@MaryamNSharif پولیس کی اس دونمبری پر ایکشن لیا جائے۔ اگر نہ انصاف م��ا ایک اللہ کی ذات موجود ہے ۔ دوسرا آپ @MohsinnaqviC42 کےبیان میں ناکام سسٹم کو ختم ہونے میں وقت نہیں لگے گا۔اور نہ Gen'Z یا پاکستان کے کاکروچ کو اس کا انتظار کرنا پڑے گا
پاکستان کو صرف سفارتی کامیابیوں نہیں اندرونی انتظامی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ نئے صوبے اگر اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی عوام کے قریب لائیں تو یہ ��ورننس بہتر کرنے کی مؤثر کوشش ہو سکتی ہے۔
اب سیاست میں دعووں نہیں کارکردگی کا حساب ہونا چاہیے۔
#نئے_صوبے_خوشحال_عوام
@iqrarulhassan
@BilalAmin_Bajwa اندرونی انتظامی اصلاحات کی بھی ضرورت ہے۔ نئے صوبے اگر اختیارات، وسائل اور فیصلہ سازی عوام کے قریب لائیں تو یہ گورننس بہتر کرنے کی مؤثر کوشش ہو سکتی ہے۔
اب سیاست میں دعووں نہیں، کارکردگی کا حساب ہونا چاہیے۔
پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وسائل کم ہیں؛ بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اختیارات اور فیصلے عوام سے کتنے دور ہیں۔
بڑے انتظامی یونٹس میں گورننس کا بوجھ بڑھتا ہے، جبکہ دور دراز علاقوں کے مسائل اکثر مرکزِ تک پہنچتے پہنچتے اپنی ترجیح کھو دیتے ہیں۔
#نئے_صوبے_بناؤ_پاکستان_بچاؤ@iqrarulhassan
@iqrarulhassan جمہوریت کا م��البہ صرف پارلیمنٹ یا حکومت تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوری کلچر، میرٹ اور قیادت کی جوابدہی ضروری ہے۔
جمہوریت کا مطالبہ صرف پارلیمنٹ یا حکومت تک محدود نہیں ہونا چاہیے؛ سیاسی جماعتوں کے اندر بھی جمہوری کلچر، میرٹ اور قیادت کی جوابدہی ضروری ہے۔اصل امتحان یہ ہے کہ جمہوریت کا اصول اقتدار ملنے کے بعد بھی وہی رہتا ہے یا صرف اپوزیشن میں یاد آتا ہے۔
تماشا دیکھیں !! جو لوگ تیس تیس، چالیس چالیس سال میں اپنی پارٹی میں جمہوریت نہیں لا سکے وہ بھی کہتے ہیں کہ ہم ملک میں جمہوریت کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔
یاد رکھیں صرف وہی پارٹی میں جمہوریت اور میرٹ لا سکتا ہے جو خود کسی عہدے پر قابض نہ ہو یا خود کسی عہدے کا امیدوار نہ ہو۔
8 ماہ، پنجاب کے 11 اضلاع، 29 بچے۔
یہ اعدادوشمار ہمارے معاشرے اور ریاستی حفاظتی نظام دونوں کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہیں۔ بچوں کے خلاف جنسی جرائم پر زیرو ٹالرنس، مؤثر تفتیش اور فوری انصاف ناگزیر ہے۔
#ChildProtection#Justice#عوام_کی_آواز_عوام_راج
ماضی میں کسی کے قریب ہونا یا کسی کے مؤقف کی حمایت کرنا آج اختلاف کی گنجائش ختم نہیں کرتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر دور میں ایک ہی معیار رکھتے ہیں؟ اصول مقدم ہوتے ہیں۔ جس بات کو کل غلط کہا تھا آج بھی غلط کہیں اور جسے درست سمجھا تھا ثبوت کے بغیر محض سیاسی وابستگی پر غلط نہ کہیں
اللہ بڑا بے نیاز ہے۔۔۔ جس آصف غفور کے انگوٹھے چوس چوس کر یہ بڑے ہوئے، اب یہ اُسی کو پڑ گئے ہیں۔ مکافات عمل۔۔۔۔اِن یوٹیوبروں کے لیے بھی اور ان جرنیلوں کے لیے بھی۔
اللہ بڑا بے نیاز ہے۔۔۔ جس آصف غفور کے انگوٹھے چوس چوس کر یہ بڑے ہوئے، اب یہ اُسی کو پڑ گئے ہیں۔ مکافات عمل۔۔۔۔اِن یوٹیوبروں کے لیے بھی اور ان جرنیلوں کے لیے بھی۔
@iqrarulhassan اختلاف اپنی جگہ، مگر سیاسی اور صحافتی گفتگو کو ذاتی تضحیک تک لے جانا مسئلے کا حل نہیں۔ اگر کل کسی کو غلط سمجھا گیا تھا تو آج بھ�� غلط کو غلط ہی کہا جائے۔ عوام راج کا اصول شخصیت نہیں، ایک ہی معیار اور ایک ہی اصول ہے۔
اگر کسی پر فوج کا ملازم یا ٹاؤٹ ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے تو ثبوت بھی سامنے آنا چاہیے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر صحافت میں الزام کا جواب الزام نہیں بلکہ شواہد ہوتے ہیں۔ عوام راج کا اصول سادہ ہے: جس پر الزام لگائیں، ثبوت دیں؛ اور جس سے اختلاف ہو، اسے دلیل سے جواب دیں۔
ویسے تو درجنوں مثالیں ہیں لیکن میری بہن ابھی کل تک آپ ایک جرنیل کے خلاف گفتگو کرنے پر ایک سیاستدان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔۔۔ اللہ کی قسم کھا کر بتائیں کہ آج اگر کوئی فیلڈ مارشل عاصم منیر پر الزامات لگانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایسی ہی ٹوئیٹ کرے تو آپ اُسے فوج کا ملازم اور ٹاؤٹ نہیں کہیں گی؟ انقلابی بنتے ہوئے اپنا، اپنے گرو کا اور اپنے جتھے کا ماضی فراموش مت کیا کیجئے۔ سلامت رہیں۔
ویسے تو درجنوں مثالیں ہیں لیکن میری بہن ابھی کل تک آپ ایک جرنیل کے خلاف گفتگو کرنے پر ایک سیاستدان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہی تھیں۔۔۔ اللہ کی قسم کھا کر بتائیں کہ آج اگر کوئی فیلڈ مارشل عاصم منیر پر الزامات لگانے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایسی ہی ٹوئیٹ کرے تو آپ اُسے فوج کا ملازم اور ٹاؤٹ نہیں کہیں گی؟ انقلابی بنتے ہوئے اپنا، اپنے گرو کا اور اپنے جتھے کا ماضی فراموش مت کیا کیجئے۔ سلامت رہیں۔
@iqrarulhassan اگر کسی پر فوج کا ملازم یا ٹاؤٹ ہونے کا الزام لگایا جا رہا ہے تو ثبوت بھی سامنے آنا چاہیے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر صحافت میں الزام کا جواب الزام نہیں بلکہ شواہد ہوتے ہیں۔ عوام راج کا اصول سادہ ہے: جس پر الزام لگائیں ثبوت دیں اور جس سے اختلاف ہو اسے دلیل سے جواب دیں۔
مہنگائی نے گھر کا بجٹ، بے روزگاری نے نوجوان کے خواب اور کرپشن نے عوام کا اعتماد توڑ دیا۔ اب فیصلے عوام کے مسائل پر ہوں گے۔اب آپ کا مقدر آپ کے ساتھ ہے،اب پاکستان کی تقدیر آپ کے ہاتھ میں ہے ۔
#اب_عوام_راج_ہوگا@iqrarulhassan
@Asad_Umar ۔فوج کی سیاسی مداخلت کا خاتمہ جمہوری استحکام کے لیے اہم ہے۔ نئے میثاقِ جمہوریت، آزاد عدلیہ اور بااختیار مقامی حکومتوں کی تجاویز اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گی جب تمام سیاسی جماعتیں انہیں اقتدار میں ہوں یا اپوزیشن میں، یکساں اصول کے طور پر قبول کریں۔
انکوائری صرف ایک واقعے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اگر پمز سمیت پورے اسلام آباد ک�� ہسپتالوں، اور متعلقہ نظام کا غیرجانبدارانہ آڈٹ و احتساب ہو تو اصل مسائل سامنے آئیں گے۔ #عوام_راج_تحریک کا اصول واضح ہے عوام کی جان و مال کے معاملے میں غفلت نااہلی یا بدانتظامی پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔
@KhawajaMAsif انکوائری صرف ایک واقعے تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ اگر پمز سمیت پورے اسلام آباد کے ہسپتالوں، اور متعلقہ نظام کا غیرجانبدارانہ آڈٹ و احت��اب ہو تو اصل مسائل سامنے آئیں گے۔ عوام راج کا اصول واضح ہے: عوام کی جان و مال کے معاملے میں غفلت، نااہلی یا بدانتظامی پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔
@iqrarulhassan پمز میں آج جو کچھ ہوا، وہ محض ایک ہسپتال کا واقعہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظامِ حکمرانی کی تصویر دکھاتا ہے۔ جب نااہلی، بدانتظامی اور جواب دہی سے فرار معمول بن جائیں تو ہر خبر واقعی ایک نئی ناکامی کی داستان بن جاتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس کا خمیازہ آخر کب تک عوام بھگتیں گے؟
پمز میں آج جو کچھ ہوا، وہ محض ایک ہسپتال کا واقعہ نہیں بلکہ ہمارے پورے نظامِ حکمرانی کی تصویر دکھاتا ہے۔ جب نااہلی، بدانتظامی اور جواب دہی سے فرار معمول بن جائیں تو ہر خبر واقعی ایک نئی ناکامی کی داستان بن جاتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اس کا خمیازہ آخر کب تک عوام بھگتیں گے؟
ہر ایک خبر اِن کی نااہلی ہے، ہر ہیڈلائن اِن کی دو نمبریوں کا نوحہ ہے، ہر ٹوئیٹ اِن کی بے شرمی کا انکشاف ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ سارا ملک پمز کی طرح چلایا جا رہا ہے یا یوں کہہ لیں کہ پمز کو بھی ملک کی طرح چلایا جا رہا ہے۔ جعلی مینڈیٹ سے مسلط شدہ حکمرانوں سے جان کب اور کیسے چھوٹے گی؟
اصل سوال کسی ایک ک��نل، جماعت یا شخصیت کا دفاع یا مخالفت نہیں، اصل سوال اصول کا ہے۔ اگر ایک ہی عمل حکومت اور سیاسی وابستگی بدلتے ہی حلال سے حرام اور حرام سے حلال ہو جائے تو مسئلہ سیاسی شعور کا نہیں، شخصیت پرستی کا ہے۔ اختلاف ضرور کریں، مگر معیار ایک رکھیں۔
@iqrarulhassan
رکھیں دل پر ہاتھ اور بتائیں کہ اگر تحریک عدم اعتماد نہ ہوئی ہوتی، خان صاحب کی دوسری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ آج بھی ایک پیج پر ہوتے تو کیا تب بھی ن لیگ کے دوست ایسے ہی کرنل صاحب کا دفاع کر رہے ہوتے؟ اور کیا تب بھی پی ٹی آئی کے دوست ایسے ہی کرنل صاحب کو مطعون ٹھہرا رہے ہوت��؟؟ 2020 میں #کرنل_کی_بیوی پولیس والوں پر ناراض ہوئی تھی تو اُس ویڈیو پر یہی ن لیگ والے بُرا بھلا کہہ رہے تھے اور یہی ��ی ٹی آئی والے اُسے مظلوم ثابت کر رہے تھے۔ آج اُس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔
مسئلہ یہی ہے کہ ہم اصول کی بات نہیں کرتے۔ ہماری حکومت میں جو ایک چیز عین حلال ہوتی ہے، دوسرے کی حکومت میں بعینہٖ وہی بات کلیتہً حرام ہوتی ہے۔ ہم شخصیت پرست، اندھ بھگت بن چکے ہیں، ہمارا ضمیر، ہماری سوچ، فکر اور رائے دوسروں کے مفاد اور اقتدار کی غلام بن چکی ہے اور ہم نے اسی کو “شعور” سمجھ لیا ہے۔