“مجھے مرنے کے بعد نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب نہ ہو، اگر میں نے اپنی 39 سالہ ملازمت میں ایک روپیہ بھی رشوت لی ہو۔”
یہ الفاظ ہیں لاہور پولیس کے سابق ایس ایس پی عمر ورک کے، جنہوں نے پولیس سروس میں قدم رکھنے سے پہلے عہد کیا تھا کہ نہ کبھی بکوں گا، نہ ظالم کا ساتھ دوں گا، اور ہر حال میں مظلوم کی حفاظت کروں گا۔
دورانِ ملازمت ایک ایسا کیس سامنے آیا جس نے انہیں جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ سعودی عرب میں مقیم ایک پاکستانی کا بیٹا لاہور میں اغوا ہوا، تاوان نہ ملنے پر اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ عمر ورک نے قسم کھائی کہ جب تک قاتل گرفتار نہیں ہوں گے، نہ سکون سے کھاؤں گا اور نہ چین کی نیند سوؤں گا۔ چند ہی دنوں میں ملزمان قانون کی گرفت میں تھے۔
اپنی سروس کے دوران ان پر کرپشن کے الزامات بھی لگے، مگر عدالت میں انہوں نے نہایت پُراعتماد انداز میں کہا:
“مجھے نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب نہ ہو، اور میری بیوی کو تین طلاقیں ہوں اگر میں نے پوری نوکری میں ایک روپیہ بھی رشوت لی ہو۔ اگر الزام ہے تو ثبوت پیش کریں، کیونکہ یہ وہ دنیا ہے جہاں اللہ کے نیک بندوں پر بھی الزام لگ جاتے ہیں۔”
عمر ورک کا کہنا ہے کہ انہوں نے تنخواہ بھی لی، مگر اپنی جیب سے بھی لوگوں پر خرچ کیا۔ نوکری میں آنے سے پہلے ان کے پاس لاہور شیخوپورہ روڈ پر تقریباً 5 مربعے زمین تھی، جو آج بڑھنے کی بجائے کم ہو کر تقریباً آدھی رہ گئی۔
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ آرام نہیں کر رہے۔ انہوں نے ایک ایسی فلاحی تنظیم قائم کی ہے جو چندہ نہیں لیتی۔ چند دوست مل کر غریب، بے سہارا اور شدید بیمار افراد کو تلاش کرتے ہیں اور اپنی جیب سے ان کا علاج کرواتے ہیں، چاہے بیماری کتنی ہی سنگین اور علاج کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو۔
ان کے ایک ساتھی پولیس افسر کا کہنا ہے:
“میں اپنے بچوں کو ساتھ لے کر مسجد میں عمر ورک کی قسم دینے کو تیار ہوں کہ انہوں نے پوری ملازمت میں نہ کبھی رشوت لی، نہ ظالم کا ساتھ دیا، نہ کوئ اور غیراخلاقی کام کیا۔”
ایسے کردار روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ دیانت دار اور باکردار لوگوں کی کہانیاں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچنی چاہئیں تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں۔
میں جیسے ہی 26 نمبر سے فیصل آباد والی گاڑی میں سوار ہوا
گاڑی میں یہ منظر دیکھا جہاں اقبال کا شاہین اپنی عاصمہ شاہین
کے ساتھ رومینٹک موڈ میں چوما چاٹی کررہا تھا
پہلے یہ واضح کردوں کہ یہ میاں بیوی نہیں ہیں
میاں بیوی پبلک پلیسز پہ ایسی حرکتیں نہیں کرتے اور لڑکی یونیورسٹی کی طالبہ تھی اور لڑکا جے ایف 17 کا پائلٹ
مختصر یہ کہ انتہائی نامناسب حرکات کررہے تھے اور باقی دنیا سے بے نیاز تھے کہ کوئی دیکھ رہا ہے یا نہیں
بس اپنا الگ جہاں
جہاں چھوٹے چھوٹے دو بچے اور اپنا چھوٹا سا گھر پہاڑوں کے بیچ میں
اللہ کی پناہ
پھر کہتی ہیں ہمارا ریپ ہوگیا ہے
ہمیں فلاں لڑکا ب میل کررہا ہے
تو تم جب گھروں میں ماں باپ کو کالج اور یونیورسٹی کا نام دے کر دھوکہ دیتے ہوئے ڈیٹ مارنے جاتی ہو
خود ہوٹل کے کمروں تک خوشی سے جاتی ہو
پارکوں میں بیٹھ کر غل۔۔۔یظ حرکات کرتی ہو
لڑکوں سے پیسے کھا کر انھیں خود کو پیش کردیتی ہو
عاشقی کے نام پر انجوائے کرتی بھی ہو کرواتی بھی ہو
تب
یہ سب غلط نہیں ہوتا؟؟؟؟
تب تو میلے بابو نے تھانا تھایا؟
اوہ میلی دان امممممماااااااہ
پلیز میری جان میں تمھاری ہوں
کال بند نہ کرنا میں نے تمھاری سانسیں سننی ہیں اور پھر جان جنگی جہاز جیسی آواز میں خڑاں خڑاں کرکے خراٹے ماررہا ہوتا ہے
اچھا جان میں تمھاری ہوں میں بھیجتی ہوں تصویریں لیکن پلیز دینا مت کسی کو
پھر برہنہ ویڈیوز تصویریں اور لائیو برہنہ ویڈیو کالز
پھر ملنا ملانا اور تمام حدیں پار
پھر
ہیلو سرعلی ! پلیز ہمیں وہ کالا مسلی ب میل کررہا ہے
کیوں بھئی مزے لیتے وقت ہوش نہیں تھا کہ اللہ کی حدود کو پامال کررہی ہو؟؟
میں نےلڑکیوں کے تحفظ کے لیے ٹیم بنائی تھی لیکن
ان لڑکیوں کی وجہ سے ہی ختم کردی کیونکہ یہ خود مکمل انوالو ہوتی ہیں اس کام میں
ورنہ
کسی کی کیا مجال کے لڑکی کو آنکھ اٹھا کر بھی کوئی دیکھ سکے
نوٹ: لڑکی کی تصویر اس لیے واضح اپلوڈ کی ہے تاکہ اس کے گھر والوں تک پہنچ جائے اور انھیں پتہ چلے کہ شہزادی کیا گل کھلاکر آئی ہے۔ اس کے حمایتی بننے والوں سے گزارش ہے کہ اپنی اس بہن کا نکاح کروا دیں تاکہ بسوں میں رنگ برنگے لڑکوں کے ساتھ عیاشیاں نہ کرے
ازقلم: علی بٹ
ساری زندگی عمران خان کی ذاتی زندگی پر حملے کرنے والے پٹواریوں کا اپنا کردار اتنا غلیظ نکلا کہ اب پاکستان کے علاوہ انٹرنیشنل دنیا میں بھی انکا تعارف Rapist فیملی کے نام ہوگا!!!
On 18th June, a 13-year-old girl took e-rickshaw to go to her home in Sriganganagar, Rajasthan.
Instead of taking her home, the driver kidnapped her and sold her to someone in a hotel. She was rescued from a hotel on 22nd June by police.
In these five days, this minor girl was moved between four different local hotels, forced to consume alcohol to suppress her cries, and sexually assaulted by 32 men.
All the hotels connected to this case have been demolished. 12 people linked to the exploitation have been arrested including the rickshaw driver.
Anyone who assaulted or helped others to assault this little girl should be hanged to death. Anything less than that is just waste of time and resources. These people so filthy and unworthy that they should not be allowed to breathe the same air.
راولپنڈی کے آرمڈ فورسز بون میرو ٹرانسپلانٹ سینٹر (AFBMTC) نے کینسر کے علاج کی جدید ترین 'CAR T-cell تھراپی' کا پاکستان کی تاریخ کا پہلا کامیاب آپریشن کیا ہے۔ خون کے شدید کینسر میں مبتلا ایک 21 سالہ نوجوان مریض کو 18 جون 2026 کو پاکستان ہی میں تیار کردہ اینٹی باڈیز سیلز دیے گئے، جس کے بعد وہ محض 14 دنوں میں کینسر سے مکمل پاک ہو کر 3 جولائی کو ہسپتال سے ڈسچارج ہو گیا۔
آرمی میڈیکل کور کے ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کا یہ کارنامہ ان مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جن کے پاس روایتی علاج کے متبادل ختم ہو چکے تھے۔
.
#PZM #Pakistan #ispr