Twenty one former international captains from around the world have written another letter to Pakistan's prime minister Shehbaz Sharif, renewing their appeal for the medical treatment of former captain Imran Khan following recent developments that they say fall short of a Supreme Court directive https://t.co/NrehVY71ZC
Twenty one former international captains from around the world have written another letter to Pakistan's prime minister Shehbaz Sharif
Full story: https://t.co/ZrDZ1lSV23
“یہ لوگ فرعون بنے بیٹھے ہیں، جنہوں نے آپ کو غلام بنا رکھا ہے۔ پاکستانیو سن لو میری بات، آپ دنیا کے سب سے عظیم لیڈر محمد مصطفیٰ ﷺ کی امت ہیں۔ آپ کا کلمہ ہے "لا إله إلا الله" نہیں ہے کوئی خدا سوائے اللّہ کے۔ یاد رکھیں، آپ پچیس کروڑ ہیں! اگر آپ خوف کے سامنے جھُک گئے تو آپ کا کوئی مستقبل نہیں ہے، غلامی سے بہتر موت ہے، پرواز صرف آزاد لوگوں کی ہے۔ قرآن کی آیت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اللّہ ان کے خوف دور کر دیتا ہے، میں ایمان والوں سے کہہ رہا ہوں آپ نے کھڑا ہونا ہے! آزادی کے لیے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔”
- عمران خان
#FreeImranKhan
#FreePoliticalPrisoners
Imran Khan has become “a symbol of democratisation in a country that has been pillaged for decades by a military junta.”
Why is Khan still behind bars – and what happens next? Read the full column from @DanielJHannan 👇
https://t.co/4JsmtgMLEO
“This is a complete violation of the Supreme Court’s orders. There was no thorough check-up.”
Pakistan ex-PM Imran Khan’s family accuses gov’t of defying hospital order https://t.co/PfeOIj7t9S
The sister of Pakistan’s former prime minister Imran Khan says he told her he was being tortured in jail.
Dr Uzma Khan met her brother after he was taken to hospital for a checkup under a court order, before being quickly returned to prison.
" ہم تو بہت متاثر تھے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کا حکم ہے ہم پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے، ہمیں کیا پتہ تھا یہ ہوگا،اس وقت عمران خان کا بلڈ پریشر نارمل تھا 80/120 ، ان کی آنکھ سو فیصد درست نہیں لیکن نظر میں بہتری آئی ہے"۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان
"ہم ساڑھے آٹھ بجے اڈیالہ جیل پہنچے پہلے اڈیالہ جیل میں انتظار کروایا گیا پھر وہاں سے مجھے شفاء انٹرنیشل ہسپتال لے گئے وہاں مجھے انتظار کرنے کا کہا گیا ، میں تین چار گھنٹے انتظار کرتا رہا اس دوران بارہا پوچھا کہ عمران خان کہاں ہیں؟
تو انہوں نے کہا ابھی بس پہنچ رہے ہیں تقریباً مجھے ساڑھے چار بجے بتایا گیا کہ عمران خان نہیں آرہے ان کو واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔ اس کے بعد مجھے واپس اڈیالہ لیجایا گیا جب میں وہاں پہنچا تو کچھ دیر بعد ڈاکٹر عظمی آئیں میں نے ان سے پوچھا آپ کہاں تھیں تو یہ کہتیں آپ کہاں تھے" ۔
ڈاکٹر فیصل سلطان
"عمران خان نے ایک بات بار بار مجھے کہی کہ میرے ساتھ ظلم ہورہا مجھے یہ ٹارچر کررہے ڈاکٹرز کہتے طبیعیت خرابی کی وجہ humans contact نہ ہونا ہے۔ جیل کے ڈاکٹرز نے ان کو میری طبیعت خرابی کا بار بار بتایا لیکن کوئی سنتا ہی نہیں تھا ۔ دس اگست کو جو ڈاکٹرز آئے انہوں نے کہا کہ آپ کو جو قید تنہائی میں رکھا جارہا جو مینٹل ٹارچر کیا جارہا اس کی وجہ سے جو Anxiety ہو رہی تبھی بلڈ پریشر کا مسئلہ ہورہا ہے۔ انہوں نے بار بار کہا میری قوم کو بتاؤ یہ انسان نہیں ہیں یہ ظلم کررہے ہیں بشری بی بی کے ساتھ ظلم کررہے"۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان
عمران خان کا کوئی بلڈ ٹیسٹ نہیں ہوا صرف آنکھوں کا چیک اپ کیا گیا اور بلڈ پریشر چیک کیا گیا جب میں نے ان سے پوچھا خان صاحب کونسی میڈیسن لے رہے تو کہتے مجھے نام یاد نہیں میں نے فائلیں چیک کیں میں نے کہا میڈیسن آپ نے دی ہیں آپ کے ریکارڈ میں نہیں ہے؟ یہ کیا طریقہ ہے؟ اتنا غلط طریقہ ؟
ڈاکٹر عظمیٰ خان
”مجھے پہلے اڈیالہ جیل میں انتظار کروایا، وہاں سے مجھے شفاء انٹرنیشنل ہسپتال لے گئے۔ جہاں تین چار گھنٹے انتظار کروانے کے بعد میں نے پوچھا عمران خان صاحب کہاں ہیں؟ تو انہوں نے کہا ابھی بس پہنچ رہے ہیں۔ آخر میں بتایا گیا کہ عمران خان کو واپس اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا ہے۔“ ڈاکٹر فیصل سلطان
#ContempOfCourt
”عمران خان کا پمز ہسپتال لے جا کر صرف آنکھون کا معمولی سا چیک اپ اور بلڈ پریشر نوٹ کیا گیا، بلڈ ٹیسٹ نہیں ہوئے۔ ڈاکٹر کون سا تھا، کیا تھا، کوئی پتا نہیں۔ “ ہمشیرہ عمران خان، اعظمی خان کی پریس کانفرنس
عمران خان کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے سے انکار سے متعلق رپورٹس جھوٹی ہیں۔ عمران خان شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں علاج کروانے کے لیے تیار تھے۔ — ڈاکٹر عظمٰی خان
جب ہمیں پمز پہنچایا گیا تو میں نے پوچھا کہ سپریم کورٹ کا آرڈر تو شفا انٹرنیشنل کا تھا ، تو مجھے کہا گیا کہ عمران خان کا فالو اپ چیک اپ ہونا تھا ، اس لیے یہاں لائے، مکمل اندھیرا تھا ، ہمارے پاس موبائل نہیں تھا کیونکہ جیل میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی ، پندرہ منٹ گاڑی میں مجھے بٹھائے رکھا ، پھر کہا کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ آجائیں، مکمل اندھیرا تھا ، موبائل ٹارچ پر راستہ دکھاتے ہوئے او پی ڈی کے راستے مجھے ایک آفس لے جایا گیا اور وہاں بٹھایا گیا۔
اس کے بعد مجھے اوپر ایک کمرے میں لے گئے ، عمران خان بھی حیران تھے ، عمران خان مجھے ملے پیار کیا اور کہا کہ میں دس ماہ بعد اپنی بہن سے مل رہا ہوں، میں نے عمران خان کو بتایا کہ یہاں فالو اپ چیک اپ کے بعد ہم شفا انٹرنیشنل جائیں گے، وہاں آپ کے مکمل ٹیسٹ ہوں گے ، پھر ہمیں ایک دفتر لے گئے ، جہاں ڈاکٹر عارف نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کیا ، آفس میں چیک اپ کیا ، آئی ڈراپس کا پوچھا کہ کونسی ڈال رہے ہیں؟ عمران خان نے کہا مجھے نام یاد نہیں، میں نے ڈاکٹرز سے کہا کہ آپ کو نام نہیں معلوم کہ آپ نے کونسے لکھ کے دیے ہیں؟ پریسکپن نہیں ہے آپ کے پاس ؟ ڈاکٹر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ، ڈاکٹر عظمیٰ خان
”عمران خان نے کہا، میری قوم کو بتائو یہ جیل میں میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے قید تنہائی میں ٹیلی ویژن یا پڑھنے کیلئے کسی بھی قسم کے مواد سے دور رکھا۔ میرے سر میں کچھ ہوتا تھا، میں نے ڈاکٹرز سے اپنی طبیعت کا کئی بار ذکر کیا مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔“ ہمشیرہ اعظممئ خان، 9 ماہ بعد عمران خان سے ملنے کے بعد ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ