سرحد ہونیورسٹی واقعہ؛ چند حقائق :
لیفٹننٹ کرنل اسفند کی اہلیہ ڈاکٹر آئینہ اس یونیورسٹی میں پڑھاتی ہیں۔ ان کا ایک ایشو Head of Department کیساتھ چل رہا تھا۔ HoD کیخلاف کیس ثابت ہوا اور انہیں معطل کر دیا گیا۔ طلبہ HoD کے ساتھ تھے، ان کی بحالی کیلئے احتجاج کر رہے تھے۔ ڈاکٹر آئینہ جب طلبہ کو نظر آئیں تو خاتون کو گالیاں دی گئیں اور نامناسب الفاظ کا استعمال کیا گیا۔ بعض اطلاعات کیمطابق ڈاکٹر آئینہ کو طلبہ کیطرف سے دست درازی کا بھی سامنا ہوا۔ ایسے میں ڈاکٹر آئینہ نے فورا اپنے شوہر لیفٹننٹ کرنل اسفند کو کال کی جو فوری وہاں پہنچے اور اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ ویڈیو میں موجود ہے۔
لیفٹننٹ کرنل اسفند تحویل میں ہیں اور ان کیخلاف تحقیقات جاری ہیں۔ انہیں کڑے disciplinary action کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ فوجی وردی میں ڈسپلن کی خلاف ورزی ہوئی اور سرکاری پستول کا استعمال بھی کیا گیا۔ چاہئیے تو یہ تھا کہ لیفٹننٹ کرنل اسفند ایک باضابطہ شکایت کے طریقے سے اپنی اہلیہ کیساتھ طلبہ کی طرف سے ہوئی زیادتی پر کاروائی کرواتے ۔۔۔۔۔۔ مگر اہلیہ/ گھر کی خاتون کیساتھ اگر ایسی حرکت ہو تو کوئی بھی انسان غیرت اور غصے میں ہوش وحواس سے کام لینے میں غلطی کر سکتا ہے ۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود فوج میں احتساب کا کڑا نظام ذرا سی بھی غلطی کی گنجائش باقی نہیں چھوڑتا۔
@MichaelKugelman Tried on 8th may but other political parties sat in the lap of establishment. As long as these political parties sell themselves for few seats there won’t be any change in the country. Similarly previous moments weren’t people led rather they were also establishment led.