@AmirAfzalKhan7@_SahibzadaHamid صاحب آپ کی بات کو ہم سچ مان لیتے ہیں کہ رشوت لی ہے تو رشوت والے مقدمات بناؤ نا۔
ریاست کے خلاف بندوق اٹھائی ہے تو ثبوت پیش کرکے لٹکا دو۔ جیل میں کیوں رکھا ہوا ہے؟
جنہوں نے پریس کانفرنس کی ( بیعت کی ) وہ معاف ہوگئے۔
تھوڑی کوپڑی استعمال کیا کرو۔
جسٹس محسن اختر کا سی۔ ڈی۔ اے بارے فیصلہ تاریخی ہے۔ ٹیکسوں کا نفاذ اور وصولی صرف اور صرف عوامی نمائندگی کے ذریعہ ہونی چاہئے ۔ ۶۵ سالوں سے بابو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں رکاوٹ ہیں اور سی۔ ڈی۔ اے کرپشن اور نااہلی کا گڑھ ہے۔
مصطفی نواز کھوکھر
Former Prime Minister Imran Khan in conversation with media representatives in Adiala Jail - January 2, 2025
"Happy New Year to everyone! 2025 is the year of our genuine freedom, in which, God willing, this fake and fascist system that is already on shaky grounds, will be defeated.
During this authoritarian era, the breach of personal freedoms, violation of fundamental legal rights, and destruction of institutions have not only disrupted the country's social and political systems but also its legal and economic frameworks. The absurd manner in which Khalid Khurshid was sentenced to 34 years in prison demonstrates that there is no rule of law in our country any more, and a terrible undeclared dictatorship prevails. Even in Musharraf’s era, we criticized military interference but never faced such oppression and fascism. We strongly criticized the military’s political interventions before the lawyers' movement, but back then, no agency would abduct citizens in such a manner.
The establishment of a constitutional court has destroyed the entire judicial system. The remnants of Qazi Faez Isa’s group have taken control of the judiciary, ensuring that verdicts align with GHQ directives.
Four illegal verdicts were given against me last year. I expect a similar outcome on Monday in the Al-Qadir case. Such lawless rulings tarnish Pakistan’s image globally. Verdicts (against civilians) by military courts have done away with the rule of law in Pakistan. No country can attract investment without the rule of law. Pakistan's growth rate remains zero. Without economic growth, we can neither be debt-free nor eliminate unemployment.
My stance has always been clear that Pakistan’s decisions should be made within Pakistan. However, when it comes to basic human rights, voices will naturally rise globally. Institutions like the United Nations exist for this purpose. Enlightened people all over the world raise their voices against violation of basic rights. Aristotle had said that it is every citizen’s duty to speak out against human rights violations. Only two types of people remain silent: the selfish and the cowardly.
I expect Trump to remain neutral, unlike Biden who, as the world knows, influenced by General Bajwa, played a role in ousting our government through a vote of no confidence, which was blatant interference.
Our negotiation committee is engaging with the government. Our demands are legitimate:
Formation of a judicial commission on November 26th (2024) and May 9th (2023)
Release of political prisoners
I have full confidence in Sahibzada Hamid Raza, who is the spokesperson for our negotiations committee.
Statements by DG ISPR about the events of May 9th are blatantly untrue. The straightforward principle is that whoever stole the CCTV footage orchestrated the May 9th events. Verdicts in these cases were obtained from military courts because no one was going to demand the CCTV footage there. Our people were directly shot at and martyred on November 26th. The entire truth will be revealed when transparent investigations of these two incidents are conducted.
We have given the government a deadline of January 31st. Our campaign to boycott remittances continues alongside negotiations. The boycott campaign can be reconsidered if the government shows that they are serious about addressing our demands.
I have been indirectly approached with an offer to transfer me to my Bani Gala residence. My stance is clear: release my detained workers and leaders first. Only then will I consider discussing my personal situation. I was also offered the opportunity of a three-year exile while I was in Attock Jail, but I will live and die in Pakistan. I will fight for my country's freedom until my last breath, and I expect my nation to do the same."
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں میڈیا اور وکلأ سے گفتگو
“میں نے اپنی زندگی میں پاکستان میں نافذ کیے گئے تمام مارشل لأ یعنی ایوب خان ، یحیٰی خان ، ضیاء الحق اور مشرف کا مارشل لا دیکھے ہیں۔ یحیٰی خان اور ضیاءالحق کا مارشل لا پاکستان کی تاریخ کا بدترین مارشل لاء تھا جس میں جمہوریت کو بالکل روند دیا گیا تھا۔ مشرف اس حوالے سے قدرے لبرل تھا۔ جو کچھ آج ملک میں جمہوریت کے نام پر ہو رہا ہے اسکا موازنہ صرف اور صرف یحیٰی خان کے دور سے کیا جا سکتا ہے۔ مارشل لأ میں سب سے پہلے جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کا گلا گھونٹا جاتا ہے تاکہ آمر کی غلط کاریوں پر کوئی بھی آواز بلند کرنے والا نہ ہو ۔ آزاد میڈیا چونکہ تنقید کرتا ہے اس لیے اسکی آواز بند کی جاتی ہے عدلیہ کیونکہ غلط فیصلوں پر ایکشن لینے کا حق رکھتی ہے اس لیے اسکے اختیارات بھی سلب کر لیے جاتے ہیں ۔ آج اس جمہوریت کی آڑ میں نافذ اس مارشل لا میں یہ تمام فسطائی حربے بدرجہ اتم موجود ہیں ۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں پاکستان کی سب سے مقبول اور بڑی پارٹی کے چئیرمین کا نام تک میڈیا پر لینے پر پابندی ہے؟
جیسے حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ کے ذریعے واضح ہوا تھا کہ یحیٰی خان نے اپنی طاقت اور اقتدار کی خاطر ملک کے نظام کو تہس نہس کیا وہی کام آج بھی کیا جا رہا ہے۔ فارم 47 کی بوگس اور فراڈ حکومت کو بچانے کے لیے تحریک انصاف کو مسلسل کچلا جا رہا ہے اور ملک میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ شہباز شریف صرف اور صرف جنرل عاصم منیر کی ایک کٹھ پتلی اور اردلی ہے، اس سے زیادہ طاقت ور وزیراعظم تو مشرف دور میں شوکت عز��ز تھا کیونکہ کم از کم تب انتخابات میں اس سطح کی دھاندلی نہیں کی گئی تھی جیسی فروری 2024 میں کی گئی۔ دھاندلی کی پیداوار فارم 47 کے سہارے کھڑا ناجائز لیکن ناتواں ٹولہ دراصل حکومت کے نام پر ایک دھبہ ہے۔
��لقادر ٹرسٹ کا فیصلہ صرف اور صرف پچھلے کیسز کی طرح میرے اوپر دباو ڈالنے کے لیے لٹکایا جا رہا ہے مگر میں مطالبہ کرتا ہوں کہ یہ فیصلہ فوری طور پر جاری کیا جائے کیونکہ جیسے پہلے عدت کیس اور سائفر کیس میں آپ کا منہ کالا ہوا اب بھی وہی ہو گا ۔
القادر کیس بالکل ایک بوگس کیس ہے جس میں دور دور تک کوئی میرٹ نہیں۔ میں نے کوئی بلاول ہاؤس نہیں بنوایا بلکہ ایک دور دراز دیہات میں قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ایک فلاحی ادارہ قائم کیا جس سے مجھے ایک روپے کا فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہونا ہے- القادر ٹرسٹ یونیورسٹی بھی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ایک عوامی مدد سے چلنے والا فلاحی ادارہ ہے-
میں واضع طور پہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں نواز شریف اور زرداری کی طرح این آر او نہیں لوں گا۔ اور عدالتوں سے اپنے کیسز ختم کروائیں گے۔
بشری بی بی کا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ یہ محض پراپگنڈا ہے۔ ہماری مذاکراتی کمیٹی ہی ان معاملات کو دیکھ رہی ہے ۔ اسلام آباد قتل عام کو 6 ہفتے ہو چکے ہیں، ہمارے گمشدہ افراد کو لیکر حکومت کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں کی گئی۔ یہ مذاکرات کی کامیابی میں حکومت کی غیر سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔
پاکستان میں معیشت کا حال بدترین ہے ۔ گروتھ ریٹ صفر ہے مصنوعی طریقے سے ڈالر کو قابو میں رکھنا کوئی معاشی کامیابی نہیں ہوتی۔ ملک میں ترقی صرف سرمایہ کاری سے آتی ہے اور سرمایہ کاری کبھی ایسے ملک میں نہیں آتی جہاں قانون کا وجود ہی فوت ہو چکا ہو ، عدالتیں آزاد نہ ہوں ، دہشتگردی ہو اور جہاں اصل عوامی نمائندگان حکومت کی بجائے جیلوں میں ہوں۔ ایسا ملک کبھی ترقی کر ہی نہیں پایا-“
میں حیران ہوں کہ لوگ کیوں Netflix پر وقت ضائع کرتے ہیں
جبکہ MIT , Harvard , Sandford اور Google فری کورس کرارہے ہیں
میں آپ کو 12 بڑی Websites بتا رہا ہوں جہاں پر آپ Free Online Course کرسکتے ہیں :
پاکستان میں جرنیلوں کا استعمال کر کے جہموریت پر شب خون مارا گیا
پاکستان میں سب ڈرون حملے جرنیلوں کی مرضی سے ہوئے
بروس ریڈل سابقہ CIA ڈائریکٹر ساؤتھ ایشین افیرز
اگلا ممکنہ سیٹ اپ۔۔!!
صدر پاکستان عمران خان۔
وزیراعظم پاکستان سلمان اکرم راجہ
وزیراعلی پنجاب میاں اسلم اقبال
چئیرمین سینیٹ مولانا فضل الرحمٰن
دو تہائی اکثریت کے تناظر میں اٹھارویں ترمیم غائب ہوتی نظر آرہی ہے۔
معتبر ذرائع
سلمان دورانی
اکتوبر میں الیکشن آڈٹ کا خطرہ موجود ہے۔ خواجہ آصف
اتنے بیشرم ہو چکے ہیں کہ خود مان رہے الیکشن آڈٹ اِن کیلئے خطرے کی بات ہے اگر آپ جیتے ہو الیکشن تو آڈٹ سے کیسا ڈر؟؟