جس تعلیم یا ڈگری میں فلسفہ اور تاریخ نہیں پڑھائی جاتی وہ ڈگریاں حاصل کرنے والے لوگ ہرگز بھی پڑھے لکھے نہیں ہوتے بلکہ محض اپنے شعبے کے ٹیکنیشن ہوتے ہیں بھلے وہ ڈاکٹر یا انجینئر کیوں نہ ہو
نوجوانوں کو سیاسی عمل کا حصہ بننے سے قبل سیاست سے متعلق علم و شعور حاصل کرے
جاری ہے.
پاکستان کا پیغام واضح ہے: پانی ہماری بقاء، سلامتی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا معاملہ ہے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی معاہدہ ہے، جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔ آج دنیا پاکستان کے اصولی مؤقف کو تسلیم کر رہی ہے۔ ہم اپنے آبی حقوق، قومی مفاد اور پاکستان کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر بھرپور آواز اٹھاتے رہیں گے۔
آج کا پیغام بہت واضح ہے اور کل کا انتظار کریں جب کہا ہے کہ انڈیا ہم تمھاری سانسیں روک دیں گے اس کا کل بڑا واضح مطلب سمجھایا جائے گا انڈیا اور اس کے حواری ذرا سن لینا دیکھ لینا سمجھ کر
ماسکو اور کابل میں اینٹ کتے کا ویر تھا۔یہ ماسکو ہی تھا جس نے دریائے آمو عبور کرکے افغانستان کی رجیم ایسے تبدیل کی کہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔79 سے 89ء تک اٹھارہ سے بیس لاکھ افغانی سرخ ریچھ کی ا س یلغار سے قبرستان آباد کر گئے ان میں صرف بچوں کی تعداد تین لاکھ بتائی جاتی ہے ۔1979ء کی مردم شماری کے مطابق، افغانستان کی کل آبادی کا تقریباً 6.5 فیصد حصہ، اس 9 سالہ جنگ کی بھینٹ چڑھا۔یہ سوویت فضائیہ ہی تھی جس نے افغان دیہاتوں اور کھیتوں میں ایسے بارودی مائنز اور بم گرائے جو دیکھنے میں کھلونے لگتے تھے۔ بچے ان دلفریب کھلونوں کو اٹھانے جاتے کبھی واپس نہ آتے یا وہ اپنے ہاتھ پاؤں ہمیشہ کے لئے گنوا بیٹھتےیا زندگی ۔۔۔سیلانی چاہے گا کہ مارے جانے والے افغان شہریوں کی تعداد آپ کے ذہن میں رہے ۔بھ��ٹان۔مالٹا ،مالدیپ ،لکسمبرگ جیسے ملکوں کی آبادی جمع کرلی جائے تو بھی وہ ان شہداء سے پیچھے رہتے ہیں ۔ لیکن یہ ماضی تھا آج مئی 2026 میں افغان رجیم روس سے معاہدہ کرتی ہے کہ وہ افغانستان میں موجود سوویت دور کے پرانے ہتھیاروں، ٹینکوں،ہیلی کاپٹروں کی مرمت اور بحالی کرے ۔اس معاہدے پر روسی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سرگئی شوئیگوف اور افغان طالبان کے وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب دستخط کرتے ہیں ۔مسکراتے ہیں ۔مصافحہ کرتے ہیں اورمعاہدے کی دستاویزات کا تبادلہ ہوجاتاہے۔ یہ وہی معاہدہ ہے جس کے بعد ملا یعقوب صاحب نے کابل واپسی کے بعد پاکستان کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ
"پاکستان اب دوبارہ افغان سرزمین پر فضائی حملے کرنے کی جرات نہیں کر سکے گا"
لیکن پاکستان نے گذشتہ شب ہی نہ صرف جرت کی بلکہ پکتیا اور پکتیکا میں دہشت گردوں کے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بھی بنایا۔۔۔ اس پر بعد میں آتے ہیں یہاں فوکس یہ رکھئے کہ کیا کسی افغان رہنما ۔کابل حکومت کے موجودہ ذمہ دارنے ملا صاحب کی حکومت کو شرم دلائی ۔۔۔ کسی نے حیاء کرنے کا طعنہ دیا کہ جس روس نے تین لاکھ بچوں کو چھوٹی چھوٹی قبروں میں اتارا ۔تاحیات معذور کیا ۔اٹھارہ لاکھ افغانوں کو شہید کیا ۔ اسی سے معاہدے کر رہے ہو ۔۔۔ کیا کسی مسجد یا منبر سے آواز اٹھی کہ شہداء کے لہو کا سوداکرنے والو تم غدار ہو ۔۔۔
سیلانی نے ایسا کچھ نہیں سنا ۔سرحد پار سے اور نہ پاکستان کی سرحد میں نادرا کا شناختی کارڈ۔پاسپورٹ رکھنے اور پاکستان کی تھالی میں کھا کر تھوکنے والے سے سنا ۔ سب حرام خوروں کے لب ایسے سلے ہوئے ہیں جیسے کسی نے سور کی دم کے بال سے ان کے ہونٹ سی دیئے ہوں۔کسی کو وہ معذور بچے یاد آئے نہ شہداء کی قبریں ،ہاں! پاکستان سے اس دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھے تو خنزیرکی دم کے بالوں سے لگے ٹانکے کھل جاتے ہیں اور جھٹ سے انکی للو چلنے لگتی ہے کہ
���’یہ جو دہشت گرد ہیں یہ بھی تو پاکستان ہی کی پروڈکٹ ہیں ۔۔۔ پاکستان ہی نے انہیں پالا پوسا تھا ناں اب بھگتیں ۔۔۔‘‘
بھئی! کیوں بھگتیں ؟ پاکستان نے ان کا ساتھ دیا ۔ان کی ہر طرح سے مدد کی۔ چھاتی ٹھوک کر کی اور اب ان کی دہشت گردی کی سپورٹ پر اختلاف ہے تو اس کا اظہار بھی سرعام ہے ۔بلا روک ٹوکا ور دو ٹوک ہے۔جب یہ ہمارے ساتھ تھے۔ہمیں عزیز تھے سرآنکھوں پر بٹھاتے تھے اب خلاف ہیں تو خلاف ہیں ،اولاد ناخلف ہوجائے باپ کے منہ کو آئے تو باپ کیا کرتا ہے ؟
عاق کرتا ہے ناں ۔لاتعلقی کا اعلان کرتا ہے ۔توپاکستان بھی یہی کررہا ہےجب کابل اٹھارہ لاکھ افغانوں کے قاتلوں سے ماسکو جا کر ہاتھ ملا سکتا ہے تو ہمارے کھاتے سے لاتعلقی واجب ہے اور’’ مزاج پرسی‘‘ بھی ہاں کسی ایک بے گناہ کو بھی خراش آئے تو دل دکھتا ہے پاکستان کسی سویلین یا بے گناہ کو نشانہ بنانا چاہتا ہے نہ پاکستانی اس پر خوش ہوتے ہیں لیکن کیا کریں کہ اس مسئلے کا حل بھی کابل ہی ک�� پاس پے وہاں سے سہولت کاری بند ہو تو ہم طورخم ہی نہیں دل کے دروازے بھی کھولنے کو تیار ہیں۔۔۔۔
سیلانی دیکھتا چلاگیا ۔
(Rizwan Akram)
خودمختار کشمیر کا تصور پاکستان ہی نہی استصواب رائے بارے جو اقوام متحدہ کی تاریخی قرارداد اس کے بھی خلاف ہے اس میں صرف دو آپشن کی بات تھی کشمیر کے عوام نے انڈیا یا پاکستان میں سے کسی ایک کو چننے کا آپشن ہے تیسرا آپشن نہی ہے انڈیا پاکستان کی تقسیم میں 565ریاستیں تقسیم ہوئی ہیں ایک بھی الگ ملک نہی بنا تھا اس لیے یہ شوشہ سوائے فساد کے کچھ نہی ہے
ابھی مرکز میں ٹیلی کام کمپنیوں والے بل کا مسلہ حل ہوا نہی تھا اب پنجاب میں ایک متنازعہ بل کا کیس سامنے آ گیا آپ اپوزیشن کو گولی ماریں زرا سپیکر پنجاب اسمبلی کی گفت��و غور سے سنیں
نون لیگ کو سوچنا ہو گا وہ اقتدار سے چلے جائیں گے کل کو یہ قانون ان پر لگے گا
وضاحت
1997 کے الیکشن میں چراغ ہی پی ٹی آئی کا انتخابی نشان تھا۔ اسی انتخابی نشان سے میں نے NA 197 کوئٹہ- چاغی سے پی ٹی آئی کے امیدوار کی حیثیت سے الیکشن بھی لڑا تھا۔
ثبوت حاضر ہے۔
🚨 خود مختار کشمیر کے نام پر اب تک ایک بلی کا بچہ قربان نہیں ہوا لیکن کشمیر بنے گا پاکستان کے نام پر 6 لاکھ سے زائد لوگ شہید ہوئے،
سردار عتیق احمد خان
ہم خودمختار کشمیر نہیں چاہتے، سردار عتیق احمد خان
جب عمران خان صاحب نے پشاور میں کینسر ہسپتال کے خواہش کا اظہار کیا تو اس وقت عوامی نیشنل پارٹی کے صوبہ میں حکومت تھی عمران خان نے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہان اور اس وقت کے چیف منسٹرز امیر خیدر خان ہوتی صاحب سے ملاقات کی اور التجا کیا کہ ہمیں زمین چاہیے تو امیر خیدر خان ہوتی صاحب نے سیاست سے بلاتر ہو کر 2010 میں 50 کروڑ روپے کا زمین فری خیات آباد جیسے کمرشلز جگہ میں دے دی پھر ایک اور ڈیمانڈ کی کہ ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں کہ کام شروع کریں تو خیدر خان ہوتی صاحب نے 5 کروڑ ہسپتال میں بنانے کے لئے دی ۔۔۔
فیسبک سے حلیم راہی کی دیوار سے
FOODS THAT DESTROY YOUR BLOOD SUGAR OVERNIGHT
Cinnamon before bed — drops fasting blood sugar by up to 29% while you sleep deeply.
Apple cider vinegar at dinner — blocks sugar absorption and stabilizes insulin overnight.
Chia seeds with your last meal — slow digestion and prevent blood sugar spikes for hours.
Bitter melon juice at night — activates insulin receptors and works like natural metformin.
Almonds before bed — healthy fats stop liver from releasing excess glucose while you rest.
Berries at dinner — polyphenols block the enzymes that convert food into blood sugar.
Fenugreek seeds soaked overnight — soluble fiber wraps around sugar and removes it naturally.
Your pancreas works hardest between 1AM and 3AM. What you eat at dinner either supports it — or slowly destroys it.
لو جی رانا ثناء اللہ نے خوشخبری سُنا دی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے گی، آئل کمپنیوں نے رولا ڈالا ہوا ہے کہ ہمیں نقصان ہوگا ،مگر جب اسٹاک موجود تھا اور قیمتیں بڑھی تھیں تب انہوں نے منافع بھی کافی کمایا ہے اب اس منافع سے کچھ واپس کرنا ہوگا اگر بحران پیدا کیا گیا تو سختی سے نمٹیں گے۔
Mark my words, no country can dictate to Pakistan. We know how to protect ourselves, and we certainly know how to respond. Those who think Pakistan is weak should look at what we have done to India in the past. We have a battle-hardened military, and our unity is unmatched. FAFO.
یہ جو مہاجرین کی 12سیٹیں ان کی حقیقت بھی جان لیں اقوام متحدہ کی اس قرارداد جو انڈیا کی درخواست پر 1948 میں جاری ہوئی اس میں پاکستان اور انڈیا دونوں کی حکومتوں پر کچھ ذمہ داری بھی ڈالی تھی انڈیا پر 17 شرائط تھیں ان میں ایک جو ریڈ باکس میں وہ یہ تھی کہ استصواب رائے سے پہلے ان تمام مہاجریں کو واپس اپنے علاقوں میں آنے کی آزادی دیں جو دوران جنگ چلے گے اب اس اقوام متحدہ کی قانونی قرارداد کی وجہ سے کشمیری مہاجرین خصوصی حیثیت رکھتے وہ سٹیٹ لیس ہیں وہ کشمیر کے وہ شہری جن کو ان کے علاقے میں انڈیا نے واپس نہی جانے دیا تو جب تک گہ مسلہ حل نہی ہوتا ان کا حق کیسے سرنڈر کیا جا سکتا ہے ؟
مطالعہ ہندوستان والے ہو؟
جب بھی پاکستان کی بات کی جائے تو ایک گروہ اٹھ کے آتا ہے اور کہتا ہے تم نے مطالعہ پاکستان پڑھا ہوا ہے۔ یہ بات وہ طنز اور تن��ید کے معنی میں کرتے ہیں یعنی جنہوں نے مطالعہ پاکستان پڑھا اُن کی روایتی اپروچ مگر مطالعہ پاکستان کے مخالف اور ناقد جدید، باشعور اور انقلابی، کیا یہ درست ہے؟
جی نہیں، یہ درست نہیں ہے۔ ہر narrative کا ایک counter narrative ہوتا ہے اور جب آپ ایک سوچ یا نظریہ مسترد کرتے ہیں تو آپ خودبخود اس کے مخالف نظریے اور طبقات کے مفادات کے آلہ کار بن جاتے ہیں یا محافظ۔ نظریے کی جنگ بھی فوج کی جنگ جیسی ہوتی ہے مگر اس کے سپاہی بندو��وں اور توپوں سے نہیں دلائل کے ہتھیار سے لڑتے ہیں۔ اس میں دھڑے دو ہی ہوتے ہیں حامی یا مخالف۔
کیا کہا، کچھ لوگ غیرجانبدار ہوتے ہیں، درست کہا، مگر کیا آپ نے دیکھا کہ کسی فوج کے کچھ سپاہی جنگ میں غیرجانبدار ہو گئے ہوں؟ یہ بھی دشمن کی بڑی کامیابی ہے کہ وہ اس جنگ میں آپ کو اپنے دھڑے کے ساتھ کھڑا نہ رہنے دے۔ آپ جس دھرتی سے جڑے ہوں اسی سے اپنی جڑیں کھینچ لیں۔ یہ اس درخت کا بھی نقصان ہے اور زمین کی زرخیزی اور خوبصورتی کا بھی۔ غیرجانبداری ساتھ چھوز دینے کے بہانے کے سوا کیا ہے؟
واپس مطالعہ پاکستان کی طرف آتے ہیں۔ آپ نے کبھی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے؟ تاریخ میں واقعات کم ہوتے ہیں اور موقف زیادہ۔ صلیبی جنگیں پڑھ لیجئے یا اسلامی دور کی ابتدائی جنگیں۔ آج کے دھڑے اور فرقے موقف کی بنیاد پر ہی ہیں۔ اسی طرح جب ہم مطالعہ پاکستان کی بات کرتے ہیں تو اس کا counter narrative مطالعہ ہندوستان ہے۔
میں نے کئی تاریخ دانوں کو دیکھا ہے کہ وہ دشمن کا موقف اپنا کے خود کو جدت اور انقلاب کے نمائندے سمجھتے ہیں۔ ابھی ایران کی داخلی مزاحمت میں چلے جائیں۔ اسرائیل کے پرچم لہراتے ایرانی خود کو انقلابی بنا کے ہی ہیش کر رہے تھے۔ یہاں پاکستان میں ایک طبقہ اسی گھسے پٹے فارمولے کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کا جس بھی ملک سے اختلاف ہو اس کے موقف اور دلائل دینے لگتا ہے، حالت جنگ میں اسے صرف اور صرف بغاوت اور غداری کہتے ہیں۔
ہم سب کو اپنی حکومتوں سمیت بااثر طبقات سے شکایات ہو سکتی ہیں، ہمیں بھی ہیں، لیکن وہ شکایات آئین اور جغرافیے کی حدود کی پابند ہیں اور اگر ان کی ڈانڈے آئین اور جغرافیے سے باہر ہیں، کسی دوسرے کے مفادات پورے کر رہی ہیں جیسے کالعدم بی ایل اے یا کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی تو پھر یہ سوفیصد مطالعہ ہندوستان ہے اور ہم جیسے اس پر فخر محسوس کرتے ہیں، اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہم مطالعہ ہندوستان کے مقابلے میں مطالعہ پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور یہی رب کی نعمت ہے، اسے ہی شعور کہتے ہیں اور اسے ہی کہتے ہیں نصیب اپنا اپنا، کسی کو شکر اور وفاداری ملتی ہے اور کسی کو رب کی ناشکری اور قوم سے غداری !!!
نجم ولی خان
( ایک ممکنہ اعتراض کا جواب مگر کمنٹ میں )
ہم تو خود کشمیری ہیں مگر جو یہ بات کر رہے کہ پاکستان والا کشمیر آزاد خودمختار ریاست بن جائے یہ بالکل ناممکن بات ہے اس کے لیے آپ کو پورے تقسیم ہند کی قانونی بنیاد بدلنا ہو گی آپ تاریخی طور پر دیکھ لیں برٹش انڈیا کی تقسیم کی بنیاد 1947 میں برطانوی پارلیمٹ میں پیش کیے گے ایکٹ آف انڈیا ہے یہ ایکٹ 18جولائی کو شاہی منظوری کے بعد نافذ ہوا اور 14/15اگست کی درمیانی رات نافذ ہو گیا یہ ایکٹ آپ پڑھ لیں اسکے تحت 565پرنسلی یا خودمختار جو سٹیٹ تھیں ان کو جغرافیائی قربت کے لحاظ سے فیصلہ کرنے کا کہا گیا ان 565میں سے ایک بھی مکمل آزاد یا علیحدہ ملک نہی بنی جموں اور کشمیر ، حیدرآباد اور جونا گڑھ میں تنازع پیدا ہوا اقوام متحدہ کی جو 1948 والی قرارداد اس میں صرف دو آپشن کی بات تھی جموں اور کشمیر کے لوگ یہ فیصلہ کر سکتے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے یا انڈیا کے ساتھ تیسرا آپشن نہی تھا
یہ 29 جولائی 2024 کا ایک گرم دن تھا جب گوادر میں ماہ رنگ بلوچ کا جلسہ جاری تھا۔۔۔۔
جلسے کی سیکیورٹی کے لیے ایف سی اہلکار تعینات تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسی دوران ماہ رنگ نے اپنی تقریر میں سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہیں "غاصب" قرار دیا، جس کے بعد ہجوم میں اشتعال پیدا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہجوم کو سیکورٹی اہلکاروں پر حملے پر اکسایا گیا جس پر مذکورہ کا دست راست صبغت اللہ ہجوم کے ہمراہ سیکورٹی اہلکاروں پر بل پڑا۔۔۔۔۔۔۔
اس ہنگامے کے دو��ان ایک ایف سی سپاہی، شبیر بلوچ، مشتعل ہجوم کے نرغے میں آ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے پہلے پتھروں اور ڈنڈوں سے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پھر اس قدر سفاکانہ حملہ کیا گیا کہ اس کا چہرہ ناقابلِ شناخت ہو گیا، اور وہ شہید ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہجوم کی تعداد بہت زیادہ تھی اور حالات انتہائی کشیدہ تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
محدود تعداد میں موجود ایف سی اہلکار اپنے ساتھی کو بچانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ۔۔۔۔۔
اگر سیکیورٹی فورسز جوابی فائرنگ کرتیں تو بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہو سکتا تھا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو جاتی جو کہ ماہرنگ لانگو کی اس قسم کی واردات میں اصل خواہش تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
اہم بات یہ ہے وہ سپاہی شبیر بلوچ جس کو ماہرنگ لانگو نے غاصب کہا اور شہید کروا دیا بلوچ تھا،
دھرتی کا بیٹا عدالت نے اس سفاکانہ قتل پر ماہرنگ لانگو اور صبغت اللہ کو عمر قید کی سزا سنائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔
لیکن عمر قید کی یہ سزا بھی اس ظلم کا ازالہ نہیں کرسکتی جو ظلم سپاہی مذکور پر کیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیکیورٹی فورسز کے جوان بھی اسی دھرتی کے فرزند ہیں جو اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سپاہی کی تنخواہ اس کی جان کی قیمت نہیں ہو سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سرحدوں اور حساس مقامات پر اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے ایسے خطرات کا سامنا کرتا ہے جن کا عام شہری تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔
اس سزا پر مذمت کرنے والوں کو
یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ دہشت گردی اور ریاست مخالف تشدد کا نشانہ بننے والے افراد بھی اسی معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں۔ناجائز قتل ہونے پر ان کیلئے بھی ریاست سے انصاف کا تقاضا بنتا ہے۔اور ریاست انصاف دینے کی پابند ہے۔۔۔۔۔۔
اگر مقتول کو خدانوخواستہ انصاف مل جائے تو ڈالر خوروں کو مذمت یاد آ جاتی ہے کیا ان کے خون کا رنگ سرخ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔؟
کیا شبیر بلوچ اس دھرتی (بلوچستان) کا بیٹا اور بلوچ قبیلے کا فرزند نہیں تھا۔۔۔۔؟؟؟
کیا ہمارے جوانوں کا خون پانی ہے جسے جب جس کا جی چاہا اپنی تسکین کیلئے بہا دیا؟ اور اس کی کوئی قدر و قیمت بھی نہیں۔۔۔۔۔۔؟
یہ واحد پاکستان ہے جہاں آزادانہ لوگ ریاست پر چڑھ دوڑتے ہیں، کسی بھی ترقی یافتہ ممالک میں ریاست مخالف پوسٹ کرنے کی اجازت تو درکنار آپ تصور بھی نہیں کر سکتے، اور یہاں ایسے کرداروں کو لے کر ڈالر کمائے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔
یار رہے اس وقت ریاست کی سوچ بہت واضح ہے اور اسی طرح بغیر کسی اگر مگر کے ریاست آگے بڑھتی رہی میں پورے وثوق سے کہتا ہوں ان شاءاللہ تمام فتنوں کا ارتداد ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔
ہندوستان ایکشن کمیٹی کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ کاغذات نامزدگی میں درج حلف نامہ میں اس تحریر کو حذف کیا جائے کہ “ کشمیر آزادی کی جدوجہد جب کامیاب ہوگی وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرینگے “
ناظرین یاددہانی کیلئے بتلاتا چلوں کہ یہی مطالبہ ہندوستان کا ہے
ایران کے صدر کے اکاؤنٹ سے یہ پوسٹ کی گئی ہے کہ وزیراعظم ہاؤس میں ایک تقریب میں ایران کے مہمان صدر کو دل کی سرجری میں آنریری پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی ہے
یہ مہمان کو عزت دینے کا ایک طریقہ ہے