سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور میڈیا سے گفتگو:
“پاکستان اس وقت ٹاوٹس کے قبضے میں ہے۔ ایک ایسا ٹاوٹ سکندر سلطان راجہ بھی تھا جو 2024 الیکشن چوری کا سرغنہ ہے اور اس پر آرٹیکل چھ کے تحت کارروائی ہونی چاہیے تاکہ دوبارہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے۔ محسن نقوی کے پاس ایسی کون سی گیڈر سنگھی ہے جو اس پر عہدوں کی بارش کی گئی ہے۔ اشاروں پر ناچنے والا ایک عقل سے عاری شخص کرکٹ سے لے کر خارجہ اور داخلہ امور سمیت سیکورٹی معاملات کا ماہر کیسے ہو سکتا ہے؟
پاکستانی قوم اپنے مینڈیٹ پر ڈالے گئے تاریخی ڈاکے کے خلاف 8 فروری کو پورے ملک میں نکلے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے- صرف 17 نشستیں جیتنے والی پارٹی کو اقتدار دے کر “اردلی حکومت” ملک پر مسلط کر دی گئی جو پاکستان کے ہر ادارے کو تباہ کر رہی ہے-
میں عدلیہ کی آزادی کے لیے دی گئی 10 فروری کی پاکستان بھر کی بار ایسوسی ایشنز اور وکلاء کی کال کی بھی حمایت کرتا ہوں۔ ملک میں قانون کی حکمرانی کے بغیر کسی قسم کا استحکام ممکن نہیں ہے اور قانون کی حکمرانی آزاد عدلیہ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔ جس طرح چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی غرض سے ملک میں آئین اور قانون کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں اس کے خلاف پاکستانی عوام میں شدید نفرت پائی جا رہی ہے۔
جو حالات ہیں اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ موجودہ نظام جمہوریت کے خلاف باقاعدہ برسر پیکار ہے، اور روز ایک ایسا نیا اقدام اٹھایا جاتا ہے جو جمہوریت کی روح کے عین منافی ہو۔ روایتی میڈیا تو پہلے ہی بوٹوں کے نیچے ہے۔ اب پیکا کا کالا قانون منظور کر کے عوام کے حق رائے دہی کا واحد ذریعہ یعنی سوشل میڈیا پر بھی مارشل لاء لگا دیا گیا ہے۔ یہ زبان بندی کی قبیح ترین کوشش ہے اور پاکستان کو بین الاقوامی پابندیوں سے قریب تر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ پیکا کا قانون اگر لاگو کرنا ہی ہے تو سب سے پہلے شہباز شریف پر لاگو کیا جائے جنہوں نے ملکی تاریخ کے سب سے دھاندلی زدہ انت��ابات کو فری اینڈ فئیر قرار دیا ہے۔ انہوں نے 26 نومبر کے قتل عام کو بھی جھٹلایا اور یہ کہا کہ کوئی گولی نہیں چلی نہ ہی کوئی شہادت ہوئی لہذا پیکا قانون کے تحت سب سے پہلی سزا شہباز شریف کو ملنی چاہیئے۔
بددیانت لوگ کبھی نیوٹرل امپائرز نہیں چاہتے۔ رجیم کیونکہ خود 26 نومبر اور نو مئی کے واقعات میں ملوث ہے اس لیے ان سے شفاف جوڈیشل کمیشن کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ہم جوڈیشل کمیشن کا قیام صرف اس لیے چاہتے ہیں کیونکہ ہم انصاف کے متلاشی ہیں۔ جو مجرم ہیں وہ نہیں چاہتے کہ حقیقت سامنے آئے۔
اٹھارویں ترمیم کے تحت کسی بھی صوبے کے آئی جی اور چیف سیکرٹری کی تقرری صوبائی حکومت کی صوابدید ہے۔ ایک مرتبہ پھر آئین کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے صوبائی حکومت کے دئیے گئے تین ناموں کو اپنے “پاکٹ لاز” کے ذریعے ردی کی ٹوکری میں پھینک کر خیبر پختونخوا میں وفاق کی مرضی کا آئی جی انسٹال کر دیا گیا۔ میں علی امین کو خصوصی ہدایت کر رہا ہوں کہ صوبے کی عوام کے حقوق کا تحفظ آپ کی ذمہ داری ہے۔ ملک کے باقی تینوں صوبوں میں پہلے ہی ہمارے کارکنان کے خلاف ظلم و بربریت کا بازار گرم ہے اگر خیبرپختونخوا میں بھی ہمارے کارکنان کو یہ سب برداشت کرنا پڑا تو اس کی ذمہ داری صوبائی حکومت اور وزیراعلیٰ پر ہو گی۔ ہمارے کسی ورکر کے خلاف کوئی زیادتی ہوئی تو فوری ایکشن لے کر آئی جی کو فارغ کرنا ہے۔”
Former Prime Minister Imran Khan's Conversation with Workers and Lawyers at Adiala Jail Court on Completing 500 Days of Unjust Imprisonment:
"Iyyaka Na’budu Wa Iyyaka Nasta’een
You [God] we worship and You we ask for help.
First and foremost, you must not lose hope!
I am fully prepared to spend my entire life in prison if I have to, but I will never bow before the tyrants of this era.
God is Al-Haqq, The Truth, and He stands with those who show patience. We are all sacrificing for the true freedom of this nation. You must remain patient and join me in standing against oppression.
At D-Chowk, the General Dyer of today, treating the nation as slaves, unleashed unprovoked gunfire on unarmed and peaceful citizens. We will never allow this atrocity to be forgotten, and we will ensure justice for our workers and martyrs.
Workers and lawyers have informed me that, so far, the 12 martyrs identified were those killed before sunset on November 26. Others were shot under the cover of darkness after the power in the area was deliberately cut. Where have their bodies been hidden? Even now, dozens of individuals remain missing. It is the government’s responsibility to locate these missing persons and make all related data public.
Thousands of people, including media personnel, witnessed the indiscriminate firing and brutality with their own eyes. Reports also confirm that hospital records were tampered with, and families of martyrs were denied access to their loved ones' bodies.
Our demand is clear: an independent judicial commission, comprising of the senior-most Supreme Court judges, must be formed immediately to conduct transparent investigations into the false flag operation of May 9th and the Islamabad massacre of November 26 and to hold the perpetrators accountable.
The nation must stay prepared. I will soon announce the next course of action."
ناحق قید میں 500 دن مکمل ہونے پر سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے ورکرز اور وکلأ سے اڈیالہ جیل عدالت میں گفتگو:
“ایاک نعبد وایاک نستعین
سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے!!
میں ساری عمر بھی جیل میں گزارنے کے لئے تیار ہوں، لیکن وقت کے یزید کے آگے کبھی نہیں جھکوں گا۔
اللہ الحق ہے- وہ حق سچ کا خدا ہے اور صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے- ہم سب اس ملک کی حقیقی آزادی کے لیےقربانی دے رہے ہیں۔ آپ نے صبر کرنا ہے اور میرے ساتھ مل کر ظلم کا مقابلہ کرنا ہے۔
ڈی چوک میں دور حاضر کے جنرل ڈائیر نے قوم کو اپنا غلام گردانتے ہوئے نہتے اور پر امن شہریوں پر بلااشتعال گولیاں چلوائیں- ہم اس واقعہ کو کبھی بھی بھولنے نہیں دیں گے اور اپنے ورکرز اور شہدأ کو انصاف دلائیں گے-
مجھے ورکرز اور وکلا نے بتایا ہے کہ ابھی تک سامنے آنے والے 12 شہدا وہ ہیں جنہیں 26 نومبر کو مغرب سے پہلے شہید کیا گیا اور ب��قی لوگوں کو رات کو علاقے کی بجلی بند کروا کر گولیاں ماری گئی ہیں۔ ان کو کدھر غائب کیا گیا ہے؟ ابھی بھی درجنوں افراد مسنگ ہیں- مسنگ پرسنز کو تلاش کرنا اور تمام ڈیٹا پبلک کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ میڈیا سمیت ہزاروں لوگوں نے اندھا دھند فائرنگ اور بربریت اپنی آنکھوں سے دیکھی اور اس کے بعد ہسپتالوں کا ریکارڈ غائب کرنے اور شہدا کی لاشیں ورثأ کو فراہم کرنے سے انکار کی بھی میڈیا رپورٹس موجود ہیں-
ہمارا مطالبہ ہے کہ جلد از جلد 9 مئی کے فالس فلیگ آپریشن اور 26 نومبر کے اسلام آباد قتل عام کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کے تعین کے لئے آزادانہ جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے جس میں سینئر ترین سپریم کورٹ ججز شامل ہوں۔
قوم تیار رہے، میں جلد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کروں گا- “
Those who are afraid of Matiullah and Shakir Mahmood's reporting, imagine how much they must be afraid of Khan. 🫡🫡 .. Hamid Mir
@TeamiPians#شہداء_کو_انصاف_دو