ل��ہور میں ایک سولہ سالہ کم عمر رکشہ ڈرائیور کو سی سی ڈی نے گولیاں مار کر شہید کردیا۔ نا کوئی سوشل میڈیا پر آہ و بکا ہوئی نا کسی نے جرائم کو کھنگالا۔ ہم وہ بدنصیب بدترین منافق قوم ہیں جو کسی کا سٹیٹس دیکھ کر اسکا ماتم کرتے ہیں۔
بدھ کی شب چکوال شہر میں کیا ہوا؟
نبیل انور ڈھکو
ڈاکوؤں کے پاس پستول تھے لیکن نو سالہ ہانیہ احمد کے بدن سے جو پانچ گولیاں پار ہوئیں وہ کلاشنکو کی تھیں۔ وہ کلاشنکو جسے ایس ایم جی (شارٹ مشین گن) یا اے کے 47 کہتے ہیں۔ جائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم اپنی تحقیقات سے پتہ نہیں کیا نکالتی ہے، لیکن وہ گولیاں جو معصوم ہانیہ کے بدن کو چیرتی ہوئی اس کے ننھے بھائی دس سالہ عفان احمد اور والد عدیل احمد کے جسم میں پیوست ہوئیں وہ کسی ڈاکو، یا کسی نامعلوم شخص کی بندوق سے نہیں بلکہ سی سی ڈی (کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ) کے اس اہلکار کی ایس ایم جی سے نکلیں جس نے عدیل احمد کی کار کو اپنی "کمال ذہانت اور مہارت" کی وجہ سے ڈاکوؤں کی کار سمجھ کر گولیوں سے چھلنی کر دیا۔
چکوال کے ایک بڑے اور معروف قصبے ڈھڈیال سے تعلق رکھنے والے 39 سالہ عدیل احمد لگ بھگ بیس برس قبل روزگار کی خاطر آسٹریلیا گئے۔ وہاں اپنی پڑھائی کی خاطر محنت مزدوری کر کے پیسہ کمایا۔ عدیل احمد سول انجینیئر بنے اور برسوں کی محنت سے آ��ٹریلیا میں اپنی بیوی ڈاکٹر سدرہ خان اور دو بچوں عفان احمد اور ہانیہ احمد کے ساتھ خوشحال زندگی گزارنے لگے۔ اپنی مٹی سے دور جانے والوں کے اپنے دکھ، اپنی حسرتیں اور اپنے ارمان ہوتے ہیں۔ چند روز قبل عدیل احمد اپنی بیوی بچوں کے ساتھ آسٹریلیا سے اس لیے ڈھڈیال آئے کہ بچوں کو دادا دادی کے پاس چھوڑ کر خود حج پر جائیں گے۔ عدیل اور سدرہ بدھ کی صبح سعودی عرب سے پاکستان آئے۔ بدھ کی رات عدیل کے سسر کرنل ریٹائرڈ محمد خان نے گھر میں دعوت کا اہتمام کیا۔ کرنل صاحب کی کوٹھی چکوال شہر میں گرلز کالج کے قریب نوگزہ دربار کی طرف مُڑتی ہوئی گلی کے شروع میں ہے۔ دعوت میں اور قریبی رشتہ دار بھی مدعو تھے۔ پاکستان میں مختصر قیام کے لیے عدیل احمد نے ایک کار رینٹ پر لے رکھی تھی اور اسی کار پر اپنی بیوی بچوں کے ساتھ اپنے سسرال میں کھانے کی اس دعوت میں شرکت کے لیے آئے۔ رات گیارہ بج کر چالیس منٹ پر عدیل احمد بیوی بچوں کے ہمراہ اپنے سسرال کے گھر سے نکلے۔ بیوی کے ماموں راجہ علی اعجاز کا گھر سر کلر روڈ پر مائرز کالج والی گلی کی نکر میں پڑتا تھا۔ آسٹریلیا سے آئی ہوئی بھانجی اپنے ماموں سے ملنا چاہتی تھی۔ کرنل محمد خان کے گھر سے سیدھا یہ لوگ ��لی اعجاز کے گھر کی طرف آ گئے۔
یہاں سے آگے علی اعجاز کے پڑوسیوں کے گھر پر نصب سی سی ٹی وی کیمرا دیکھتے ہیں۔ گیارہ بج کر چھیالیس منٹ اور چار سیکنڈ پر سفید رنگ کی کار آئی۔ اٹھائیسویں سیکنڈ پر کار مائرز کالج کی طرف مڑی۔ گیارہ بج کر سینتالیس منٹ اور بیس سیکنڈ پر عدیل احمد نے کار کو موڑ کر علی اعجاز کے گھر کے سامنے ایک دیوار کے ساتھ کھڑا کیا۔ یہ دیوار کسی گھر کی نہیں بلکہ سی سی ڈی تھانے کی تھی۔ اتنے میں ایک موٹر سائیکل سوار نمودار ہوا اور گزر گیا۔ عدیل احمد گاڑی سے باہر نکلے اور گھر کے دروازے پر بیل دی لیکن کوئی جواب نہ آیا، کیونکہ بیل خراب تھی۔ ایک کار آئی اور گزر گئی۔ عدیل واپس گاڑی میں بیٹھ گئے اور دروازہ کھلنے کا انتظار کرنے لگے۔ اس دوران علی اعجاز کے نمبر پر کال بھی کی جاتی رہی لیکن ان کے بقول وہ سو رہے تھے اس لیے انہیں کال کا پتہ نہ چلا۔ سر پاک کی طرف سے موٹر سائیکل آیا اور گزر گیا۔ شاہ زور گزر گئی۔ اسلامیہ چوک کی طرف سے دو موٹر سائیکل سوار آئے اور وہ بھی گزر گئے۔ دو تین گاڑیاں اور موٹر سائیکل گزرے۔ رکشہ گزرا۔ پیدل چلنے والے لوگ گزرتے رہے۔
گیارہ بج کر اکیاون منٹ اور دو سیکنڈ پر ایک موٹر سائیکل اسلامیہ چوک کی طرف سے آیا جس پر دو افراد سوار تھے۔ بارویں سیکنڈ پر موٹر سائیکل عدیل کی کار کے سامنے اسی دیوار کے کونے میں رکا۔ سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے کونے میں۔ پہلے پیچھے بیٹھا ہوا شخص نیچے اترا اور کار کے پاس بائیں طرف سے آیا۔ پھر دوسرا بھی نیچے اتر کر کار کے پاس ڈرائیور والی سائیڈ سے آیا۔ پستول دکھا کر کہا کہ جو کچھ ہے نکال دو۔ عدیل نے کہا کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے ہم تمہارے حوالے کر دیتے ہیں لیکن تم ہمیں کچھ نہیں کہو گے۔ عدیل کی اہلیہ نے جو زیور پہنا ہوا تھا وہ حوالے کر دیا۔ ڈکیتی ہو رہی تھی کہ پاس سے ایک موٹر سائیکل اور ایک کار ��زر گئے ۔
(Part I)
@Ndhakku
اسلام اباد کے پوش سیکٹر ایف 10 میں خواتین پر باثر ملزمان کا اہنی ہتھیاروں کے ساتھ تشدد۔ متاثرہ افراد کے مطابق تھانہ شالیمار کے ایس ایچ او شفقت فیض خواتین کے میڈیکل کے باوجود مقدمہ درج کرنے سے انکاری ہیں۔ متاثرین در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔۔ واقعہ 3 جون کو پیش آیا تھا
عاصم منیر کے قاتل فوجی راولاکوٹ اور کوٹلی کے ہسپتالوں میں گھس کر چن چن کر شہریوں کو نشانہ بناتے رہے۔
دنیا کی تاریخ میں ایسی بےرحم وحشیانہ بربریت کی مثال نہیں ملتی ۔۔
مری میں افسوسناک حادثہ
ملتان سے سیر کے لیے آنےوالے ایک ہی خاندان کے 10 افراد جاں بحق جبکہ 13 زخمی ہوگئے۔ ہائی ایس وین موڑ کاٹتے ہوئے نالے میں جا گری اور آگ لگ گئی۔زخ��یوں کو پمز اسلام آباد منتقل کردیا گیا۔
موٹر وے پولیس کےمطابق تمام متاثرہ افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
Zorain Nizamani:
Son of Fazila Qazi and Qaiser Khan Nizamani , famous TV actors
LLB : University of West London, MS in Ciminology from US, PhD aspirant, served in US Department of Justice for 4 years , writer of the article.
اس ملک کے ایک سابقہ وزیر اعظم کی بے بسی اور لاچاری ملاحظہ کریں کہ وہ کس طرح ایکُ تھانے کے انچارج کی دو بچیوں کی عزت و عصمت کی پامالی و بے حرمتی کی شکایت سوشل میڈیا پر کر رہا ہے ۔ دنیا کو کوئی اور ملک ہوتا جہاں انسان بستے تو اب تک سارا میڈیا اور معاشرہ چونک جاتا۔ اب تو اس شخص کو عدالت کا دروازہ بھی حاصل نہیں رہا جسے جا کرکھٹکا سکے ۔ وہاں بھی پہلے پوچھا جائے گا یہ آئینی مسئلہ ہے یا نہیں ۔