جب اک عالم کی بیٹی باپ کے سامنے کھڑی ہو گی کالج میں برقعہ نہی پہنونگی
اگے مولانا بھی بھی عبدالحنان صدیقی جیسا ہوں ۔ اور انکا ریکشن کیا ہو گا ۔ وہی مولانا جنکا درس شروع ہی بہن بیٹی کے پردے سے ہوتا ہے
جب انکی بیٹی پہلی دفعہ میڈیکل کالج میں برقعہ میں گئی اور واپسی اکر باپ سے کہا ا میں برقعہ نہی پہن سکتی ۔۔
باپ بیٹی کا وہ مکالمہ جسکو سناتے ہوے مولانا صاحب بھی رو دیے ۔۔ ہاتھ جوڑ کر عوام سے اپیل کرنے لگے
یہ بتاتا چلوں مولانا عبدالحنان صاحب کا جگر ختم ہو چکا تھا جسم میں خون ختم ان کی ایچ پی پانچ چھ پہ رہتی تھی چل نہی سکتے وہیل چئیر پر تھے ۔ مگر اسی حالت میں بھی عوام کو دینی پیغامات پہنچاتے رہے ۔۔ اور کچھ دن پہلے انکی وفات ہوی ہے ۔۔
میں جانتی ہوں کہ جس موضوع پر میں لب کشائی کرنے لگی ہوں، اسے پڑھ کر کچھ لوگ "offend" (ناراض یا برافروختہ) ہو سکتے ہیں... لیکن "شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات" کے مصداق، یہ بات میں، شمائلہ ملک، بذاتِ خود ایک عورت ہونے کے ناتے کہنا انتہائی ضروری سمجھتی ہوں۔
گزشتہ روز راستے میں ایک خاتون دیکھی سر پر دوپٹہ تھا، لان کی لمبے کٹ (چاک) والی قمیض اور نیچے ا��تہائی چست"skin tight" پاجامہ... اس قدر فٹ کہ پوری ٹانگ کی ہیئت واضح تھی۔ جب وہ چلتی تھی تو اطراف سے قمیض اٹھ جاتی تھی اور پوری ٹانگ پیٹ تک باقاعدہ ننگی محسوس ہو رہی تھی۔
میں مانتی ہوں کہ ایک عورت ہونے کے ناتے فیشن کرنا، سجنا سنورنا آپ کا حق ہے، میں نے خود بھی تقریباً ہر اسٹائل زیبِ تن کر رکھا ہے، لیکن فیشن وہ کریں جو آپ کی جسامت پر جچے اور مہذب دکھے، نہ کہ واہیات! اب وہ خاتون سر پر دوپٹہ لیے ہوئے تھی لیکن اس کا لباس، ایک عورت ہوتے ہوئے مجھے شرمندہ کر گیا۔😔
اگر آپ نے "skin tight" پہننا ہی ہے، تو فراک کے ساتھ پہن لیں، چھوٹے فراک "peplum" کے ساتھ بھی پہن لیں تاکہ کم از کم آپ کی ران تک یا گھٹنوں تک کا حصہ تو ڈھکا ہوا ہو۔ لیکن کھلے چاک والی قمیض، اور وہ بھی لان کے کپڑے میں، اس کے نیچے... یقین جانیں یہ فیشن انتہائی بیہودہ دکھتا ہے۔ پھر اس کا رنگ بھی ایسا (اسکن کلر) کہ پہلی نظر میں محسوس ہی نہ ہو کہ کپڑا ہے یا آپ کا جسم🤦🏼♀️🤦🏼♀️... یہ بھی ننگے پن میں ہی آتا ہے۔
ہم خواتین اگر خود مہذب پن نہیں اپنائیں گی، تو کس منہ سے بول سکتی ہیں کہ مرد نگاہ نیچی نہیں کرتا؟ (بیشک مرد کو اپنے رب کا حکم ہے کہ وہ نگاہ نیچی رکھے) لیکن ہمیں بھی تو حیا برقرار رکھنے کا حکم ہے! چلو، جو خواتین پردہ نہیں کرتیں، وہ کم از کم ایک مہذب لباس تو زیبِ تن کر ہی سکتی ہیں۔
اسی لیے نبی کریم ﷺ کی حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے:
"دوزخ والوں میں سے ایک قسم ان عورتوں کی ہے جو لباس پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی (یعنی ایسا باریک یا چست لباس پہنیں گی جس سے جسم جھلکے یا اس کی بناوٹ واضح ہو)، مائل ہونے والی اور (مردوں کو اپنی طرف) مائل کرنے والی ہوں گی۔ ان کے سر (اونچے بالوں کے جوڑے کی وجہ سے) اونٹ کے کوہان کی طرح ایک طرف ڈھلکے ہوئے ہوں گے۔ وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو پا سکیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی دور سے محسوس کی جا سکتی ہے۔"
از قلم: شمائلہ ملک
بہت سے کسانوں کو دیکھا ھے کہ ٹماٹر ، آلو ، پیاز وغیرہ کی وافر پیداوار پر مارکیٹ میں مناسب قیمت نہ ملنے پر دلبرداشتہ ھو کر یا تو اجناس کو نہر میں بہا دیں گے یا زمین میں دفن کر دیں گے یا جانوروں کا چارہ بنا دیں گے
ان کسانوں سے گزارش ھے کہ اپنی محنت کو ضائع کرنے کے بجائے اس میں ویلیو ایڈ کریں اور بہت اچھی قیمت پر فروخت کریں ، جہاں اتنا خرچ کر کے اجناس اگاتے ھو وھاں تھوڑا سا خرچہ کر کے سولر ڈی ہائیڈریٹر بنا کر اپنی اجناس کر سکھا لیں اور اسے پوڈر بنا کر مارکیٹ میں کئی گنا ذیادہ قیمت پر بیچ سکتے ھیں اور اگر تھوڑا سی توجہ دیں اور مناسب پیکنگ کریں تو اسے ایکسپورٹ بھی کیا جا سکتا ھے، یقین جانیں دنیا میں ایسے ممالک بھی ھیں جن کو یہ اجناس دیکھنا بھی نصیب نہیں ھوتیں ، بہت بھوک ھے دنیا میں ، آپ لکیر کے فقیر بننے کے بجائے اپنے دماغ کی کھڑکی کھولیں اور ان اجناس کی نئی منڈیاں تلاش کریں
بات بیس ،تیس کی نہیں بات اصول کی ہے ۔۔۔
جب کسی برینڈ سے ہم ہزاروں کی شاپنگ کرتے ہیں
تو وہ برینڈ ہم کو اپنا شاپر سیل کرکے ہم سے ڈبل منافع کماتا ہے
اور پھر اپنا لوگو لگا کر برانڈنگ بھی ہم سے ہی کرواتا ہے
اس کا بائکاٹ ہونا چاہئے
یا تو شاپر فری کرو یا پھر لوگو ہٹاؤ