بیٹیاں تو ڈاکو بھی چھوڑ دیتے ہیں شاہ زیب صاحب۔ آپ سے اختلاف لاکھ ہے۔ آپ کی زوجہ کو بہن کہا ہے احترام بھی رکھیں گے۔ انکو اگر تکلیف ہوئی تو وہ نہیں ہونی چاہئے تھی۔ کاش آپ بھی بیٹیوں بہنوں ماؤں کا احترام کرتے
@jawadahmadone تجھ سے زیادہ مقبول تو خان کا جوتا 👞 نکل آیا،
شاید اس بات کا غصہ ہے اس ذہنی مریض مراسی کو، بیوی کے ساتھ مل کر بجلی چوری کرنے والا 2 ٹکے کا مراسی عمران فوبیا میں اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا ہے
اسرائیل کی ناجائز دہشتگرد ریاست ہے گلوبل صمود فلوٹیلا برائے غزہ کے شرکاء کو دہشتگرد قرار دیا ہے،اور دھمکیاں دی ہیں، حکومت پاکستان،او آئی سی، اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔
ہم غزہ پہنچ کر رہینگے ان شاءاللہ۔
گلوبل صمود فلوٹیلا پرامن انسانی امدادی کاروان ہے گلوبل صمود فلوٹیلا کو تحفظ دو۔
@Pak_PalForum@gbsumudflotilla
لوگ ساتھ آتے گئے اور قافلہ بنتا گیا۔۔۔
غزہ کی ناکہ بندی ختم کرو
غزہ کے لیے انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کیلئے راہداری قائم کرو۔
غزہ میں جینوسائیڈ کو ختم کرو۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کو تحفظ دو۔
@Pak_PalForum
@GlobalSumudF
@GlobalSumudFlot
آپ سب سے گزارش ہے #مشن_نور کا حصہ بنیے اور تمام جاننے والوں کو اس میں شامل کریں اور یاد رکھیں یہ تو بس اک شروعات ہے ،
جو #مشن_نُور کے بعد آرہا ہے وہ انشاءاللہ ان ظالموں کو ایوانوں سے باہر نکالے گا ✊🔥
“1971 میں جب سقوط ڈ��اکہ کا افسوسناک سانحہ پیش آیا تب بھی ایک ڈکٹیٹر یحیٰی خان ملک پر مارشل لاء نافذ کر کے کرتا دھرتا بنا ہوا تھا۔ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد حمود الرحمان کمیشن بنا جس نے بتایا کہ یحیٰی خان نے اپنے ذاتی مفاد اور اپنے ناجائز اقتدار کو دس سال تک طول دینے کے لیے ایسے فیصلے کیے جس سے پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔
حمودالرحمان کمیشن رپورٹ اعلیٰ عدلیہ سمیت آرمی، نیوی اور ائیر فورس کے نمائندوں کی تحقیقات کے بعد بنائی گئی- ان تحقیقات کے دوران سینکڑوں لوگوں کے بیانات ریکارڈ کروائے گئے اور 4 سال اس سانحے کی وجوہات پر تحقیقات کی گئیں۔
حمود الرحمان کمیشن کے مطابق ایک شخص کی ہوس اور انا نے ظلم و جبر کا وہ باب رقم کیا جس کے بعد ملک ہمیشہ کے لیے ٹوٹ گیا۔سب سے غلط فیصلہ شیخ مجیب الرحمان کی مقبول ترین جماعت عوامی لیگ کو دبانے کا تھا۔ جس پارٹی نے 162 میں سے 160 نشستیں جیتیں اسے دیوار سے لگا دیا گیا اور مجیب الرحمان کو جیل میں ڈال کر مغربی پاکستان میں اپنی نشستیں بڑھا کر دکھائی گئیں۔ 24 مارچ 1971 کو مجیب الرحمان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے گئے مگر اسی رات بنگالیوں کے خلاف آپریشن لانچ کر دیا گیا جس میں سرکاری اعداد وشمار کے مطابق 50 ہزار افراد کا خون بہا جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔
آج پاکستان میں وہی حالات بنا دئیے گئے ہیں جو 1971 میں تھے۔ عاصم منیر نے نو مئی کا فالس فلیگ ملک کی مقبول ترین پارٹی تحریک انصاف کو کچلنے کے لیے کروایا۔ دو راتوں میں تحریک انصاف سے منسلک دس ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ 10 ہزار لوگوں کو دو راتوں میں بغیر تحقیق گرفتار کر لیا جائے؟ اس کے بعد پارٹی کو کچلنے کا سلسلہ شروع ہوا- ملک کی سب سے بڑی جماعت کی تمام سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی، کوئی تحریک انصاف کا پرچم اٹھاتا تو اسے اٹھا لیا جاتا، ہمارے امیدواروں اور ان کی فیملیز کو ا��وا کیا گیا۔ ہم سے ہمارا انتخابی نشان تک چھین لیا گیا مگر عوام نے 8 فروری کو باہر نکل کر اس سارے بیانیے کو زمین بوس کر دیا۔
8 فروری انقلاب کا دن تھا جب لوگوں نے ظلم کے نظام کے خلاف ووٹ دئیے اور تحریک انصاف کو 2 تہائی اکثریت دلوائی۔ کمشنر پنڈی نے جب ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے انتخابی دھاندلی کا پردہ چاک کیا اور پچاس پچاس ہزار ووٹوں کی دھاندلی کا اعتراف کیا تو دھاندلی کے جرم میں ملوث قوتوں نے ان کے ذہنی توازن بگڑنے کا بھونڈا بیانیہ بنا کر انہیں غائب کر دیا۔ ان کا آج تک کسی کو معلوم نہیں لیکن ہم انہیں بھولنے نہیں دیں گے۔
نو مئی کے اصل مجرم وہی ہیں جنھوں نے سی سی ٹی و�� فوٹیج چرائی۔ اب اسی نو مئی کو بہانہ بنا کر جو نشستیں ہمارے پاس بچی تھیں وہ نا جائز دس دس سال کی سزائیں دے کر ہم سے چھنیی جا رہی ہیں۔ بےشرمی کی انتہا یہ ہے کہ اعجاز چوہدری کی سیٹ چھین کر الیکشن ہارنے والے رانا ثنا اللہ کو دے دی گئی۔ یہ سب سزائیں بالکل ناجائز ہیں۔ دو دو چار چار کر کے بے شرمی سے ہماری نشستوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ اسی لیے ہم نے ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے کیونکہ وہ پھر یہ نشستیں چوری کر لیں گے۔ اور اس الیکشن میں حصہ لینا ان جعلی سزاؤں کو ماننے کے مترادف ہو گا- میں قومی اسمبلی کی کمیٹیوں سے استعفی پیش کرنے اور تمام مراعات سے دستبردار ہونے پر سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور ہدایت دیتا ہوں کہ اب سینٹ قائمہ کمیٹیوں سے بھی استعفی دے دئیے جائیں۔ میں کچھ دن تک اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کروں گا”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اپنی ہمشیران سے گفتگو (10 ستمبر، 2025)
1/3
عاصم منیر کا وقت ختم ہوا !!!
فوج نے افغانستان کو زچ کیا۔ مہاجرین کو نکالا۔ ان سے جنگ پر آمادہ ہوئے۔ انکو دھمکیاں لگائیں۔ ایک پاکستانی کی جان ہزار افغانیوں سے مقدم ہے جیسی بے تُکی باتیں کیں۔ افغانست��ن کی حدود میں ڈرون حملے کرکے معصوم بچے شہید کیے۔
ماضی میں ہونے والے فوجی آپریشنز کے وقت ٹی ٹی پی کو فرار کا موقع نہیں ملتا تھا۔ افغانستان میں امریکہ موجود تھا اور ٹی ٹی پی کے لیے پسپائی آسان نہیں ہوتی تھی۔ اب افغانستان میں طالبان ہیں اور عاصم منیر افغان حکومت کو بلاوجہ ٹھیک ٹھیک زچ کرچکا ہے۔ اب ٹی ٹی پی کے لیے افغانستان پسپائی بہت آسان ہوگی۔
امریکہ سے مزاحمت کے آ��ری سالوں میں طالبان نے ایک اچھی خاصی فورس کھڑی کرلی تھی۔ بہت سارے جنگجو اگر انتظامی عہدوں پر بیٹھ گئے ہیں تو ایک بہت بڑی نفری فارغ بیٹھی ہوئی ہے۔ ماضی میں ٹی ٹی پی نے افغان طالبان کو بہت نفری مہیا کی۔ اب خدشہ ہے کہ خدانخواستہ افغان طالبان اس احسان کا بدلہ اتاریں گے۔
چین کا سی پیک خراب کرکے امریکہ کو معدنیات دینے کی آفر کی۔ اب چین نے افغانستان میں اچھی خاصی سرمایہ کاری بھی کی ہے امریکی اسلحے کو قابل استعمال بنا کر بھی افغانستان کو دیا ہے اور ان سے مضبوط تعلقات قائم کیے ہیں۔ اب پاک فوج امریکہ کی پراکسی بن رہی ہے تو چین طالبان حکومت کو اپنی پراکسی بنائے گا۔
فوجی آپ��یشن وزیرستان کے چھوٹے سے علاقے میں ہورہا ہے لیکن ٹی ٹی پی نے اپر دیر میں بھی حملے کیے ہیں اور بنوں میں ہونے والا حملہ تو بہت شدید ہے۔ خاکم بدہن اس سلسلے میں اب اضافہ ہوگا اور بہت ہوگا۔ اس کا نقصان ملک کو بھی ہوگا اور فوج کو بھی ہوگا۔
فوج کو سمجھ اس وقت آئے گی جب تباہی انکے گلے کو آئے گی۔ اصلاح کا وقت تو بہت پہلے گزر گیا۔ اب فوج اپنے کیے کا پھل کھائے گی۔ لیکن پاکستانی عوام ساتھ ایک بار پھر نشانہ بنیں گے۔ جرنیلوں کی کج فہمی ، ہٹ دھرمی اور مفادات اس قوم کو تار تار کریں گے۔ لیکن اس قیامت کے منظر میں بھی ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
جب آگ ان کے گھروں کو پہنچے گی تو یہ چیخیں گے۔ ہماری چیخوں سے بلند چیخیں انکی ہوں گی۔ یہ وطن وطن اور قوم قوم پکاریں گے۔ ہم جمہوریت جمہوریت کہیں گے۔ انکی حرکتوں کا نتیجہ کہیں گے۔ایک شخص نے اس ملک کو جس آگ میں دھکیلا تھا اب خود بھی اسکے منہ کے آگے بیٹھا ہے۔ اب اس کا وقت ختم ہوا۔
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
- 26 اگست 2025
پارٹ 1/2
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے۔ نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تمام حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گ��ا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں۔ اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا ج��تا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے۔ اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے۔ عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری رکھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے ��وگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جا��ے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔ اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللّہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔”
#حق_کی_جیت_ہو_گی
خیبر وادی تیراہ میں ڈرون حملے میں شہید بچے کیلئے احتجاج پر پاکستانی فوج کے فائرنگ سے 6 افراد شہید اور 16 زخمی ۔۔۔
Pak army brutally killed 8 and enjured 13 more innocent and unarmed protestors who were flaring white flages of PEACE and chanting slogans of WE WANT PEACE