حکومت اعلان کرتی ہے کہ دریا کی نشیبی زمین پر بند نہیں بنے گا، گھر مت بناؤ۔ لوگ پھر بھی بنا لیتے ہیں، کہ جانتے ہیں گھر بن گئے تو کوئی رحم دل حکومت بند بنائے بغیر نہ رہ سکے گی۔ ریاست کا ارادہ سننے والوں کے عمل سے بدلتا ہے. 1977ء میں فن کڈلینڈ اور ایڈورڈ پریسکاٹ نے ریاضی کی زبان میں سمجھایا کہ ایسی حکومت بھی جو صرف عوام کی بھلائی چاہے اپنے عہد سے پھر جائیگی، اور دیکھنے اور سننے والے یہ بات پہلے سے جانتے ہوں گے.
گھڑی کی بے وفائی https://t.co/puPNc67JnC
Thank you. You have added a third remedy to my two: not only the price of tomorrow but the form in which it is held.
Where no pension exists, the household keeps its savings in children, and the Namibia and China evidence shows the two really are substitutes.
The difficulty here is one of custom rather than arithmetic: in our setting, the only institutions that command trust across a lifetime are the family and the clan, and a promise from any collective body beyond them, a fund, a scheme, a tontine, still has to earn its credibility. Until it does, a son remains the only deposit that cannot default on you. Widening that circle of trust is the real task and dynamic inconsistency problem, which unfortunatley is worse in developing countries, stands in its path. Will talk about that some day.
ہم کل کو آج سے سستا جانتے ہیں اور یہ عیب نہیں، جینے کی شرط ہے۔جو آج کا نوالہ کل پر وارتا رہے وہ کل تک پہنچتا ہی نہیں۔ مگر ہمارا بھاؤ سیدھی ڈھلان پر نہیں اترتا،آج اور کل کے بیچ قیمت ایک دم گرتی ہے، پھر دھیرے دھیرے. آنے والے کل کا بھاؤ آدمی کے کردار کا بیان نہیں، اُس کے فاصلے کاپیمانہ ہے اور قوم کا بھاؤ اُس کے سب سے بھوکے آدمی کی دہلیز پر طے ہوتا ہے۔
آنے والے کل کا بھاؤ https://t.co/KYu9MdC2Sv
بالکل درست، اور یہ بات کالم کی دلیل کو کمزور نہیں، مضبوط کرتی ہے۔ ہماری درآمد بڑی نہیں، چھوٹی ہے: فی کس تین سو ڈالر سے کم، جب کہ بنگلہ دیش کی ہم سے زیادہ، ہندوستان کی قریب دگنی اور ویت نام کی دس گنا۔ کھلی معیشت زیادہ منگواتی ہے اور زیادہ بیچتی ہے؛ ہم دونوں میں پیچھے ہیں۔ خسارہ بھی بذاتِ خود برائی نہیں؛ امریکہ کا خسارہ اس لیے چل جاتا ہے کہ دنیا اُسے اُسی کے سکّے میں قرض دیتی ہے، اور ہمارا اس لیے نہیں چلتا کہ ہمیں ڈالر میں دیتی ہے اور ڈالر ہم کماتے کم ہیں۔ سو مسئلہ درآمد کی مقدار نہیں، درآمد پر محصول ہے۔ ابا لرنر نے 1936 میں ثابت کیا تھا کہ درآمد پر لگا ہر محصول درحقیقت برآمد پر محصول ہے: دیوار جتنی اونچی، گھر کی منڈی اتنی میٹھی، اور کارخانہ دار کو باہر جا کر مقابلہ کرنے کی اتنی ہی کم ضرورت۔ ہم نے ستر برس درآمد کو روک کر برآمد بڑھانے کی کوشش کی اور دونوں چھوٹی رہ گئیں۔ راستہ درآمد گھٹانا نہیں، دیوار گرانا ہے، تاکہ درآمد بھی بڑھے، برآمد بھی، اور خسارہ اُس طرح کم ہو جس طرح ویت نام کا ہوا: بیچ کر، روک کر نہیں
ملّا نصر الدین جھیل کے کنارے بیٹھے چمچ بھر دہی پانی میں گھول رہے تھے۔ راہ گیر نے پوچھا: یہ کیا کر رہے ہو؟ فرمایا: دہی جما رہا ہوں۔ راہ گیر بولا: جھیل میں دہی نہیں جمتا۔ فرمایا: جانتا ہوں، مگر سوچو، اگر جم گیا تو !
https://t.co/UHpEnRAEEG
Thank you, that is generous. On the language: I write these in Urdu by choice, not by default. The people who stand in the lake, Ghulam Rasool and Allah Bakhsh, read Jang and not Dawn, and an argument about who pays for the exchange rate ought to be made in the language of the people who pay. Our economics has been conducted in English for seventy-five years among perhaps two hundred thousand of us, and the other two hundred million have been told the conclusions. That is part of why the conclusions never stick.
And the data is on Urdu's side even among the young. Urdu is the mother tongue of only 9 percent in the 2023 census, but it is the second language of nearly everyone else: three Pakistanis in four follow it in speech and most of the literate in print. English is co-official, yet the share who can read an argument in it with comfort is nearer one in ten; the figures that put English at half the population count anyone who can manage a sentence. Among the under-thirties, who are two-thirds of us, four in five were schooled in Urdu or a regional language, and their internet is Urdu too: the trending lists, the YouTube channels, the voice notes. So the English reader is not the younger reader; he is the richer one. I write for the other, and for anyone who wants the English, the translation button on Twitter does it in a second. What it cannot translate is the Mulla's yogurt, and that is the part worth reading in the original.
Thank you; both facts sharpen the piece, and the first corrects it.
On the TiVA figure, I accept it. Ten percent foreign value added across all exports is low, and it means the "dollar in the towel" is a textile story (imported cotton, dyes and fuel have pushed that chain nearer a quarter). Add to it electricity whose tariff is dollar-indexed. It goes much beyond 50 % for a towel. More important is your inference: if the import content is small, the remedy is not to make it smaller. Where the column said "اپنی کپاس، اپنی بجلی", it should have said cheap and quick access to whatever input the exporter needs, duty-free and without the paperwork.
Energy, yes, must come off the dollar; cotton should be bought wherever it is cheapest. The prescription as written leans toward autarky, and your point is well taken.
On the World Bank finding, I agree and would go further. A 23 percent fall in exports a year after a 10 percent real appreciation, against the weak response to depreciation that the column describes, is an asymmetry, and the asymmetry is the whole argument of the series. An overvalued rupee destroys export capacity quickly, because orders lost go to Hanoi and do not come back, and a devaluation rebuilds it slowly if at all, because the factory that closed does not reopen on a price signal.
The lesson is not that devaluation works after all; it is that the rate must never be held artificially low or high in the first place. That is where the first column began, with the thermometer in the ice water, and your number is the best evidence I have seen for it.
Thank you and I agree; this is the layer the column lacked, and a thousand words cannot carry every layer. It is a well-studied subject among economists. Hummels and Schaur put a price on time: every day a shipment waits costs the buyer roughly one to two percent of its value, a tariff by another name (David Hummels and Georg Schaur, American Economic Review, 2013). Handley and Limão showed that uncertainty about future policy (your U-turns) keeps exporters from entering a market even when the rate favours them, because winning a buyer is a sunk cost no one risks twice (Kyle Handley and Nuno Limão, American Economic Review, 2017). A ten percent devaluation is undone by a fortnight's delay and a rumour of a new notification.
So I concede: red tape deserves to be a sign of its own. It is also the fourth sign seen from another door, one more reason the foreign market tastes bitter and the home market sweet; the Hamburg buyer reads the delivery date as closely as the newspaper.
And the direction of recent policy is the right one: the single window at customs and the drive to count and cut licences are the first serious work on the kitchen in years. Whether it reaches the exporter's gate is the test.
ڈالر کا بھاؤ ایسے ترازو کا تول ہے جس کے ایک پلڑے میں ہماری محنت اور ہمارے ہنر کا حساب ہے اور دوسرے میں باقی ساری دنیا کا ۔ خدا لگتی کہیے تو یہ بھاؤ نہ قوم کی غیرت کا پیمانہ ہے نہ کسی سبک سر کے زور بازو کا ، بس قوم کی محنت کی قیمت ہےاور قیمت سے روٹھا جا سکتا ہے، اُسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
https://t.co/HcR3MmObf9
غلبہ ضم ہونے کی دعوت دیتا ہے اور اُسے وحدت کا نام دیتا ہے۔ جسے دریا اپنانا کہتا ہے، قطرے کیلئے وہ فنا ہے، وحدت نہیں۔ دراڑ کا ماخذغلبے کی خواہش ہے،عقیدے اور زبان کی شناختیں ایسے غلبے سے انکار کے اوتار ہیں۔
https://t.co/PggHmubKxo
استاد جس لمحے ایک بچے کی تختی ہاتھ میں لیتا ہے، دیکھتا ہے کہ اسے کیا آتا ہے اور کیا نہیں، کہاں اٹکا ہوا ہے، اور اُس بچے کیلئے وہ راستہ چنتا ہے جس سے وہ اگلا قدم اٹھا سکے؛وہی لمحہ حقیقی تدریس کا لمحہ ہے اور یہ لمحہ ہر بچے کیلئے الگ ہے، کسی رجسٹر میں نہیں لکھا جاتا ، اور یہی پڑھائی کی اصل ہے۔ کارخانے میں اس لمحے کی جگہ نہیں، کہ کارخانہ سب کو ایک سانچے میں ڈھالتا ہے۔
اسکول یا کارخانہ؟ https://t.co/dLo8iNIt9s
صلاحیت اور ہنر ایک نسل میں نہیں پکتے۔ وہ استاد سے شاگرد تک پشت در پشت رچ کر کمال کو پہنچتے ہیں۔ ڈیم بنانے کی صلاحیت خریدی جا سکتی ہے صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لئے ادارہ جاتی صلاحیت خریدی نہیں جا سکتی، اگائی جاتی ہے، اور اگنے میں دہائیاں لگتی ہیں
بم اور مکتب https://t.co/E3lFqECdjD
وہ ایک شام
راشد لنگڑیال
تمھیں وہ یاد ہے اک اجنبی قصبے کی وہ گلیاں
کسی دوری کی دنیا میں، وہاں ٹھنڈے سے رستے تھے
چلے، پھر اور چلتے ہی گئے، کچھ بھی خبر نہ تھی
کہ کب اس چھوٹے گرجے پر ہمارے پاؤں جا ٹھہرے
بہت ویران گرجا تھا، کہ قصبہ بے خدا ٹھہرا
مگر کچھ ننھے بچے تھے، مگن اپنے ہی کھیلوں میں
کہ ان کی کھلکھلاہٹ سے وہ گرجا جگمگاتا تھا
ذرا سی شام باقی تھی، وہیں ہم بینچ پر بیٹھے
تمھاری گود میں سر تھا، نگاہیں آسماں پہ تھیں
یہی لگتا تھا، بس ہم دو ہی رکھوالے یقیں کے ہیں
یقیں اک دوسرے پر تھا، بھروسا ایک دوجے کا
یقیں ایسا، کہ کچھ مانگے نہ دعویٰ، نہ کوئی وعدہ
نہ کوئی شرط، نہ اقرار، بس اک بے غرض الفت
ہوا میں چپ کا موسم تھا، مگر ابلاغ ہوتا تھا
وہی بے لفظ سا عالم، جسے جینا سعادت تھی
تمھارا چہرہ جھک آیا، مرے چہرے پہ آ ٹھہرا
کہ جیسے وقت کی زنجیر سے آزاد ہوں دونوں
نہ جانے کب تلک یوں ہی فلک تکتے رہے تھے ہم
مگر وہ اک گھڑی برسوں پہ بھاری ہے مرے دل پر
لکھی ہے روح پر، ہمراہ جائے گی لحد تک وہ
کہو، کیا زندگی دن ہے، کہ مہ ہے، سال ہے کوئی؟
کہ پھر کیوں لوگ جیتے ہیں بڑی لمبی سی عمریں یوں
مگر جیتے نہیں، برسوں گزر جاتے ہیں چپکے سے
عجب ہے یہ کہ اک لمحہ بڑی عمروں پہ بھاری ہو
کہ وہ لمحہ، جہاں دل ایک دوجے میں اتر جائے
کسی کی مسکراہٹ میں، کسی کی اک نگاہ میں
وہی لمحہ ہماری روح پر نقشِ ابد ٹھہرے
پھر وہی بارش
بارشوں میں پھر یہاں
وہ عجب سی بات ہے
ٹہنیوں میں پیڑ کی
اک اگی ہے یاد یاں
ان درختوں سے پرے
دور اک ویرانے میں
برگدوں کی ریش ہے
وقت جس میں یوں پھنسا
داڑھیوں میں تنکے سا
اور ہر اک تنکے پر
اک گزشتہ دور کی
داستانیں کندہ ہیں
اک وہ آنسو آج تک
آنکھ کی جو پتلی سے
یاد سا ٹنگا ہوا
بارشوں کا قرض وہ
جو ترا تھا، کب نبھا
تھا بھلانا یاد کو
تھا سلانا خواب کو
بے خبر تھے ہم مگر
بھول کر بھی یاد کو
بارشیں ہیں کب رکیں
اگست کے آخری دن کی صبح صادق کی ایک نظم ۔۔۔
آ تم کو سناتے ہیں
اُس خواب کا قصہ ہم
اجداد نے جو دیکھا
اک پَون صدی پہلے
تب ریل کے جادو سے
شہروں میں روانی تھی
تاروں کی خبر میں بھی
رشتوں کی کہانی تھی
جب وقت کے دھارے کو
بے دید سی عجلت تھی
ہر شہر کے مندر میں
وسواس کی دیوی تھی
کشمیر بھی پانسے پر
وہ کَنْیا کُماری بھی
راوی کا وہ پانی بھی
بنگال کی دھرتی بھی
کچھ حرف بھی خود رو تھے
کچھ لوگ بھی مشکل تھے
کچھ دھرم مجاور تھے
کچھ ملک مسافر تھے
گلیوں میں ہماری بس
تقدیس کے نعرے تھے
اجداد کی نظروں میں
تعبیر کا سورج تھا
نعرے تھے جو پونے کے
دلی کو ہلاتے تھے
لاہور کے جگنو سے
جمنا میں اجالا تھا
آزاد تھے پروانے
آکاش بلاتے تھے
پتلی سی گلی سے وہ
چپکے سے نکل بھاگا
صاحب کے لقب والا
ہاں خون کی ہولی تھی
جو چھوڑ گیا پیچھے
پرکھوں کی خطا تھی یہ
یا وقت کا نشتر تھا
کھل کھیلی تھی خود غرضی
کھتری نے جو پھونکا صور
چڑھ دوڑی وہ کرپانیں
مسلم بھی کہاں پیچھے
گھمسان مچا ایسا
ہمسائے کہ ہمدم تھے
جو ساتھ جنم کے تھے
پل بھر میں ہوئے دشمن
عصمت کی جو دیوی تھی
اس کو تو کنویں میں ہی
اک راہِ اماں سوجھی
کیسے کیسے گبھرو تھے
جو کھیت ہوئے ہر سو
پٹیالے سے آئی تھی
جس موت نے ماجھے میں
ہر گھر کو اجاڑا تھا
گنگا کے، جمن کے جو
تہذیب کے وارث تھے
اک جام لیے کف میں
در در پہ گدا ٹھہرے
دلی نے وہ دن دیکھے
نادر کے دنوں جیسے
ہمسائے گئے، دیکھو
چولھوں میں دبی آگ
آنگن میں کھڑی تلسی
دہلیز پہ چابی بھی
کنڈی جو کھلی، کھولی
اپنوں ہی کے ہاتھوں نے
چابی جو پرائی تھی
اک شب میں ہماری تھی
جو لُٹ کے ادھر آئے
بارش میں کھڑے بھیگے
جن کے نہ لٹے آنگن
ان کے ہی ہوئے آنگن
دعوے بھی ہوئے جھوٹے
پرچے پہ گواہ آئے
جو باغ نہ دیکھا تھا
وہ باغ بھی اپنا تھا
پٹوار کی مہروں سے
ہر سطر بدل بیٹھی
جس نے نہ لیا کچھ بھی
وہ سب سے بڑا مورکھ
جو لوٹ کے بیٹھا تھا
وہ شہر کا منعم تھا
ایمان کا سودا تھا
بازار میں سستا تھا
جو بیج وہاں بویا
وہ پیڑ ابھی تک ہے
اس جھوٹ کی چھاؤں میں
پروان چڑھی بستی
جو ٹوٹ گیا رشتہ
دھرتی سے، بھروسے کا
جوڑا تو گرہ ٹھہری
دھارا جو سمے کا تھا
اک دن وہ گیا موڑا
کیا کیا نہ بُنے تھے خواب
دھرتی کے، جہاں سب کچھ
اپنا ہو، سبھی اپنے
پھر ڈوب گیا وہ خواب
اپنے ہی لہو میں، اور
بستی پہ حویلی کا
سایہ ہے، وہی سایہ
آ، مل کے ضیا باندھیں
جو گانٹھ پڑی، کھولیں
دہلیز پہ رکھ آئیں
وہ چابی، وہی تلسی
جو خواب لہو میں تھا
راوی سے ذرا دھو لیں
بادل میں چھپا سورج
اجداد کی آنکھوں کا
ڈوبا تو نہیں، اٹھ کر
جگنو ہی سہی، لے چل
آنگن سے گلی تک، اور
گلیوں سے نگر بھر میں
پھر خواب بُنیں ایسا
دھرتی ہو، سبھی اپنے
پرکھوں کی امانت ہے
اب خواب نہیں، تم کو
تعبیر سناتے ہیں