یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وفاق میں جس پارٹی کی حکومت ہو وہی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی حکومت بناتا ہے ، گلگت بلتستان کے باشعور عوام نے کل اس تاثر کی مکمل نفی کر دی ہے ، اگلے ماہ ہونے والے آزاد کشمیر انتخابات میں بھی یہی پیٹرن دہرائے جانے کا امکان ہے
( 1)
آخری مرتبہ مسلم لیگ ن گلگت بلتستان الیکشن 2015 میں جیتی تھی ، آزاد کشمیر میں بھی آخری مرتبہ جولائی 2016 میں بھاری اکثریت سے جیتی تھی حالانکہ مارچ / اپریل 2016 میں پانامہ کیس منظر عام پر آ چکا تھا اور 2014 ڈی چوک دھرنا کے بعد ہوائیں بھی ن لیگ مخالف تھیں !
( 2)
گلگت بلتستان الیکشن 2026 کی انتخابی مہم میں ن لیگ نے اپنے سارے ہیرے اس انتخابی مہم میں جھونک دئیے تھے اور وہی ہیرے بالآخر شکست کا حصہ بن گئے ، رہے نام اللہ !
( ختم شُد )
The results in GB has confirmed once again how unpopular PMLN has become.
Rare in our history that the party ruling in Islamabad and Lahore fails so miserably in elections in GB or Azad Kashmir.
It has been a continued slide since losing 16 out of 20 seats in the bye election in Punjab assembly July 2022. Feb 2024 elections were even worse - PMLN winning just about 20 odd seats in Punjab.
What a fall
پاکستان میں عمران خان صاحب کی وفاقی جمہوری حکومت کو ۹ اپریل ۲۰۲۲ کو بیرونی سازش پر اندرونی غداروں کے ذریعے گرایا گیا۔ تابعدار قیادت کو ملک پر مسلط کر کے مستحکم پاکستان کو تباہی کی طرف دھکیلا گیا۔ پاکستان کے سابقہ وزیراعظم اور مقبول لیڈر کو جعلی کیسز میں ناحق جیل بھیج دیا گیا۔ تمام صوبوں اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں وفاداریاں خرید کر حکومتیں تبدیل کی گئی۔ تمام اداروں نے مل کر عمران خان صاحب کو شکست دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ لیکن ۸ فروری ۲۰۲۴ کو پاکستانی قوم نے تمام تر ظلم جبر فسطائیت کے باوجود عمران خان صاحب کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا۔ عسکریت نے اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے پاکستان پر ایک دفعہ پھر نا اہلوں کا ٹولہ مسلط کیا۔
آج ایک دفعہ پھر گلگت بلتستان کے غیور پاکستانیوں نے طاقتوروں کو شکست دے کر عمران خان صاحب پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے وہاں پر بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ ریاست بندوق کے زور پر لوگوں کی رائے تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عمران خان صاحب کو جھکانے اور اُن کی پارٹی کو ��تم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اور انشاء اللّٰہ یہ خواب عمران خان صاحب کے دشمنوں کا ہمیشہ ادھورا ہی رہیگا۔
زور زبردستی، ڈنڈے اور بندوق کے زور پر حکومت کرنے سے ۴ سال میں ہمارا پیارا پاکستان اور پاکستانی قوم تاریخ کے سب سے کمزور موڑ پر آگئی ہے۔ مہنگائی ، بے روزگاری، بدامنی، تباہ حال معیشت اور ناکام پالیسیوں نے پاکستانی قوم کو خودکشیاں کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ کشمیر لہو لہان ہے۔ گلگت میں غم و غصہ ہے۔ تو فیصلہ سازوں کو سوچنا چاہئے کہ نا اہلوں کا اقتدار بچانا ہے یا پاکستان کو ؟ نتیجے بدلنے سے نظریے نہیں بدلتے۔ نتیجے بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتے۔ لہٰذا نتیجے نہیں اپنی پالیسی ��دلو۔
📜Drop Site News is publishing below the full transcript of Cable I-0678 — the classified Pakistani diplomatic cypher dated March 7, 2022, at the center of Imran Khan’s claim that the United States orchestrated his removal from power.
The document was previously described by The Intercept, which first reported on its contents in August 2023. The Intercept’s source, who had access to the document as a member of the military, spoke of growing disillusionment with Pakistan’s military leadership and the impact on military morale following its involvement in the political fight against Khan.
The source said they hoped the document “would finally confirm what ordinary people, as well as the rank and file of the armed forces, had long suspected about the Pakistani military, and force a reckoning within the institution.” They warned the military was pushing Pakistan toward a crisis similar to the one in 1971 that led to the secession of Bangladesh.
Drop Site is now publishing the document in full so that it may be part of the historical record.
For those unfamiliar with internal Pakistani documents, a cypher includes a check mark next to the department that receives a particular copy. On this cypher, there is no check mark next to the office of the prime minister. Rather, it is marked as having been delivered to the military. We redacted the check mark that would show which particular branch of the military received it.
The redactions next to the addressee list at the end of the cypher are significant. They point both to the source of the leak and to who was not the source.
Contrary to some speculation, the copy released by Drop Site did not originate from the prime minister’s office. It came from within the Pakistani military, from an individual disillusioned with the direction of the country’s leadership.
The cable was distributed to multiple recipients, all of whom retained their copies through the end of 2024. Drop Site obtained its copy from one of those military recipients.
⚡️ Drop Site News has published for the first time the full Cable I-0678 — the classified Pakistani diplomatic telegram dated March 7, 2022, that Imran Khan has cited as evidence of a U.S.-backed conspiracy to remove him from power.
The cable, sent from Pakistan’s ambassador in Washington to the Foreign Secretary in Islamabad, documents a luncheon meeting between Ambassador Asad Majeed Khan and U.S. Assistant Secretary of State for South and Central Asia Donald Lu.
According to the cable, Lu told the ambassador that Washington’s grievances with Khan’s government could be set aside if Khan were removed through a no-confidence vote. “I think if the no confidence vote against the Prime Minister succeeds, all will be forgiven in Washington because the Russia visit is being looked at as a decision by the Prime Minister,” Lu said, per the cable.
“Otherwise, I think it will be tough going ahead.”
In his own assessment, the ambassador wrote that Lu “could not have conveyed such a strong demarche without the express approval of the White House” and had “spoken out of turn on Pakistan’s internal political process.”
The cable was marked Secret, No Circulation, and distributed to Pakistan’s Secretary to the Prime Minister, Foreign Secretary, Chief of Army Staff, Director General of the ISI, and the Director of the SSP Section.
Khan was removed via no-confidence vote on April 9, 2022, six weeks after the meeting. He has been imprisoned since 2023, and has been held in solitary confinement since last year.
🔗 Read the full Drop Site report tracing how the U.S.-Pakistan relationship moved from mutual suspicion to full political embrace at the link below.
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
حسان نیازی کے جیل میں ایک ہزار دن مکمل۔
میرے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کی قید کو آج ایک ہزار دن مکمل ہو گئے ہیں۔ حسان خان کو 13 اور 14 اگس�� 2023 کی درمیانی شب ایبٹ آباد، خیبر پختونخوا سے ملٹری تحویل میں لیا گیا۔ چند دن بعد لاہور ہائی کورٹ میں فوج کی EME برانچ کے کمانڈنٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر جھوٹ پر مبنی کاغذی کارروائی کی اور مملکت کی اعلیٰ عدالت میں رعونت تکبر سے بھرا ایک خط SHO تھانہ سرور روڈ لاہور کے نام تھا جس میں غیر قانونی کارروائی کا برملا اعتراف تھا۔ میں SHO کو حسان خان کو فوج کے سپرد کرنے کا کہا گیا تھا، جبکہ حسان خان پہلے ہی ایبٹ آباد سے گرفتار ہو کر فوجی تحویل میں جا چکا تھا۔ ازراہِ تفنن اور اطمینانِ قلب کے لیے یہ حقیقت کافی ہے کہ ایک طاقتور ادارہ، ایک عام شہری کی طرح جھوٹ، بزدلی اور آئین و قانون سے انحراف کا مرتکب پایا گیا اور اس معاملے میں عام شہری سے بھی زیادہ مستعد نظر آیا۔ حیف! آج اگر ریاست پچیس کروڑ عوام کے جان، مال اور عزت کے تحفظ سے قاصر ہے تو ��س کی بنیادی وجہ مقتدرہ کی بداعمالیاں، لاقانونیت اور طاقت کے بے جا استعمال کی روایت ہے۔ چنانچہ حسان خان کے خلاف غصے، انتقام اور لاقانونیت کا یہ طرزِ عمل سمجھ میں آتا ہے۔ جس انداز سے طاقتور حلقوں نے آئین، قانون اور عدالتی نظام کو روندتے ہوئے حسان خان کو لاقانونیت کی بھینٹ چڑھایا، مجھے ایسے لوگوں کی بے بسی اور اخلاقی زوال پر ترس ہے۔ پاکستانی سیاسی قیادت محض ایک مہرۂ ناچیز ہے، لیکن جب موجودہ اقتدار کی شیلف لائف مکمل ہو جائے گی تو جن ہاتھوں نے انہیں اقتدار بخشا، انہی ہاتھوں کے ذریعے انہیں جیلوں کا راستہ بھی دکھایا جائے گا کہ پاکستان میں سات دہائیوں سے اقتدار اور جیل کی چھپن چھپائی جاری ہے، مگر ہمارے سیاستدان اس سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔
مجھے اس موقع پر نہ کوئی ذاتی شکوہ بیان کرنی ہے، نہ سیاسی نعرہ بازی اور نہ نفرت کی کوئی داستان سنانی ہے۔ مجھے صرف ریاست کی حالتِ زار، اس کی کسمپرسی اور اس بدنصیب ملک کی تقدیر پر افسوس کا اظہار کرنی ہے، جہاں بے پناہ طاقت رکھنے والے اداروں کو بھی جھوٹ اور لاقانونیت کے سہارے مقصد براری کرنی ہوتی ہے۔ دہائیوں سے ذاتی مفادات کو قومی مفادات کا نام دے کر پارلیمان، آئین، قانون اور عدالتی نظام کو مفاداتی ایجنڈوں کی بھینٹ چڑھایا جا چکا ہے، تمام آئینی اداروں کو بزورِ طاقت گھر کی لونڈی بنا دیا گیا ہے۔ بدنصیب مملکت سات دہائیوں سے یہ سب بھگت رہی ہے اور سیاسی ابتری میں نام پیدا کر چکی ہے اور ہر دس سال بعد زیرو پوائنٹ سے کچھ پیچھے اپنے سفر کا نئے سرے سے آغاز ک��تی ہے۔
آج جہاں میں اپنے بیٹے کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہوں کہ اس نے ایک ہزار دن غیر قانونی اور غیر انسانی قید و بند کو صبر، استقامت، حوصلے، جرأت اور ذہنی مضبوطی کے ساتھ برداشت کیا، جو میرے لیے باعثِ فخر ہے، وہاں مجھے اس بات پر بھی مکمل اطمینان ہے کہ وہ ظل��، غیر قانونی حراست اور ریاستی جبر کے باوجود نہ ٹوٹا، نہ جھکا اور نہ ہی مایوس ہوا۔ اصل المیہ صرف حسان خان یا فرد واحد کی قید نہیں بلکہ اصل سانحہ آئینی، قانونی اور عدالتی نظام کا انہدام ہے کہ قانون اور عدالتی نظام کو پامال کر کے میرے بیٹے حسان خان کو غیر قانونی فوجی تحویل میں لیا گیا اور فوجی عدالتوں سے دس سال قیدِ بامشقت کی سزا دلوائی گئی۔ اس عمل میں آئین اور بنیادی انسانی حقوق پامال کیے گئے اور عدالتی نظام کو عملاً بے اختیار بنا دیا گیا۔ 14 اگست، یومِ آزادی کے دن گرفتار کیا گیا، دو سے ڈھائی ماہ تک نہ اسے کسی عدالت میں پیش کیا گیا، نہ خاندان کو رسائی دی گئی اور نہ قانو�� کے تقاضے پورے کیے گئے، گویا ریاست خود اپنے آئین اور قوانین سے ماورا ہو چکی تھی۔ دسمبر 2024 میں فوجی عدالت نے میرے بیٹے کو دس سال قید کی سزا سنائی، مگر آج 10 مئی 2026 تک نہ فیصلے کی مصدقہ نقل فراہم کی گئی، نہ قانونی جواز بتایا گیا اور نہ شفاف عدالتی کارروائی کے بنیادی اصول پورے کیے گئے۔ یہ صرف انصاف کا قتل نہیں بلکہ آئین، عدلیہ اور شہری آزادیوں پر ایک سنگین حملہ ہے۔ سپریم کورٹ نے خود قرار دیا تھا کہ ایسے متاثرین کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے، سپریم کورٹ کے حُکم کے باوجود،دس ماہ سے حسان کی دائرُ درخواست ضمانت سماعت کے لئیے ایک عدد بینچ کی تلاش میں ہے، پانچ بنچوں سننے معذرت کر چکے ہیں عدالتی تاریخ کا پہلا واقع کہ سال ہونے کو ہے یہ فیصلہ نہیں ہو پارہا کہ درخواست سماعت کے لئیے ہائی کورٹ بینچ کی متلاشی ہےصورتحال واضح کرتی ہے کہ ملک میں قانون کی نہیں طاقت کی حکمرانی ہے۔ریاستی طاقت نے آئین، قانون اور انصاف کو پامال کر رکھاہے۔ اقتدارکا گھمنڈ اگرچہ یقین دلاتاہے کہ عروج دائمی ہے، مگر زوال ہمیشہ خاموشی سے اتا ہے اور انجام عبرتناک بنتا ہے
نورین خانم !
#imrankhan
ایک ہزار دن گزر گئے باقی 2653دن رہ گئے۔
میرے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کو دس سال قیدِ بامشقت کی جو سزا سنائی گئی ہے وہ مجموعی طور پر 3653 دن بنتی ہے، جو 13 اگست 2033 تک یا موجودہ مقتدرہ کی مدتِ اقتدار کے خاتمے تک، جو بھی تاریخ بھی پہلے آئے، پوری ہوگی۔ آج حسان کی قید کے ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اگر ان ایک ہزار دنوں کو کل مدت سے منہا کیا جائے تو باقی 2653 دن کی قید ابھی باقی ہے۔ زندگی کے اس موڑ پر اور عمر کے اس حصے میں اگر میں زندہ رہا اور حسان اپنی قید مکمل کرتا رہا تو اس وقت تک میں عمر کے اس مرحلے تک پہنچ چکا ہوں گا جہاں وقت اپنی معنویت بدل چکا ہوگا اور یہ پورا سفر میرے لئیے میری آزمائش نہیں بلکہ آئین یا قانون یا عدالتی نظام بلکہ مملکت کی ایک طویل آزمائش کی صورت اختیار کر چکا ہوگا۔
It’s important to support Imran Khan more than ever today! They are trying to break him, hence #EverySecondCountsForKhan ; so all that you can to raise voice for him.