کاروباری وارداتئوں کا ایک گروہ ایسا ہے، جسے ہر دور میں ایوانوں میں رسائی رہتی ہے اور گیٹ نمبر چار ان پر ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ معیشت کو لوٹنے والے ان ڈاکووں کو ہر آرمی چیف ہمیشہ آگے کی کرسیوں پر بٹھاتا ہے، پی آئی اے بھی انہی کو بخشی گئی ہے، ٹیکسٹائل کے نام پر مفت میں سرکاری قرض لے کر ہاوسنگ سوسائٹیوں میں سٹہ بازی کرتے ہیں۔ چینی ایکسپورٹ اور گندم امپورٹ کرنے کی ہر واردات میں ننگے نہاتے پائے جاتے ہیں اور ہر آرمی چیف اور وزیراعظم کو الٹے سیدھے مشورے دے کر اپنے الو سیدھے کررہے ہوتے ہیں۔
مختصر تعارف
ایک بات لکھ لیجئے وزیر داخلہ محسن نقوی کی گذشتہ روز کی تقریر کا سب سے زیادہ سیاسی فائدہ نواز شریف اور مسلم لیگ ن کو ہوگا جو بیانیہ چاہئے تھا وہ مل جائیگا رانا ثنااللہ نے ابتدا کردی ہے
ہمیں کاکروچ سے نہ ڈرایا جائے،کہ کاکروچ لیب ٹاپ دینے سے نہیں سنبھلیں گے،بھئی ہم نے سنبھالے ہوئے ہیں،مریم نواز کیساتھ نوجوان جڑا ہوا ہے،کاکروچ جانتے ہیں کہ ن لیگ ملک کی خدمت کررہی ہے،رانا ثناءاللہ
آپ کے ٹوئیٹ سے کم از کم اس بات کی سمجھ تو آئی کہ نہ صرف ڈان لیکس کا ڈر ابھی تک ذہن پر سوار ھے بلکہ "Reject " کو بھی شعوری طور پر قبو ل کر چکے ہیں !
ورنہ ایک وقت وہ بھی ت��ا کہ جنر ل جہانگیر کرامت کا استعفی اور ڈکٹیشن نہیں لوں گا جیسے دلیر لمحے بھی خلق خدا نے دیکھے تھے
محسن نقوی صاحب نے سسٹم کی کسمپرسی پہ اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ میں ذاتی طور پہ ان خیالات سے کم و بیش اتفاق کرتا ھوں ۔ نقوی صاحب تو ماشا ءاللہ خود ایک پاور ھاؤس ھیں میں بھی بحثیت ایک سیاسی ورکر شدت سے محسوس کرتا ھوں سسٹم کا ارتقائ عمل یا evolution کا پراسیس دہائیوں سے گروہی و ذاتی مفادات کے تابع ھے ۔ اور اسکو آزاد کرنے کی ضرورت ھے۔
میری کچھ گذارشات ھیں ۔ اگر سسٹم میں مضبوط کرنا ھے اور بنیادی تبدیلی لانی ھے تو اسکا فورم پارلیمنٹ ھے جسکے نقوی صاحب رکن ھیں یا اسکو کابینہ میں بھی بھی زیر بحث لایا جا سکتا ھے اس سے یہ ادارے اور سسٹم مضبوط ھو گا اور تبدیلی آئینی عمل سے گزرے گی۔ محترم کابینہ کے نہایت اور معتبر رکن ھے۔ اتفاق ھے نقوی صاحب ان دونوں اداروں یعنی پارلیمنٹ اور کابینہ کا اجلاس کبھی کبھار ایٹنڈ کرتے ھیں ۔
ان اداروں کو irrelevant کرکے ملک کے مایہ ناز اور قابل احترام تاجروں کو انوائٹ کرکے captive audience کے آگے اتنی بڑی بات کرنی میری دانست میں وہ اثر نہیں رکھتی جتنا relevant constitutional forums بات کرنے سے پزیرائی ملتی۔
نقوی صاحب اس نظام کے انتہائ طاقتور عہدوں پہ ساڑھے تین سال سے فائز ھیں اگر وہ چاہتے تو نظام کی تبدیلی کی بات یا پیش رفت اس عرصے میں کرسکتے تھے۔ چلیں دیر آید درست آید
کل DGISPR نے NATIONAL ACTION PLAN کے 13نکات یا پوائنٹ کا ذکر کیا ۔ ایک پوائنٹ پہ عمل درآمد جوھماری افواج کے ذمہ تھا اس پہ
عملدرآمد اور تکمیل جانوں کی قربانیوں سے ھو رہا ھے۔ باقی 12 پوائنٹ وزارت داخلہ کی ذمہ داری ھے جن پہ عملدرآمد نہیں ھوا۔ نقوی صاحب سسٹمُ کی تبدیلی کا آغاز National Action plan پہ عملدرآمد سے کریں ۔ سسٹم میں تبدیلی کا آغاز اپنی وزارت سے کریں ۔ صرف ھماری قابل احترام تاجر برادری ھی نہیں پوری قوم آپکے ساتھ ھے۔ 🤲
ڈئیر اسٹیبلشمنٹ !! پہلے آپ نے کہلوایا کہ نواز شریف سسلین مافیا ہے اور خراب نظام کو عمران خان ٹھیک کرے گا۔ پھر آپ نے بتلایا کہ عمران خان نا اہل ہے، یہ رہا تو نظام ڈیفالٹ ہو جائے گا۔ پھر سمجھایا کہ سسلین مافیا تجربہ کار ہے، یہی ملک بچائے گا۔ انہیں مسلط کرنے کے بعد پھر آپ کہلوا رہے ہیں کہ نظام کولیپس ہو گیا ہے۔
ایک بار آپ خود پر بھی نظرِثانی فرما کر دیکھ لیں۔
۱- اگر موجودہ حکومت کی چھٹی ہو رہی ہے تو کس کی حکومت آئے گی؟ جب تک اس سوال کا جواب نہیں ملتا تو یہی حکومت چلے گی
��- اس بات سے قطع نظر کہ تجویز کس کی ہے لیکن نئے صوبوں کی اشد ضرورت ہے مگر سوال یہ ہے کہ آیا پیپل�� پارٹی چاہے گی کہ سندھ تقسیم ہو اور کیا نون لیگ پنجاب کی تقسیم چاہے گی؟ کبھی نہیں، انکی سیاست ان صوبوں سے جڑی ہوئی ہے اگر وہ تقسیم ہوتے ہیں تو انکی سیاست ختم ہو جائے گی، کوئی بھی سیاسی جماعت اپنی طاقت کے مرکز ختم نہیں کرنا چاہے گی، بہتر یہ ہے کہ انکو نئے صوبوں کی تجویز سے ڈرا کر بلدیاتی نظام کو بحال، فعال اور موثر بنا لیں
علیم خان نےمری سےمظفرآبادسڑک نہ بنانےپرحکومت پرتنقیدکی،لیکن ڈھائی سال سےکمیونیکیشن منسٹر ہونےکےباوجود کابینہ میں ایک دفعہ بھی اُس سڑک پر بات نہیں کی،وہ مطمئن نہیں تو استعفادےدیں،یہ نہیں ہوسکتا کہ اقتدارکےمزےبھی اٹھائیں اورتنقیدبھی کریں۔خواجہ آصف
موجودہ نظام کے سب سے بڑے ستون آپ ہیں آپکی زمہ داری ہے امن وامان بہتر کرنا جس میں آپ ناکام ہوئے 48؛گھنٹوں پہلے خیبر پختونخوا میں پولیس والے شہید ہوئے ان کا خون سڑکوں پہ پڑا ہوا ہے پی سی بی کے آپ چیرمین ہیں کرکٹ کے جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہیں نظام کی تبدیلی کی بات آپ کس حیثیت سے کرتے ہیں ؟ اگر نیا نظام لانا ہے تو اس نظام کو فیل کرنے والوں کو فارغ کرنا چاہیے اس میں سرفرست آپ ہیں حماد حسن
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں 7 اکتوبر 1998 کو سابق آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو ایک تقریر میں گورننس پر اعتراض کرنے کے بعد استعفی دینا پڑا۔
30 جولائی 2026 کو وزیر داخلہ مُحسن نقوی نے کہا کہ گورننس، نظام سب فیل ہو چُکا ہے۔ اب وزیر اعظم شہباز شریف ہیں۔
کون جائے گا؟
BRAVO MOHSIN NAQVI.
محسن نقوی کے اس بیان کے بعد شہباز شریف حکومت کو مستعفی ہو جانا چاہیےُیا پھر اگر شہباز حکومت کے پاس کوئی اختیارات ہیں تومحسن بقوی کو ان کے عہدے سے برطرف کر دینا چاہیے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نےنئےانتظامی یونٹس کےقیام کی بحث چھیڑ دی، نظام کی ناکامی کا اعتراف بھی کرلیا۔۔ مینڈیٹ چھینا گیا تو آپ کا تخت چھیننے آئیں گے، بلاول بھٹو کی دھمکی ۔ آزادکشمیر اسمبلی نےسچ اور مفاہمت کے کمیشن کے قیام کی قرارداد منظور کرلی۔ تفصیلات دیکھئے
(نظام کا کھیل)
50کے عشرے میں"نظام"کی تبدیلی ون یونٹ بلآخر بنگلہ دیش کی بنیاد بنا
1962 میں بنیادی جمہوریت کے"نظام"نے ایبڈو پر سیاستدانوں کو نااہل کیا
70 میں"نظام" نے ملک توڑ دیا
ضیاءالحق کا اسلامی"نظام"افغان جنگ سے ریفرنڈم تک دکھا گیا
مشرف کا "نظام"دہشت گردی لے کر آیا !
وزیرداخلہ محسن نقوی نے جس طرح ٹی وی کیمروں کے سامنے وزیراعظم شہباز شریف کی چار سالہ کارگردگی کا پوسٹ مارٹم کیا،اس سے 1998 میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی نیول اسٹاف کالج لاہور میں کی گئی تقریر یاد آگئی جب انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ سول ملٹری تنازعات پر نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز دی تھی۔بارہ گھنٹے میں نواز شریف نے جنرل کرامت کا استحفی لے لیا تھا۔
شہباز شریف خود گورنس میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر کے چھوڑ دیں یا وزیر کو کہیں وہ چھوڑ دے۔لیکن لگتا ہے دونوں قابل احترام صاحبان اپنی اپنی اسی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں گے۔ 😊
اللّٰہ تعالیٰ کو رعونت اور تکبر پسند نہیں جنرل پرویز مشرف اپنے دور کا بہت طاقتور حکمران تھا کہتا تھا بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو پاکستان واپس نہیں آنے دیگا پھر وہ وقت آیا کہ انہیں خود جلاوطنی اختیار کرنی پڑی اور جلاوطنی میں وفات پائی افسوس کسی نے مشرف کے انجام سے سبق نہیں سیکھا
محسن نقوی اپنے بل بوتے پر کونسلر کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتے اور بات کررہے ہیں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی، صرف اس لیے کہ اُنہیں ملک کے آرمی چیف نے سیاسی جماعتوں کی گردن دبا کے سینیٹر بنوایا اور وزیر داخلہ بنایا ہوا ہے، لیکن کام وزیر خارجہ کا کرتے ہیں اور اب بات کررہے ��یں نظام کی ناکامی کی۔
نظام کی ناکامی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ آپ نے جس چیز کا حلف اٹھایا ہوتا ہے، آپ وہ کام نہیں کررہے ہوتے۔
پہلے کرکٹ کا بیڑا غرق کیا، پھر ملک میں امن امان کی صورتحال دیکھیں کہ بلوچستان میں کوئی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا۔ وزیرستان اور خیبر پختون خواہ میں روزانہ نہیں تو ہر ہفتے سیکیورٹی فورسز کے جوان شہید ہورہے ہیں اور اب چلے ہیں نئے انتظامی یونٹس بنانے تاکہ پورے ملک میں لسانی بلوے شروع ہوجائیں
آپ چاہتے کیا ہیں اور آپ کا مینڈیٹ کیا ہے اتنی بڑی بات کرنے کا؟
کیا آپ کو صدر نے گرین سگنل دیا ہے، وزیراعظم نے، قومی اسمبلی یا سینیٹ، یا کسی صوبے کی اسمبلی نے آپ کو یہ ٹاسک دیا ہے؟
بلاول بھٹو جب فارم 47 کا الزام لگاتے ہیں تو بالواسطہ طور پر آصف علی زرداری کو بھی جعلی صدر قرار دیتے ہیں۔ اگر وہ حکومت کو جعلی قرار دیتے ہیں تو انہیں اس سے پہلے گورنر اور صدارت جیسے عہدوں سے استعفیٰ دینا چاہیے،سلیم صافی