ڈاکٹر دین محمد بلوچ ایک وطن پرست، قابل بہادر اور مخلص انسان ہیں
آج بھی بلوچستان کے سرسبز پہاڑ میدان دشت و کوچہ بلوچی موسیقی و ساز کی دُھن کی صورت میں انکی محبت کی گواہی دیتے ہیں۔
From 28 June 2009 to 28 June 2023
May you come back soon Baba
Balochistan has reached a point where people are forced to bury the dead almost every day. The violence no longer distinguishes between ordinary civilians and those entrusted with upholding the law. Even respected judges have now become targets.
The daylight killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar is not merely a cause for alarm. It is a devastating indictment of the lawlessness engulfing Balochistan and the profound insecurity faced by its people.
Meanwhile, the Balochistan government appears consumed by a single task: going on television to claim that the state’s writ has been restored and that “the situation is normal,” and busy in their crackdown against peaceful activism and dissents. But the government has failed to protect its people. Beyond this carefully constructed narrative, it has little to show.
As conditions in Balochistan continue to deteriorate, the provincial government’s response has been to double down on rhetoric rather than confront the crisis. Instead of restoring security, it seems more invested in concealing its own failures than addressing the reality unfolding on the ground.
Deeply disturbed to hear that senior journalist @RiazSangi’s brother has gone missing in Karachi. Even after 24 hours, his whereabouts still remain unknown. Riaz has always very professionally reported about enforced disappearances, and his brother’s disappearance is deeply worrying for all of us. We urge the authorities in Sindh and the Karachi administration to ensure his safe return.
HRCP is deeply concerned to learn that Fayaz Janjhi, a NADRA officer and son of HRCP Council member Sohail Sangi, has been missing since yesterday. We demand that the Sindh government expedite their efforts to recover Mr Janjhi safely.
بلوچس��ان میں ج��ری گمشدگیوں کا سلسلہ کبھی رکا نہیں، لیکن گزشتہ چند دنوں کے دوران خصوصاً طلبہ کی جبری گمشدگیوں میں انتہائی خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
نہتے اور بے گناہ طلبہ و پرامن سیاسی تنظیموں سے وابستہ رکھنے والے نوجوانوں کو ان کے گھروں، ہاسٹلوں اور تعلیمی اداروں سے اغوا کر کے جبری طور پر لاپتہ کرنا، اور اس ظلم کو کاؤنٹر انسرجنسی کے نام پر جائز قرار دینا، ریاست کی ایک ایسی ناکام اور غیر انسانی پالیسی ہے جو کئی دہائیوں سے بلوچستان پر مسلط ہے۔ اگر یہی طریقۂ کار امن لانے کا ذریعہ ہوتا تو آج بلوچستان خون، بدامنی اور نفرت کی اس دلدل میں نہ ڈوبا ہوتا، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ پالیسی امن نہیں بلکہ مزید نفرت اور تشدد کو جنم دے رہی ہے۔
جب نوجوانوں کو بغیر کسی جرم اور عدالتی کارروائی کے سالہا سال ریاستی اذیت خانوں میں رکھا جاتا ہے، انہیں غیر انسانی تشدد، تذلیل اور اذیت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، تو ان کے دلوں میں ریاست کے خلاف انتقام اور نفرت کو خود ریاست اپنی پالیسیوں کے ذریعے پروان چڑھاتی ہے۔ پھر جب یہی نوجوان بازیاب ہوکر نفرت اور انتقام کے احساس میں مسلح اور تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے، تو ریاستی پروپیگنڈہ ٹیم اس عمل اور پراسس پر غور کئے بغیر اس پورے مسئلے کو دانستہ طور پر جبری گمشدگیوں کے ساتھ جوڑ کر جبری گمشدگیوں کے خلاف بات کرنے والوں پر اسکی زمہداری اور الزام عائد کرکے جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں، اس مسلسل ناکامی کے باوجود حکومت اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کرنے کے بجائے الزام پرامن سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے دفاع کرنے والوں پر عائد کرتی ہے کہ وہ لوگوں کو اشتعال دلاتے ہیں یا مسلح تنظیموں کے لیے بھرتی کرتے ہیں، ��بکہ اس المیے کی اصل بنیاد خود یہی غیر قانونی عمل، ریاستی جبر اور ظالمانہ پالیسیاں ہیں، اور ایسے پالیسیوں سے ریاست کے خلاف نفرت کو مزید ایندھن فراہم کرنا ہے۔
اپنی ناکام، غیر آئینی اور جابرانہ پالیسیوں کا بوجھ مظلوم لوگوں اور سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں کے کندھوں پر ڈالنے کے بجائے ریاست کو یہ سوال خود سے پوچھنا چاہیے کہ آخر کئی دہائیوں کے جبر، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور اجتماعی سزاؤں کے باوجود بلوچستان میں امن کیوں قائم نہیں ہو سکا۔
بلوچ اسٹوڈنٹ فرنٹ کا چئیرمین جبری طور پر لاپتہ
ریاستی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے کل رات ایک بجے کے قریب آواران کے رہائشی اور(BSF) کے مرکزی رہنماء فضل بلوچ ولد دوست محمد کو حب چوکی میں اسکے گھر سے جبری طور پر لاپتہ کردیا ۔
#SaveBalochStudents#ReleaseFazalBaloch
Where is good governance?EU Commission report on GSP+ says that enforced disappearances and extrajudicial killings increased in Pakistan without accountability for perpetrators. The Commission also expressed concern over the deterioration in media freedom. https://t.co/cv6KvGmjuL
روزانہ بلوچستان سے جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کی نئی خبریں اس تلخ حقیقت کی گواہی دے رہی ہیں کہ ریاستی جبر مسلسل شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ہر گزرتا دن یہ ثابت کر رہا ہے کہ بلوچستان میں قانون کی نہیں بلکہ طاقت اور خوف کی حکمرانی مسلط ہے۔
جبری گمشدگیاں، جس میں مرد خواتین نوجوان، بزرگ، حتیٰ کہ بچے بھی ایک منظم پالیسی کے تحت جبری گمشدگیوں کا نشانہ بن رہے ہیں، اور یہ انسانی حقوق کی منظم اور سنگین خلاف ورزیاں ہیں، جن کا مقصد صرف اور صرف بلوچ قوم کو خوفزدہ کرنا، بلوچستان میں موجود سیاسی و مزاحمتی آوازوں کو خاموش کرنا ہے۔
ان سنگین انسانی حقوق کی پامالیوں پر مسلسل خاموشی، مؤثر احتساب کا فقدان اور ذمہ داروں کو حاصل استثنیٰ نے ا�� جبر کو مزید بے لگام کر دیا ہے جو کہ بلوچستان خوف، عدم تحفظ اور اجتماعی سزا کی ایک المناک علامت بنتا جا رہا ہے۔
آصف بلوچ اور سلمان بلوچ جو کہ طالبعلم ہیں جنہیں کوئٹہ سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ آصف اور سلمان کی بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔
#ReleaseAsifBaloch
#ReleaseSalmanBaloch
آج بارہ دن مکمل ہو چکے ہیں جب کراچی میں میرے رہائش گاہ پر بغیر کسی سرچ وارنٹ کے غیر قانونی چھاپہ مارا گیا
میرے گھر کی تلاشی لی گئی، وہاں موجود افراد کو ہراساں کیا گیا اور ان پر تشدد کیا گیا، جبکہ میرے گھر سے کتابیں، دستاویزات اور دیگر قیمتی سامان بھی چوری کرکے اپنے ساتھ لے جایا گیا۔
میں نے اس کارروائی پر سندھ حکومت اور بلاول بھٹو سے جواب طلب کیا، مگر بارہ دن گزر جانے کے باوجود مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ یہ خاموشی محض نظراندازی نہیں بلکہ اس غیر قانونی کارروائی کی سیاسی سرپرستی اور جوابدہی سے فرار کی علامت ہے۔ کراچی پولیس، جو خود اس کارروائی کا حصہ تھی، نہ کوئی وضاحت دے رہی ہے نہ کسی قسم کی تحقیقات کر رہی ہے، اور نہ ہی متاثرہ خاندان کے ساتھ کوئی تعاون کر رہی ہے۔
جون 29 کی رات 1 بجے کراچی میں میرے رہائش گاہ پر، ایک ایسے فلیٹ پر دھاوا بولا گیا جہاں کئی برسوں سے صرف خواتین رہائش پذیر ہیں اور گھر میں کوئی مرد موجود نہیں۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا بے شرمی کے ساتھ زبردستی گھر میں داخل ہونا، لوگوں کو ہراساں کرنا، تشدد کرنا، پورے گھر کی تلاشی لینا، اور کتابیں، دستاویزات اور قیمتی سامان بھی ساتھ لے جانا صرف قانون کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے۔
بار بار گرفتاری کی کوششیں، مسلسل ہراسانی، گھروں پر چھاپے، خاندانوں کو اجتماعی سزا دینا، لوگوں کو ان کی آبادیوں اور کمیونٹیز میں مجرم بنا کر پیش کرنا، اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کو طاقت کے ذریعے خاموش کرانے کی کوششیں کسی جمہوری حکومت کا نہیں بلکہ ایک خوفزدہ ریاست کا طرزِ عمل ہیں۔
اگر یہ غنڈے اور بندوق ہاتھ میں تھامے، طاقت کے زور پر ہمارے گھروں کے تالے توڑ کر، زبردستی اندر گھس کر، لوگ��ں کو خوفزدہ کر کے، اور ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کو مجرم بنا کر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری آواز خاموش کر دیں گے، تو یہ ان کی سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ طاقت اور بندوق کے زور پر بدمعاشی تو کی جا سکتی ہے، مگر اس سے نہ اپنی بات منوائی جاسکتی ہے اور نہ ہی خاموش کیا جا سکتا ہے، بلکہ ایسے اقدام سے صرف انکی حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ ہماری پُرامن آواز سے اس قدر خوفزدہ ہو چکے ہیں کہ اسے دبانے کے لیے کسی بھی پست اور غیر قانونی ہتھکنڈے سے گری�� نہیں کریں گے۔
اور یہ اقدامات ہماری آواز کو نہیں، بلکہ ان کے جبر، خوف اور ناکامی کو بے نقاب کر رہے ہیں۔
Chief Minister Sindh Syed Murad Ali Shah and PPP Chairman Bilawal Bhutto Zardari: I demand your immediate explanation. Just now, law enforcement personnel and intelligence officials raided my family home without my knowledge or presence. If this has been carried out under your government, you owe the public an explanation. If it has not, then you have a responsibility to explain who is operating with such impunity in Sindh.
This follows repeated visits to our home over the past week, amounting to a sustained pattern of intimidation and harassment directed at me and my family.
My family home has been empty for the past two days. During that time, police and intelligence personnel have repeatedly come to the property, arriving in approximately fifteen vehicles and harassing my neighbours.
I am placing on public record my grave concern over this unlawful intrusion. Any unauthorized entry into my home raises serious fears about my family’s safety, the integrity of our property, and the possibility that evidence could be planted, surveillance devices installed, or my residence otherwise compromised in an attempt to fabricate allegations against me or malign my name. Given the continued harassment of human rights defenders, these are not abstract fears.
I demand immediate answers. Which agency entered my family’s home? Under whose authority was this operation carried out? Was there any warrant authorizing this raid? If so, it must be produced without delay. If there are any allegations against me, the law provides clear legal procedures. Secretive raids, repeated visits, and unlawful intrusions into my family’s residence are not among them.
My family’s home is not a crime scene. It is not a place where state institutions can enter at will, intimidate our neighbours, or conduct unexplained operations without accountability.
I am also placing this on record: if anything is removed from my family’s home, if anything is later claimed to have been recovered from it, or if any case is built against me on the basis of evidence allegedly found there following today’s illegal intrusion, I will hold the authorities fully responsible. I likewise hold them responsible for my family’s safety, for any damage to our property, and for anything that may subsequently happen to our home as a consequence of today’s unlawful entry.
سارا بلوچستان اس وقت جل رہا ہے۔ امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ زیارت جیسے علاقے جو کبھی اپنی قدرتی خوبصورتی، سیاحت اور صدیوں پرانے جونیپر کے جنگلات کے لیے جانے جاتے تھے، آج تشدد اور بدامنی کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔ یہ صورتحال اب کوئٹہ کے نواحی علاقوں اور ہنہ اوڑک تک بھی پہنچ چکی ہے۔
اس سنگین سیکیورٹی بحران کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینے کے بجائے وفاقی حکومت، اس کے زیرِ اثر میڈیا، بلوچستان کی کٹھ پتلی صوبائی حکومت اور اس کی سوشل میڈیا بریگیڈ مسلسل بلوچ اور پشتون قوم پرستوں، بلوچ یکجہتی کمیٹی اور اس کی قیادت، اور پُرامن انسانی حقوق کے کارکنوں کو بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرانے میں مصروف ہیں۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ نہ میڈیا، نہ سول سوسائٹی اور نہ ہی دیگر متعلقہ حلقے حکومت کو اس کی عوام دشمن پالیسیوں، سیکیورٹی کی ناکامیوں، بدعنوانی ناقص طرزِ حکمرانی، قانون کی عملداری قائم کرنے میں ناکامی، اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر جوابدہ ٹھہرا رہے ہیں۔ اس کے برعک��، سوال اُن لوگوں سے کیے جا رہے ہیں جو امن، انصاف اور انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں۔ ایک جمہوری اور مہذب معاشرے میں ایسی سنگین ناکامی کی صورت میں ذمہ دار حکام سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری قبول کریں اور اپنے عہدوں سے مستعفی ہوں، مگر یہاں جوابدہی اختیار کرنے کے بجائے دوسروں پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
جب کوئی حکومت مذاکرات، مکالمے اور پُرامن سیاسی سرگرمیوں کے تمام دروازے بند کر دے، پُرامن تحریکوں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو مجرم قرار دے، اُن کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم پروپیگنڈا چلائے، اور عوام کے حقیقی مسائل کے حل کے بجائے سوشل میڈیا پر بیانیہ بنانے کو ترجیح دے، تو ایسے افسوسناک واقعات نہ صرف حیران کن نہیں رہتے بلکہ قابلِ پیش گوئی بن جاتے ہیں۔
میں اپنے تمام پشتون بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں اور اس تشدد سے متاثر ہونے والے تمام خاندانوں سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتی ہوں۔
We welcome the statement by UN experts condemning the life sentence against Dr. Mahrang Baloch and Sibghatullah Shah Ji and calling the judgment a grave injustice and a travesty of justice. International attention in the face of shrinking civic space, eroding democracy, and the criminalization of peaceful human rights work is very important in Pakistan. The world must not ignore the massive human rights abuses, extrajudicial killings, unlawful detention, and the misuse of terror laws against Baloch political and human rights activists.
#Pakistan: UN experts condemn life sentence against Baloch #humanrights defender Dr. Mahrang Baloch as grave injustice. “These convictions risk silencing independent voices in #Balochistan and further shrinking civic space.”
https://t.co/0F2GhgyJDY
𝗖𝗵𝗮𝗸𝗮𝗿, 𝗘𝘅𝘁𝗿𝗮𝗷𝘂𝗱𝗶𝗰𝗶𝗮𝗹𝗹𝘆 𝗞𝗶𝗹𝗹𝗲𝗱 𝗯𝘆 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻𝗶 𝗙𝗼𝗿𝗰𝗲𝘀, 𝗧𝗼𝗿𝘁𝘂𝗿𝗲𝗱 𝗕𝗼𝗱𝘆 𝗥𝗲𝗰𝗼𝘃𝗲𝗿𝗲𝗱 𝗔𝗳𝘁𝗲𝗿 𝗠𝗼𝗿𝗲 𝗧𝗵𝗮𝗻 𝗮 𝗬𝗲𝗮𝗿 𝗼𝗳 𝗘𝗻𝗳𝗼𝗿𝗰𝗲𝗱 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗮𝗻𝗰𝗲.
𝙅𝙪𝙡𝙮 4, 2026 — 𝙍𝙤𝙗𝙚𝙧 𝙅𝙞𝙬𝙖𝙣𝙞, 𝙂𝙬𝙖𝙙𝙖𝙧, 𝘽𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣
Chakar, son of Hassa Bakhsh, a 25-year-old shopkeeper and resident of Baloch Ward, Gwadar, was forcibly disappeared by Pakistani forces during an early morning raid on 12 May 2025. From that day his whereabouts remained unknown. The family was waiting for his safe return.
After over fourteen months of enforced disappearance, Chakar was extrajudicially killed. His body was later recovered bearing severe signs of torture and inhumane treatment. The visible injuries on his body, including extensive facial trauma, shows the brutal violence inflicted upon him during his prolonged detention. Instead of returning him alive to his family, Pakistani forces returned him as another tortured body.
Chakar's killing represents the continued persecution of ordinary Baloch civilians in Gwadar and other areas of Balochistan. A young shopkeeper with no means other than earning an honest livelihood, he became another victim of a policy that has devastated countless Baloch families.
Across Balochistan, fishermen, students, laborers, teachers, and shopkeepers are forcibly disappeared by agencies and forces while their families spend months and years searching for them, only to receive their mutilated bodies.
The killing of Chakar is another reminder of the deepening human rights crisis in Balochistan. The repeated killings of civilians have inflicted lasting trauma across Balochistan. This crisis requires urgent international attention, and the ongoing Baloch genocide must come to an end.
#StopBalochGenocide
𝗙𝗼𝗹𝗹𝗼𝘄𝗶𝗻𝗴 𝘁𝗵𝗲 𝗝𝗶𝘄𝗮𝗻𝗶 𝗕𝗼𝗺𝗯𝗶𝗻𝗴, 𝗣𝗮𝗸𝗶𝘀𝘁𝗮𝗻𝗶 𝗙𝗼𝗿𝗰𝗲𝘀 𝗘𝘅𝘁𝗿𝗮𝗷𝘂𝗱𝗶𝗰𝗶𝗮𝗹𝗹𝘆 𝗞𝗶𝗹𝗹 𝗙𝗼𝗿𝗰𝗶𝗯𝗹𝘆 𝗗𝗶𝘀𝗮𝗽𝗽𝗲𝗮𝗿𝗲𝗱 𝗦𝗰𝗵𝗼𝗼𝗹 𝗣𝗿𝗶𝗻𝗰𝗶𝗽𝗮𝗹 𝗠𝘂𝗵𝗮𝗺𝗺𝗮𝗱 𝗔𝗯𝗱𝘂𝗹 𝗛𝗮𝗾; 𝗕𝗼𝗱𝘆 𝗗𝘂𝗺𝗽𝗲𝗱 𝗔𝗹𝗼𝗻𝗴𝘀𝗶𝗱𝗲 𝗢𝘁𝗵𝗲𝗿𝘀.
𝙅𝙪𝙡𝙮 4, 2026 — 𝙍𝙤𝙗𝙚𝙧 𝙅𝙞𝙬𝙖𝙣𝙞, 𝙂𝙬𝙖𝙙𝙖𝙧, ����𝙖𝙡𝙤𝙘𝙝𝙞𝙨𝙩𝙖𝙣
Muhammad Abdul Haq, son of Muhammad Murad, a teacher, school principal, and resident of Mondi, Gwadar, was forcibly disappeared by Pakistani forces during a raid on his home on 24 January 2026. From that day onward, his whereabouts remained unknown. His family spent months searching for him while government officials repeatedly assured them that he would be released, urging them not to raise the case publicly. Those assurances never materialized.
Following the deadly bombing in Jiwani, Pakistani forces extrajudicially killed five forcibly disappeared individuals and dumped their bodies. Muhammad Abdul Haq was among them. After months in custody, he was tortured and killed. His killing shows the recurring pattern in Balochistan in which forcibly disappeared Baloch are later killed and portrayed as militants after major security incidents and failure.
Muhammad Abdul Haq was more than an educator; he was the pillar of a family already devastated by enforced disappearance. He was the uncle of Ali Haider, who, as a child, walked from Karachi to Islamabad in 2013 to demand the return of his father, Muhammad Ramazan, who was forcibly disappeared on the Makran Coastal Highway in July 2010. Sixteen years later, instead of returning Muhammad Ramazan, the state took the life of the man who had responsibility for raising and supporting his brother's children. The same family has now been forced to endure another irreversible loss.
Branding forcibly disappeared individuals as terrorists after killing them neither delivers justice nor addresses the underlying crisis. Instead, it deepens the suffering of families and further erodes public trust. Balochistan has been left without protection, with no one held accountable for these violations, which continue with impunity, leaving victims' families without justice an lifetime of pain.
The international and local community must act urgently to end enforced disappearances and extrajudicial killings in Balochistan.
#StopBalochGenocide
الوداع، پیارے عبدالحق
گزشتہ 16 برسوں تک عبدالحق اور رمضان بلوچ کے بیٹے علی حیدر اپنے پیارے کی تلاش میں سرگرداں رہے۔
علی! ہم نہ آپ کے والد کو بچا سکے نہ آپ پر دستِ شفقت رکھنے والے عبدالحق کو؛ اس ظلم پر یہ معاشرہ اور ریاست آپ کے ہمیشہ قرض دار اور گناہ گار ہیں۔
مشکے سے تعلق رکھنے والے عبدالحق بلوچ، جو سولہ سال سے جبری طور پر لاپتہ رمضان بلوچ کے چھوٹے بھائی تھے، اپنے خاندان کے ساتھ کئی برسوں سے گوادر میں مقیم تھے اور معمارِ نو اکیڈمی کے پرنسپل لتھے، آج ان کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی ہے۔
عبدالحق بلوچ کو رواں سال فروری میں جبری طور پر لاپتہ کیا گیا تھا اور کئی ماہ تک ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی، اب ان کی مسخ شدہ لاش کا ملنا بلوچستان میں جاری جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے خطرناک اور مسلسل سلسلے کی ایک اور المناک کڑی ہے۔
عبدالحق صرف ایک استاد اور تعلیم یافتہ فرد نہیں تھے، بلکہ وہ خود بھی اپنے جبری طور پر لاپتہ بھائی رمضان بلوچ کی واپسی کے انتظار اور اذیت میں زندگی گزار رہے تھے
اپنے بھائی کی جبری گمشدگی کے بعد انہوں نے اپنے بکھرے ہوئے خاندان کو سنبھالنے کی ذمہ داری اٹھائی، اور اپنے گھر والوں کے لیے سہارا بنے رہے، مگر آج وہی عبدالحق بلوچ جو سولہ برس سے اپنے بھائی کی راہ تک رہے تھے، خود جبری گمشدگی کا شکار ہونے کے بعد مسخ شدہ لاش کی صورت میں اپنے خاندان کو واپس لوٹائے گئے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے “Nation as Network” کے فکری مطا��عے کی اشاعت کا اعلان
بلوچ یکجہتی کمیٹی، ڈاکٹر صبیحہ بلوچ کے تحریر کردہ کتابچے “Nation as Network: کا فکری مطالعہ” کی جلد اشاعت کا اعلان کرتی ہے۔
یہ کتابچہ، جو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے لٹریچر ڈیپارٹمنٹ برمش پبلیکیشنز کے زیرِ اہتمام شائع کیا جا رہا ہے، وکٹوریہ برنال کی معروف کتاب Nation as Network کا ایک فکری مطالعہ پیش کرتا ہے۔ اس میں قوم، تارکینِ وطن (Diaspora)، شہریت، ڈیجیٹل سیاست اور ریاستی طاقت سے متعلق بنیادی مباحث کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز نے موجودہ دور میں سیاسی برادریوں اور قومی سرحدوں سے ماورا شناختوں (Transnational Identities) کو کس طرح نئی شکل دی ہے۔
برنال کی اریٹیریا اور اس کی تارکینِ وطن آبادی پر مبنی نسلیاتی تحقیق (Ethnographic Study) کی روشنی میں یہ کتابچہ قارئین کو “Sacrificial Citizenship” (قربانی پر مبنی شہریت) اور “Infopolitics” (اطلاعاتی سیاست) جیسے اہم نظریات سے متعارف کراتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کرتا ہے کہ یہ تصورات ڈیجیٹل عہد میں قوم پرستی، سیاسی شرکت اور مزاحمت کو سمجھنے میں کس قدر اہ��یت رکھتے ہیں۔
اس اشاعت کا مقصد سیاسی فکر کو ایک منظم، قابلِ فہم اور قابلِ رسائی انداز میں اُن قارئین تک پہنچانا ہے جو تنقیدی نظریات، قومی تحریکوں، اور ریاست، معاشرے و ڈیجیٹل نیٹ ورکس کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
یہ کتابچہ جلد ہی بلوچ یکجہتی کمیٹی کے باضابطہ ٹیلیگرام چینل پر دستیاب ہوگا۔
ٹیلیگرام: @bycofficial
کل رات تربت سے بی وائی سی کی کارکن سید بی بی بلوچ کی سی ٹی ڈی کے ہاتھوں گرفتاری اور آج گلزار دوست سمیت متعدد مظاہرین کی گرفتاری ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ بلوچستان میں پرامن احتجاج اور بنیادی جمہوری حقوق کس حد تک پابندیوں اور ریاستی دباؤ کا شکار ہیں۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شاہ جی صبغت اللہ بلوچ کے غیرمنصف��نہ ٹرائل اور عمر قید کی سزا کے خلاف آج تربت میں ہونے والے پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے کارکنوں کی گرفتاری اور آج تربت میں کرفیو اور کسی قسم کی حرکت پر پابندی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکام پرامن سیاسی آوازوں اور عوامی احتجاج سے کس قدرخوفزدہ ہیں۔
اگر ایک پرامن احتجاج کو روکنے کے لیے گرفتاریاں کرنا پڑیں تو یہ طاقت نہیں بلکہ خوف اور بوکھلاہٹ کی علامت ہے۔
سیاسی کارکنوں کو خاموش کرانے کے لیے ہراسانی، گرفتاریاں گھروں پر چھاپے اور دباؤ کے دیگر ہتھکنڈے استعمال کیے جا سکتے ہیں لیکن کسی نظریے مطالبے یا عوامی آواز کو طاقت کے ذریعے دبایا نہیں جا سکتا، لیکن یہ بات بندوق اور طاقت کے زور پہ بات کرنے والے کبھی بھی نہیں سمجھیں گے۔
سمی دین بلوچ کے گھر پر چھاپہ مار کر، توڑ پھوڑ کر کے اور اہلِ خانہ کو خوف و ہراس میں مبتلا کر کے ریاستی اشرافیہ نے ثابت کیا ہے کہ اقتدار کی خوشنودی کے لیے وہ ہر حد تک جا سکتے ہیں۔ اگر اس پر بھی خاموشی اختیار کی جائے تو یہ عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ سوال خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ہے کہ کیا یہی وہ انصاف، قانون اور جمہوریت ہے جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے؟ طاقت کے زور پر آوازیں دبائی جا سکتی ہیں، مگر حق کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں کیا جا سکتا۔
#WeStandWithSammiDeenBaloch #ReleaseDrMahrangBaloch #BYC #NDM
Sammi Deen Baloch continues to face raids, intimidation, surveillance, and harassment because she refuses to abandon her demand for justice. For seventeen years, she has asked one question. Where is her father, Dr. Deen Muhammad Baloch, who was forcibly disappeared on 28 June 2009? She has also become a leading voice for countless other families whose loved ones remain forcibly disappeared.
Instead of revealing the fate and whereabouts of the disappeared, the State continue to target those who peacefully seek truth and accountability. Harassing Sammi Deen Baloch will not erase the demand for justice.
#StopHarassingSammiDeen
“A state should not be judged solely by the conflicts it helps resolve abroad, but also by how it treats its own people at home” says Baloch activist Sammi Deen in https://t.co/VvRKYkvaAv & that my fellow citizens is the point, #EndEnforcedDisappearanxes it’s a crime against humanity & trying to legalize it,is not the solution.