شیر افضل خان مروت نے قومی اسمبلی میں لکی مروت کے عوامی مسائل بھرپور انداز میں اٹھائے۔ دہشت گردی، خستہ حال سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی کمی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے فوری توجہ اور عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
احتجاج عوام کا آئینی اور جمہوری حق ہے۔ ریاست کو اپنی ہی عوام پر گولیاں چلانے کا کوئی حق نہیں۔ آزاد کشمیر ��یکشن کمیٹی پر فائرنگ کی شدید مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جو��یشل کمیشن بنایا جائے۔ میری مکمل ہمدردیاں اور حمایت کشمیری عوام کے ساتھ ہیں۔ ضرورت پڑی تو میں ہمیشہ ان کے شانہ بشانہ کھڑا رہوں گا۔
شیر افضل خان مروت
شفیع جان صاح��، آپ سے گزارش ہے کہ اپنے قد و قامت کے مطابق بات کریں اور بلا تحقیق الزامات لگانے سے گریز کریں۔
ہمارا مؤقف بالکل واضح ہے اور صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر مبنی ہے: بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر تحریک اور عملی لائحہ عمل۔ ہم نہ حکومت گرانا چاہتے ہیں، نہ کسی کی کرسی کو خطرہ لاحق کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی کے خلاف کوئی محاذ کھول رہے ہیں۔
ہمارا صرف ایک مطالبہ ہے کہ تمام متعلقہ افراد مل کر عمران خان کی رہائی کے لیے مثبت اور سنجیدہ اقدامات کریں، واضح حکمتِ عملی مرتب کریں، اور بجٹ سمیت اہم فیصلے عمران خان کی مشاورت سے کیے جائیں۔ میرے خیال میں اس مطالبے میں کوئی غیر معمولی یا نامناسب بات نہیں۔ پارٹی کارکنان کی بھی یہی خواہش اور مطالبہ ہے۔
جہاں تک میرے حوالے سے عمران خان صاحب کے تحفظات کا سوال ہے، اگر واقعی ایسا تھا تو پھر انہوں نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے مجھے پارٹی ٹکٹ کیوں دیا؟ مزید یہ کہ جب جیل میں میری عمران خان صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے دیکھتے ہی کہا: "مشتاق، میں تمہیں کابینہ میں دیکھنا چاہتا ہوں۔"
اس پر میں نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا کہ مجھے اسپیکر کے عہدے پر ہی رہنے دیا جائے۔ اس ملاقات کے دوران عمر ایوب صاحب اور تیمور جھگڑا صاحب بھی موجود تھے۔ عمران خان صاحب نے عمر ایوب صاحب سے کہا کہ علی امین صاحب کو بتا دیں کہ مشتاق ہی اسپیکر رہیں گے۔ بعد ازاں مجھے اسپیکر شپ کی مبارکباد بھی دی گئی۔
تاہم اس کے بعد کیا ہوا، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ میں خاموش رہا کیونکہ میرے بھائی بابر سلیم سواتی کو اسپیکر نامزد کر دیا تھا اور چونکہ ا�� سے میرا گہرا تعلق ہے میں نے مناسب نہیں سمجھا کے میں اس موضوع پر بات بھی کروں اور آج تک اس معاملے پر کوئی بات نہیں کی۔ لیکن اب جب مجھ پر الزامات لگائے جا رہے ہیں تو ضروری سمجھتا ہوں کہ حقیقت عوام اور کارکنان کے سامنے رکھی جائے کہ عمران خان صاحب سے ملاقات کے بعد کیا صورتحال تھی۔
قائد عمران خان کی رہائی کی تحریک پر تمام لوگوں کو ہمارا ساتھ دینا چاہیے، نہ کہ الزام تراشی اور بے بنیاد پروپیگنڈے میں مصروف ہونا چاہیے۔
اور اگر پھر بھی کسی کو عمران خان کی رہائی کی تحریک سے مسئلہ ہے تو ہوتا رہے، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں۔ ہم تمام اراکین نے متفقہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم اپنی تحریک کو ہر صورت آگے بڑھائیں گے اور بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
@MushtaqGhaniPTI It would be better if Sher Afzal Marwat comes forward and takes a leading role in the protest. It seems the current PTI leadership is more focused on their privileges than on Imran Khan’s situation.
@sherafzalmarwat@Aleema_KhanPK
@MushtaqGhaniPTI It would be better if Sher Afzal Marwat comes forward and takes a leading role in the protest. It seems the current PTI leadership is more focused on their privileges than on Imran Khan’s situation.
@sherafzalmarwat@Aleema_KhanPK
احتجاج کرنا پاکستانیوں کا آئینی اور قانونی حق ہے۔ 26 نومبر کو ریاست کی جانب سے گولیاں چلانا تاریخ کے بدترین مظالم میں سے ایک تھا۔ اس اقدام نے آئین کے آرٹیکل 16، جو شہریوں کو احتجاج کا حق دیتا ہے، کو عملاً پامال کر دیا۔ ظلم اور جبر کر کے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ لوگ گھروں میں بیٹھے رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ظلم کے خلاف کھڑے ہوں اور ظالم کا ہاتھ روکیں ، شیر افضل خان مروت
"دھاندلی" تو اب ایک چھوٹا لفظ ل��تا ہے۔ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات میں قوم کے ووٹوں پر جو ڈاکا ڈالا گیا، وہ سب کے سامنے ہے۔ ایک بار پھر 8 فروری جیسے حالات پیدا کرنے کی تیاری کی ��ا رہی ہے۔ یہ فیصلہ پہلے ہی ہو چکا ہے کہ الیکشن کون جیتے گا اور حکومت کون بنائے گا ، شیر افضل خان مروت
دھاندلی تو اب ایک چھوٹا لفظ لگتا ہے، کیونکہ 2024 کے عام انتخابات میں جس طریقے سے انتخابی عمل کی شبیہ کو نقصان پہنچایا گیا، وہ سب کے سامنے تھا ۔ اب ایک اور 8 فروری کی طرح دهاندلی کی تیاری ہورہی ہے ، گلگت بلتستان میں انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ماحول میں ہوتے نظر نہیں آ رہے. جس انداز میں پی ٹی آئی کے ووٹرز کو گلگت بلتستان میں ہراساں کیا جارہا ہے۔ خصوصاً گلگت بلتستان میں پیش آنے والے واقعات نے انتخابی عمل کی شفافیت اور غیر جانبداری پر مزید سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں , شیر افضل خان مروت
پی ٹی آئی کو سپیس نو مئی کے بعد اور آج تک ملا ہی نہیں، سپیس بنانا پڑتا ہے اور سپیس بنانے کے لیے سٹریٹیجی درکار ہے، وحدت درکار ہے، احتیاط درکار ہے۔ اور ان چیزوں کا فقدان ہے۔ اب مقبولیت بھی ہے، عوامی پذیرائی بھی ہے، لیکن اس مقبولیت کا کیا کریں ؟ ہمارا لیڈر، تین سالوں سے جیل میں پابندِ سلاسل ہے ؟ جب چھڑوانے کے مواقع آئے عموماً تو 2024 میں یا اس سے قبل یا اس کے بعد، وہ ہم نے خود ہی اپنے پیروں پہ کلہاڑیاں ماریں۔ جب تک یہ لوگ نہیں تھے انڈر گراؤنڈ تھے، پارٹی اتحاد اتفاق کے ساتھ پورے ملک میں کمپین کر رہی تھی۔ جوں ہی باہر نکلے نا، انھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی ہی پارٹی کو ٹکانے لگا دیا ، شیر افضل خان مروت
@MeFaheem Faheem bhai Sohail afridi Say bahr nikl awo thora kpk may Aur b bahut saray issues hai....aur bahut saray issues Sohail afridi ki waja say create hoyay hai
محترم شیر افضل مروت صاحب ۔ آپ کا نام شروع ہی شیر سے ہوتا ہے آپ شیر ہے باقی گیدڑوں کو بھونکنے دیجئے ۔ گیدڑوں کا کام ہے بھوکھنا ۔
جب پی ٹی آئی #ICU میں تھی کوئی ڈر سے نام بھی نہیں لے پاتا تھا ہم نے اسلام آباد میں ایک شیر کو نکلتے دیکھا اور پی ٹی آئی کے اندر جان پھونک دی ۔ ہم نے آنکھوں سے دیکھا اور ہر جلسہ کی کووریج کی ۔ جب آپ ریلی لیکر نکلتے تھے ہم پریس کلب کھڑے ہوتے تھے راستے میں رکاوٹ بہت مگر ہم میڈیا والے یہی کہتے تھے شیر افضل مروت ہے انہوں نے پریس کلب کا کہا ہے تو یہاں اے گا بھی اور آپ اے بھی ایک بار نہیں بہت بار ۔
باقیوں کو دیکھا فیض آباد سے آگے آج تک کوئی نہیں آسکا ابھی تک اپکا ریکارڈ کسی نے نہیں توڑا ۔
@sherafzalmarwat
بعض یوٹیوبرز، نام نہاد تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا کے خود ساختہ ٹھیکیداروں نے گزشتہ کئی ماہ سے میری عوامی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے دن رات ایک کیے رکھا۔ جھوٹ گھڑے گئے، افواہیں پھیلائی گئیں، کردار کشی کی مہمات چلائی گئیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ عوام نے مجھے مسترد کر دیا ہے۔
آج میں اپنے چھوٹے بیٹے بہرام خان کے ہمراہ سینٹورس مال گیا۔ وہاں جو منظر دیکھا، وہ ان تمام جھوٹوں اور پروپیگنڈوں کا عملی جواب تھا۔ مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ، نوجوان، بزرگ، خواتین، بچے، سب محبت کا اظہار کرنے آئے۔ کسی نے تصویر بنوائی، کسی نے ویڈیو، کسی نے مصافحہ کیا اور کسی نے صرف چند محبت بھرے الفاظ کہے۔ یہ وہ عوام ہیں جن کے دلوں میں جگہ ٹی وی سکرینوں اور یوٹیوب چینلز سے نہیں بلکہ کردار، جدوجہد اور عوامی رابطے سے بنتی ہے۔
صورتحال یہاں تک پہنچی کہ سینٹورس کی سیکیورٹی نے نہایت احترام کے ساتھ درخو��ست کی کہ رش بڑھنے اور راستے بند ہونے کی وجہ سے میں مال سے باہر چلا جاؤں تاکہ دیگر لوگوں کو آمدورفت میں دشواری نہ ہو۔ یہ منظر ان لوگوں کے لیے کافی ہونا چاہیے جو روزانہ میرے سیاسی جنازے نکالتے ہیں اور ہر دوسرے دن میری عوامی مقبولیت کے خاتمے کی پیش گوئیاں کرتے ہیں۔
مجھے پارٹی سے نکالے جانے کے بعد عوام کے رویے میں آج تک ذرہ برابر فرق محسوس نہیں ہوا۔ عوام کسی کے حکم نامے، ٹویٹ یا یوٹیوب ویڈیو پر نہیں چلتے۔ وہ اپنے مشاہدے، تجربے اور شعور کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ جو لوگ سمجھتے تھے کہ چند پروگراموں، تھمب نیلز اور جھوٹے بیانیوں سے عوام کے دل بدلے جا سکتے ہیں، انہیں آج کے مناظر پر غور کرنا چاہیے۔
عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ عزت اور محبت نہ کسی پارٹی کی جاگیر ہوتی ہے اور نہ کسی یوٹیوبر کی عطا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور عوام کے اعتماد کا نتیجہ ہوتی ہے۔ باقی جو حضرات روزانہ جھوٹ کی فصل کاشت کرتے ہیں، ان کی خدمت میں صرف اتنا عرض ہے کہ عوام نے آپ کے بیانیے کو وہی اہمیت دی ہے جس کا وہ مستحق تھا۔
لانت قبول فرمائیے، اور آئندہ بھی جھوٹ بولنے سے پہلے عوام کی عدالت کا فیصلہ یاد رکھیے۔
عوام کی محبت کسی سیاسی عہدے، پارٹی ٹکٹ یا تنظیمی عہدے کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ دلوں میں بنتی ہے، اور جب دل فیصلہ کر لیں تو پھر پروپیگنڈے کے بڑے سے بڑے طوفان بھی اس تعلق کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
میرے عزیز تحریکِ انصاف کے کارکنو!
آج میں آپ سے کسی عہدے، منصب یا ذاتی مفاد کے لیے مخاطب نہیں ہوں۔ میں آپ سے اس جماعت کے مستقبل کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جس کے لیے لاکھوں کارکنوں نے قربانیاں دیں، جیلیں کاٹیں، مقدمات بھگتے، روزگار گنوائے، تشدد برداشت کیا او�� اپنے قائد کے ساتھ وفاداری نبھائی۔
میں آپ سے ایک سوال پوچھتا ہوں۔
کیا آپ نے کبھی سنجیدگی سے غور کیا ہے کہ آخر تحریکِ انصاف کو اس حال تک کس نے پہنچایا؟
وہ جماعت جس نے 8 فروری 2024 کے انتخابات میں تمام تر دباؤ، گرفتاریوں، میڈیا بلیک آؤٹ اور رکاوٹوں کے باوجود ملک بھر میں عوامی مینڈیٹ حاصل کیا، وہ چند ہی مہینوں میں اس مقام تک کیسے پہنچ گئی کہ آج بڑھتے ہوئے جبر کے خلاف مؤثر احتجاج تک کرنے کی صلاحیت کھوتی جا رہی ہے؟
میری رائے میں اس زوال کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جماعت کے معاملات آہستہ آہستہ منتخب قیادت اور کارکنوں کے ہاتھوں سے نکل کر ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلے گئے جو نہ عوام کے سامنے جوابدہ تھے اور نہ سیاسی جدوجہد کے میدان میں موجود تھے۔ اختلافِ رائے کو غداری قرار دیا گیا، سوال پوچھنے والوں کو سازشی کہا گیا اور ہر اُس شخص کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی جس نے پالیسیوں پر اختلاف کیا۔
28 فروری 2024 تک نہ یہ صورتحال تھی اور نہ یہ لوگ میدان میں تھے۔ اس وقت کارکن متحرک تھے، قیادت متحرک تھی اور جماعت مسلسل آگے بڑھ رہی تھی۔ مگر اس کے بعد پارٹی کے معاملات پر خان صاحب کی بہنوں، خصوصاً علیمہ خان، اور بیرون ملک بیٹھے چند یوٹیوبرز کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فیصلہ سازی محدود ہوتی گئی اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرایا جانے لگا۔
اگر یہ راستہ درست تھا تو پھر کامیابی کہاں ہے؟
اگر فیصلے درست تھے تو جماعت مضبوط کیوں نہ ہوئی؟
اگر حکمتِ عملی درست تھی تو آج احتجاجی سیاست مفلوج کیوں ہے؟
انتخابات کے صرف سترہ دن بعد مجھے فوکل پرسن اور ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
اس کے بعد صرف ایک ماہ میں مجھے پارٹی سے نکال دیا گیا۔
میرے چھوٹے بھائی کو خیبرپختونخوا کابینہ سے صرف ایک ماہ اور بارہ دن بعد فارغ کر دیا گیا۔ میڈیا میں اس کے خلاف کرپشن کے الزامات کی مہم چلائی گئی لیکن آج تک قوم کو کوئی قابلِ اعتبار ثبوت نہیں دکھایا جا سکا۔
انتخابات کے تیس دن بعد مجھے سینئر نائب صدر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
صرف اکتالیس دن بعد وہ نامزدگی واپس لے لی گئی جو خود عمران خان صاحب نے مجھے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے لیے دی تھی۔
پھر مجھے دوسری مرتبہ پارٹی سے نکالا گیا۔
بعد ازاں جب میری مل��قات عمران خان صاحب سے ہوئی تو نہ صرف یہ فیصلہ واپس لیا گیا بلکہ انہوں نے اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔
میں نے سمجھا کہ شاید اب معاملات درست سمت میں چل پڑیں گے، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
صرف بارہ دن بعد مجھے سیاسی کمیٹی اور کور کمیٹی سے بھی نکال دیا گیا اور اسی دوران بعض یوٹیوبرز نے میرے خلاف منظم کردار کشی کی مہم شروع کر دی۔
میں اسلام آباد میں جلوسوں اور احتجاجی سرگرمیوں کی قیادت کر رہا تھا۔ لیکن مجھے دور دراز علاقوں میں بھیج دیا گیا جبکہ اسلام آباد میں قیادت دوسروں کے سپرد کی گئی۔ میڈیا مسلسل میرے خلاف مہم چلاتا رہا اور میں مسلسل عمران خان صاحب کے حق میں آواز بلند کرتا رہا، یہاں تک کہ مجھے تیسری مرتبہ بھی پارٹی سے نکال دیا گیا۔
میں آج تک پوچھتا ہوں کہ تینوں مرتبہ میرے خلاف الزام کیا تھا؟
کون سا شوکاز نوٹس؟
کون سی انکوائری؟
کون سا ثبوت؟
اصل مسئلہ صرف یہ تھا کہ بعض لوگوں نے عمران خان صاحب کو یہ باور کرا دیا تھا کہ احتجاجی تحریکوں کی کامیابی کا کریڈٹ مروت لے رہا ہے اور اس کی مقبولیت بڑھ رہی ہے۔
ایک مرتبہ عمران خان صاحب نے مجھ سے کہا:
"مروت! تمہارا عروج غیر معمول�� رفتار سے ہوا ہے۔"
میں نے جواب دیا:
"خان صاحب! ان آزمائشی دنوں میں اگر کوئی بھی شخص آسان راستے کی بجائے مشکل راستہ اختیار کرتا تو وہ بھی یہی مقام حاصل کر سکتا تھا۔"
دوسروں نے سہولت کا راستہ چنا، میں نے مشکل راستہ چنا۔
دوسروں نے خاموشی اختیار کی، میں نے سڑکوں کا راستہ اختیار کیا۔
دوسروں نے محفوظ مقامات تلاش کیے، میں کارکنوں کے درمیان کھڑا رہا۔
آج بھی بعض کارکن یہ کہتے ہیں کہ میری شناخت تحریکِ انصاف نے بنائی۔
میں اس سوچ سے اختلاف کرتا ہوں۔
تحریکِ انصاف نے مجھے پلیٹ فارم ضرور دیا، لیکن شناخت اللہ تعالیٰ کے فضل، میری جدوجہد، میری حکمتِ عملی، میری جرات اور ان مشکل ترین دنوں میں اختیار کیے گئے راستے سے بنی۔
اگر مئی 2023 کے بعد میں میدان میں نہ نکلتا، اگر ملک بھر میں احتجاجی سرگرمیوں، جلسوں، جلوسوں اور ورکرز کنونشنز میں شریک نہ ہوتا، تو شاید آج صورتحال مختلف ہوتی۔
تاہم میں کبھی یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ یہ سب کچھ میں نے اکیلے کیا۔
اگر مئی 2023 کے بعد تحریکِ انصاف زندہ رہی تو اس کا کریڈٹ کسی ایک شخص کو نہیں بلکہ ان لاکھوں کارکنوں کو جاتا ہے جنہوں نے ہر مشکل برداشت کی۔
یہ کامیابی ان تمام رہنماؤں اور کارکنوں ��ی بھی تھی جنہوں نے مشکل حالات میں پارٹی کا پرچم بلند رکھا۔
بیرسٹر گوہر خان، عمر ایوب خان، علی امین خان گنڈاپور، علی محمد خان، جنید اکبر خان، عاطف خان، شہرام خان ترکئی، اسد قیصر، بابر سلیم سواتی، صاحبزادہ شفقات اللہ، شاندانہ گلزار خان، باجوڑ باغی، سینیٹر خرم ذیشان، شہریار آفریدی، خیبرپختونخوا کے اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی، بلوچستان کی قیادت، سندھ کی قیادت اور ہزاروں کارکن اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ ہم نے انتہائی مشکل حالات میں تحریک کو زندہ رکھنے کی کوشش کی۔
اکتوبر 2024 میں عمران خان صاحب نے فیصلہ کیا کہ احتجاجی تحریک کو منظم کرنے کے لیے ایک پروٹیسٹ کمیٹی قائم کی جائے جس کی سربراہی میں کروں گا۔
میں نے یہ اعلان اڈیالہ جیل کے باہر کیا۔
مگر صرف دو دن بعد یہ فیصلہ واپس لے لیا گیا۔
مجھے بتایا گیا کہ بعض لوگوں نے عمران خان صاحب کو یہ باور کرایا کہ اگر احتجاجی تحریک کی قیادت مروت کرے گا تو اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔
میں دوبارہ عمران خان صاحب کے پاس گیا اور عرض کیا کہ جماعت کو ایک منظم احتجاجی ڈھانچے کی ضرورت ہے۔
میں نے دوبارہ کوشش کی��
پھر ایک اور ملاقات کی درخواست کی۔
مگر بالآخر وہ وقت بھی آیا جب میرے لیے ملاقات کے دروازے بند ہوتے گئے۔
نومبر 2024 میری ان سے آخری ملاقات تھی۔
فروری 2025 میں مجھے دوبارہ پارٹی سے نکال دیا گیا۔
اس کے بعد یوٹیوبرز کی ایک مستقل مہم شروع ہوئی تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ مروت غلط تھا اور باقی سب درست تھے۔
میں آج کارکنوں سے پوچھتا ہوں:
اگر وہ سب درست تھے تو کامیابی کہاں ہے؟
اگر حکمتِ عملی درست تھی تو نتائج کہاں ہیں؟
اگر فیصلہ سازی درست تھی تو جماعت اس حال تک کیوں پہنچی؟
اگر سب کچھ بہترین تھا تو آج احتجاجی سیاست کیوں مفلوج ہے؟
جنید اکبر کے ساتھ گلگت میں پیش آنے والے واقعات اور اسد قیصر کے راستے میں کھڑی کی جانے والی رکاوٹیں اس زوال کی تازہ مثالیں ہیں۔
میں آج بھی یہ کہتا ہوں کہ اگر مقصد دولت، وزارت یا اقتدار ہوتا تو میرے لیے مواقع کی کمی نہیں تھی۔
میں آسان راستہ اختیار کر سکتا تھا۔
مگر میں نے ہمیشہ کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی۔
آج میں تحریکِ انصاف کے کارکنوں سے اپنی آخری اپیل کر رہا ہوں۔
اگر آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ جماعت کو متحد کرنا ہے، اس کی سمت درست کرنی ہے، اس کی تنظیمِ نو کرنی ہے اور اپنے قید رہنماؤں کی رہائی کے لیے مؤثر تحریک چلانی ہے تو مجھے صرف تین ماہ کے لیے جماعت کی تنظیمی کمان دے دیں۔
صرف تین ماہ۔
میں وعدہ کرتا ہوں کہ جماعت کو متحد، متحرک اور منظم کر کے دکھاؤں گا۔
اپنے قید قائدین کی رہائی کے لیے ایک حقیقی عوامی تحریک منظم کر کے دکھاؤں گا۔
اس کے بعد میں خود مستقل طور پر جماعت سے علیحدہ ہو جاؤں گا کیونکہ موجودہ ماحول، سازشوں، کردار کشی، جھوٹ، بہتان، یوٹیوبر کلچر اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی سیاست سے مجھے شدید نفرت ہے۔
یہ میری کارکنوں سے آخری اپیل ہے۔
آنکھیں کھولیں۔
حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں۔
محض مقبولیت کافی نہیں ہوتی۔ اگر مقبولیت ہی سب کچھ ہوتی تو عمران خان صاحب گزشتہ تین برس سے جیل میں نہ ہوتے۔
سیاسی جماعتیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ تنظیم، اتحاد، مشاورت، برداشت اور درست حکمتِ عملی سے زندہ رہتی ہیں۔
اگر آپ نے وقت کی نبض نہ پہچانی، اگر آپ نے اختلافِ رائے کو غداری سمجھنے کی روش ترک نہ کی اور اگر آپ نے جماعت کو چند غیر منتخب اثرات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تو آنے والے چھ ماہ جماعت کے لیے انتہائی بھاری ثابت ہو سکتے ہیں۔
میں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
اور اگر میری یہ آخری فریاد بھی سنی نہ گئی تو پھر تحریکِ انصاف کے مستقبل پر صرف اتنا ہی کہا جا سکتا ہے:
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
🚨🚨
تو پھر یہ مُلاقات اِتنے دن کیوں چُھپائی گئی اگر یہ ایک روٹین کی صوبہ کو درپیش چیلنجز پر مُلاقات تھی؟ آپ ایک صوبے کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور مُحسن نقوی صاحب وفاقی وزیرِ داخلہ ہیں تو یہ مُلاقات آن ریکارڈ ہونا چاہیے تھی، نہیں؟ اور بنوں میں دہشتگردی کے واقعات اور صوبے میں امن و امان پر مُلاقات بیرسٹر گوہر کی نجی رہائش گاہ پر “خُفیہ” رکھ کر کیوں ہوئی؟ یہ تو آپ کے وزیرِاعلیٰ دفتر میں ہونی چاہئے تھی جس میں کور کمانڈر پشاور بھی شریک ہوتے، ہیں ناں؟
بریکنگ نیوز یہ ہے کہ شہریار،شندانہ، جُنید اکبر،شفیع جان سمیت خیبر پختون خواہ قیادت میں بہت بڑے گروپ کا ماننا ہےشیر افضل کو سلمان راجہ کی خواہش پر پارٹی سے نکال کرزیادتی کی گئی،اُن ��امزید کہنا ہے پختون خواہ کی عوام اور قیادت کو احساس ہےاُس نے سب کے لیے مُشکل وقت میں کیا کچھ کیا