@Aqsa_PMLN @MaryamNSharif بڑے بڑے اچھے موذن بھی ہوتے ہیں، لیکن بعض سپیکر پر چیختے ہیں جو اسلام کے اسولوں کے مطابق بھی بد تمیزی ہے اور وحشت کا باعث ہو سکتی ہے۔
کئی مرتبہ بزرگ نمازی حضرات بھی اس کے اوپر تنقید کر چکے ہیں بلکہ ایک واقع میں بات ہاتھا پائی تک سنی ہے۔
@atharyasin786@soulat_pasha ایک دوست کی پرزور فرمائش پر انکا لیکچر سننے کا شرف حاصل ہوا، ملٹری بیکڈ، لا محدود بجٹ کے ساتھ موصوف سائیسندانوں کے لتے لینے میں مصروف تھے۔
جناب conspiracy theorists سے زیادہ متاثر ہیں اور ملٹری کے ایجنڈے کے عین مطابق قوم کو مذہب کی افیون میں مبتلا رکھنے کی بھرپور کوشش جاری ہے۔
@iarana91@soulat_pasha پروفیسر صاحب اپنے تخیل میں ہی کسی اور سولر سسٹم میں چلے گئے؟ یا جن زمین پر انڈے دیتے ہیں؟
الجبرا میں بیان کرنے کی کوشش کرتے تو خود ہیں اپنی غلطی بھانپ لیتے کسی سے ریویو لکھوانے کی ضرورت بھی پیش نا آتی۔
اسلامی نظریاتی کونسل کیا بلا ھے؟ کیا ان پاس عوامی مینڈیٹ ھے؟ یا یہ سپریم کورٹ کے مختص کردہ نمایندے ہیں؟... یا انہیں اللہ نے زمین پر اختیار دے کر اتارا ھے؟... یہ کیا ملک ھے. یہ کیسا قانون ھے؟ یہ کیا بدمعاشی ھے. یہ کیسا ��لم ھے؟ جہالت کی فیکٹریوں میں تیار ہونے والے ان جلادوں کو ہمارے سروں پر کس نے مسلط کر رکھا ھے؟ اگر یہ سب یونہی چلتا رہا تو اس ملک کو مزید تباہ و برباد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا. میں ارباب اختیار سے اپیل کرتا ہوں کہ اس ظلم و بربریت کو روکیے... اس سے پہلے کہ یہ آگ آپ کے گھروں تک پہنچے.. روکیے اس آگ کو...
Moment of realisation for many but it’s been clear that Islam and Millaism are two different things but tightly coupled together. One can’t get rid of Mullaism without actually head on confronting Islam.
Say a word against them find out their peace and patience
#islamispeace
Please don’t take financial advice from a beardo. If you live in America, a 30-year FRM is one of the best financial products for becoming a homeowner.
Avoid convoluted ‘halal’ rent-to-own schemes, which usually end up costing you more than a traditional mortgage.
@K4mi_i Listen to Israel’s argument where’s he’s reminding Pakistan didn’t say a word when they were attacked on their land. It’s a BIG question mark.❓
اقبال احمد انڈیا کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں ان کے والد زمین کے جھگڑے میں ان کی آنکھوں کے سامنے قتل ہو گئے۔ 1947 کی ہجرت میں وہ اپنے بھائی کے ساتھ بہار سے پیدل لاہور پہنچے۔ ایف سی کالج میں داخلہ لیا، اکنامکس میں ڈگری حاصل کی اور آگے چل کر اسکالرشپ پر امریکا کے کیلی فورنیا کالج جا پہنچے۔ وہاں سیاست اور مڈل ایسٹ ہسٹری ان کے علمی سفر کا مرکز بن گئی۔ ابنِ خلدون کے فکر نے ان کی سوچ کو ایسا جکڑا کہ وہ مڈل ایسٹ اور شمالی افریقہ کی تاریخ کے مطالعے کے لیے وقف ہو گئے۔
وقت کے ساتھ وہ نوم چومسکی، ایڈورڈ سعید اور ارون دتی رائے جیسے عالمی دانشوروں کے دوست بن گئے۔ بڑے بڑے علمی دماغوں کی صحبت نے ان کی شخصیت کو نکھارا اور وہ جنگ کے مخالف اور عالمی معاشی نظام کے ناقد بن گئے۔ دنیا بھر میں لوگ ٹکٹ خرید کر ان کے لیکچر سنتے اور بڑے مفکرین ان سے متاثر ہوتے۔
1997 میں میاں نواز شریف نے انہیں پاکستان بلایا۔ ٹیکسٹائل انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان کی سربراہی دی اور اسلام آباد میں ایک خودمختار یونیورسٹی کے لیے زمین الاٹ کی۔ اقبال احمد اس کا نام ’’خلدونیہ‘‘ رکھنا چاہتے تھے۔ حکومت نے چارٹر بھی جاری کیا مگر قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ وہ بڑی آنت کے کینسر میں مبتلا ہوئے اور 11 مئی 1999 کو آپریشن کے دوران ہارٹ اٹیک سے انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال پر امریکا میں ہیمپشائر کالج میں تعزیتی تقریب ہوئی، جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان، نوم چومسکی، ایڈورڈ سعید اور ارون دتی رائے جیسے لوگ شریک ہوئے۔ یہ منظر بتاتا ہے کہ وہ کس درجے کے عالمی دانشور تھے۔
پاکستان واپسی کے بعد ایک دن ان سے پوچھا گیا کہ آپ امریکا یا یورپ کی کون سی چیز کو سب سے زیادہ مس کرتے ہیں؟ وہ مسکرا کر بولے: ’’اچھی گفتگو۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں تعلیم یافتہ لوگوں کے پاس گفتگو کے بے شمار موضوعات ہوتے ہیں، مگر پاکستان میں ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے، ریڑھی والے ہوں یا دفتر کے افسر، سب کی گفتگو صرف سیاست اور سکینڈلز تک محدود ہے۔ کوئی بھی موضوع چند منٹوں میں سیاست کی نذر ہو جاتا ہے، جبکہ دنیا میں لوگ شخصیات پر نہیں بلکہ آئیڈیاز پر بات کرتے ہیں۔
اقبال احمد نے یہ بات 25 برس پہلے کہی تھی۔ آج جب ہر طرف سوشل میڈیا کا شور ہے تو ان کے الفاظ اور بھی سچ لگتے ہیں۔ ہمارے ہاں روزانہ لاکھوں الفاظ بولے جاتے ہیں لیکن ان کا نچوڑ صرف سیاست، سکینڈلز اور غیر مصدقہ باتیں نکلتی ہیں۔ اچھی گفتگو کے لیے ��طالعہ، تحقیق اور نئے آئیڈیاز ضروری ہیں۔ جب پڑھنے اور سوچنے کی عادت ہی ختم ہو جائے تو مکالمہ بھی بانجھ ہو جاتا ہے۔