تین بیٹے ہے ۔ اگر قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب پر کوئی مصیبت آیا تینوں ڈال بن کر پیش کرونگی قائد جمعیت پر تینوں قربان
#بلوچستان_مولانافضل_الرحمان_کا
جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان کا سابق سنیٹر تاج آفریدی کی کار حادثے میں انتقال پر اظہار افسوس
اللہ کریم سنیٹر تاج آفریدی کی مغفرت فرمائے اور درجات بلند فرمائے ۔مولانا فضل الرحمان
اہل خانہ اور لواحقین سے اظہار تعزیت کرتا ہوں ۔مولانا فضل الرحمان
اللہ کریم لواحقین کو صبرجمیل عطاء فرمائے ۔مولانا فضل الرحمان
میڈیا سیل ��ے یو آئی پاکستان
لکی مروت:
ہمیں ایسا امن نہیں چاہیے کہ پانچ گناہ گاروں کے ساتھ پانچ بے گناہ بھی آپ مار دیں، مولانا اسجد محمود
اگر مستقبل میں آپ نے سفید کپڑوں میں کوئی اٹھالیا تو اس سے بھی سخت ردعمل دیں گے اس کے بعد جب بھی کسی کے ہاں جانا ہو تو وردی میں جانا ہوگا۔
میں تو وہ بندہ ہوں کہ آپ کے ساتھ تاجہ زئی کے مقام پر دھرنا ہو اسمبلی،سینیٹ میں آواز اٹھانی ہو ہر معاملے میں شریک ہوا ہوں۔
ہم پوری استقامت کے ساتھ بیٹھے ہیں کہیں نہیں جارہے، رہنما جےیوآئی
آپ کو قاتل بندے معلوم ہیں ان کو ایف آئی آر میں نامزد کریں
گرفتار شدہ لوگوں کو فورا رہا کریں
مولانا اسجد محمود کا اپنے ساتھیوں کی دردناک شہادت پر تاجہ زئی لکی مروت کے مقام پر احتجاجی دھرنے سے خطاب۔
جمعیت علماء اسلام کا جامع مسجد نال خضدار میں ہونے والے ڈرون حملہ کی شدید مذمت
حساس اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے نال میں جامع مسجد نال کے تقدس کو پامال کرکے معصوم طلبہ اور عوام الناس پر ڈرون حملہ ناقابل معافی جرم ہے مولانا عبدالغفور حیدری
جمعیت علماء اسلام ہر اس اقدام کی شدید مذمت کرتی ہے جس میں بلاجواز بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے
مولانا عبدالغفور حیدری
قب�� ازیں ہمارے کئی کارکن نامعلوم قاتل کے نام سےشہید کیے گیے لیکن جامع مسجد نال پر حملہ کرنے والے تو معلوم ہیں مقتدر قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں مولانا عبدالغفور حیدری
مقتدر قوتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے عسکری اہلکاروں کے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
مولانا عبدالغفور حیدری
ہم متاثرہ افراد شہدا کے اہل خانہ کے ساتھ مکمل ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صبر جمیل عطا فرمائے اور زخمیوں کو جلد صحت یاب فرمائے
میڈیا سیل جے یوائی پاکستا��
Justice delayed is justice denied. 8,473 days and counting. The call for fairness, transparency, and human rights remains unchanged. #JusticeForAafiaSiddiqui#HumanRights
گلگت بلتستان انتخابات مسترد*
کل جی بی میں، گلگت بلتستان میں جو الیکشن ہوئے ہیں میں ابھی اس تفصیل میں تو نہیں جاؤں گا لیکن وہاں سے جو ہمیں انیشیل اطلاعات موصول ہوئی ہیں تو اس حوالے سے ہمارا اس پر اتفاق ہے کہ ہم جی بی الیکشن کو مسترد کرتے ہیں۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی وزیراعلی سہیل آفریدی کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو
#JUI #PTI #GBElection
پشاور:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی وفد کے ہمراہ مفتی محمود مرکز آمد
امیر جمعیۃ علماء اسلام مولانا فضل الرحمان سے اہم ملاقات
ملاقات میں صوبائی حقوق کے حصول کیلئے مشترکہ جد و جہد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
این ایف سی ایوارڈ، صوبائی خود مختاری، گندم ترسیل پابندی کیخلا�� مشترکہ آواز اٹھانے پر اتفاق، وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی مدارس رجسٹریشن کے لیے صوبائی اسمبلی میں قانون سازی کا اعلان۔
ملاقات مولانا لطف الرحمان، سنیٹر مولانا عطاء الرحمان، سنیٹر مولانا عطاء الحق درویش،مولانا اسعد محمود، انجنئیر ضیاء الرحمان شریک تھے۔
ملاقات میں سابق اسپیکر رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر،جنید اکبر، شہرام ترکئی، عاطف خان، شفع جان،علی اصغر،شوکت یوسفزئی شریک تھے۔
ملاقات میں سابق گورنر حاجی غلام علی،سنیٹر دلاور خان،حاجی عبدالجلیل جان، عبدالحسیب، اراکین صوبائی اسمبلی،اعجاز خان،سجاد اللہ، محمد ریاض شریک تھے۔
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کیا اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے؟
بلوچستان میں جہاں امن و امان کی صورتحال کسی طور مثالی نہیں، بیرونی مداخلت، بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے خطرات موجود ہیں، وہاں جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمن نے ایسا جلسہ منعقد کیا جس کی ماضی میں مثال کم ہی ملتی ہے۔ ایسے حالات میں، جب بلوچستان کو پ��کستان سے الگ کرنے کی سیاست بھی بعض حلقوں میں زیر بحث رہتی ہے، ایک قومی مذہبی جماعت کی جانب سے اتنا بڑا اجتماع قومی سیاست اور قومی وحدت کے لیے ایک اہم پیش رفت تھا۔
آپ مولانا فضل الرحمن کی طرزِ سیاست سے اختلاف کر سکتے ہیں، مگر ایسے ماحول میں ایک کامیاب اور بڑے عوامی اجتماع کے انعقاد پر وہ اور ان کی ٹیم مبارک باد کے مستحق ہیں۔
ایسے میں الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے مذکورہ جلسے کے مکمل بلیک آؤٹ کو سمجھنا آسان نہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت نے ہمیشہ ریاست کے استحکام اور بقا کی بات کی ہے۔ اگرچہ انہوں نے مختلف اوقات میں حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کیا، لیکن ریاستِ پاکستان کے تحفظ اور قومی وحدت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔ ایسے حالات میں ان کے جلسے کو الیکٹرانک میڈیا پر مکمل نظرانداز کرنا خود الیکٹرانک میڈیا کے کردار اور ترجیحات پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ جاتا ہے۔
ایسا نہ ہو کہ اشتہارات، مفادات اور وقتی ترجیحات کے تحفظ میں مصروف الیکٹرانک میڈیا خود اپنی ساکھ اور بقا کے لیے خطرات پیدا کر رہا ہو۔ اگر میڈیا عوامی دلچسپی اور قومی اہمیت کے واقعات کو نظرانداز کرتا رہا تو آنے والے برسوں میں اس کی حیثیت مزید کم��ور ہو سکتی ہے۔
میڈیا اداروں کے مالکان اور قومی سطح پر پالیسی سازی کرنے والے حلقوں کو اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا اور اپنی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔
صحافی عبداللہ مدنی
قومی میڈیا کا شرمناک بلیک آؤٹ 🚨
مولانا فضل الرحمٰن نے پشین کے تاریخی جلسے میں ایسےکونسے سوالات پوچھ لئے کہ پورے مین اسٹریم میڈیا کے کیمرے بند کروا دیے گئے؟
بطور جمعیت علم��ئے اسلام پاکستان کارکن آج وہ سچ سامنے لا رہا ہوں جو ٹی وی پر دکھانے کی اجازت نہیں👇پڑھیں اور فیصلہ خود کریں
مولانا فضل الرحمان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ اسلام کی بات کرتے ہیں۔ ان کی داڑھی اور سر پر امامہ ہے۔ اسی لئے بلوچستان میں تاریخ ساز جلسے کے باوجود نیشنل میڈیا نے ان کو کوریج نہیں دی۔
ایک جرم یہ بھی ہے کہ مولانا نے ہمیشہ پاکستان فرسٹ کا نعرہ لگایا ہے۔
اکوڑہ خٹک: قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا اپنے استاد محترم حضرت دیر بابا جی اور مغفور اللہ باباجی سے ملاقات ،
سیاست کا سلطان اپنے اساتذہ کے سامنے عجز و انکساری کے ساتھ ۔
نوشہرہ:امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی اکوڑہ خٹک آمد
مولانا فضل الرحمان نے مفتی سیف اللہ حقانی کی وفات پر ان کے صاحبزادے مولانا انور مسرور سے تعزیت کی
مولانا فضل الرحمان کی مفتی سیف اللہ حقانی کی خدمات کو خراج تحسین
مفتی سیف اللہ حقانی کی بلندی درجات کے لئے دعاء مغفرت اور فاتحہ خوانی
دارال��ل��م حقانیہ کے مہتمم مولانا انوار الحق ،نائب مہتمم مولانا راشد الحق حقانی ، سنیٹر مولانا عطاء الحق درویش سمیت دیگر بھی موجود
مین سٹریم میڈیا پر مولانا فضل الرحمان کا جلسہ روکنے والے ��ا رکوانے والے اتنی عقل نہیں رکھتے کہ جتنے افراد اس جلسے میں موجود ہیں وہ بذات خود اپنے موبائل فون کے ذریعے ایک چینل بن چکے ہیں ۔ اتنا بڑا جلسہ تھا ۔جے یو آئی فے کی اہمیت برقرار ہے پارلمینٹ میں ایم کیو ایم کیطرح ۔ کیا فرق پڑتا اگر ٹی وی چینلز اس جلسے کی کچھ کوریج کر لیتے ۔
عجیب بات ہے جرم بھی کرتے ہیں اور چونچ بھی اونچی رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اوپر تنقید نہ کرو تم پاک ہو تو ہم آپ کو پاک کہیں گے۔
ہندوستان نے حملہ کیا، آپ نے جواب دیا، ہم نے آپ کو سراہا ہے، اگر آپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی ہے ہم نے آپ کو سپورٹ کیا ہے ،ہم اپنے خطے میں جنگ نہیں چاہتے، لیکن یہ سوال ضرور اٹھاتے ہیں کہ ہماری پالیسیاں کو�� بناتے ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کون ہیں؟ ہمارے پالیسی ساز کیا پالیسیاں بنا رہے ہیں؟ یہ ہماری عقل ہے، یہ پاکستان کا مفاد ہے کہ ہندوستان کا بارڈر مکمل بند، افغانستان کا بارڈر مکمل بند، مغرب کی طرف بھی آپ تجارت نہیں کرسکتے، کاروبار نہیں کرسکتے، مشرق کی طرف بھی آپ کاروبار نہیں کرسکتے اور ایک چین کا چھوٹا سا کوریڈور ہے وہ بھی آپ نے بند کر رکھا ہوا ہے، اس پر بھی کوئی فعالیت ادھر نہیں آرہی، ایران جن حالات میں ہے وہ آپ کے نہ اچھے کا نہ برے کا، ہر طرف آپ نے پاکستان کو غیر محفوظ بنا دیا ہے، محصور کر دیا ہے، یہ کون سی عقل کی پالیسی ہے کہ آج پاکستان ایک محصور مملکت کی شکل اختیار کر گیا ہے؟ یہ کون سی سیاست ہے؟ یہ کون سی پالیسی ہے دہشتگردی کی خلاف ہم جنگ لڑ رہے ہیں تو دہشتگردی تو بڑھ رہی ہے، تو دہشتگردی کی خلاف تو تین چار دہائیوں سے آپ لڑ رہے ہیں، آپ نے سوات سے لے کر پورے خیبر پختونخوا میں کتنے آپریشنز کیے اور ہر آپریشنز کے نتیجے میں آپ ملک کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہم شاید ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں، مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی، کس کس بات کو روئے ہم آپ کے؟
قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن مدظلہ کا پشین میں خطاب
پاکستان کا مین سٹریم میڈیا ھمیشہ سے طاقتور قوتوں کی ایماء پر یا کچھ سیاسی لوگوں کو اقتدار میں لانے کے لیے انکی آواز بنا ھے یا کچھ سیاسی قوتوں کا راستہ روکنے کے لیے ان کی آواز دبانے کے لیے استعمال ھوا ھے۔ پھر بھی صحافت کے قبیل کے لوگ غلامی کے طوق کا طعنہ سیاست��انوں کو دیتے ھیں۔
بلوچستان اس وقت امن وامان اور معاش کے حوالے سے غیر معمولی صورتحال سے دوچار ھے اور اس طرح کی صورتحال میں بھی جب پچھلے چار پانچ دن سے پٹرول کا لیٹر آٹھ سو سے ھزار روپے تک بھی بلیک میں مل رھا تھا اور امن وامان کی اس بدترین صورتحال میں اتنا بڑا مجمع اکھٹا کرکے کے جس طرح خوف کے بت کو توڑنے کا کارنامہ جمعیت اور مولانا صاحب نے انجام دیا اس کی تحسین کی بجائے جسطرح بلیک آؤٹ کرکے آواز دبائ گئی اس سے میں سٹریم میڈیا کا تاثر اور بھی خراب ھوا ھے
جسطرح ٹیلی فون ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈ جیسے کمیونیکیشن کے آلات کا آج کوئ پوچھنے والا نہیں ایسا نہ ھو کہ کل اس سوشل میڈیا کے ھاتھوں آپ کی بھی وھی حالت نہ بن جائے کہ پھر اخبار کی طرح مہینوں مہینوں آپ کو دیکھنے والا بھی کوئ نہ ھو اور آپ کو فقط یوٹیوب پر ولاگز کا محتاج ھونا پڑے،