عمران خان کے ساتھ بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ جب صحت کا پوچھا جائے، وہ کہتے ہیں، میں ٹھیک ہوں۔ وہ صحت کی پرواہ ہی نہیں کرتے، لیکن ہم اس وقت ہل کر رہ گئے جب سلمان صفدر نے بتایا کہ انہیں دو ہفتے نظر ہی کچھ نہیں آیا۔ اگر صحت کا شکوہ نہ کرنے والے عمران خان نے یہ حالت بتائی ہے، تو وہ کتنی سن��ین ہو گی؟ علیمہ خان
@Aleema_KhanPK #AleemaKhan #ImranKhan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
آج عمران خان نے قوم کو نہیں پکارا بلکہ اس نے کہا ہے کہ میری بہنیں میرے لیے آواز اٹھائیں، اس نے " میرے پاکستانیوں " کہہ کر آج نہیں پکارا،
آپ کو یاد ہوگا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ مجھے اس قوم سے گلہ ہے
“میں ہمیشہ کہتا آیا ہوں کہ اپنے ہی لوگوں پر ڈرون اٹیکس اور ملٹری آپریشنز سے دہشتگردی مزید بڑھتی ہے۔ عاصم منیر کی پالیسیاں اس ملک کے لیے تباہ کن ہیں۔ اس ہی کی پالیسی کی بدولت آج ملک میں دہشتگردی کا ناسور بے قابو ہے جس پر مجھے انتہائی دکھ ہے۔ اس کو اپنے ملک کے مفادات کی رتی برابر بھی پرواہ نہیں ہے۔ یہ جو کچھ کر رہا ہے، محض مغربی دنیا کی خوشنودی کے لیے کر رہا ہے۔ افغانستان کے ساتھ آگ کو جان بوجھ کر بھڑکایا، اس کا مقصد ہے کہ اسے “انٹرنیشنلی مجاہد” سمجھا جائے۔ اس نے پہلے افغانوں کو دھمکایا، پھر مہاجرین کو ملک سے دھکے دے کر باہر نکالا، ان پر ڈرون حملے کیے جس کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں آئے۔ اس شخص نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے ملک کو دہشتگردی کی بھینٹ چڑھا دیا ہے۔”
- عمران خان
#ذہنی_مریض_نامنظور
یزید کے دربار میں بھی سرکاری ملاوں نے بیعت کی تھی، لیکن حق خیمے میں تھا! آج بھی حق دربار میں نہیں، زندان میں ہے۔ مولانا نسیم علی شاہ
@naseem_mna#ReleaseSohrabBarkat
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
”شہباز شریف کیلئے اسٹیبلشمنٹ صرف سپورٹ ہی نہیں دے رہی بلکہ پریس کانفرنس بھی کر رہی ہے، گالی بھی دے رہی ہے اور گولی بھی چلا رہے ہیں۔ اس کے باوجود ملکی معیشت کا حال یہ ہے کہ نوجوان ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔“وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
اسد طور کی بات %100 درست ہے۔ جب مطیع اللہ جان صاحب کو اٹھایا گیا تھا تو عمران خان صاحب ن�� بطور وزیراعظم ڈی جی I جنرل فیض حمید کو کہا تھا کہ مطیع اللہ کو کس نے اور کیوں اٹھایا؟
یہ نہیں چلے گا۔ انہیں فوراً رہا کریں۔ اور اللّه کا شکر اسی دن وہ رہا ہو گئے
میاں اکرم عثمان نے دو برس تک ناحق قید کی سختیاں برداشت کیں۔ انہیں لاہور کے ضمنی انتخاب سے قبل محض تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ اب، دو ڈھائی سال گزرنے کے بعد ایک پرانے، بے بنیاد اور بوگس مقدمے میں انہیں اچانک نامزد کرکے جسمانی ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے۔
اتنے طویل عرصے کے بعد کسی کیس میں نامزدگی اور پھر ریمانڈ دینا ہمارے نظامِ انصاف کی کمزوری، قانونی عمل کی پامالی اور انتقامی سیاست کی واضح مثال ہے۔ اس طرزِ عمل کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے۔