ٹرمپ نے آج اعلان کیا ہے کہ غزّہ کے تمام رہائیشی کسی اور ممالک میں چلے جائیں کیونکہ غزّہ کی سر زمین امریکہ کی ملکیت بنے گی اور وہاں پر جدید ترین طریقے کے رہائیشی منصوبے اور ریزورٹ بجاۓ جائینگے۔
اس سے بڑا ظَلم آج تک تاریخ میں کسی قوم پر نہیں کیا گیا ہے جو ہونے جارہا ہے۔ بیس لاکھ لوگ بے دخل ہونے جارہے ہیں۔
اب بھی مسلمان حُکمران خاموش ؟
تُف ہے تُف۔
@MoulanaOfficial منافقت کے علمبردار مال کھانا ڈیزل نے اپنے آقاؤں کے کہنے پر اس بندے کے خلاف سازش میں امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دیا جو فلسطین کے لیے سب سے زیادہ آواز بلند کرتا ہے۔ اور ابھی مگر مچھ کے آنسو بہا رہا ہے۔ شیطان کے منافقت والے چمچے کو بھی ملا فضو ڈیزل کے وسوسے آتے ہوں گے
اور مجھے لگتا ہے جب تک منرل بل پاس نہیں ہو جاتا خان کی ملاقات کو بند رکھا جائے گا۔
انہی منرلز کو سستے داموں بیچ کر عمران خان جیسے ہیرے کو جیل میں رکھنے کا سودا عالمی سامراج سے کیا جائے گا
یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں - غور کریں ن لیگ اس بل کی حمایت کر رہی ہے -
Pakistan's widely despised regime targets the family of the nation's most popular political leader.
U.S. silence is a green light for the US-backed regime to continue its repression.
We need officials like @RichardGrenell@DarrenJBeattie to speak out!
@KhawajaMAsif کل بھی اپنے ماں کے ساتھ ناجا��ز سمبند رکھنے والے ابو کو وٹس ایپ پر میسج کرتے تھے اور آج بھی ایک مستری کی جھولی میں بیٹھ کر بڑھکیں مار رہے ہو۔ نواز شریف بیٹی پیش کرنے والا کنجر اور تم سیالکوٹی دلے۔ گیراجن سے اچھا مجرا تو تیری بیٹی کرتی ہے اسےبھی مستری کو پیش کر کے وزیر بنا دیتے ؟
ا��رائیل نے بطور قابض قوت مقبوضہ علاقے میں اہلِ فلسطین کے خلاف، بھارت کیطرح انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بدترین ریکارڈ کے ساتھ جس دیدہ دلیری سے پاکستان کو ن��انہ بنانے کی جسارت کی ہے وہ ہر لحاظ سے شرمناک ہے۔ یونیورسل پِری آڈک ریویوز (UPRs) اقوامِ متحدہ کے نظمِ کار کا بنیادی جزو ہیں اور آج سے پہلے کسی ریاست نے پاکستان کو اس گھناؤنے انداز میں ہدف بنانے کی جرات نہیں کی جس کی جسارت اسرائیل نے کی ہے۔ (اسرائیل کی یہ حرکت) نہایت قابلِ مذمت ہے۔
اسرائیل اہلِ فلسطین کا قتلِ عام جاری رکھے ہوئے ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ہر قسم کے عالمی قوانین اور (اقوام و ریاست کیلئے خاص) آداب و اطوار سے ماوراء (بے نیاز) ایک جارح/بدمعاش ریاست ہے۔
ہمارے لئے اس میں مقامِ افسوس یہ ہے کہ اس سے پاکستان کو اندرونی و بیرونی طور پر تباہی کے سپرد کرتی موجودہ بدعنوان اور فسطائی سرکار کے ہاتھوں ہماری سفارتکاری کے پورے ڈھانچے کا انہدام ہی ظاہر نہیں ہوتا بلکہ (بطور قوم) جنگل کے ��انون، جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا اصول ہی کارفرما رہتا ہے، کیجانب ہمارا زوال بھی عیاں ہوتا ہے۔
افسوسناک۔۔۔
بمباری کے بعد آسمان تک اٹھتے دھویں کے بادل تو نظر آئے، مگر ان سے بھی بلند معصوم بچوں کے لاشے تھے جو فضاء میں اچھلے اور زمین پر آ گرے۔
ارضِ فلسطین پر جو کچھ ہو رہا ہے، وہ عالم۔اسلام باالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے حکمرانوں کے لیے ایک کھلا ہوا اتمامِ حجت ہے۔خدا نہ کرے — غزہ کا سقوط ہوتا ہے، تو اس کے بعد حرمیں شریفین کو جو خطرات ہونگے،مشرقِ وسطیٰ پر جو قیامت گزرے گی، اس کا تصور بھی روح کو لرزا دیتا ہے۔
خدا کیلئے اٹھئیے اس نسل کشی کے خلاف طاقتور مزاحمت کیجئے، اپنے حکمرانو،جرنیلو کو جگائیے۔
استغفراللّه۔ ویسے حد ہے کہ کل تک عمران خان دور میں پیکا قانون کا نام سنتے ہی ن لیگی صحافی اسے "کالا قانون" کہتے رہے۔
جبکہ آج چونکہ ن لیگ کی حکومت ہے لہٰذا آج اس پیکا قانون کے دفاع میں فرمایا جا رہا ہے کہ صحافت کو "طہارت" ضرورت ہے۔ 🤭🤔
Former Prime Minister Imran Khan’s Message from Adiala Jail - April 2, 2025
"I extend belated Eid greetings to all my fellow countrymen.
I have unwavering faith in God. No tool of oppression can break me. The darkness that has engulfed this nation will soon come to an end, and our struggle will bear fruit. I have complete faith in God that I will emerge victorious, and by His will, I shall celebrate the next Eid with my people.
My struggle is not for personal gain; everything I do is solely for the welfare of my nation. I fear no one but God. I never have nor will I ever, under any circumstances bow before anyone but God. I will not compromise on my ideology and will fight for my people until my very last breath.
The puppet government is making every effort to keep me imprisoned because they are concerned about their grip on power. They know that their illegitimate rule will collapse the day I walk free from prison. That is why they are relentlessly trying to break me.
I am not even allowed to hold political meetings, because they fear that we will formulate our political strategy and that threatens their hold on power.
I have only been allowed to speak to my children twice in the past seven months, and for several weeks now I have been denied communication with them once again. I was supposed to speak to my children on Eid, but even that was not permitted. My access to books has also been blocked. Despite my repeated requests, my personal physician, Dr. Faisal, has not been allowed to examine me. All of this is being carried out in blatant violation of court orders. However, there is no one left to hold them accountable since the judiciary has also been seized following the 26th constitutional amendment."
“میری طرف سے تمام اہل وطن کو گزشتہ عید مبارک ۔
میرا اللہ کی ذات پر کامل ایمان ہے۔ ظلمت کا کوئی بھی حربہ مجھے توڑ نہیں سکتا۔ اس ملک پر چھائے اندھیرے بہت جلد اختتام پذیر ہوں گے اور ہماری جدوجہد رنگ لائے گی۔ مجھے اللّہ پر پورا یقین ہے کہ میں سرخرو ہو کر باہر آؤں گا اور آئندہ عید انشاءاللہ اپنی قوم کے ساتھ کروں گا۔
میں اپنی ذات کے لیے کچھ نہیں کر رہا یہ جو کچھ کر رہا ��وں صرف اپنی قوم کی فلاح کی خاطر کر رہا ہوں۔ اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں۔ میں نہ پہلے کسی کے سامنے جھکا ہوں اور نہ اب کسی صورت جھکوں گا۔ میں اپنے نظریے پر کوئی سمجھوتا نہیں کروں گا اور اپنی قوم کی جنگ آخری دم تک لڑوں گا۔
اردلی حکومت کی مکمل کوشش ہے کہ مجھے قید میں رکھا جائے کیونکہ ان کو اپنے اقتدار کی فکر ہے اور یہ جانتے ہیں کہ جس دن میں جیل سے باہر آ گیا ان کا جعلی اقتدار زمین بوس ہو جائے گا۔ اسی لیے یہ مسلسل مجھے توڑنے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
میری سیاسی ملاقاتیں بھی نہیں کروائی جاتیں کیونکہ ان کو یہ خوف ہے کہ سیاسی ملاقات میں ہم اپنا لائحہ عمل دیں گے اور اس سے ان کو اپنی کرسیوں کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔
میرے بچوں سے سات ماہ میں صرف دو بار بات کروائی گئی ہے اور اب دوبارہ کئی ہفتوں سے بات نہیں کروائی جا رہی۔ عید پر میری بچوں سے بات کروانی تھی مگر وہ بھی نہیں کروائی گئی۔ میری کتابیں تک روک لی گئی ہیں۔ میرے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل کو میری بارہا درخواست کے باوجود میرے معائنے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یہ سب بار بار عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کر کے کیا جا رہا ہے لیکن چھبیسویں آئینی ترمیم کے بعد عدالتوں پر بھی قبضہ ہو چکا ہے اس لیے کوئی پوچھنے والا نہیں-“
سابق وزیراعظم عمران خان