کہتے ہیں کہ میر تقی میر نے اپنا گھر بیچ کر اپنی اکلوتی بیٹی کو جہیز دیا تھا
شادی کے بعد بیٹی کو کسی نے کہا تیرے باپ نے اپنا گھر اجاڑ کر تیرا گھر بسا دیا
بیٹی بہت حساس تھی، یہ سُن کر وہ بیمار پڑ گئی اور اسی غم میں گُھل گُھل کر کچھ ہی دنوں میں انتقال کر گئی
میر تقی میر بیٹی کا آخری دیدار کرنے گئے٬ کفن اٹھا کر بیٹی کو دیکھا اور کیسا غضب کا شعر کہا (جو ان کی زندگی کا آخری شعر کہا جاتا ہے)
اب آیا ہے خیال اے آرامِ جاں اس نامُرادی میں
کفن دینا تمہیں بھولے تھے ہم اسبابِ شادی میں
....
جب ریل کسی سرنگ میں سے گزرتی ہے اور ایک دم سے اندھیرا ہو جاتا ہے تو آپ اپنی ٹکٹ کو پھینک کر ریل سے باہرکودنہیں جاتے کیونکہ آپ کو ریل کے ڈرائیور پر بھروسہ ہوتاہے،
اسی طرح جب زندگی کی ریل دکھوں مصیبتوں اور پریشانیوں کے اندھیروں ںسے گزررہی ہو تو زندگی کی ٹرین کو چلانے والے پر بھروسہ رکھو وہ ان اندھیروں سے ضرور نکال لے ��ائے گا بس کبھی کبھی یہ سرنگ چھوٹی ہوتی ہے اور کبھی کبھی بہت بڑی مگر یقین رکھو ہوتی یہ سرنگ ہی ہے جس کے دوسرے سرے پر روشنی اور اجالا ہی اجالا ہوتا ہے
*بس ہمیں صرف اس سفر کے ختم ہونے کا انتظار کرناہے۔.........*💛 🤍🩶
#DonBelle