* جب قبلہ اول بیت المقدس مسجد اقصیٰ یہودیوں کے قبضے ہو اور مسلمانوں کا خون بہایا جا رہا ہو تو اس وقت اسلام امن ، اخلاقیات اور اصلاح کا درس نہیں دیتا بلکہ اسلام اس وقت جہاد و قتال کا درس دیتا ہے*
#FreePalestineNow#Gaza
8 مارچ کو عورتوں کے حقوق کے نام پر ناچنے والی آنٹیاں منظر عام سے غائب ہیں، انہیں کوئی بتائے کہ چند روز قبل سول جج عاصم حفیظ کی ڈائن بیوی نے گھریلو کمسن ملازمہ رضوانہ پر تشدد کر کے دونوں بازوں، دونوں ٹانگیں توڑ دی ہیں، چہرے پر گرم استری بھی لگائی۔ آج ان آنٹیوں کی زبانیں کیوں گُنْگ ہو گئی ہیں؟
#JusticeForRizwana
گالی ،گولی، اور کالعدم کی دھمکیاں صرف دینی لوگوں کیلیے۔۔؟؟
ذرا چند منٹ کیلئے تصور کر کے دیکھیے کہ تحریک لبیک ، جمیعت علمائے اسلام، جمیعت اہلحدیث یا کوئی بھی مذہبی جماعت کور کمانڈر کیا کسی DPO ہاؤس پہ ہی حملہ کرکے توڑ پھوڑ کرتی تو انکے ساتھ کیا کچھ ہوتا؟ یقین کیجیے لاشیں اٹھانے کیلیے بندے نہ ملتے اور نہ انکو دفنانے کی اجازت ہوتی لیکن گزشتہ 48 گھنٹوں میں ایک سیاسی جماعت نے ہر وہ کام کیا ��و ریاست کے ماتھے پہ ایک بدنما داغ ہے مساجد اور ایمبولینسز تک کو جلایا گیا ، کلمے والے بورڈز بھی نہ چھوڑے جو بھی انکے سامنے آیا خاکستر ہو گیا، کور کمانڈر کی وردیاں چوکوں میں لہرا دی گئیں ، بندوقوں کی ویڈیوز موجود، ریڈیو پاکستان ، الیکشن کمیشن آفس ، میٹرو بسسز الغرض جتنا نقصان یہ جتھے پہنچا سکتے تھے پہنچایا گیا۔ جب ریاستی اداروں نے جوابی کاروائی شروع کی تو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اپنی ساس کے حکم پہ سہولت کاری کرنے پہنچ گئے اور ان مسلح جتھوں کے سرغنہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ اس سے مجھے تو کم از کم یہی بات سمجھ آتی ہے کہ اگر تم کلین شیو ہو تو تمہیں پاکستان میں کچھ بھی کرنے کی آزادی ہے لیکن اگر تم اسلام پسند ہو داڑھی والے ہو تو اونچی آواز میں اسپیکر چلانے پہ بھی سالہا سال فورتھ شیڈول بھگتو گے۔ والسلام
ہو سکتا ہے میں راستے سے ہٹ جاؤں یا ہٹا دیا جاؤں
تو یاد رکھیں
مستند رستے وہی مانے گئے
جن سے ہو کر تیرے دیوانے گئے
آہ کو کچھ نسبت ہے عشاق سے
آہ نکلی اور پہچانے گئے
سعد رضوی کالاہور میں تاریخی خطاب