وزارت دیہی ترقی و تعمیر نو نے بتایا ہے کہ بدخشان کے شہر فیض آباد سے چین کی زیرو پوائنٹ تک واخان روڈ کی تعمیر دو مرحلوں میں تیزی سے جاری ہے۔ یہ شاہراہ 121 کلومیٹر سے زائد طویل ہے، جسے مجموعی طور پر 365 ملین افغانی کی لاگت سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔
وزارت کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے ��یں واخان کے بزائے گنبد سے چین کی سرحد تک 50 کلومیٹر سے زائد سڑک مکمل کر کے اسے چین کی زیرو پوائنٹ سے منسلک کر دیا گیا ہے۔
دوسرے مرحلے میں بزائے گنبد سے بروغیل تک 71.13 کلومیٹر طویل سڑک پر بجری بچھانے کا کام 74 فیصد مکمل ہو چکا ہے، جبکہ توقع ہے کہ یہ منصوبہ موجودہ شمسی سال کے اختتام تک مکمل کر لیا جائے گا۔
واخان روڈ کو افغانستان کے اہم ترین اقتصادی بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں شمار کیا جا رہا ہے، جو ملک کو براہِ راست چین سے جوڑتی ہے اور خطے میں تجارت اور رابطوں کے فروغ کے لیے نئی راہیں ہموار کرے گی۔
افغانستان اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے وسطی، جنوبی اور مشرقی ایشیا کے درمیان ایک رابطہ پُل کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس راہداری کی تکمیل سے افغانستان کا تاریخی کردار پھر سے زندہ ہو جائے گا اور یہ ملک خطے کے اہم ٹرانزٹ راستوں میں شامل ہو جائے گا۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق واخان راہداری افغانستان کو چین جیسی بڑی معاشی طاقت سے ملاتی ہے، جو خاص اہمیت رکھتی ہے۔ چین سے براہِ راست زمینی رابطہ افغان برآمدات اور درآمدات کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
افغان تاجر اپنی مصنوعات جیسے خشک و تازہ میوہ جات، قالین، قیمتی پتھر، جڑی بوٹیاں اور زرعی اجناس کم لاگت اور مختصر مدت میں چین اور دیگر ایشیائی منڈیوں تک پہنچا سکیں گے۔ اس سے تاجروں اور پروڈیوسروں کی آمدنی میں اضافہ ہو گا اور ملکی معیشت مضبوط ہو گی۔
یہ راستہ افغانستان کو علاقائی معاشی منصوبوں کا حصہ بھی بنا سکتا ہے، خاص طور پر جب خطے کے ممالک نئے ٹرانزٹ اور تجارتی نیٹ ورکس تشکیل دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ واخان روڈ افغانستان کو ان منصوبوں میں شامل کرے گی اور ٹرانزٹ آمدنی میں اضافے کا باعث بنے گی۔ اس کے ذریعے تجارتی سرگرمیاں قومی اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
اس راہداری کے فعال ہونے سے بڑی تعداد میں افراد ٹرانسپورٹ، تجارت، خدمات اور مال برداری کے شعبوں میں کام کر سکیں گے۔
یہ منصوبہ خاص طور پر علاقائی لوگوں کے لیے بھی اہم ہے۔ واخان افغانستان کے دور دراز علاقوں میں شامل ہے، جہاں کے باشندے سالہا سال سے مواصلاتی راستوں کی کمی کا شکار تھے۔ معیاری سڑکوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ بنیادی خدمات تک بڑی مشکل سے رسائی حاصل کر پاتے تھے۔ اس سڑک کی تکمیل سے مریضوں کو مراکز صحت تک پہنچانا، طلبہ کا آنا جانا اور اشیاء کی نقل و حمل آسان ہو جائے گی، اشیائے خور و نوش کی قیمتیں کم ہوں گی اور عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔
واخان روڈ نہ صرف اقتصادی لحاظ سے اہم ہے بلکہ سیاحت کی صنعت کی ترقی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یہ علاقہ خوبصورت اور دلکش قدرتی مناظر، بلند پہاڑوں اور منفرد ثقافت کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ ضروری انفراسٹرکچر فراہم ہونے کی صورت میں واخان افغانستان کا ایک اہم سیاحتی مرکز بن سکتا ہے۔ سیاحوں کی آمد سے ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور مقامی دستکاریوں کے کاروبار میں ترقی ہو گی جس سے علاقے کے لوگ بھی مستفید ہوں گے۔
واخان کے راستے شاہراہِ ریشم کی بحالی سے علاقائی تجارت میں افغانستان کی حیثیت مزید مضبوط ہو گی۔ ماضی میں شاہراہِ ریشم دنیا کے اہم تجارتی راستوں میں سے تھی جو افغانستان سے گزرتی تھی۔ مشرقی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے تاجر اسی راستے پر سفر کیا کرتے تھے۔ اس راہداری کی تعمیر افغانستان کو خطے کے ایک اہم اقتصادی چوراہے میں تبدیل کر سکتی ہے اور علاقائی معاشی رابطوں میں ملک کے تاریخی کردار کو پھر سے زندہ کر سکتی ہے۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق واخان محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں، بلکہ افغانستان کے مستقبل کے لیے ایک اہم معاشی اور اسٹریٹجک اقدام ہے۔ اس راہداری کی تکمیل سے تجارت کو فروغ، ٹرانزٹ آمدنی میں اضافہ، روزگار کے مواقع، دور دراز علاقوں کی ترقی اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاشی تعلقات کی توسیع میں مدد ملے گی۔ اگر اس منصوبے کا بہتر طریقے سے انتظام کیا گیا تو ی�� افغانستان کا ایک اہم اقتصادی راہداری بن جائے گا اور ملک کی تعمیرِ نو اور ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
From its elders to its children, this nation’s heart beats with devotion to jihad and Sharia, aspiring to live beneath the blessed white banner of Muhammad (Peace be upon him)