PNSNEWS, we believe that news should be clear, unbiased, and accessible to everyone. Our dedicated team works continuously to verify information and present sto
@arifhameed15 عمران خان کے بیٹوں نے اپنے والد کے ساتھ پیش آنے والی مبینہ زیادتیوں پر کھل کر گفتگو کی اور انٹرویو کے ذریعے معاملہ عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ حکومت پر شدید تنقید، سوالات اور ردِعمل کا سلسلہ جاری۔
کیا عمران خان کے بیٹوں کا یہ انٹرویو عالمی سطح پر نیا دباؤ پیدا کرے گا؟
@vikrantgupta73@diplal Imran Khan’s standout qualities include determination, confidence, resilience, and the courage to stand by his principles. His journey is an example of continuing to strive for your goals even when the circumstances are difficult. 🇵🇰
@FabrizioRomano یہ ایک strong football-style reply tweet ہے:
Julián Álvarez deserves clarity, not confusion. He’s a world-class player and a great professional. Hopefully, Atlético and Julián can resolve this situation quickly and respectfully. ⚽️🔴⚪️
@AsadAToor ایمان مزا��ی اور ہادی علی کے لیے دل سے دعا ہے کہ اللہ انہیں جلد اپنے گھر والوں اور اپنوں کے درمیان لے آئے۔
اختلافِ رائے اور تنقید ہر شہری کا حق ہے، مگر انصاف، قانون اور انسانی وقار سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ نظام سے سوال ضرور ہونے چاہئیں، مگر امید اور حوصلہ بھی قائم رہنا چاہیے۔❤️
@AsadAToor سالگرہ مبارک ہو @AsadAToor بھائی! 🎂😂
اللہ آپ کو ہمیشہ خوش رکھے، لمبی عمر دے اور اتنا کیک دے کہ ڈائٹ والے بھی جل جائیں! 😂🎉
بس کیک کھلاتے وقت غائب مت ہونا! 😭🤣
شہریوں پر صرف ہو اور طاقتور مافیاز آزاد گھومیں، تو عوام کا ریاست پر اعتماد متزلزل ہونا فطری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حقیقی مجرموں اور مجبور شہریوں میں فرق کرنا سیکھیں، ورنہ ایسی کارروائیاں انصاف کے بجائے عوامی اضطراب اور بے چینی کو ہی جنم دیتی رہیں گی
یہ رویہ ��وام کے دلوں میں ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی کو مزید گہرا کرتا ہے۔
بالآخر یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہمارا نظام واقعی عوام کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے یا محض اعداد و شمار اور "کارروائیوں کی تعداد" بڑھانے کے لیے؟ جب ریاست کا زور کمزور اور بے بس
اور نرخ آسمان تک پہنچا دیتے ہیں، مگر شاذ و نادر ہی کسی بڑے مافیا کے خلاف اتنی مستعدی سے کارروائی دیکھنے کو ملتی ہے۔ دوسری طرف ایک عام آدمی، جو قانون کی پیچیدگیوں سے ناواقف ہو کر صرف اپنی ضرورت پوری کرنے نکلا ہو، اُسے پکڑ کر "کارکردگی" کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا جاتا ہے۔
ذخیرہ اندوز اور منظم مافیا ہونا چاہیے، نہ کہ ایک عام شہری جو اپنے بچوں کے لیے روٹی کا بندوبست کر رہا ہو۔
یہ واقعہ اُس گہرے تضاد کو بھی بے نقاب کرتا ہے جو ہمارے نظام میں برسوں سے موجود ہے۔ ایک طرف بڑے ذخیرہ اندوز اور آٹا مافیا کھلے عام گندم ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کرتے ہیں
سالانہ پچیس سے تیس من گندم استعمال کرتا ہے۔ ایسے میں بارہ من گندم، جو مہینوں کی خوراک کے برابر بھی مشکل سے ہو، کسی منظم اسمگلنگ نیٹ ورک کی علامت کیسے بن سکتی ہے؟ اگر انتظامیہ واقعی صوبوں کے درمیان گندم کی غیرقانونی نقل و حمل روکنا چاہتی ہے، تو اُس کا نشانہ بڑے ٹرک،
عوامی حلقوں میں شدید ردعمل پیدا ہوا۔ آخر ایک شہری، جو اپنے گھر کے استعمال کے لیے بارہ من گندم لے جا رہا تھا، اُسے "اسمگلر" کے زمرے میں کیوں شمار کیا گیا؟
یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اصل اسمگلنگ اور فرد کی ذاتی ضرورت ��یں فرق کرنا کس کی ذمہ داری ہے۔ پاکستان میں ایک اوسط خاندان
پوسٹ پر انچارج عمران خان کی سربراہی میں پولیس نے ایک کارروائی کی، جس میں ایک نجی گاڑی سے بارہ من گندم برآمد کی گئی جو مبینہ طور پر پنجاب سے خیبرپختونخوا لے جائی جا رہی تھی۔ بظاہر یہ خبر ایک "کامیاب کارروائی" کے طور پر پیش کی گئی، مگر جیسے ہی تفصیلات سامنے آئیں، ۔
گھر کے لئے گندم لے جانے والا بے چارہ شہری پولیس کے ہاتھ لگ گیا، نہ ٹرک، نہ ٹرالر، بس ایک عام سی کار میں 12 من گندم — اور پولیس نے اسے "اسمگلنگ" کا نام دے دیا۔یہ صرف ایک چیک پوسٹ کی خبر نہیں، عام آدمی کی روٹی اور ریاستی ترجیحات کے درمیان جنگ کی کہانی ہے۔
بھکر کے علاقے داجل چیک
@HassanAyub82 اگر حکومت اپنے ہی وزراء کے استعفوں اور مسلسل سیاسی بحران کی صورتحال کو سنبھالنے میں ناکام ہے تو وزیراعظم شہباز شریف کو اپنی ناکامی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ قوم کو وضاحتوں نہیں، جواب دہ قیادت کی ضرورت ہے
@GFarooqi میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ کیس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل کرکے ضمانت پر رہا کیا تھا۔
مارچ 2019 میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو چھ ہفتوں کی طبی ضمانت دی تھی
@GFarooqi نواز شریف کے وقت بھی عدالتوں سے ریلیف ملتا تھا، مگر تب اسے انصاف کہا جاتا تھا یا این آر او؟ آج PTI کو ریلیف ملے تو فوراً 'کوئیک ریلیف' کیوں؟ اصل اصول یہ ہونا چاہیے کہ ریلیف نواز شریف کو ملے یا عمران خان کو، فیصلہ قانون کے مطابق ہو—پسند اور ناپسند کے مطابق نہیں۔