چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
”اس ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ تحریک انصاف پر تمام قانونی اور آئینی راستے بند کر دیے گئے ہیں اس لیے میں اب خود بطور پارٹی سربراہ جیل سے احتجاجی تحریک کی سربراہی کروں گا- باہر میری نمائندگی عمر ایوب کریں گے- سلما�� اکرم راجہ ہدایات پر عملدرآمد کروائیں گے-
تحریک کا لائحہ عمل چند روز میں قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اس احتجاجی تحریک کے لیے اپنی اتحادی جماعتوں سمیت تحریک تحفظ آئین، جی ڈی اے اور ماہرنگ بلوچ کو بھی دعوت دیں گے۔ انشأللہ اس تحریک کو کوئی نہیں روک سکے گا۔
پاکستانی قوم کو میرا پیغام ہے کہ شاید یہ پھر سے میری ملاقاتوں پر پابندی عائد کر دیں لیکن آپ نے یاد رکھنا ہے کہ ووٹ میرا نہیں آپ کا چوری ہوا ہے۔ آواز میری نہیں آپ کی دبائی جا رہی ہے، لہذا آپ کو خود پاکستان کی حقیقی آزادی کے لیے کھڑے ہونا ہوگا۔ بارہا کہہ چکا ہوں کہ “آزادی کوئی پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیتا”-
احتجاجی تحریک ملک گیر اور مسلسل ہو گی کیونکہ اسلام آباد میں سنائپرز تعینات ہوتے ہیں جو معصوم شہریوں اور پر امن احتجاجیوں پر سیدھے فائر کھول دیتے ہیں��جو قتل عام تحریک انصاف کے ساتھ کیا گیا اور کسی جماعت کے ساتھ نہیں ہوا۔
میرا اپنے پارٹی عہدیداران کو پیغام ہے کہ اگر میں جیل کاٹ سکتا ہوں تو آپ کو بھی کوئی ڈر نہیں ہونا چاہیئے۔ اب تک پارٹی سب کو بنی بنائی مل گئی تھی۔ اب مشکل وقت ہے اور سب کا امتحان ہے۔ مجھے بھی جیل میں ڈالنے کے بعد تین سال خاموش ہو جانے پر آرام سے بنی گالا بیٹھ جانے کا کہا گیا تھا جیسے نواز شریف کو دس سال تک چپ رہنا پڑا مگر میں بزدل نہیں ہوں اور یزیدیت پر کبھی خاموش نہیں رہ سکتا۔
میں جمہوریت کی بحالی کے لیے آخری دم تک جدوجہد کروں گا-“
1/2
چئیرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام:
“پاکستانی عوام نے سمبڑیال انتخابات میں ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ ظلم کے ذریعے ان کا نظریہ تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ عوام کا فیصلہ وہی ہے جو 8 فروری کو انھوں نے سنایا تھا۔ اس الیکشن میں بھی بے شرمی سے دھاندلی کر کے عوامی مینڈیٹ کو پیروں تلے روندا گیا۔
8 فروری کی انتخابات کی چوری میں قاضی فائز عیسیٰ، سکندر سلطان راجہ اور جنگل کا بادشاہ ��وری طرح شامل تھے۔ انھوں نے اس وقت تک انتخابات ملتوی کروائے جب تک تحریک انصاف کو اپنی دانست میں کرش نہیں کر دیا گیا لیکن 8 فروری کو عوام خاموش انقلاب لے آئی۔
آٹھ فروری ایک بہت بڑا انقلاب تھا۔ جنھوں نے 8 فروری کا دو تہائی مینڈیٹ چرا لیا وہ ہمیں ضمنی انتخاب کیسے جیتنے دیتے؟ کیونکہ ان کو یہی ڈر ہے کہ میں جیل سے باہر نہ آ جاؤں۔لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حیثیت اب سیاسی لاشوں سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے۔ ان کو اپنے اصل ٹھکانے لندن واپس چلے جانا چاہیئے۔
تحریک انصاف کو کرش کرنا “لندن پلان” کا حصہ تھا جو نواز شریف نے جنگل کے بادشاہ، قاضی فائز عیسیٰ اور سکندر سلطان راجہ کے ساتھ مل کر بنایا تھا۔
لندن پلان کے تحت ہی نو مئی بھی کروایا گیا۔ جس کا مقصد تحریک انصاف کو توڑنا اور ختم کرنا تھا۔ اسی لیے جنھوں نے پریس کانفرنس کر دی وہ آزاد ہیں جبکہ نظریے پر کھڑے رہنے والے آج بھی ناحق قید میں ہیں۔
اگر 9 مئی تحریک انصاف کی سازش تھا تو سی سی ٹی وی فوٹیج سے ثابت ہو جاتا لیکن سی سی ٹی وی چرا کر سب سے بڑا جرم کیا گیا اور پھر ایک دم سے ۱۰ ہزار ورکرز کو گرفتار کرنا ثابت کرتا ہے کہ یہ ایک فالس فلیگ تھا، جس کی آڑ میں تحریک انصاف کو کرش کیا گیا۔
پاکستان میں عدلیہ مکمل طور پر مفلوج ہے۔ قاضی فائز اور سکندر سلطان کے جانے کا وقت آیا تو چھبیسویں ترمیم کر کے کئی نئے فائز عیسیٰ پیدا کر دیے گئے۔ سکندر سلطان راجہ مدت ختم ہو جانے کے باوجود آج تک صرف دھاندلی کی سہولت کاری کے لیے بیٹھا ہوا ہے۔ اس ملک میں انصاف ناپید ہو چکا ہے۔ اب ہم سے مخصوص نشستیں بھی چھبیسویں ترمیم والی عدالتوں کے ذریعے چھیننے کی کوشش میں ہیں۔
ہم اس حکومت سے کیا بات کریں جو خود دو NROs کی پیداوار ہے۔ اس حکومت میں بیٹھی کٹھ پتلیوں نے پہلے مشرف اور پھر باجوہ سے NRO لیا اور اپنی چوریاں معاف کروائیں۔ شہباز شریف “لیلے” کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی رسی سے لٹکا ہوا ہے، دور جاتا ہے تو اسے آکسیجن کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ یہ حکمران اور چھبیسویں ترمیم والے جج کسی کو کیا ہی انصاف دے سکتے ہیں؟
دنیا میں کہاں ایسا ہوتا ہے کہ جو فراڈ کرے وہی اپیل سنے؟ میرے خلاف 4 جھوٹے فیصلے کروائے گئے جو اسلام آباد ہائی کورٹ آنے پر اڑ گئے، اس کے بعد سرکاری ججوں کا انتظار کیا گیا اور میری اپیل تب لگائی گئی جب سرکاری جج آ گئے۔
میرے تمام انسانی حقوق معطل ہیں۔ میں 2 سال سے قید میں ہوں جبکہ میری اہلیہ کو 14 ماہ سے قید میں رکھا گیا ہے۔ عدلیہ انسانی حقوق کا دفاع نہیں کرتی کیونکہ وہ سب ایک کرنل سے ڈرتے ہیں۔ میں یہ سب ظلم صرف قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں اور کسی صورت ڈیل نہیں کروں گا۔
یہ بات کہ کوئی ڈاکٹر امریکا سے آئے ہیں سب افواہ ہے۔ جب ان پر دباؤ آتا ہے یہ مجھ سے بات چیت کا آغاز کر دیتے ہیں اور جب دباؤ ختم ہو جائے تو پھر سختی بڑھا دیتے ہیں۔ ایک چھوٹے سے سیل میں رہتے ہوئے انسان کیا کر سکتا ہے سوائے کتابیں پڑھنے کے مگر اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کو میری کتابوں سے بھی مسئلہ ہے۔
میرا اسٹیبلشمنٹ کو پیغام ہے کہ آپ کو تحریک انصاف کی ضرورت ہے مجھے آپ کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اصل طاقت اسی کے پاس ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام ہو۔ عوام کی اصل نمائندہ جماعت تحریک انصاف ہی عوام میں فوج کا تاثر بحال کر سکتی ہے۔
تین وجوہات کی وجہ سے اس وقت قوم کو اتحاد کی شدید ضرورت ہے:
۱- مودی اس وقت زخمی ہے اور پاکستان پر ایک مرتبہ پھر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ بھارت کی معیشت ہم سے کافی مضبوط ہے اور 700 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں، ہمیں بھی معاشی لحاظ سے مضبوط ہونا ہو گا تاکہ بھارت کا مقابلہ کر سکیں-
۲- خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات بڑھ رہے میں جس میں معصوم لوگ شہید ہو رہے ہیں۔
۳- معیشت مکمل طور پر تباہ حال ہے اور سرمایہ دار اور نوجوان مسلسل بیرون ملک منتقل ہو رہے ہیں-
جس ملک میں انصاف نہ ہو وہاں کوئی سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ سرمایہ کاری کے لیے کوئی بھی کلیہ آزما لیں عوام کی منشاء کی حکومت جب تک قائم نہیں ہو گی یہ بس ایک خواب ہی رہے گا۔”
2/2
“پاک بھارت حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستانی ایک بہادر اور خوددار قوم ہیں۔
میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ “فوج بھی میری ہے اور یہ ملک بھی میرا ہے”- جس طرح ہمارے جوانوں نے فضائی اور زمینی سرحدوں پر مودی کو شکست دی ویسے ہی پاکستانی عوام خصوصاً سوشل میڈیا نے مودی اور آر ایس ایس کے بیانیے کو دنیا بھر میں شکست دی-
مودی نے پاکستان میں سویلین بچوں، عورتوں، بزرگوں اور تنصیبات کو ٹارگٹ کر کے بزدلی کا مظاہرہ کیا جس کا ہماری فورسز نے بہترین جواب دیا- ہم ان بزدلانہ حملوں میں شہید ہونے والے سویلینز اور ملٹری آفیشلز کی فیملیز کے غم میں برابر کے شریک ہیں-
میں پاک فضائیہ سمیت تمام فوجی جوانوں کو پروفیشنلزم اور بہترین کارکردگی دکھانے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے مودی کی طرح سویلنز اور سول تنصیبات کو ٹارگٹ کرنے کی بجا��ے پاکستان پر حملے میں شامل طیاروں اور تنصیبات کو کامیابی سے تباہ کر کے کامیابی حاصل کی-
نریندرمودی پاکستان سے سخت نفرت کرتا ہے اور دوران جنگ پاکستانیوں کے بے خوف رویے نے مودی کے غصے کو مزید ابھارا ہو گا۔ وہ سخت غصے میں ہو گا اور انتقام لینے کے لیے دوبارہ ویسا ہی فالس فلیگ کرنے کی کوشش کرے گا جیسا جموں کشمیر میں کیا، جس کے لیے ہمیں محتاط اور تیار رہنا ہو گا۔ میں 2019 میں بھی اس حوالے سے پیشنگوئی کر چکا تھا- مودی کی پوری کوشش ہو گی کہ پاکستان کو معاشی سطح پر بھی نقصان پہنچائے۔ کسی بھی نئے حملے کی صورت میں قوم کو تیار اور متحد رہنا ہو گا۔
دوران جنگ فوری ردعمل دینا انتہائی ناگزیر ہوتا ہے۔جنگیں 60 فیصد تک اعصاب سے لڑی جاتی ہیں اور اسی لیے ایسی لیڈر شپ کا ہونا انتہائی اہم ہے جسے قوم کی حمایت حاصل ہو اور جو فوری طور پر بڑے فیصلے کرنے اور کسی بھی حملے کا جواب دینے کی طاقت رکھتی ہو۔
حالت جنگ میں فوج کو عوام کی حمایت کی بہت ضرورت ہوتی ہے اور قوم کا مورال بہت اہمیت رکھتا ہے جو فوج کا سہارا بنتا ہے۔ اس لیے میں مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہوں کہ ہمیں اپنے لوگوں کو "آئیسولیٹ" نہیں کرنا چاہیے اور نظام انصاف کو زندہ کرنا چاہیے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیراعظم عمران خان کی اپنے اہل خانہ سے ملاقات میں بھارت کے پاکستان پر حملے اور پاکستانی قوم کے جوابی ردعمل کے حوالے سے گفتگو
(13-05-2025)
1/2
“The recent escalation between Pakistan and India has once again proven that Pakistanis are a brave, proud, and dignified nation.
I have always said, "Mulk bhi mera, Fauj bhi meri" (this country is mine, and so is the army). Just as our soldiers defeated Modi on both aerial and ground fronts, the people of Pakistan—especially on social media—exposed and dismantled Modi and the RSS’s narrative at a global level.
By targeting innocent civilians such as children, women, the elderly, and civilian infrastructure in Pakistan, Modi displayed cowardice. Our forces responded with strength and precision. We stand in full solidarity with the families of both civilians and military personnel who were martyred in these cowardly attacks.
I pay tribute to the Pakistan Air Force and all our military personnel for their professionalism and outstanding performance. Unlike Modi, who targets civilians and public infrastructure, our forces successfully hit only the aircraft and installations directly involved in the attacks.
Narendra Modi harbors deep hatred for Pakistan. The fearless attitude shown by Pakistanis during this conflict must have only fueled his anger. He is likely furious and may attempt another false-flag operation, similar to what he orchestrated in Indian Illegally Occupied Jammu and Kashmir. We must stay alert and fully prepared. I had predicted this scenario back in 2019 as well. Modi will also try to inflict economic damage on Pakistan. In case of any new attack, the nation must remain united and ready.
During wartime, a swift response is absolutely vital. Wars are fought as much with nerves as with weapons—perhaps 60 percent of it depends on mental strength. That is why it is crucial to have leadership that enjoys the people’s trust and can make bold and timely decisions in the face of aggression.
In a state of war, the military needs public support more than ever. The morale of the nation becomes the strength of the armed forces. That is why I’ve consistently emphasized that we must not isolate our people, and we must breathe life back into our justice system”
Illegally incarcerated former Prime Minister Imran Khan’s conversation with his family at Adiala Jail today, in reference to India’s attack on Pakistan and the Pakistani nation’s resilient response (May 13, 2025)
1/2
"Our message to Pakistan: Don’t lose faith because Imran Khan hasn’t lost faith. He hasn’t given up. He’s not sitting idly in a cell, twiddling his thumbs. He is actively planning for the future and believes that change will come."
Illegaly incarcerated Former Prime Minister Imran Khan's sons, Kasim Khan and Sulaiman Khan talk to @MarioNawfal
#ReleaseImranKhan
🇵🇰 IMRAN KHAN’S SONS: “WE DIDN’T LOSE A FATHER — PAKISTAN LOST A LEADER”
Sulaiman:
“We miss him, of course.
But what hurts more is seeing a nation lose the man who gave everything for it.”
Qasim:
“He always told us: if you stand for truth, you’ll pay a price.
We’re seeing that now.”
🚨🚨🚨Imran khan was shot.
Then jailed.
Then banned — not just from office, but from television, radio, and social media.
And yet, even from behind bars, even with his name erased, his party still won a majority in Pakistan’s latest elections.
It didn’t matter.
Today, he sits in a 7x8 cell designed for death row inmates.
No light. No lawyer. No access to doctors. No due process.
Says Kasim and Suleman
#Pakistan
#ImranKhan
The horrifying reality of Imran Khan’s incarceration in his sons’ words. This interview is unquestionably important:
Imran Khan’s sons Sulaiman and Kasim Khan are not saying things to gain likes or followers.
They are not beneficiaries, in any way, of Imran Khan’s political stature in Pakistan.
Whatever they have said in this interview is based on their pain for the way their father has been treated in his own country and their growing concern for their father’s wellbeing and safety in the Adiala Jail, Rawalpindi.
Thank you @MarioNawfal for this thoughtful and timely interview
Please watch & share this interview my boys Sulaiman & Kasim did about their father, Imran Khan, who has been held in solitary confinement for almost 2 years despite the UN ruling that his detention is arbitrary & unlawful. Proud Amma.
“پہلگام واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع انتہائی افسوسناک اور تکلیف دہ ہے۔ میں متاثرہ افراد اور ان کے اہلِ خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔
پلوامہ کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھی ہم نے بھارت کو مکمل تعاون کی پیشکش کی تھی، لیکن بھارت کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہ کر سکا۔ میری 2019 میں کی گئی پیشن گوئی کے مطابق ایک بار پھر ویسا ہی پہلگام واقعے کے بعد بھی ہو رہا ہے۔ خود احتسابی یا شفاف تحقیقات کی بجائے مودی سرکار نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔
ایک ڈیڑھ ارب کی آبادی والے ملک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے، نہ کہ ایسے خطے میں اشتعال انگیزی جسے پہلے ہی “جوہری فلیش پوائنٹ” کہا جاتا ہے۔ پاکستان امن کو ترجیح دیتا ہے، لیکن ہماری امن پسن��ی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان کے پاس ہر وہ صلاحیت موجود ہے جس سے وہ کسی بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے سکتا ہے، جیسا کہ ایک متحد قوم کی مکمل حمایت یافتہ تحریک انصاف کی حکومت نے 2019 میں دیا تھا۔
میں نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہمیشہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔
میں مسلسل یہ بات اجاگر کرتا رہا ہوں کہ آر ایس ایس کے نظریے کے تحت چلنے والا بھارت نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے۔ کشمیر میں بھارتی مظالم، جو آرٹیکل 370 کے غیر قانونی خاتمے کے بعد مزید بڑھ گئے ہیں، کشمیری عوام کی آزادی کی خواہش کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔
نواز شریف یا آصف زرداری جیسے مفاد پرست سیاستدانوں سے بھارت کے خلاف کسی مضبوط مؤقف کی توقع رکھنا محض بیوقوفی ہے۔ وہ کبھی بھارت کے خلاف بولنے کی جرأت نہیں کریں گے کیونکہ ان کا ناجائز پیسہ اور کاروباری مفادات بیرون ملک ہیں۔ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور انہی مفادات کے تحفظ کے لیے بھارت کی جارحیت اور پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات پر خاموش رہتے ہیں۔ ان کا ڈر صرف یہ ہے کہ اگر انہوں نے سچ بولا تو بھارتی لابیاں ان کے آف شور اثاثے منجمد کروا سکتی ہیں۔
افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج پاکستانی قوم ایک جعلی اور دھاندلی ذدہ فارم 47 رجیم کے باعث تقسیم ہو چکی ہے، لیکن مودی کی جارحیت نے پاکستانی عوام کو بھارت کے خلاف ایک آواز میں متحد کر دیا ہے۔ ہم اس جعلی حکومت کو مسترد کرتے ہیں، لیکن من حیث القوم بھارت کی جنگی جنون اور خطے کے امن کو داؤ پر لگانے والے عزائم کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔
کسی بھی بیرونی دشمن کے خلاف جنگ جیتنے کے لیے قوم کا اندرونی طور پر متحد ہونا ضروری ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان تمام اقدامات کو روکا جائے جو قوم میں مزید تقسیم پیدا کر ��ہے ہیں۔ ریاست کی تمام توانائیاں سیاسی انتقام پر صرف ہونا اس نازک وقت میں قوم کی داخلی یکجہتی کو کمزور کر رہا ہے اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہو رہا ہے-
— اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی وکلاء سے گفتگو (29-04-2025)
“دوسری جنگ عظیم کے دوران جب جرمن طیارے لندن پر بمباری کر رہے تھے تو وزیرِاعظم ونسٹن چرچل نے کہا تھا: "اگر ہماری عدالتیں انصاف فراہم کر رہی ہیں، تو ہمیں شکست نہیں ہو سکتی۔"
بدقسمتی سے، آج ہمارا عدالتی نظام اس معیار کے بالکل برعکس کھڑا ہے۔ انصاف نہ صرف تاخیر کا شکار ہے، بلکہ دانستہ طور پر دبایا جا رہا ہے۔ مجھے اور میری اہلیہ کو صرف سیاسی انتقام ک�� نشانہ بنا کر قید میں رکھا گیا ہے۔ میرے وکلا اور اہل خانہ سے ملاقات نہ ہونے دینا ان جعلی مقدمات کی قلعی کھول دیتا ہے۔
خواتین کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، وہ پوری دنیا کے سامنے پاکستان کا امیج تباہ کر رہا ہے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کو مسلسل جیل میں رکھنا، عالیہ حمزہ کی بلاجواز گرفتاری، اور بشریٰ بی بی کو ایسے مقدمے میں سزا دینا جس سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں، اس انتقامی طرز سیاست کا واضح ثبوت ہے۔
عدالتوں کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔ مجھے اپنے وکلا سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ کورٹ پیکنگ کے ��ریعے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ:
1. میرے کیسز کی سنوائی ہی نہ ہو تاکہ جھوٹے مقدمات میں مجھے قید رکھا جا سکے۔
2. الیکشن کے بعد بننے والے جعلی حکومتی سیٹ اپ کو قانونی تحفظ دیا جا سکے۔
افغان مہاجرین سے متعلق موجودہ پالیسی ہرگز درست نہیں۔ ان کے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک اور زبردستی ملک بدری کے اقدامات ملک میں مزید بدامنی اور نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ بلوچستان طرز کے اغوا کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں جو کہ انتہائی قابل تفشیش ہیں- “فیصلہ سازوں” کی غلط پالیسیوں کے نتائج کا ملبہ خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت پر آئے گا اس لیے ع��ی امین کو ان معاملات پر ایکشن لینا چاہیے- دھاندلی کے کیسز ایک سال سے لٹکے ہوئے ہیں ، اس حوالے سے جنید اکبر سیاسی اور احتجاجی حکمت عملی بنائیں-
بار کونسلز الیکشن میں انتظار پنجوتھہ انصاف لائیرز فورم کے اپنے امیدوار سامنے لائیں اور ساری پارٹی صرف اپنے امیدواران کو سپورٹ کرے-“
اڈیالہ جیل میں ناحق قید سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی وکلاء سے گفتگو (29-04-2025)
“Loss of human life in Pahlgam incident is deeply disturbing and tragic. I extend my deepest condolences to the victims and their families.
When the False Flag Palwama Operation incident happened, we offered to extend all-out cooperation to India but India failed to produce any concrete evidence. As I predicted in 2019, the same is happening again after Pahlgam incident. Instead of introspection and investigation, Modi Sarkar is again placing the blame on Pakistan.
Being a country of 1.5 billion people, India needs to act responsibly instead of messing with a region already known as “nuclear flashpoint.” Peace is our priority but it should not be mistaken as cowardice. Pakistan has got all the capabilities to give a befitting response to any Indian misadventure, as My Government, backed by whole nation, did in 2019.
I have always emphasized the importance of the Kashmiris’ right to self-determination, as guaranteed by United Nations resolutions.
I have also been highlighting the fact that India led by RSS ideology is a grave threat, not only to the region but beyond it. Indian oppression in Kashmir, intensified after the illegal abrogation of Article 370, has further fueled the Kashmiri people’s desire for freedom.
Sadly, the nation has been divided by an illegitimate government imposed through fraudulent Form-47 results. And yet, ironically, Narendra Modi’s aggression has united the people of Pakistan in one voice against Indian hostility. While we reject this fake regime, we stand firmly as one Pakistani nation and strongly condemn Modi's war-mongering and his dangerous ambitions that threaten regional peace.
Needless to say, to win the war against an external enemy, the nation must first be united. It is high time to put a halt to all actions that are further polarizing the nation. The state’s excessive focus on political victimisation at this critical time is deepening internal divisions and undermining the nation’s collective ability to confront external threats.
It is naive to expect any strong stance from self-serving figures like Nawaz Sharif and Asif Zardari. They will never speak out against India because their illegal wealth and business interests lie abroad. They profit from foreign investments, and to protect those financial interests, they remain silent in the face of foreign aggression and baseless allegations against Pakistan. Their fear is simple: that Indian lobbies might freeze their offshore assets if they dare to speak the truth.”
Illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s discussion with the lawyers in Adiala Jail Rawalpindi (29-04-2025)
سابق وزیراعظم و چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کا تحریکِ انصاف کے 29ویں یومِ تاسیس کے موقع پر جیل سے خصوصی پیغام:
“میں تحریکِ انصاف کے تمام ورکرز، سپورٹرز اور ووٹرز کو 29ویں یومِ تاسیس کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
29 سال پہلے ہم نے “انصاف�� انسانیت اور خودداری” کے بنیادی اصولوں کے تحت پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی تھی اور آج تک اپنے منشور پر قائم ہے-
تحریکِ انصاف وہ واحد جماعت ہے جو ناصرف آئینی اصولوں، عدلیہ کی آزادی اور اداروں کی خودمختاری کی علمبردار ہے بلکہ الیکشن کمیشن، نیب، پولیس سمیت تمام ریاستی اداروں کو کسی بھی قسم کے اثر و رسوخ سے پاک دیکھنا چاہتی ہے۔ ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ملک میں تمام ریاستی ستونوں کو اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے-
آج تحریکِ انصاف پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی اور سب سے زیادہ مقبول جماعت ہے۔ 8 فروری 2024 کو پاکستانی عوام نے ہمارے خلاف ہونے والی بدترین فسطائیت، سیاسی قیدوبند، اور الیکشن مہم پر مکمل پابندی کے باوجود، ہمیں دو تہائی سے ذیادہ اکثریت سے کامیاب کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اصل طاقت عوام ہیں، اور وہ عمران خان اور تحریکِ انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ماضی کی مقبول سیاسی جماعت عوامی لیگ کو بھی ��یک سالہ بھرپور انتخابی مہم کے بعد کامیابی نصیب ہوئی تھی، جبکہ تحریکِ انصاف کو تو انتخابی نشان تک سے محروم کر دیا گیا۔ اس کے باوجود عوام نے تحریکِ انصاف کے حق میں تاریخی فیصلہ سنا کر ہر سازش کو ملیامیٹ کردیا۔
تحریکِ انصاف پاکستان میں وفاق کی علامت ہے۔ آج یہ پاکستان کی واحد قومی جماعت ہے جسے چاروں صوبوں کے عوام کی حمایت حاصل ہے۔ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ تحریکِ انصاف کو اسٹیبلشمنٹ کی نہیں، درحقیقت اسٹیبلشمنٹ کو تحریکِ انصاف کی ضرورت ہے۔ کیونکہ صرف اصلی عوامی مینڈیٹ اور عوامی حمایت کے ساتھ آنے والی حکومت ہی ملک کو درپیش سنگین بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔
الحمدللہ ��حریکِ انصاف کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں۔ الیکٹیبلز کمزور جماعتوں کی مجبوری ہوتے ہیں۔ تحریکِ انصاف ایک ایسی نظریاتی تحریک ہے جس نے شدید ریاستی جبر، غیر آئینی ہتھکنڈوں اور میڈیا بلیک آؤٹ کے باوجود ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ناقابلِ شکست،اور مضبوط ترین جماعت ہے۔ ہماری اصل طاقت عوام کی وہ بیداری ہے جو کسی سیاسی مصلحت کی مرہونِ منت نہیں۔
ملک کو بنانا ریپبلک بنا دیا گیا ہے، جب آئین اور قانون کی حکمرانی نہ ہو، ادارے فنکشنل نہ ہوں تو ملک میں باہر سے ڈائریکٹ انویسٹمینٹ نہیں آسکتی۔ ملک صرف فارن remittances سے نہیں، فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ سے ترقی کرتے ہیں، جو کہ اس وقت ملکی تاریخ میں کم ترین نمبرز پر آچکی ہے۔
ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور دہشت گردی کے شدید بحرانوں سے نکالنے کے لئے ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت ہے جو عوام کی تائید کے ساتھ ملک میں آئین قانون کی حاکمیت قائم کر سکے، اور اس کے لئے سخت ادارہ جاتی اصلاحات کر سکے۔ اور صرف تحریکِ انصاف ہی یہ کردار ادا کر سکتی ہے۔
میں اپنے ان اوورسیز پاکستانیوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو ملک میں جمہوریت، آئین اور انصا�� کی بحالی کیلئے ہر محاذ پر ہمارا ساتھ دے رہے ہیں۔ آپ قوم کا فخر ہیں-“