اس کی مکمل تحقیقات ضروری ہیں ��یسے یہ کسی وکیل کی کارستانی لگتی ہے تحریک انصاف نے اس آڈیو کو اپنے آفیشل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شئیر کیا ہے ۔چیف جسٹس صاحب کےلیے بھی یہ ایک چیلنج ہے دیکھتے ہیں اب وہ آئندہ سماعت پر عمران خان کو بلانے کا فیصلہ کرتے ہیں یا نہیں ۔
شرم مگر پھر بھی نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔۔ اور کتنا فساد پھیلانا ہے۔ پہلے اپنی ہی پارٹی کو بدنام کیا اور اب ملک میں امن نہیں ہونے دے رہے۔ پاکستان کی جگ ہنسائی میں اس جماعت کا اہم کردار ہے
جہاں آپ کو لگتا یے کہ بے غیرتی کی حد ہو چکی ہے، وہیں تحریک انصاف کی سوشل میڈیا ٹیم آگے بڑھ کر ایک نئی بے غیرتی کر کے آپ کو غلط ثابت کر دیتی ہے۔ ملاحظہ کریں کہ یہ کیسے چیف جسٹس کو ٹارگٹ کرتے ہیں اور من پسند ججوں کے حق میں مہم جوئی کرتے ہیں۔
“صدر پاکستان کے عہدےکی نوعیت ایسی ہے کہ وہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس حضرات کے ساتھ ساتھ فوج اور سیکورٹی ایجنسیوں کی اعلیٰ قیادت کا وزیر اعظم کی موجودگی میں ایک اجلاس بلا سکتا ہے جس کا واحد مقصد اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے درمیان موجودہ کشیدگی کوختم کرناہونا چاہیے۔دیکھتے ہیں اس بارے میں صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں یااداروں میں کشیدگی کے بڑھنے کا انتظار کریں گے؟”
انصار عباسی کے کالم سے اقتباس
9مئی صرف افواج پاکستان کا مقدمہ نہیں،9مئی پاکستانی قوم کا مقدمہ ہے.ڈی جی آئی ایس پی آر
9مئی کے شواہد عوام کے پاس موجود ہیں۔ہم سب نے دیکھا کس طرح لوگوں کی ذہن سازی کی گئی۔ڈی جی آئی ایس پی آر
شواہد نہ ملنے پر برطانوی پولیس نے شہزاد اکبر پر حملے کی تحقیقات بند کردیں,شہزاد اکبر کے خود پر حملے کے دعووں کے حوالے سے پولیس کو کوئی ثبوت نہ مل سکا ,پولیس نے چھ ماہ تک شہزاد اکبر پر حملے کے حوالے تحقیقات کرنے کے بعد ہاتھ اٹھا لئے,شہزاد اکبر کی رہائش گاہ کی ہر طرف کیمرے موجود ہیں، پولیس کو کئی گھنٹوں کی فوٹج دیکھنے کے باوجود کوئی مشتبہ شخص نظر نہ آیا,ذرائع کے مطابق مقامی پولیس نے شہزاد اکبر کو تین ہفتہ قبل ہی کسی بھی مشتبہ شخص کی عدم موجودگی کے حوالے سے آگاہ کردیا تھا
سیاسی پناہ لینے والے بیشتر پاکستانی حکومت اور اداروں کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں تاکہ وہ اپنا مقصد پا سکیں اور کسی غیر ملک میں سیٹل ہو سکیں
عمران خان دور حکومت میں معاون خصوصی رہنے والے شہزاد اکبر کو پاکستا ن میں اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے
شہزاد اکبر نے پاکستان اور پاکستان کے اداروں پر بلاوجہ کے الزمات لگا کر اپنے لیے شرمندگی ہی کمائی ہے
برطانیوی پولیس کو تیزاب پھینکنے سے متعلق کسی قسم کےکوئی شواہد نہیں ملے اس لیے کیس ہی بند کر دیا ہے
شہزاد اکبر یہ پہلا شخص نہیں جس اور نہ ہیں۔
پی ٹی آئی کی طرف سے اداروں کو بدنام کرنے کہ یہ پہلی سازش نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان کے اداروں خاص طور پر انٹلیجنس ایجینیوں پر بہت سے جھوٹے الزمات لگا چکے ہیں اور جھوٹے ثابت ہو چکے ہیں۔
یہ صرف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمینی پر پھڈا نہیں ہے۔ یہ ہر عہدے پر مختلف دھڑوں میں کھلی جنگ شروع ہے۔
بلکہ کہا جائے تو غلط نہ ہو۔گا۔ پی ٹی آئی پر قبضے کی اندرونی لڑائی اب باہر آ گئی ہے۔۔۔یہ اب آپس میں ایک دوسرے کے گریبان پھاڑیں گے
دوران ٹرائل بانی پی ٹی آئی میڈیا گفتگو میں ریاستی اداروں، شخصیات پر الزامات نہیں لگا سکیں گے۔۔۔
عدالت سے بڑا حکم آ گیا، میڈیا کو بھی ایسے بیانات نشر نہ کرنے کی ہدایت
کیا عدالتی پاسداری ہو گی، یا خان صاحب اس عدالتی حکم کو بھی خاطر میں نہیں لائیں گے؟
اسلام آباد احتساب عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کو ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے خلاف بیان بازی سے روک دیا
عدالت نے دوران ٹرائل کمرہ عدالت میں ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے خلاف اشارتاً بات کرنے سے بھی ��وک دیا
میڈیا سیاسی ، اشتعال انگیز بیانیے جو ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کو ٹارگٹ کرتے ہوں وہ پبلش کرنے سے پرہیز کریں ، حکم نامہ
احتساب عدالت کے جج باصر جاوید رانا نے فئیر ٹرائل کی بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر بڑا حکم جاری کر دیا
الزام ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ریاستی اداروں کی قابل عزت شخصیت کے خلاف سیاسی ، اشتعال انگیز ، متعصبانہ بیانات دئیے ، حکم نامہ
عدلیہ ، پاک آرمی اور آرمی چیف کے حوالے سے بیانات عدالتی ڈیکورم میں خلل ڈالنے کے مترادف ہیں ، حکم نامہ
ایسے بیانات انصاف کی فراہمی کے عمل میں بھی رکاوٹ کا سبب بنتے ہیں ، حکم نامہ
کورٹ ڈیکورم اور فئیر ٹرائل کے تقاضوں کا خیال رکھنا عدالت کی ذمہ داری ہے ، حکم نامہ
جیل حکام جیل عدالت کو عید سے پہلے کی پوزیشن پر بحال کریں ، حکم نامہ
ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کے حوالے سے اشارے سے بھی ملزمان سیاسی ، اشتعال انگیز ، متعصبانہ بیانات نہیں دیں گے ، حکم نامہ
میڈیا اپنی رپورٹنگ کو عدال��ی پروسیڈنگ کی حد تک محدود رکھے گا ، حکم نامہ
ٹرائل کی عدالتی کاروائی کے درمیان والے ملزمان کے بیانات میڈیا رپورٹ نہیں کرے گا ، حکم نامہ
پراسیکیوشن ، ملزمان اور ان کے وکلا دوران سماعت اشتعال انگیز ، سیاسی ، متعصبانہ بیان نہیں دیں گے جو کورٹ ڈیکورم مجروح کریں ، حکم نامہ
فیملی ممبرز اور دوسرے وکلا مشیر جو کورٹ میں موجود ہوتے ہیں وہ بھی ایسی بیان بازی نہیں کریں گے ، حکم نامہ
میڈیا سیاسی ، اشتعال انگیز بیانیے جو ریاستی اداروں اور ان کے آفیشلز کو ٹارگٹ کرتے ہوں وہ پبلش کرنے سے پرہیز کریں ، حکم نامہ
یہ آرڈر پیمرا گائیڈ لائن کے ساتھ مشروط ہے جس کے تحت زیر التوا ک��سز پر ب��ت کرنا ممنوع ہے ، حکم نامہ
پیمرا کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق ملزم کا سیاسی بیان لیگل رپورٹنگ میں نہیں آتا ، حکم نامہ
میری ابھی 92 نیوز پشاور کے بیوروچیف ممتاز بنگش سے بات ہوئی ان کے مطابق پرویز خٹک اس خبر ��ی تردید کر رہے ہیں ۔پرویز خٹک کا کہنا ہے سیاست چھوڑی ہے نا پارٹی۔