*ایک شخص۔ پچاس تھانے۔ ایک ہی وقت میں۔*
ذرا سوچیں ۔۔۔
ایک انسان بیک وقت مریدکے میں بھی ہے، کاہنہ میں بھی، صدر میں بھی۔
پچاس تھانوں کی پولیس کہہ رہی ہے:
“یہ ہمارے علاقے میں تھا۔”
یہ جادو نہیں ۔۔۔ یہ جھوٹ ہے۔
منظم، سوچا سمجھا، اور ریاستی مہر لگا ہوا جھوٹ۔
اور جج صاحب؟
انہوں نے ایک بار بھی نہیں پوچھا:
“یہ ایک شخص ایک ہی وقت میں پچاس جگہ کیسے ہو سکتا ہے؟”
بس ۔۔۔ ریمانڈ۔
پھر ریمانڈ۔
پھر ریمانڈ۔
کبھی کوٹ لکھپت جیل میں، کبھی کیمپ جیل میں۔
کبھی ایک تھانے میں، کبھی دوسرے میں۔
اور پھر وہ لمحہ آیا جو تاریخ میں لکھا جائے گا۔
ایک اور تھانے والا آیا اور کہا:
“جناب! یہ شخص ہمیں نہیں ملا، اسے اشتہاری قرار دیں۔”
وہی جج ۔۔۔ جنہوں نے خود اسی شخص کو کئی بار اپنے سامنے دیکھا تھا، جنہوں نے خود اس کا ریمانڈ دیا تھا، جو جانتے تھے کہ وہ ابھی جیل میں بند ہے ۔۔۔
انہوں نے اشتہاری قرار دے دیا۔
عاشقان رسول ﷺکو شہید کر کے ان کے جسد خاکی غائب کروا کر محترمہ ثبوت مانگتی ہیں
یہ ہیں وہ ثبوت جو قیامت تک تمہارا پیچھا کریں گے
Muridke Massacre
سانحہ مریدکے
#مریدکےقتل_عام_کے6ماہ