@OryaMaqboolJan فارم 47 کی ناجائز حکومت اور انکے ہینڈلرز کو اندازہ ہی نہیں ہے کہ حالات کس طرف جارہے ہیں۔
لاوا ابل رہا ہے اور کسی بھی وقت پھوٹ سکتا ہے۔
اور اس بار کی طلبہ تحریک پاکستان میں بیٹھے فبضہ مافیا کو کہی کا نہیں چھوڑے گی۔
#آخرحل_طلباکامارچ
وہ جو پاکستانی حکمرانوں کو اپنی تحریروں سے مشورے دے رہے تھے کہ بنگلہ دیش کی طرح ان مذہبی سیاست اور “ایاک نعبد “ والوں کو کچل کر رکھ دو ، ان کے لئیے تین سبق :
۱)خلیج بنگال میں دو قومی نظریہ کو ڈبونے والوں کی موت ہو گئی
۲) معاشی ترقی کو لوگ عزت نفس پر ترجیح نہیں دیتے
۳) طاقتور فوج اور بھارتی فوج کی مدد سے بھی عوام پر قابو نہیں پاسکتے
انقلاب فرانس آیا تو پورے یورپ کے حکمران ڈر کر انسان بن گئیے تھے ۔۔ شا��د آپ ابھی غفلت میں ہیں
یہ ہوتی ہے عوامی قوت جس نے نہ صرف بنگلہ دیش کی فوج کو پسپا کیا بلکہ ان کی پشت پر کھڑی بھارتی فوج کو بھی بے بس کردیا ۔ حسینہ واجد اور اس کی اسٹبلشمنٹ نے اپنی پوری قوت سے کچلنے کی کوشش کی لیکن اب خوف کا شکار ہے ۔ ڈرو اس وقت سے جب یہ مناظر پاکستان کی سڑکوں پر نظر آنا شروع ہوگئے
Overseas Pakistanis are starting to gather at Freedom Plaza in Washington DC, USA to raise their voices for Imran Khan and all political prisoners in Pakistan.
#PTIUSAProtest#ReleaseKhanSavePakistan
Digital billboard truck in Washington DC, as overseas Pakistanis are mobilizing all over the world for the release of Imran Khan and the restoration of democracy in Pakistan.
#IKforPakistan
قربان جائیں ان کی Logic پر۔ رؤف حسن کا بھارتی شہری سے رابطہ تھا، اچھی گپ شپ تھی ، لہٰذا وہ غدار ہے۔
لیکن نواز شریف کے بھارت میں کاروبار تھے جبکہ کسی اور پاکستانی شہری کو بھارت سے کاروباری تعلق رکھنے کی اجازت نہیں، لہٰذا میا�� صاحب محب وطن ہیں اور ان کو 25 کروڑ عوام اپنا لیڈر مانے
کیا شاندار دہرے معیار ہیں آپ کے۔ 👏👏👏
کیا عمران خان کا ہٹلر سے موازنہ کیا جا سکتا ہے؟
ہٹلر ظالم تھا اور خود اسٹیبلشمنٹ تھا۔ ہٹلر نے بے شمار قتل کئے۔
عمران خان مظلوم ہے۔
کیا ہٹلر کو گولیاں ماری گئیں؟ کیا ہٹلر پر 200 کے قریب مقدمات بنا کر اسے اور اسکی بیوی کو جیل میں ڈالا گیا؟ کیا اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے ہٹلر کے خلاف انسانی حقوق کی پامالیاں کیں؟
اس طرح کی بد ترین دھاندلی کے بعد نواز شریف میں اگر تھوڑا سا اپنا یا اپنی پارٹی کی عزت کا پاس ہوتا تو جیل جا کر یہ سیٹ ڈاکٹر یاسمین راشد کے حوالے کردیتا ۔ لیکن جس نے اپنی سیاست جنرل جیلانی کی چوکھٹ پر عزت نیلام کرکے حاصل کرنا شروع کی ہو ، اسے ایسی عزت ذلت کی کیا پرواہ
جو عمران خان کو یہودی ایجنٹ کہتے رہے اُن کے لئیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ ایک ایٹمی قوت کی حثیت سے پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسماعیل ہانیہ کی شہادت پر بیان میں جب اسرائیل کا نامُ لکھا تو یہودی آقا کی ڈانٹ پڑنے پر نام نکال دیا گیا ۔ اللہ کیسے چہروں سے نقاب الٹتا ہے
یہ ثاقب جیلانی ایڈوکیٹ ہے جس نے اپنے والد تصدق حسین جیلانی کے تحت بننے والے قاضی فائز عیسی والے فراڈ کمیشن کے خلاف پرچم بلند کر دیا ہے ۔ حق و باطل کی جنگ کی یہی علامت ہوتی ہے کہ لوگ رشتے داری بھی نہیں دیکھتے
بلی باہر آ گی : ARY پر یہ ٹکر چل رہے ہیں کہ چیف جسٹس کی ملازمت 3 سال کر دی جائے یعنی قاضی فیض کو ریٹائر نہیں ہونے دیا جائے - یہی سارا پلان تھا اور اب چار کا ٹولہ، یعنی جرنل عاصم منیر، ندیم انجم اور فیصل اور قاضی صاحب ، اپنے ہدف کی طرف بڑھ رہے ہیں - PTI اور باقی پارٹیوں کے لئے اعلان جنگ ہے مگر کوئی جنگ کرنے کو تیار نہیں نظر آ رہا - قاضی صاحب کے بعد جرنل عاصم کو مزید ایکسٹینشن دی جاےگی اور یہ بھیانک خواب اسی طرح چلتا رہیگا - اب عمران خان کو سب کے ساتھ مل کر مقابلے میں آنا پڑیگا - عوام تو تیار ہیں پر لیڈر نہیں
محترم شاہد آفریدی صاحب آپکی مجبوری دیکھتے ہوئے آپ پر ترس آرہا ہے۔ کاش آپ میں ظلم کے خلاف بولنے اور سچ کا سامنا کرنے کی جرات ہوتی۔ کاش آپ چھوٹے موٹے دنیاوی فائدوں کے حصول کی بجائے اپنے اس مقام پر اکتفا کرتے جو اللہ تعالیٰ نے آپکو عوام کی نظروں میں عطا کیا۔ میں آج بھی مایوس نہیں ہوں امید ہے آپ ایک دن ضرور سمجھ جائیں گے۔
’’اور وہ نام ہے حامد خان‘‘
میں نے اس سے پہلے ٹویٹ میں خان کی ایک بات کی پوری تفصیل لکھی اور آخر میں کہا تھا کہ ایک نام آپ کو بتاوں گا،جی تو وہ نام ہے حامد خان۔۔۔۔
پورے ملک کے وکلا کی سیاست دو گروپس میں تقسیم ہے،ایک ہے حامد خان گروپ اور ایک ہے عاصمہ جہانگیر گروپ،
عاصمہ جہانگیر گروپ سے تعلق رکھنے والے اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان کی تمام عدالتوں سے وہ کونسا غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلہ ہے جو ن لیگ کو لے کر نہیں دیا؟کہیں وکلا کو استعمال کرکے ججز کو دھمکایا تو کہیں حاضر سروس ججز کے دوست ریٹائرڈ ججز کو نواز،کچھ بھی کیا لیکن ن لیگ کو پوری طرح عدالتیں مینج کرکے دیں،
دوسری طرف حامد خان صاحب نے پچھلے دس ماہ میں پی ٹی آئی کو ان کا کون سا آئینی اور قانونی حق لے کردیا؟
بات صرف یہ نہیں ہے بلکہ وہ ابھی بھی قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں،
اس کی دو مثالیں بتا دیتا ہوں،
پی ٹی آئی کے اندر ایک بات چلی کہ ہماری دو سو سے زائد صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں پر ڈاکہ ڈالا گیا،ہم ان دو سو سے زائد نشستوں کو واپس لینے کے لیے ٹربیونلز میں تو جائیں گے ہی لیکن ہمیں الگ الگ دو سو کیسز سپریم کورٹ لے جانے چاہئیں،
اس سے قاضی فائز عیسیٰ پر دباو بڑھے گا،
اور کچھ نہ ہوا تو درخواست دائر ہونے کی خبریں چلیں گی،کیس مقرر ہونے کی خبریں چلیں گی،کیس کی سماعت کے دن بھرپور کوریج ہوگی،ہمارے وہ فارم 45 کے اراکین مزید ہائی لائٹ ہو جائیں گے اور آخر میں جب وہ دو سو درخواستیں مسترد ہوں گی تو یہ دو سو کیسز ہم نہیں ہاریں گے بلکہ دو سو بار خان کا بیانیہ جیتے گا کہ قاضی فائز عیسیٰ مینڈیٹ چوری میں پوری طرح شریک ہیں،
یہ دو سو کیسز ہار کر بھی ٹربیونلز میں دائر کیسز پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ سپریم کورٹ کیس کے ��یرٹس پر نہیں بلکہ قابل سماعت کے نکتے پر یہ کسیز مسترد کرے گی،
لیکن بتایا یہ جاتا ہے کہ اس مشورے کی مخالفت کرنے والے چند دیگر کرداروں میں سر فہرست حامد خان صاحب تھے،انہوں نے کہا کہ ایک مشترکہ پیٹیشن کی جائے گی جوکہ خیر اب کردی گئی ہے،
دوسری مثال،
خان نے دو ٹوک کہا کہ قاضی فائز عیسیٰ ہمارے کیسز نہ سنیں کیونکہ سپریم کورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کیونکہ عمران خان کے حوالے سے ذاتی بغض،نفرت اور رنجش کا شکار ہیں تو وہ خان کے کیسز نہیں سن سکتے،
کل رات شاہ زیب خانزادہ کے پروگرام میں حامد خان نے عمران خان کے اس حکم کی مخالفت کی اور قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے ساتھ اپنی لائن سیٹ رکھنے کے لیے کہا کہ ہمیں ان پر کوئی اعتراض نہیں،
حامد خان صاحب اپنی ذاتی لائن ضرور سیٹ رکھیں،تاکہ وہ قاضی صاحب کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے کیسز جیتتے رہیں لیکن مزہ تو تب ہے کہ پی ٹی آئی کو بھی کوئی جائز حق لے کر دیں،
حامد خان صاحب عمران خان دور میں قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے خلاف آنے والے ریفرنس کے مخالف تھے،وہ قاضی فائز عیسیٰ صاحب کے حق میں کھڑے ہو گئے اور پارٹی سے ایک طرح سے لاتعلق ہو گئے،عمران خان کے خلاف بیانات دیے، لیکن قاضی صاحب نے ان کو اس وفا کا باقی کسی کیس میں بدلہ دیا ہو تو معلوم نہیں لیکن پی ٹی آئی کے حوالے سے آئین اور قانون کے مطابق بھی کوئی ریلیف نہیں دیا،دوسری طرف عمران خان ہے،جس نے اس سب کے باوجود حامد خان صاحب کی خواہش پر سینٹ کا ٹکٹ دیتے ہوئے یہ نہیں پوچھا کہ آپ نے پچھلے دس ماہ میں کسی ایک کیس میں قاضی فائز عیسیٰ صاحب سے پی ٹی آئی کو جائز حق لے کر دیا ہے کہ میں آپ کو سینٹ کا ٹکٹ دوں،خان نے گزرے وقت کا پاس رکھتے ہوئے بغیر کسی شکوے کے ٹکٹ دے دیا،اب دیکھتے ہیں کہ مخصوص نشستوں اور 8 فروری کے مینڈیٹ چوری کیس میں قاضی فائز عیسیٰ صاحب آئین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا ن کے ساتھ؟؟؟؟
’’جیل ��یٹھا عمران خان اپنی پارٹی کو کونسی ایک بات سمجھانے سے قاصر ہے؟؟؟‘‘
عمران خان سے جب بھی کوئی جیل میں مل کر آتا ہے تو کوشش ہوتی ہے کہ اس سے خبر لی جائے کہ خان نے کیا کہا ہے؟پی ٹی آئی کیا کرنے جارہی ہے؟
مل کر آنے والے کئی ایسی باتیں بتاتے ہیں جن کے متعلق وہ کہتے ہیں کہ یہ آف دی ریکارڈ ہے،اسے پبلک نہ کیجیے گا،لیکن کئی خبریں ایسی ہوتی ہیں جن سے روکتے نہیں ہیں تو وہ ہم اپنی وی لاگز میں دے دیتے ہیں،
8 فروری کے بعد عمران خان ہر ملاقات میں جو ایک بات ضرور کرتے ہیں،وہی ایک بات پی ٹی آئی کی پوری پارٹی یا تو سمجھنے سے قاصر ہے یا جن کے ہاتھ میں باہر فیصلہ سازی ہے وہ اس حد تک کمپرومائزڈ ہیں کہ وہ خان کی اس بات پر عمل نہیں ہونے دیتے،
چلیں آپ کو بتاتا ہوں کہ وہ بات کیا ہے اور خان کیوں بار بار وہ بات کرتا ہے؟
خان صاحب پارٹی کو پچھلے ڈیڑھ ماہ سے سمجھا رہے ہیں کہ سارا فوکس سپریم کورٹ پر رکھیں،خان نے گزشتہ ہفتے ایک ملاقات میں کہا کہ اسٹیبلیشمنٹ نے پی ٹی آئی کے خلاف جو بھی کیا ہے وہ سپریم کورٹ اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ذریعے کیا ہے،خان نے اس ملاقات میں کہا کہ
بلا کس نے چھینا؟قاضی فائز عیسیٰ نے
لیول پلینگ فیلڈ کس نے نہیں دی؟قاضی فائز عیسیٰ نے
بیوروکریٹس کو بطور آر او کس نے بحال کیا؟قاضی فائز عیسیٰ نے
نواز شریف کی تاحیات نااہلی کس نے ختم کی؟قاضی فائز عیسیٰ نے
مخصوص نشستیں کس کی وجہ سے نہیں ملیں؟قاضی فائز عیسیٰ کے بلے والے فیصلے کی وجہ سے
مختلف نشان ہونے کے باوجود خان کے نامزد کردہ امیدوار پی ٹی آئی کے امیدوار قرار پا سکتے تھے لیکن کیس قاضی فائز عیسیٰ صاحب نے نہیں لگایا،جو کیس فارم 33 کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ لے کر گئے تھے
ایک کے بعد ایک کیس میں گرفتاری سے روکنے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو کس نے کالعدم کیا؟قاضی فائز عیسیٰ کے دوست سردار طارق مسعود نے
سویلینز کے ملٹری کورٹس میں ٹرائل کے حوالے سے جسٹس اعجاز الاحسن کے بنچ کا فیصلہ کس نے معطل کیا؟قاضی فائز عیسیٰ کے دوست سردار طارق اور قاضی فائز عیسیٰ گروپ کے چار دیگر ججز نے
الیکشن کمیشن کو کس کی سپورٹ حاصل ہے؟قاضی فائز کی
سکندر سلطان راجہ کے سامنے چٹان بن کر کون کھڑا ہے؟قاضی فائز عیسیٰ
الیکشن میں دھاندلی پر پردہ ڈالنے کی پوری کوشش ��ون کررہا ہے؟؟؟سب کے سامنے ہے
خان نے کہا کہ نچلی عدالتوں سے اگر ہمیں ریلیف نہیں مل رہا تو اس کی وجہ بھی قاضی فائز عیسیٰ کا نچلی عدالتوں پر دباو کی وجہ سے ہے،
خان نے یہ سب باتیں کہہ کر پارٹی کو ٹاسک دیا کہ روزانہ سپریم کورٹ کے باہر پریس کانفرنس کرکے مطالبہ کریں کہ ہمارا مینڈیٹ واپس کریں،ہمارے کارکنان اور خواتین قیدیوں کو رہا کریں،ہمارے جتنے کیسز ہیں ،وہ فوراً سماعت کے لیے مقرر کریں،
خان نے پارٹی کو سمجھایا کہ جتنا سپریم کورٹ پر آپ دباو بڑھائیں گے،اتنی جلدی ان کو کیسز سننا پڑیں گے اور جب آپ حقائق لوگوں کو بتائیں گے تو حقیقت پر مبنی ایسا بیانیہ بنے گا جسے قاضی فائز عیسیٰ برداشت نہیں کر سکیں گے اور ان کو کیسز لگانا پڑیں گے،اگر کیس سن کر وہ میرٹ پر فیصلہ کرتے ہیں تو ہم وہ تمام کیسز جیت جائیں گے اور اگر قاضی فائز عیسیٰ ہمارے خلاف غیر آئینی فیصلے دیتے ہیں تو ہمیں اس کا یہ فائدہ ہوگا کہ جب ہم عوامی سطح پر احتجاج شروع کریں گے تو ہمارے پاس ٹھوس جواز ہوگا کہ ہم نے ملک کی سب سے بڑی عدالت میں جا کر دیکھ لیا ہے لیکن وہاں قانون نہیں ن کے مطابق فیصلے ہو رہے ہیں،وہاں آئین ،قانون اور حلف کے مطابق فیصلے نہیں ہو رہے بلکہ کسی کے احکامات کی تکمیل کے مطابق غیر آئینی فیصلے ہو رہے ہیں،
خان سے مل کر آنے والے خان کے ایک کھلاڑی نے مجھے کہا کہ ہم خان کے ساتھ بہت ظلم کررہے ہیں،وہ کہنے لگا کہ میرا دل خون کے آنسو روتا ہے کہ خان یہ سب deserve نہیں کرتا،جو کچھ ہم اس کے ساتھ کررہے ہیں،بلکہ اس نے کہا کہ شاید ہماری پارٹی کے کچھ لوگ بھی نہیں چاہتے کہ خان رہا ہو۔۔۔۔
خیر جو بھی ہے لیکن خان کی پارٹی میں اس وقت سب سے زیادہ وکلا ہیں لیکن اس وقت سپریم کورٹ کوئی وکیل جا کر بات کرنے کو تیار نہیں،��وائے شوکت بسرا کے۔۔۔جس کو چیف جسٹس نے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں
ایک نام اس سے اگلے ٹویٹ میں بتاتا ہوں کہ جس نے پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ روک رکھا ہے قاضی فائز عیسیٰ پر دباو بڑھانے سے۔۔۔۔۔
شاہد آفریدی کو قوم نے سر آنکھوں پر بٹھایا مگر انہوں نے ملک لوٹنے والوں سے لے کر مینڈیٹ چوری کرنے والوں تک کو مبارکبادیں دیں۔ لوگوں نے برادشت کیا مگر جب اپنی مقبولیت کی دھن میں مگن شاہد خان آفریدی نے پاکستان کے سب سے بڑے عوامی لیڈر پر کھل کر تنقید کرنا شروع کی تو لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ پاکستان میں شاہد آفریدی کی طرح ان سے کم تر اور ان سے بہتر بہت سے سٹارز موجود ہیں۔ جو آج بھی مختلف انداز میں خود کو عوام سے جوڑے ہوئے ہیں۔ ان سب کی بھی اپنی اپنی سیاسی سوچ ہے مگر ان میں سے کسی نے بھی عوا�� کی دل آزاری نہیں کی۔ مگر شاہد آفریدی کی نظریں شائد کسی اور ٹارگٹ پر مرکوز ہیں۔ عہدوں کے حصول کے لیے عزت داؤ پر لگانا ایک ہیرو کو زیب نہیں دیتا۔ اگر بولنا ہی تھا تو شاہد آفریدی کو ظلم اور جبر کے خلاف بولنا چاہیئے تھا تاکہ جن لوگوں نے اسے پیار دیا انکی محبتوں کا حق ادا ہوتا مگر لالہ نے ہمیشہ غلط شارٹ کھیل کر خود کو آؤٹ کروانے کی روایت برقرار رکھی۔
Once again Poor shot selection Afridi.