار تعزیت
دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان، سوگواران کے غم میں برابر کے شریک ہیں، قائد تحریک الطاف حسین
ادریس علوی ایڈوکیٹ اور فرقان احمد کی صاحبزادی کی علالت پر بانی وقائد الطاف حسین کااظہارتشویش
وفاپرست کارکنان وعوام،ادریس علوی اور مناعم فاطمہ کی جلد ومکمل صحت یابی کیلئے خصوصی دعا کریں، قائد تحریک الطاف حسین
صفورا گوٹھ پرجامعہ کراچی شعبہ اسلامک لرننگ کےچیئرمین پروفیسر عارف ساقی پرمسلح گارڈوں کا بہیمانہ تشدد سراسر ظلم ہے
@OfficialMQM اس ظلم کی شدید مذمت کرتی ہے،
اس واقعےمیں ملوث تمام افراد کوبلاتفریق گرفتار کرکےقرار واقعی سزا دی جائے
کاش
پروفیسر حسن ظفر عارف کےقتل پر خاموشی نہ ہوتی
بانی وقائد @AltafHussain_90 بھائی
کے73ویں جنم دن کے موقع پر
پاکستان سمیت دنیابھر میں
#OnePlantForAltafBhai
9 ستمبر تا15 ستمبر
شجر کاری کامحبت بھراتحفہ
آنےوالی نسلوں کوگلوبل وارمنگ سےتحفظ
ملک میں گرین انقلاب کیلئےایک قدم
اورصدقہ جاریہ ہوگا
آئیے!
لگائیں ایک شجر
منائیں 17 ستمبر
ایم کیو ایم فیڈرل بی ایریا سیکٹر کے کارکنان عامر قریشی اور فیصل قریشی کی پھوپھی سلمیٰ یونس،حیدرآباد زون کے ایڈوکیٹ منصور قریشی کے ہم زلف محمد شریف قریشی اور اوباڑوسٹی کے کارکن محمد خالد ملک کی اہلیہ کے انتقال پر بانی وقائد جناب الطاف حسین کا اظہار افسوس
ایم کیوایم کا بانی وقائدجناب الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ کے موقع پر ہفتہ شجرکاری منایا جائے گا
🍀 #OnePlantForAltafBhai
ہفتہ شجرکاری 9 ستمبرسے 15ستمبر تک جاری رہے گی
ہفتہ شجرکاری کا سلوگن ” لگائیں ایک شجر۔۔۔ منائیں 17ستمبر“
17 ستمبر کوبانی وقائد جناب الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ پر تقریبات ہوں گی
ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر مصطفےٰ عزیزآبادی کا وڈیوبریفنگ میں اعلان
وڈیو بریفنگ میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر قاسم علی رضا، ڈپٹی کنوینر ریحان عبادت اور رابطہ کمیٹی کے ارکان ارشد حسین، کاشف زیدی اورحسان بٹ شریک تھے
لندن ……7 ستمبر 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین کی 73 ویں سالگرہ کے موقع پر ہفتہ شجرکاری کااعلان کیاہے اورتحریک کے کارکنوں اورتمام چاہنے والوں سے اپیل کی ہے کہ وہ قائدتحریک الطاف حسین کےجنم دن کے حوالے سے ایک ایک پودالگائیں۔اس ہفتہ شجرکاری کا سلوگن ہوگا ”لگائیں ایک شجر……منائیں 17ستمبر“۔
اس بات کااعلان ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر مصطفےٰ عزیزآبادی نے وڈیوبریفنگ میں کیا۔ وڈیو بریفنگ میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر قاسم علی رضا،ڈپٹی کنوینر ریحان عبادت اوررابطہ کمیٹی کے ارکان ارشدحسین،کاشف زیدی اورحسان بٹ شریک تھے۔
مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہا کہ رابطہ کمیٹی، سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی اور مرکزی سوشل میڈیاٹیم کے فیصلے کے مطابق ایم کیوایم کے کارکنان اورتمام چاہنے والے بانی وقائدجناب الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ کے سلسلےمیں جہاں روایتی طورپر خوشی کا اظہارکرنے کے لئے کیک کاٹیں گے وہیں اس مرتبہ وہ اپنے قائدکے جنم دن کے موقع پر ایک ایک پودا لگائیں اوراپنے قائد کی درازی عمر اورصحت وسلامتی اوران کی جدوجہد کی کامیابی کےلئے دعا کریں۔ پودے لگانا ماحول کی بہتری کے لئے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہفتہ شجرکارکن 9 ستمبر سے 15ستمبر تک جاری رہے گی۔پاکستان کے ساتھ ساتھ اوورسیز یونٹوں میں بھی تحریکی کارکنان بھی پودے لگائیں گے۔ 16ستمبر کوشہید انقلاب ڈاکٹرعمران فاروق کی برسی منائی جائے گی اور 17ستمبر کوبانی وقائدجناب الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ پر تقریبات ہوں گی۔قائد تحریک الطاف حسین کی سالگرہ کے سلسلے میں ہفتہ 19ستمبر کولندن میں اجتماع ہوگا۔
مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہا کہ ہم قائدتحریک الطاف حسین کی سالگرہ نہایت پرامن اندازمیں منائیں گے لہٰذا ہم اسٹیبلشمنٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس موقع پر ہمارے کارکنوں کی پکڑ دھکڑ نہ کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں نثارپہنور، ان کے بیٹے محسن پنہور، فوٹوجرنلسٹ فیصل مجیب، حیدرآباد کے لاپتہ کارکنوں عبدالمجید بھٹی، اقبال آرائیں اورحسنات کوبازیاب کیا جائے، سینئر صحافی تحسین عباسی اوردیگراسیرکارکنوں کوفی الفور رہاکیاجائے اوران کے خلاف قائم جھوٹے مقدمات ختم کئے جائیں۔
2/2
میرے علاوہ عمران خان تحریک انصاف کے سربراہ ہیں، جوکہ ایک بڑی عوامی پارٹی ہے۔ لہٰذامیں سمجھتا ہوں کہ موجودہ صورتحال میں فوج کو عمران خان سے بات کرنا چاہیے، عمران خان کو جیل سے رہا کرنا چاہیے، وہ ملک کو موجودہ نازک اورسورش زدہ صورتحال سے نکالنے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ عوام جن جن رہنماؤں کوسپورٹ کرتے ہیں انہیں عوام میں جانے دیا جائے، وہ شہرشہرجائیں اور رائے عامہ کودرست سمت کی طرف لے جائیں اوراس کے لئے عوامی حمایت عمران خان کےپاس ہے اور الطاف حسین کے پاس ہے۔لہٰذا فوری طور پرعمران خان کوجیل سے نکالاجائے، مجھ پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی ختم کریں اور میری ایم کیوایم کو سیاسی سرگرمیوں کی کھلی اجازت دی جائے۔
مقتدرحلقوں کوسوچنا چاہیے، ملک کے ہرعلاقے میں جوتنازعات چل رہے ہیں وہاں عوام کی نبض پر ہاتھ رکھنے کی ضرورت ہے۔ بلوچستان میں عوامی سطح پر پڑھے لکھےنوجوان آگے آئے تھے، ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے دیگر بلوچ نوجوان خواتین کے ساتھ ملکر بلوچ یکجہتی کمیٹی بنائی تھی جن میں کوئی سردار نہیں تھا اور وہ عوامی ایشوز کو اٹھارہی تھیں لیکن ان کوقید کردیا گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ بلوچستان میں جو جنگی صورتحال چل رہی ہے اس کاحل گولی نہیں ہے کیونکہ ہر عمل کاردعمل ہوتا ہے، جب آپ کسی گیند کو جتنی شدت سے دیوار پرماریں گے تو نیوٹن کے سائنسی قانون کے مطابق وہ اتنی ہی شدت سے پلٹ کر آئےگی۔ لہٰذا بلوچستان میں فوج کشی کا عمل بندکریں۔ میں کئی بارجرنیلوں کو کہہ چکاہوں کہ میرے پاس صورتحال کاحل موجود ہے۔ ریاست کو اپنی پالیسی کوری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح جہاں جہاں فوجی آپریشن جاری ہیں انہیں فوری روک دیا جائے اور عوامی مینڈیٹ رکھنے والی جماعتوں اوران کے لیڈروں کے کردار کو تسلیم کیا جائے اورانہیں اپنا کردار ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔ مصنوعی لوگوں سے حالات میں بہتری کبھی نہیں آسکے گی۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 465 ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
5، ستمبر2026ء
قائدِ تحریک جناب الطاف حسین کا خطاب محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ملک کو درپیش سنگین سیاسی، آئینی اور سلامتی کے بحران پر بروقت انتباہ ہے۔ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے معاملے پر دھمکی آمیز زبان، اشتعال انگیزی اور دوہرا معیار قومی یکجہتی کو مضبوط نہیں بلکہ کمزور کرے گا۔ اگر نئے انتظامی یونٹس پنجاب کے عوام کی شناخت ختم نہیں کرتے تو سندھ میں ان کے قیام کو سندھی شناخت کے خلاف سازش قرار دینا بھی غیرمنطقی ہے۔
پاکستان پہلے ہی بلوچستان، خیبرپختونخوا اور دیگر علاقوں میں شدید بے چینی، بدامنی اور عوامی احساسِ محرومی کا سامنا کررہا ہے۔ ایسے حالات میں طاقت، پابندیوں، گرفتاریوں اور مصنوعی سیاسی قیادت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش مزید تباہ کن ثابت ہوسکتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوامی شکایات کو دبانے اور حقیقی نمائندوں کو سیاسی عمل سے باہر رکھنے کے نتائج ہمیشہ خطرناک نکلتے ہیں۔
جناب الطاف حسین کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ فوج اور ریاستی ادارے عمران خان سمیت تمام عوامی حمایت رکھنے والے رہنماؤں سے فوری بامقصد مذاکرات کریں۔ عمران خان کو رہا کیا جائے، الطاف حسین پر عائد غیرآئینی پابندی ختم کی جائے اور ایم کیوایم کو آزادانہ سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر سیاسی کارکنوں کو قید رکھنے کے بجائے ان کی آواز سنی جائے اور بلوچستان میں طاقت کے استعمال کی پالیسی پر نظرثانی کی جائے۔
پاکستان کو ایک اور قومی سانحے سے بچانے کا راستہ گولی، جبر اور سیاسی انجینئرنگ نہیں بلکہ آئین کی بالادستی، منصفانہ وسائل کی تقسیم، بااختیار انتظامی یونٹس، حقیقی عوامی نمائندگی اور جامع قومی مکالمہ ہے۔ اربابِ اختیار کو اس انتباہ کو سنجیدگی سے لینا ہوگا—اس سے پہلے کہ حالات ناقابلِ واپسی مرحلے میں داخل ہوجائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم صفدرکایہ بیان کہ پنجاب کو پڑوسی ممالک سے خطرہ نہیں ہے بلکہ پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے، نفرت انگیز ہے
وزیراعلیٰ پنجاب کے اس بیان سے پشتونوں، بلوچوں اورسندھیوں کا کتنا دل دُکھا ہوگا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اہل پنجاب سے میرا سوال ہے کہ کیا آپ لوگ بلوچوں، سندھیوں، پختونوں، ہزاروال، کشمیریوں، سرائیکیوں، گلگتیوں، بلتستانیوں اور وزیرستان کے عوام سے نفرت کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ محترمہ مریم صفدر نے یہ بیان کیوں دیا کہ پنجاب کو پڑوسی ممالک یعنی افغانستان، انڈیا اورایران سے خطرہ نہیں ہے بلکہ پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے؟ یہ بیان انتہائی افسوسناک ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب بی بی مریم صفدر کے اس بیان سے پشتونوں، بلوچوں اورسندھیوں کا کتنا دل دُکھا ہوگا؟ جہاں تک بلوچستان کا تعلق ہے تو صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی نہیں بلکہ مزاحمت ہورہی ہے۔گزشتہ دنوں بلوچستان میں فوج کے اہلکاروں کو قتل کرکے ان کی لاشوں کی بے حرمتی کی گئی جو افسوسناک ہے۔ غلط عمل کسی بھی جانب سے ہو وہ غلط ہی قرار دیا جائے گا۔ اسی طرح بلوچوں کا ماورائے عدالت قتل کرنا،انہیں ہیلی کاپٹر سے پھینکنا، بلوچوں کی لاشوں کو ویگو ڈالے سے باندھ کرسڑک پرگھسیٹنے کا عمل بھی سراسر غلط ہے۔ یہ عمل اس لئے کیا گیا تاکہ بلوچوں میں خوف پھیلے لیکن ایسے عمل سے خوف نہیں بلکہ ردعمل کاجواز پیدا ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بلوچ سرمچار پنجابیوں کو ماررہے ہیں، جبکہ ایسی وڈیوزآتی ہیں کہ بلوچ سرمچار گاڑیوں میں لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کرتے ہیں اورسویلین کوجانے دیتے ہیں۔
کشمیر میں حالیہ انتخابات کے سلسلے میں وزیراعلیٰ مریم صفدر صاحبہ کشمیر گئی تھیں اور انہوں نے انتخابی مہم چلائی تھی تو وزیراعلیٰ پنجاب کے مذکورہ بیان سے کیا کشمیریوں کے دل نہیں دُکھیں گے؟ بی بی مریم صفدر کا بیان پاکستان کے عوام میں نفرت، تعصب اورشاؤنزم اورملک میں تقسیم درتقسیم پھیلانے کے مترادف ہے۔ آئین پاکستان کی رو سے یہ عمل سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے۔ وزارت اعلیٰ پنجاب کے منصب پر براجمان مریم صفدر کو ایسی زبان استعمال کرنے سے قبل اپنے منصب کا خیال رکھنا چاہیے، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کی وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر پاکستان کے عوام کے درمیان نفرتیں، تعصب اورعصبیتیں نہیں پھیلانا چاہیے کیونکہ اگر کسی اور صوبے کاوزیراعلیٰ،پنجاب کی وزیراعلیٰ کے خلاف ایسی ہی زبان استعمال کرنے لگے تو یقینا انہیں بھی اچھا نہیں لگے گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 466 ویں فکری نشست سے خطاب
6، ستمبر2026
میں خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی کراچی آمد پر حکومت سندھ کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور ان کے کارکنوں کی گرفتاریاں کرنے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ سہیل آفریدی سندھ کے دورے کے سلسلے میں گھوٹکی، میرپورخاص، خیبرپور، نوابشاہ، لاڑکانہ اور سندھ کے دیگر شہروں میں گئے تو وہاں ہرجگہ عوام نے بڑی تعداد میں ان کا شانداراستقبال کیا۔ لیکن جب وہ اپنے دورے کے سلسلے میں حیدرآباد اور کراچی آرہے تھے تو ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں، سڑکیں کھود دی گئیں، کئی مقامات پر قافلے کو روکنے کے لئے خندقیں کھود دی گئیں،جگہ جگہ سڑکوں پر کنٹینرکھڑے کردیے گئےاور کراچی میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کی بڑی تعداد میں گرفتاریاں کرلی گئیں۔وہ بلاول زرداری جوسندھ کا دورہ کرنے پرسہیل آفریدی کاخیرمقدم کررہے تھے ان کی حکومت کی جانب سے سہیل آفریدی اور ان کے احباب اور کارکنوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ یہ عمل قابل مذمت ہے، یہ کیا منافقت ہے۔
لعنت اللہ علی المنافقین ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر466 ویں فکری نشست سے خطاب
6 ستمبر2026ء
صومالی قزاقوں کے ہاتھوں مغوی پاکستانیوں کے مظلوم اہلِ خانہ پر پولیس تشدد قابل مذمت ہے، ایم کیوایم سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی
_____________________
کراچی ۔۔۔7ستمبر2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے صومالی قزاقوں کے ہاتھوں ساڑھے چار ماہ سے یرغمال پاکستانیوں کی رہائی کے لیے پُرامن احتجاج کرنے والے اہلِ خانہ کی گرفتاری اور پرامن مظاہرین پولیس تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔
ایک بیان میں سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے کہا کہ یرغمال ہونے والے پاکستانیوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں کی بحفاظت واپسی کے لیے پر امن مظاہرہ کررہے تھے اور حکومت سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کررہے تھے لیکن پیپلزپارٹی کی نسل پرست حکومت کی ایماء پر سفاک پولیس اہلکاروں نےمظلوم خواتین، بچوں اور بزرگوں کو تشدد کانشانہ بنایا، ان کے کیمپ اکھاڑ دیئے اور مظاہرین کو گرفتاری کرکے یزیدیت کی انتہا کردی جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے
پر تشدد ریاستی بے حسی کی انتہا ہے۔ اپنے پیاروں کی رہائی کا مطالبہ کرنا جرم نہیں۔
سی ای سی نے وفاقی حکومت اور وزارتِ خارجہ سے مطالبہ کیا کہ مغوی پاکستانیوں کی فوری رہائی کے لیے مؤثر سفارتی اقدامات کیے جائیں اور تمام گرفتار شدگان کوفوری رہا کیا جائے۔
——-
ایم کیوایم نواب شاہ زون کے کارکن شاہ محمد خوجہ کی ہمشیرہ صباحمیدکے انتقال پر بانی وقائد الطاف حسین کا اظہار افسوس
دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت ایم کیوایم کے تمام کارکنان، سوگاران کے غم میں برا بر کے شریک ہیں،قائد تحریک الطاف حسین
کراچی کے عوام کوالطاف حسین کا پیغام
میرے پیارے اہلیان کراچی!
کراچی کی ماؤں، بہنوں، بزرگوں، نوجوانوں خصوصاً جین زی کی خدمت میں الطاف حسین کا سلام وآداب۔
میں اپنے تمام چاہنےوالے وفاپرست ساتھیوں سے درخواست کرتا ہوں، ساتھ ساتھ اہلیانِ کراچی سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی کراچی میں ریلی ہو یاجلسہ عام ہو، اس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔
میں اپنے وفاپرست ساتھیوں اورہمدردوں سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ کوسہیل آفرید ی کی ریلی یاجلسہ عام میں ایم کیوایم کا جھنڈا یا بینر لے جانے کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنے نام سے نہیں بلکہ اپنے کام سے بتانا ہے کہ ہم ہر اس فرد کے ساتھ ہیں جو حق اورسچ کے لئے لڑرہا ہے۔
میں اہلیان کراچی، تمام جین زی، نوجوانوں، طلبہ وطالبات سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ سہیل آفریدی کی ریلی یاجلسہ میں بڑی تعداد میں شرکت کرکے بتادیں کہ اہلیانِ کراچی حق اور سچ کاساتھ دینے والے ہیں۔
بہت بہت شکریہ
والسلام
آپ کا اپنا
الطاف حسین
6 ستمبر 2026ء
نئے صوبوں کے معاملے پر پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے جارحانہ ردعمل، سندھ اسمبلی میں اشتعال انگیز اوردھمکی آمیز تقاریر اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کوسندھو دیش کے خلاف قرارداد پیش کرنے کی اجازت نہ دینے سے یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا مستقبل میں ” تیرا دیش میرا دیش…… سندھو دیش سندھودیش“ کے نعرے گونج سکتے ہیں؟ صدرمملکت آصف زرداری جوکہ بمعہ اہل وعیال لندن میں قیام پذیر ہیں، کیا ان حالات میں وہ پاکستان واپس جائیں گے؟ آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے لاہور میں قومی پالیسی مکالمے کے عنوان پر ایک تقریب سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ”نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے، کوئی نہیں روک سکتا، کوئی فرد واحد یا سیاسی جماعت یا نمائندے نہیں روک سکتے، نظام کو ری سیٹ کرنا ضروری ہے، جنوبی یا شمالی پنجاب بننے سے پنجابی کی شناخت ختم نہیں ہوگی، اسی طرح سندھ میں نئےانتظامی یونٹس بننے سے سندھی کی شناخت ختم نہیں ہوگی اور کسی کی شناخت کوئی نہیں چھین سکتا“۔ محسن نقوی صاحب کے اس بیان پر پیپلزپارٹی کے رہنما نثار کھوڑو، ناصر حسین شاہ، امتیازشیخ اور دیگر رہنماؤں نے ردعمل دیتے ہوئے اس بیان کو سندھ میں مداخلت قراردیا ہے اور وزیراعظم سے اس بیان کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیپلز پارٹی والوں کے بیانات پر وفاقی وزیردفاع خواجہ آصف نے ردعمل دیتےہوئےکہا ہےکہ پیپلز پارٹی پنجاب میں صوبوں کےقیام کی حمایت کررہی ہے مگر سندھ میں مخالفت کررہی ہے یہ اس کا دہرامعیار ہے۔ایک طرف پیپلز پارٹی کے رہنمااورارکان اسمبلی کے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات آرہے ہیں اوردوسری طرف سے وفاقی وزرا کی جانب سےجواب پر جواب دیاجارہا ہے اور آج وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے دھمکی آمیز بیانات کا جواب میں آج پھر واضح الفاظ میں کہہ دیا ہےکہ صوبے اور انتظامی یونٹس ہرحال میں بنیں گے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ الطاف حسین اور میری ایم کیوایم نےملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کےقیام کی بات نہیں کہی ہے بلکہ یہ بات وفاقی وزیرداخلہ اور ڈی جی ISPR کی جانب سے کی گئی ہے۔ایسے نازک وقت میں صدرزرداری اور بلاول زرداری شادی کا بہانہ بناکر ملک سے باہر نکل گئے، آسٹریا کی پرنسز گلوریا سے بلاول کے رشتے کی خبریں میڈیا پر آنے لگیں اور تین دن بعد بلاول زرداری نے وی لاگ کے ذریعے اپنی شادی یا منگنی کی اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہزادی گلوریا کو جانتے تک نہیں ہیں لیکن آسٹریامیں شہزادی گلوریا کے ساتھ چہل قدمی کرتے ہوئے ان کی وڈیو سامنے آگئی۔ زرداری خاندان کے لندن آنے سے اندازہ ہوا کہ کوئی بہت سیریس مسئلہ ہے اور پھر وفاقی وزیرداخلہ کے دو ٹوک مؤقف سامنے آنے سے ان کے لندن آنے کا راز بھی کھل گیا۔موجودہ صورتحال ہر گزرتے دن کےساتھ خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے۔ ایک طرف پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی کے انتہائی دھمکی آمیز اور اشتعال انگیز بیانات سامنے آرہے ہیں اور دوسری طرف بلوچستان میں امن وامان کی صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے، بلوچستان میں علیحدگی کی جو تحریک چل رہی ہے وہ اس مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں بات چیت اور ڈائیلاگ کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا نے بلوچستان کے بارے میں یہ خبرنہیں دی جبکہ سوشل میڈیا کےذریعے اطلاعات ملی ہیں کہ بلوچستان میں حالیہ واقعات میں متعدد فوجی اہلکارجاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ صوبہ KPK میں بھی لاوا اس سطح تک پہنچ گیا ہے کہ وہ کسی بھی لمحے ابل سکتا ہے۔کیا ملک ایک اور سانحہ مشرقی پاکستان کی طرف جارہا ہے ؟ارباب اختیار کو یہ تمام چیزیں سمجھنا چاہیے، اگر ایران کی طرح کسی بھی ملک کے عوام ایک قوم بن جائیں، یا عوام کی اکثریت ایک سوچ رکھتی ہو تو وہ ملک اپنی بساط کے مطابق دشمن کی فوج سے لڑسکتا ہے،آپ دشمن سے لڑ سکتے ہیں لیکن اگر گھرکے اندر مزاحمت چل رہی ہو جیسے کہ بلوچستان، KPK اور کشمیرکی صورتحال ہے، اگر کسی ملک میں اس قسم کی شورش اور مزاحمت پیدا ہوجائے تو اس کو روکنا بہت مشکل ہوجاتا ہے ایسی صورتحال میں اگر سندھو دیش کا نعرہ لگ جائے تو پھر کیا ہوگا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب تلاش کرنا سب کی ذمہ داری ہے، سب کو سوچنا چاہیے کہ کیا پاکستان ایک اور سانحہ مشرقی پاکستان کی طرف جارہا ہے؟ آخر ملک کےحالات کس طرف جارہے ہیں۔ میں ایک عام سیاسی کارکن کی حیثیت سے کام کرتا رہاہوں، میں نے گراس روٹ سے جدوجہد کا آغاز کیا اورملک کی تاریخ کے حالات کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سانحہ مشرقی پاکستان سے لیکر سانحہ اوجھڑی تک، سب کچھ دیکھا ہے۔ میں اس کےپس منظرکو بھی اچھی طرح جانتا ہوں جو آج کی نسل نہیں جانتی۔میں اگرچہ 34 سال سے جلاوطن ہوں لیکن مختلف محاذوں پر کڑے سے کڑے حالات کا سامنا کرچکا ہوں۔ اسلئے آج کے حالات میں جتنا تجربہ مجھے ہے اتنا آج کسی سیاستداں کونہیں ہے۔
1/2
تمہاری تو اتنی عمر بھی نہیں جتنا بانی و قائد تحریک الطاف حسین کا سیاسی تجربہ ہے اورجب سیاست کر نہیں سکتے تو الطاف حسین کا نام لے کر اپنی تعصبی ذہنیت کو آشکار کردیتے ہو اور بانی نے تو صوبہ کی بات کی بھی نہیں ہےاور یہ بات تو وفاقی وزیر داخلہ اور DG ISPR
نے کہی ہے۔ان سے بات کرو اور جا کرانکو کھری کھری سناؤ۔
گھوڑا رے گھوڑا۔۔۔ تم اپنی ڈاکؤں کا ماضی رکھنے والے ذرا اپنی بدبودار زبان سے یہ بتاؤ کہ ان ۱۸ سالوں میں وہ کونسا اندرون سندھ کا ڈسٹرکٹ ہے جس کو تم رول ماڈل ڈسٹرکٹ قرار دے سکتے ہو؟؟
کرپٹ کلچر میں پلنے والے صرف گمراہ کن باتیں کرتے ہیں اور کل اسمبلی میں یہ ہی کام کیا ہے۔
چندا جب تم پیدا بھی نہیں تو ہمارے اجداد نے ملک بنا دیا تھا اور اب اتنی تکلیف میں جاؤگے تو صوبہ تو بن ہی جائے گا
@OfficialDGISPR. @MohsinnaqviC42.
کیاپاکستان میں کچھ بڑا ہونے جارہا ہے یا ہونے والا ہے؟
آخر کیا ہونے والا ہے ؟ اس حوالے سے ہم گزشتہ چند روزکے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کو سامنے رکھ کراپنا تجزیہ کرسکتے ہیں، مثال کے طورپرپی ٹی آئی کے بانی عمران خان جو گزشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، ان سے وکلاء، بہنوں اورپارٹی کے لوگوں کی ملاقات پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ عمران خان صاحب کی بہنیں اڈیالہ جیل جاتی ہیں وہاں ان کے ساتھ ظالمانہ وسفاکانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ اب طاقتور ممالک کے میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ عمران خان کا علاج نہیں کرایاجارہاہے اورانہیں طبی سہولیات سے محروم رکھاجارہاہے۔ 18، اگست 2026ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ دو دن کے اندراندر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال شفٹ کیا جائے، ان کا طبی معائنہ کرایا جائے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ان کے ذاتی معالج اور بہن ڈاکٹرعظمیٰ کو بھی شامل کیاجائے لیکن حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ٹھوکر ماردی اورعمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایاگیا جہاں کسی قسم کی سہولیات نہیں ہیں۔توہین عدالت کے معاملے پر PTI کے رہنماؤں کو اسی دن پٹیشن دائر کرنی چاہیے تھی لیکن وہ مولانا فضل الرحمان اورادھر ادھرملاقاتیں کرتے رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عمران خان کو اپنے وکلاء اور بہنوں کی ملاقات کرنے دی جائے لیکن ملاقات نہیں کرائی گئی۔ اس دوران انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا اور حکومت کی مجرمانہ غفلت کےباعث پمزاسپتال میں 14 معصوم بچے جل کر جاں بحق ہوگئے، اس پر صدرمملکت، وزیراعظم اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو استعفیٰ دےدینا چاہیےتھا۔ پھر اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی کا واقعہ پیش آیا جس میں یونیورسٹی کی خاتون ڈائریکٹر نے احتجاج کرنے والے طلباوطالبات سے جارحانہ طرز عمل اختیار کیا اورپھر اپنے شوہر کو فون کرکے بلایا جوکہ فوج کے کرنل ہیں، انہوں نے طلباء پرنہ صرف تشدد کیا بلکہ فائرنگ بھی کی۔اسی دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایک تقریر میں کہا کہ پاکستان کا نظام تباہ ہوچکا ہے لہٰذا ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں تو اس پر بیانات دیئے جانے لگے کہ اگر صوبے بنائے گئے تو ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔
پاکستان میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹس کی بحث زوروشور سے جاری تھی کہ اچانک پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری کی آسٹریا کی شاہی خاندان کی شہزادی سے رشتے کی خبریں سامنے آنے لگیں، دوروز تک پیپلزپارٹی کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا پھر بلاول زرداری نے وڈیوپیغام جاری کرکے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ وہ تو شہزادی گلوریا کوجانتے تک نہیں ہیں۔
پھر خبرملی کہ صدرزرداری اچانک آسٹریا سے لندن پہنچ گئے جس کے بعد ان کے بیٹے بلاول زرداری اور بیٹی بھی لندن پہنچ گئیں۔ کیا ملک کی نازک سیاسی اورمعاشی صورتحال اورسنگین حالات میں صدرمملکت کو ملک میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟ صدر آصف زرداری کوکس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی بہانے سے ملک سے نکل جائیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا صدرآصف زرداری پاکستان واپس جائیں گے؟
یہ غورطلب نکات ہیں کہ ملک میں صوبوں کامعاملہ چل رہا ہے اور پیپلز پارٹی والوں کو کس نے کہاکہ اشتعال انگیز تقاریرکروکہ اگر سندھ تقسیم کیا گیا توخون کی ندیاں بہہ جائیں گی، صوبے کی بات کرنے والوں کو چیر کررکھ دیا جائے گا؟ اگریہ لوگ چیرنے والے ہوتے تو جب ذوالفقارعلی بھٹو کوپھانسی دی جارہی تھی اسی وقت یہ کچھ کرگزرتے جو آج کہہ رہے ہیں۔ پھر سپریم کورٹ نے کس کے کہنے پر فیصلہ دیا اورکس کے کہنے پر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا؟ کس نے سپریم کورٹ سے فیصلہ دلوایا کہ عمران خان کو اسپتال شفٹ کرو؟اور کس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا جائے؟ کیونکہ حکومت تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا تصورتک نہیں کرسکتی۔ پھرکس نے کہاکہ عمران خان کوشفااسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایا جائے؟ یہ حکم دینے کی طاقت کس کی تھی؟ توہین عدالت کےبعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وہی فیصلہ دیا توپھر کون سی طاقت تھی جس نے عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد ہونے نہیں دیا؟
اسی دوران آج یہ اطلاع آئی ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈی جی سی فیصل نصیر صاحب کا نیکٹا میں تبادلہ کردیا گیا ہے۔ وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے لندن میں صدرآصف زرداری سے ملاقات کی، انہوں نے ملک میں نئے صوبوں کے معاملے پر بات چیت کی، انہوں نے ملاقات میں کس کا پیغام پہنچایا؟ آصف زرداری نے یہ کیوں کہا کہ قومی معاملات اتفاق رائے اورہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں؟ آخر آصف زرداری کی جانب سے لندن میں دوہفتوں کی قیام کی بات کیوں کی گئی؟ وہ ایسے نازک حالات میں ملک چھوڑ کرلندن کیوں آگئے ہیں؟
1/2