حماس رہنما ڈاکٹر خلیل الحیہ کی صاحبزادی کی اپنے چوتھے بھائی کی شہادت پر ایمان افروز تاثرات:
"اگر عزام شہید نہ ہوتا تو اور کون ہوتا؟ دشمن کی یہ خام خیالی ہے کہ وہ قتل و غارت اور آزمائشوں سے ہمیں یا میرے والد کو جھکا دے گا۔ ہم ثابت قدم ہیں اور ہمارا عزم کبھی کمزور نہیں پڑے گا۔⬇️
سوچیے اگر یہی منظر کسی مغربی ملک کی خواتین کے ساتھ پیش آتا اور انہیں مسلمان فوجی اس طرح گھسیٹ کر لے جا رہے ہوتے، تو عالمی میڈیا کئی دن تک شور مچاتا، انسانی حقوق کی تنظیمیں ہنگامی اجلاس بلاتیں اور ہر اخبار کی سرخی یہی تصویر بنتی۔ مگر چونکہ یہ فلسطین کی مظلوم بیٹیاں ہیں، اس لیے دنیا کی اکثریت خاموش ہے۔سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صرف بیرونی طاقتیں ہی نہیں بلکہ مسلم دنیا کے اندر بھی کچھ عناصر ایسے ہی�� جو خاموشی، مفادات یا تعاون کے ذریعے ان مظلوموں کے دشمنوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ تصویر میں قابض اسرائیلی فوج فلسطینی خواتین کو حراست میں لے جاتی دکھائی دے رہی ہے۔
اسرائیل کا بدشکل چہرہ اور انسانی تاریخ کا بدترین جرم
انتہائی قابلِ مذمت
"فلسطین میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں 4 اور 5 سال کی عمر کے دو بچے ا��وا ہو گئے"
اسرائیلی فوج ان معصوم بچوں کو گرفتار کرتی ہے لے جاتی ہے ان کا ریپ کر کے ان کو قتل کرتی ہے اور ان کے اعضا اگے بیچ دیتی ہے
یہ دیکھنے کے بعد بھی مسلمانوں کے اندر جہاد کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا تو پھر ڈوب مرو ۔🥹💔
یہ ہیں غز0 کے وہ ہیروز جن کی ہمتیں بلند اور ارادے ناقابل شکست ہیں۔
غز0 کا ایک 8 سالہ بچہ، جس نے حادثے میں اپنی بینائی کھو دی، لیکن اپنے دل کی آنکھیں روشن رکھیں۔
بغیر کسی غلطی کے قرآن کریم کے 10 پارے زبانی سنا رہا ہے۔
اے محبوب غز0!
تیرے بچے اور تیرے مرد کتنے عظیم ہیں!!
ہر وہ دل جو درد محسوس نہیں کرتا، مردہ ہو چکا ہے۔
ہر وہ زبان جو حق ن��یں بولتی، گناہ میں ڈوبی ہوئی ہے۔
اور ہر وہ آنکھ جو ظلم دیکھ کر بند ہو جائے، قیامت کے دن جواب دے گی۔
غیرت مند بنو آواز بلند کرو
میں اب صحافی نہیں رہنا چاہتی۔ صرف اس لیے کہ مجھے یہ محسوس ہوا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم نظر نہیں آتے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ دنیا ہمیں دیکھنا ہی نہیں چاہتی۔ دوسال کی ایسی نسل کشی کے بعد جو ہر جگہ واضح طور پر دکھائی دے رہی تھی، جب می��یا ادارے غزہ میں ہونے والے واقعات سے دانستہ آنکھیں چراتے رہے اور اپنے الفاظ استعمال کرتے رہے۔ مثال کے طور پر بچوں کو ’بچے‘ کہنے کے بجائے ’نوجوان‘ یا ’افراد‘ کہنا وغیرہ۔ محض دکھائی دینا عمل کو جنم نہیں دیتا، یہ اس لیے نہیں کہ لوگوں نے ہمارے ساتھ ہمدردی نہیں کی، بہت سے لوگوں نے کی، آپ جیسے لوگوں نے بھی، لیکن اصل مسئلہ حکومتوں کا تھا۔ میڈیا نے ایسا کردار ادا کیا جیسے وہ سیاسی پارٹنر ہو اور سیاسی نظاموں کی تکمیل کر رہا ہو اور میں نے یہ جان لیا کہ حقیقی جمہوریت کہیں موجود نہیں، دنیا بھر کی حکومتیں ایک جیسی ہیں، چاہے وہ گلوبل ساؤتھ میں ہوں یا گلوبل نارتھ میں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ گلوبل ساؤتھ میں آمریت کھل کر سامنے ہوتی ہے جبکہ گلوبل نارتھ میں آمریت کو جمہوریت کے نام سے پیش کیا جاتا ہے۔ وہ فخر کرتے ہیں کہ ہمارے پاس جمہوری نظام ہے، ہمارے پاس انتخابات ہیں لیکن وہ ان گروہِ عوام کی آواز کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہر ہفتے سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں اور تب مجھے احساس ہوا کہ صرف صحافی ہونا بے معنی ہے لیکن اس کے باوجود میں انسان پر یقین رکھتی ہوں، میں اب بھی انسانیت پر یقین رکھتی ہوں کہ انسانیت ہی کو رہنمائی کرنی چاہیے اور غالب آنا چاہیے، اسی لیے ہم آج یہاں موجود ہیں تاکہ خود کو تعلیم دیں اور اپنے بچوں کو تعلیم دیں، نہ صرف اس بارے میں کہ فلسطین کیسے آزاد ہوگا کیونکہ فلسطین ضرور آزاد ہوگا، شاید آج نہیں شاید کل نہیں لیکن یقیناً کسی دن۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو یہ سکھائیں کہ پوری دنیا فلسطین کی طرح کیسے آزاد ہو سکتی ہے