نقیب اللہ محسود شہید کے والد محمد خان کی نقیب کے لئے انصاف اور نقیب کی بچپن سے لیکر شہادت تک ایک جامع کتاب لکھنے کی خواہش اس کی زندگی میں پوری نہ ہو سکی ۔جبکہ نقیب کے بیٹے عاطف انصاف کے منتظر اپنے دادا کی میت سے سر لگائے ہوئے دنیا سے سوال کر رہے ہیں
جنوبی وزیرستان:شہید نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان وفات پاگئے خاندانی ذرائع ۔محمد خان موذی مرض کینسر میں مبتلا تھے ۔محمد خان گزشتہ کچھ عرصہ پنڈی میں زیر علاج تھے ۔نقیب اللہ کراچی میں ماورائے عدالت مارے گئے تھے
جرمن ٹی وی DW اور ڈی ڈبلیو اکیڈمی کے تحت ہونے والے موبائل جرنلزم کے مقابلے میں جنوبی وزیرستان سے رضیہ محسود نے ٹاپ 12 صحافیوں میں دوسری پوزیشن حاصل کی .
حکومت پہلے قبائلی اضلاع میں لوگوں کو بنیادی سہولیات(امن ۔تعلیم۔صحت۔روزگار) فراہم کریں پھر وہ معدنیات کو سرکاری قرار دینے کا بل پاس کریں بصورت دیگر معدنیات کو سرکاری قرار دینے کے بل کی مخالفت کرتی ہوں
جنوبی وزیرستان تحصیل لدھا کے ��سسٹنٹ کمشنر نجیداللہ نے ماڈل ہیلتھ فسلیٹی لدھا کا اچانک دورہ کیا اسسٹنٹ کمشنر نجیداللہ کے مطابق ماڈل ہیلتھ فیسلٹی کی ڈاکٹر روم۔ لیبر روم میں سٹاف ڈیوٹی پر موجود نہیں ۔انکے خلاف کاروائی کرنے کا وعدہ کیا۔رضیہ محسود
میں دوپٹہ بھی اوڑھتی ہوں اور بال بھی سنوارتی ہوں
میں پردہ بھی کرتی ہوں،میں سنگار بھی کرتی ہوں
میں اڑان بھی رکھتی ہوں اور اپنے حدود بھی جانتی ہوں
کیونکہ میں آزادی اور بغاوت کے فرق کو پہچانتی ہوں
کیونکہ میں بیٹی وزیرستان کی ہوں
میں رضیہ محسود وزیرستان کی ہوں
شہید نقیب اللہ محسود کے والد جو کہ کچھ عرصے سے راولپنڈی کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہے انکے بارے میں سوشل میڈیا پر اسکے مرنے کی خبریں چل رہی ہے۔یاد رہے کہ نقیب اللہ کے والد زندہ اور سلامت ہے اور سوشل میڈیا پر مرنے کی خبریں بے بنیاد ہیں
Umeed welfare association k plat form per Razia Mahsood ko AC yousaf momand serwekai south waziristan and CEO Umeed Welfare Association honoring me with award during talent award distribution ceremony chagmalai tehsil serwakai south waziristan
جس طرح کشمیر کے جنگ میں قبائلی عوام کی بہادری سب کو نظر آتی ہے اگر اس طرح سے انکے حقوق بھی نظر آتے اور انکو پسماندہ نہ رکھا ہوتا تو آ ج قبائلی عوام کو انکی بہادری یاد کروانے کی ضرورت پیش نہ آتی