تشدد آمیز ، ولگر اور کاپی پیسٹ کرنے والوں کے پیجز پر فیس بک پابندی عائد نہیں کرتا البتہ پروگریسیو گلگت بلتستان پیج کو بار بار جو حق اور سچ کی آواز بنتا ہے فیس بک بند کردیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کا یہی خاصہ ہے۔
#FacebookIsFraud@azeem_hunzai@SafiullahBaig14
استاد نے کہا کہ گلگت بلتستان کہ محرومیوں پر روشنی ڈالو؟
میں نے اسلام آباد کے غم خوار نواز لیگ، پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے حکمرانوں کے نام لکھ کر لائٹ اون کردیا۔
#GilgitBaltistan
آج تیسرے روز بھی سکردو ، گلگت اور کھرمنگ میں عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کا زمینوں پر قبضے ، گندم سبسڈی میں کٹوتی ، بجلی لوڈشیڈنگ و نرخوں میں اضافے ، غیر قانونی ٹیکسِز کے نفاذ اور کا��گل سکردو روڈ کھولنے کیلئے احتجاجی مظاہرے جاری!
#GilgitBaltistan
آج تیسرے روز بھی گلگت میں عوامی ایکشن کمیٹی کے زیر اہتمام خالصہ سرکار ،گندم کٹوتی کیخلاف احتجاج! عوام کا ضلعی انتظامیہ اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی!
#GilgitBaltistan
منفی 20 درجہ حرارت کے خون جمادینے والی سردی میں کھرمنگ گوہری کے مقام پر عوامی ایکشن کمیٹی کے زیرِ اہتمام آج گندم سبسڈی میں کٹوتی، بجلی کے بلات میں اضافہ، سکردو کرگل روڈ سمیت تمام تجارتی راستوں کو کھولنے،اور ناجائز ٹیکسیز کے نفاذ کے خلاف احتجاج!
#GilgitBaltistan
آپ کے تنخواہوں اور مراعات میں اضافے اور جنوری 2020 سے اب تک کے بقایہ جات کے مد میں تینتیس کروڑ روپے سمیت مذید عیاشیوں کے لیے بجلی کے مد میں تین ارب روپے گلگت بلتستان کے مظلوم و محکوم عوام پر بوجھ ڈالنا ظلم عظیم ہے۔
تحریر: نجف علی
گلگت بلتستان حکومت لینڈ ریفارم کمیٹی بناکر عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے ، یہ لینڈ ریف��رم کمیٹی حفیظ الرحمن کے دور میں بھی بنا تھا اور کئی میٹنگز بھی کئے گئے تھے مگر بعد میں پتہ چلا کہ جٹیال سرکار نے اس پر کام رکوا دیا ہے+
اور ہاں اگر غیر مقامی افراد یا کاروباری اداروں پر ٹیکس نافذ کرنا ہے تو تمام سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کریں سیمنار رکھیں مباحثے رکھیں پھر کوئی متفقہ فیصلہ کریں گے+
آج ڈیڑھ بجے گلگت بلتستان کے دور افتادہ لائن آف کنٹرول سے متصل ضلع کھرمنگ میں عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے زیرِ اہتمام خالصہ سرکار کے نام پر زمینوں پے قبضے ، سکردو کارگل روڈ کھولنے ، اور جبری ٹیکسز کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
#GilgitBaltistan
دو ہزار بائیس کے بجٹ میں افسرشاہی کے لیے سینتالیس ارب روپے مختص کئے گئے ہیں اور عوام الناس کے لئے صرف پندرہ ارب روپے اسی سے ہی آپ اندازہ لگائیں کہ حکمران ہمیں کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں۔
احسان علی ایڈووکیٹ
#GilgitBaltistan