So can we start a hope for peaceful Pakhtunkhwa after all this madness? How much more time and strategies will we see for peace. The only light in the darkness I am seeing is the light of peace. Is this the eventual end of one other project or is it a complete closure of projects past, present and no more? Important thing is that a lesson must be learned from all this and that is no more manufacturing because it’s always faulty. Let the people enjoy the power and the decision must be theirs. Take power to the roots. Evolve the power system around the people and make the whole Pakistan progress together.
PTI was, is and will be responsible for the destruction of our motherland. This project will always be remembered as a filthy waste of time and resources. They have looted and destroyed our land since 12 years and whatever damages they have done will take much more time to recover. Whatever happening now the responsibility lies on PTI and those who have brought them to power in 2013+2018+2024. This nation will never forgive you all.
ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی مخالفت کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حالات کو اس نہج پر پہنچانے کے ذمہ دار تحریک انصاف کی حکومت اور ان کو لانے والے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت گزشتہ ڈھائی سال میں ہر لحاظ سے بدترین طور سے ناکام رہی ہے۔ اس حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے میں معمولی دلچسپی بھی نہیں لی بلکہ صوبے کو ایک مسلسل ہیجانی کیفیت میں مبتلا رکھ کر کرپشن کا ایک بازار گرم رکھے ہوا ہے۔ یہ دہشتگردی سے نمٹنے میں کبھی سنجیدہ نہیں رہی بلکہ اس نے اپنے قول و فعل سے ہمیشہ یہ ثابت کیا کہ اس کی ہمدردیاں عوام، صوبے اور ملک کے ساتھ نہیں بلکہ دہشتگردوں کے ساتھ ہیں۔ پولیس اور عوام کے شہداء کے ساتھ کھڑے ہونے کی بجائے اس نے دہشتگردوں کی بالواسطہ یا بلا واسطہ سہولتکاری کی۔ اس کا انعام اسے عوام اور قانون کے ساتھ کھڑی ہونے والی ��ماعت کو دہشتگردی اور ففتھ جنریشن کے پراپیگنڈے کا شکار بنا کر اسے اکیلے جگہ دے کر دیا گیا۔
گورنر راج یا ایمرجنسی لگے یا نہ لگے، یہ ایک زمانے میں دو باہمی محبت کرنے والوں کی آپس کی لڑائی ہے۔ ہم تحریک انصاف اور اس کو لانے والوں، دونوں کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس صوبے کو مزید تجربہ گاہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
میں آج بھی اپنے اس موقف پر قائم ہوں کہ گورنر راج یا ایمرجنسی مسائل کا حل نہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 2013ء میں 1200 شہداء کا بوجھ اٹھانے کے باوجود ہمیں انتخابات میں ہرایا گیا۔ ہمارے خلاف پراپیگنڈا کیا گیا کہ ہم کرپٹ ہیں۔ پھر ان کا احتساب کمیشن کہاں گیا؟ اس نے ہمیں پکڑا کیوں نہیں؟ اُس وقت تو عمران خان اور فوج ایک ہی پیج پر تھے۔ پھر 2018ء میں آر ٹی ایس بٹھا کر ہمیں ہرایا گیا۔ میں آج بھی وہ حلقے دکھا سکتا ہوں جہاں ہمیں ہرا کر پی ٹی آئی کو کامیاب کرایا گیا۔ اس کے بعد 2024ء میں ایسا ماحول بنایا گیا کہ جیسے صرف پختونخوا ہی پی ٹی آئی کا ہوم گراؤنڈ ہے، جبکہ باقی پاکستان میں اسے شکست ہوئی۔ ہمارا مینڈیٹ ایک بار پھر چوری کیا گیا اور پختونخوا میں پی ٹی آئی کی مقبولیت کا ایک جعلی بھوت کھڑا کیا گیا۔
آج بھی اگر ہم گورنر راج یا ایمرجنسی کی مخالفت کر رہے ہیں تو اس کی بنیاد اصولی ہے، کیونکہ یہ اقدامات غیر جمہوری اور جمہوری روایات کے منافی ہیں۔ ہماری مخالفت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم پی ٹی آئی کی طرزِ حکمرانی کی حمایت کر رہے ہیں۔پی ٹی آئی نے پختونخوا کو مالی، انتظامی اور سیاسی لحاظ سے تباہ کر دیا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی کو اقتدار میں لانے والوں سے میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ ہمارے شہداء کا مذاق اڑا کر اور ہمیں پارلیمان سے باہر رکھ کر آپ کو کیا ملا؟ پختونخوا کو کیا ملا؟
کیا 2013ء میں ٹی ٹی پی کے ذریعے ہمیں پارلیمان سے باہر کرنے والوں، 2018ء میں آر ٹی ایس کے ذریعے ہمیں پارلیمان سے دور رکھنے والوں اور 2024ء میں پی ٹی آئی کی جعلی مقبولیت کا تاثر پیدا کرنے والوں کا بھی احتساب ہوگا؟ یا آج بھی کسی کو سیاسی شہادت کے مرتبے پر فائز کر دیا گیا ہے؟
"ون یونٹ کی خفیہ دستاویز میں چودھری محمد علی نے لکھا : پنجاب؛ سرحد کی بجلی، بلوچستان کے کوئلے و گیس اور سندھ کے وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اس لئے پاکستان پر حکمرانی پنجاب کی ہونی چاہیے ـ
اگر آپ نے یہ خفیہ دستاویز نہیں پڑھی تو مجھے بتا دیں میں اس کی ایک فوٹو اسٹیٹ کاپی آپ کو بھیج دوں گا ـ پاکستان ٹوٹنے کے باوجود پنجابیوں کی یہ ذہنیت آج بھی برقرار ہے اور وہ ابھی بھی پاکستان کے مامے بننے کی کوشش کرنے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے"
ولی خان کا حنیف رامے کے نام کھلا خط
جولائی 1987 ـ روزنامہ جنگ لاہور۔
Any move to impose Governor’s rule or emergency in Pakhtunkhwa would be simply undemocratic. The ANP will never support such a move. Fundamental human, constitutional and democratic rights of the people cannot be taken away under the pretext of emergency. Instead of fixing the crisis, it will only deepen it. Those responsible for bringing the province to this stage must first face accountability.
Heard that the only option given at dark spots is to call of the long march and sacrifice the CM, substitutions
A: Ali Amin Gandhapur
B: Babar Saleem Swati
Or else get ready for Punjab style match.
A Team: ??
B Team: PTI+PMLN+ more but irrelevant at this point
C Team: TTP+TTA+ISKP+ more but irrelevant at this situation.
Guess the A team?
Look at this situation and then see what the Pakhtunkhwa is going through
2017ء میں واحد ہم تھے جو یہ کہہ رہے تھے کہ پولیس ایکٹ کے ذریعے فردِ واحد کو تمام اختیارات تفویض کرنا پولیس فورس میں بہتری کے بجائے بگاڑ پیدا کرے گا۔ اسی طرح اس ایکٹ کے ذریعے صوبے کے کوٹے میں دوسرے صوبوں کے افسران کی پروموشن کی بھی ہم نے مخالفت کی تھی۔
آج بھی جو کچھ کیا جا رہا ہے، اگر اسے عدالت میں چیلنج کیا گیا تو عدالت اسے اڑا کر رکھ دے گی، کیونکہ آج کی مجوزہ ترمیم بھی بظاہر پولیس آرڈر 2002ء کے آرٹیکل 11(1) اور قابلِ اطلاق PSP کیڈر رولز/ایسٹاکوڈ کی روح سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اسی طرح وفاقی حکومت کو آئی جی کی واپسی یا ریپیٹری ایشن کے معاملے میں بھی قانونی کردار حاصل ہے۔
پتہ نہیں ان کو یہ مشورے کون دیتا ہے؟
ہمیں وہ دن بھی یاد ہے جب پولیس ایکٹ 2017ء لایا گیا تھا تو کپتان صاحب جلسوں میں کہا کرتے تھے کہ ہم نے پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد کر دیا ہے اور خیبر پختونخوا کی پولیس کو نمبر ون بنا دیا ہے۔
آج کیا کیا جا رہا ہے؟ کیا یہی وہ پولیس اصلاحات ہیں جن کا دعویٰ کیا جاتا تھا؟