سانحہ زیارت
وہ آپ کو فون کرتے رہے کہ ہمارے پاس کارتوس نہیں آپ نے پرواہ نہیں کی، آپ کے طیارے، ڈرون، مشینری کس لئے ہیں؟
ان شہی��وں کی لاشیں اٹھانے کیلئے کوئی نہیں جارہا تھا اور جس بے عزتی سے لاشیں ایک دوسرے پر رکھ کر پک اپ گاڈی میں پہنچائی گئی ۔۔۔
کتنے ہی لوگ شہید کردئے گئے، ��تنوں کو زندہ جلایا گیا مگر کسی بھی ذمہ دار شخص نے اس کوتاہی پر نہ تو استعفیٰ دیا، اور نہ ہی حکومت کے فیصلہ سازوں نے کسی ڈی سی، کمشنر، آئی جی یا کسی بریگیڈیئر کو معطل کیا، اور نہ ہی کسی سے بازپرس کی گئی۔
زیارت میں لیویز اہلکاروں کو بلایا گیا اور انہیں کوئی واضح مقصد بتائے بغیر یہ حکم دیا گیا کہ فلاں مقام پر جائیں، صرف ایک یا دو میگزین لے کر جائیں۔
دو دو میگزین کے ساتھ ان کو بھیجا گیا۔وہاں ان پر حملہ ہو گیا۔ یہ حملہ کس نے کیا اور کہاں سے ہوا؟
اگر امریکہ اسلامی ممالک میں موجود اپنے اڈوں سے ایران پر حملہ کرے گا تو ایران کے پاس کیا چارہ رہ جائے گا سوائے اس کے کہ وہ ان ممالک پر حملہ کریں؟
مشر محمود خان اچکزئی
اگر امریکہ اسلامی ممالک میں موجود اپنے اڈوں سے ایران پر حملہ کرے گا تو ایران کے پاس کیا چارہ رہ جائے گا سوائے اس کے کہ وہ ان ممالک پر حملہ کریں؟
ہمیں اپنی صفیں درست کرنی ہوں گی۔
بہت بڑا ظلم ہوا ہے، ایک ملک کے سپریم لیڈر، روحانی پیشوا کو قتل کیا گیا اور خطرناک بات یہ کہ ایک ملک کے سربراہ نے اعلان کیا کہ میں نے مارنا ہے ان کو۔ اس پر ہم خاموش بیٹھیں ہیں۔
ہم اگر آج خاموش بیٹھیں گے تو کل ہماری بار�� آئے گی اور ہمارا پوچھنے والا کوئی نہیں ہوگا
یہ حکومت ان حالات میں پاکستان نہیں چلا سکتی۔
مہربانی کریں! لوگوں کے ساتھ بیٹھیں بات کریں فوری طور پر ایک ایسے قومی گورنمنٹ کی ضرورت ہے جس میں تمام پارٹیاں شامل ہوں اور ہم سب مل بیٹھ کے فیصلہ کریں کہ اس بدبخت خطے کو کس طرح بچائیں
اگر پارلیمنٹ کو نہیں چلانا تو چھٹی کردیں۔
بسم اللہ کریں شہباز کو عمر بھر کے لیے وزیراعظم ، فلاں کو سپیکر ، فلاں کو کچھ اور بنائیں اور جو مر جائیں پھر اس پہ الیکشن کروائیں ۔۔۔۔ اس طریقے سے ہم نہ اس پارلیمنٹ میں بیٹھیں گے اور نہ ہی اس طرح کام کریں گے
اس پارلیمنٹ نے اب تک ایران کے خلاف ہونے والی جارحیت پر مذمت کی قرارداد پاس نہیں کی ہے۔ اس پارلیمنٹ کو اب تک پتہ نہیں ہے کہ پاکستان نے سعودی کے ساتھ کیا معاہدے کئے ہیں، ایسا تو نہیں چلے گا یہ ملک۔
خطے کی موجودہ صورتحال پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی اہم ترین تقریر سینسر کرتے ہوئے قومی ٹیلی ویژن کی نشریات بند کردی گئی۔
قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کی پہلی تقریر کے بعد ان کی تمام تقاریر کو سینسر کیا گیا۔
ترکی، ایران، عراق اور شام سب کو بیٹھ کے بات کرنی ہوگی۔ اس سے پہلے کہ امریکہ باغیوں کو سپورٹ دے، خون کی ندیاں بہے گی۔ خود بیٹھ کے کوئی علاج نکالنا ہوگا۔
امریکہ نے ۲۰۰۶ میں عرب دنیا کو شیعہ، سنی بنیاد پر تقسیم کرکے ایک نقشہ جاری کیا۔
ہم غریب اقوام کی یہ حیثیت ہے اس دنیا میں
قائد حزب اختلاف پشتونخوامیپ کے چیئرمین محمود خان اچکزئی کى قيادت میں اپوزيشن وفد نے اسلام آباد، ایرانی سفارت خانے میں ایرانی سفیر سے شہید آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای اور دیگر قیادت ،عوام اور معصوم بچوں کی شہادت پر تعزیت، فاتحہ خوانی اور اظہار یکجہتی کی۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ ایک دہشتگردانہ حملہ ہے۔
ایک ملک کا صدر کہتا ہے کہ دوسرے ملک کے لیڈر کو مارنے کا ہم نے فیصلہ کیا تو اگر کل آپ کے پیچھے بھی کوئی بدلے کیلئے آئے تو پھر یہ دنیا کیسے چلے گی؟
چین اور روس نے واضح طور پر کہا ہے کہ آیت اللہ خامنہ آی کا قتل ایک دہشتگردانہ حملہ ہے۔
ہمارے ہمسایہ ملک پر حملہ ہے ہم اگر خاموش رہیں گے تو کل جب ہم پر حملہ ہوگا تو کون ہمارا ساتھ دے گا؟
ہماری پارلیمنٹ کو متفقہ طور پر قرارداد منظور کرنی چاہئے تھی جس میں واضح طور پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کو زمہ دار قرار دیا جاتا کہ یہ لوگ طاقت کے بل بوتے پر آزاد ممالک پر حملے کرتے ہیں اور ان کے اکابرین کو قتل کرتے ہیں۔
جن ممالک کے ذریعے ایران، امریکہ مذاکرات ہورہے تھے ان کے وزراء خارجہ نے کہا کہ ایران یورینیم آخری لیول پر لانے کیلئے راضی ہوگیا تھا لیکن ا��ریکہ نے پھر بھی حملہ کیا
اس بارے میں اگر ہماری پالیسی واضح نہیں ہوئی تو ہم ایسے اکیلے مارے جائیں گے کہ دنیا میں ہمارا کوئی ساتھی نہیں ہوگا۔
ٹرمپ ایران کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا اور مذاکرات کے دوران بڑے بڑے جہاز اکٹھے ہورہے تھے۔ اس پر نا OIC نے کوئی اجلاس بلایا اور نا ہم ہمسایہ ممالک نے کہ یہ کیا ہورہا ہے حالانکہ عا�� آدمی سمجھ رہا تھا کہ کیا ہونے والا ہے
مجھے مشاہد حسین نے کہا صدر غلام اسحاق خان کے ساتھ ہم سب بیٹھے تھے بجٹ تیار کیا جا رہا تھا تو غلام اسحاق نے کہا بجٹ میں افغانستان کا حصہ رکھا جائے تو میں حیران ہوا میں نے پوچھا وہ کیسے؟ تو صدر غلام اسحاق خان نے کہا ہاں ہم اب افغانستان کو پاکستان کے 5ویں صوبہ کے طور پر ڈیل کریں گے
امریکہ جو buildup کر رہا ہے اگر ایران پر حملہ کر دیا تو جوابی حملہ ایران کا پورے خطے کو جلا دے گا ایسی صورتحال میں پاکستان کو کیا سمت پکڑنی ہے؟ پاکستان کو تمام اداروں، سیاسی پارٹیوں، معاشی ماہرین، سماجی تحریکوں وغیرہ سب پر مشتمل گول میز کانفرنس بلا کر اس میں سوچ بچار کرنا ہوگا ۔