شاہد رند آپ اپنا اور این سی سی آئی جیسے قومی ادارے کا قیمتی وقت جھوٹے بیانات اور پراپیگنڈ�� کے جواب میں ضائع نہ کریں۔ بلوچستان میں ایسے غیرمؤثر بیانات توجہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش ہیں، ہمیں اپنا وقت عوام کے مسائل حل کرنے اور سروس ڈیلوری کو بہتر سے بہتر کرنے پر لگانا ہے۔
حکومتِ بلوچستان کی کفایت شعاری پالیسی پر زیرو ٹالرنس، خلاف ورزی پر محکمہ لائیو اسٹاک کے افسر کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے سرکاری گاڑی فوری طور پر ضبط کر لی گئی۔ کسی بھی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے مطابق 28 فروری سے اب تک ایران سے 5615 پاکستانی شہری گوادر اور چاغی کے راستے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے مسافروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جبکہ حکومت بلوچستان سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر مکمل طور پر مستعد ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کوئٹہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات، صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ۔ وفاقی وزیر داخلہ نے بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد بڑھانے کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وفاق اور صوبائی حکومت باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام، ریاستی عملداری کے استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو صورت یقینی بنائیں گے، محسن نقوی، میر سرفراز بگٹی۔
کوئٹہ، 16 مارچ
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس پیر کو یہاں چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں وفاقی و صوبائی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی اجلاس میں بلوچستان میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، افغان مہاجرین کی واپسی، حوالہ ہنڈی بھتہ خوری کے خاتمے، اسمگلنگ کی روک تھام اور دیگر اہم امور پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اجلاس میں چیئرمین نادرا، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے، ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اور انسپکٹر جنرل فیڈرل کانسٹیبلری نے اپنے اپنے اداروں سے متعلق امور پر جامع بریفنگ دی اور صوبے میں غیر قانونی سرگرمیوں کے سدباب، ادارہ جاتی ا��تعداد کار میں بہتری اور امن و استحکام کے قیام کے لیے جاری اقدامات سے آگاہ کیا اجلاس میں بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا اہم فیصلہ کیا گیا اس ضمن میں پہلے مرحلے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے دو ونگز تعینات کیے جائیں گے جبکہ مجموعی طور پر تقریباً تین ہزار اہلکار صوبے کے مختلف حساس علاقوں میں فرائض سرانجام دیں گے تاکہ امن و امان کی صورتحال کو مزید مستحکم بنایا جا سکے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو مزید فعال اور مؤثر بنایا جائے گا اس مقصد کے لیے ادارے میں موجود تمام خالی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی کی جائے گی تاکہ صوبے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم ہوں اور مقامی سطح پر ادارے کی کارکردگی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اجلاس کے دوران حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت کے درمیان اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا جائے گا اس سلسلے میں ریاست اور قومی اداروں کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے میں ملوث ع��اصر کے خلاف قانونی کارروائیوں کو مزید تیز کیا جائے گا اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلوچستان حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن و استحکام کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت بلوچستان کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے، جدید تربیت اور وسائل کی فراہمی کے لیے بھی بھرپور معاونت فراہم کی جائے گی انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات سے ہم سب بخوبی آگاہ ہیں صوبے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بلوچستان دہشت گردی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے پوری قوت اور غیر متزلزل عزم کے ساتھ اقدامات کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے اور اس میں قومی اتحاد و یکجہتی بنیادی حیثیت رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ وہ روزِ اول سے واضح کر چکے ہیں کہ بلوچستان میں ریاست کی عملداری ہر صورت یقینی بنائی جائے گی اور قانون کی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی مؤثر حکمت عملی اور اداروں کے باہمی تعاون کے باعث صوبے میں صورتحال میں واضح بہتری آئی ہے اور آج بلوچستان میں احتجاج کے نام پر کوئی شاہراہ بند نہیں ہوتی وزیر اعلیٰ نے صوبے میں امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ مشترکہ کاوشوں، مربوط حکمت عملی اور قومی یکجہتی کے ذریعے دہشت گردی اور بدامنی کے چیلنجز کو شکست دی جائے گی اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وفاق اور صوبائی حکومت باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام، ریاستی عملداری کے استحکام اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائیں گے اجلاس میں وفاقی حکام کے علاوہ بلوچستان سے رکن صوبائی اسمبلی میر ضیاء لانگو، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ حمزہ شفقات، آئی جی پولیس بلوچستان محمد طاہر خان ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیر اعلیٰ عمران زرکون سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاریوں سے متعلق اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں 679 پرائمری اور 409 مڈل اسکولوں کی اپ گریڈیشن جبکہ طلبہ کے لیے ماہانہ وظیفہ دینے کی تجویز پر غور کیا گیا، تاکہ صوبے میں تعلیم کے فروغ کو یقینی بنایا جا سکے۔
تربت میں پیپلز بس سروس کا آغاز۔ وزیرِاعلیٰ بلوچستان @PakSarfrazbugti نے سرکٹ ہاؤس تربت میں گرین بس چلا کر افتتاح کیا۔ ابتدائی طور پر 4 بسیں فراہم، فی بس 100 مسافروں کی گنجائش۔ خواتین کے لیے پنک بس سروس بھی جلد شروع کی جائے گی۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا ماہِ صیام کے دوران اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کا اعلان۔
کسی بھی شکایت کی صورت میں شہری چیف منسٹر کمپلینٹ سیل سے براہِ راست رابطہ کرسکتے ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
گراں فروشی اور ذخیرہ اندوزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی، وزیر اعلیٰ بلوچستان
رمضان المبارک ایثار ، خلوص اور صبر کا پیغام دیتا ہے ، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
رمضان المبارک کے دوران غریب اور کمزور طبقات کو بھرپور ریلیف فراہم کیا جارہا ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
بلوچستان میں تین لاکھ اٹھائیس ہزار مستحق خاندانوں کو خصوصی رمضان پیکج فراہم کیا جارہا ہے، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی
پیکج کی شفاف تقسیم اور حق داروں تک بروقت فراہمی آٹھ رکنی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹیوں کے ذریعے یقینی بنائی جارہی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان
رمضان پیکج سے متعلق کسی بھی شکایت کے لیے وزیر اعلیٰ شکایت پورٹل سے رجوع کیا جاسکتا ہے، میر سرفراز بگٹی کا پیغام
حکومتِ بلوچستان نے Green Pakistan Initiative فیز کےتحت 847 کسانوں کو 3.2 ارب روپے کےبلا سود قرضے فراہم کر دیےہیں، صوبے میں 35,609 ایکڑ رقبےپر کاشتکاری ممکن بنائی جا رہی ہے۔
سرفراز بگٹی نے کہا یہ اقدام زرعی شعبے کے استحکام اور کسانوں کو بااختیار بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
حکومت بلوچستان نے زراعت کے فروغ کے لئے گرین پاکستان انیشیٹو فیز ٹو کے تحت بلوچستان کے 847 کسانوں کو 3.2 ارب روپے کے بلاسود قرضے تقسیم کئے ہیں جس کے نتیجے میں 35609 ایکڑ رقبے پر کاشت کی جا سکے گی۔ اس پراجیکٹ کے فیز 1 کے تحت 257 کسانوں کو 685 ملین کا بلا سود قرضہ پہلے فراہم کیا جا چکا ہے۔ حکومت بلوچستان ایک طرف کسان کارڈ کے زریعے سے بلوچستان کے غریب کسان کی مدد کر رہی ہے اور دوسری طرف گرین پاکستان انیشیٹیو کے زریعے سے بلاسود قرضوں کی فراہمی کا س��سلہ جاری ہے۔
گرین پاکستان انیشیٹو فیز 2 کے تحت بلوچستان کے کسانوں میں 3.2 ارب روپے کے قرضوں کی تقسیم۔
کوئٹہ،17 فروری 2026
گرین پاکستان انیشیٹو (جی پی آئی) کے دوسرے مرحلے کے تحت بلوچستان کے 847 کسانوں میں 3.2 ارب روپے کے بلا سود قرضے تقسیم کئے گئے اس سلسلے میں کوئٹہ میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں وزیرِ اعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے بطور مہمان خصوصی ��رکت کی تقریب میں اعلیٰ فوجی اور سول افسران کی بڑی تعداد موجود تھی اس موقع پر کسانوں میں چیک تقسیم کئے گئے اس سے قبل گرین پاکستان انیشیٹو کے پہلے مرحلے میں 12 کور ہیڈکوارٹرز کے تحت 257 کسانوں کو 685 ملین روپے کا بلا سود قرضہ فراہم کیا گیا تھا جو کامیابی سے ہمکنار ہوا اس کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے دوسرے مرحلے میں 35609 ایکڑ رقبے پر کاشت کے لیے یہ بلا سود قرضہ فراہم کی جا رہا ہے تقریب کے دوران گرین پاکستان انیشیٹو کی کامیابیوں پر ایک دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے زراعت کو فروغ ملتا ہے جو ہماری برآمدات کا بڑا ذریعہ ہے ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلوچستان کسانوں کی فلاح و بہبود اور صوبے کی خوشحالی میں اہم کردار ادا کرے گی اس موقع پر کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان بھی موجود تھے بلاسود اور آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی کو مقامی کسانوں نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا حکومت کا یہ اقدام کسان دوست اقدام ہے جس سے نہ صرف کسانوں کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ بنجر زمینیں زرخیز ہونگی جس سے کسان خوشحال ہوگا اور پاکستان میں زراعت کا نیا انقلاب آئے گا۔
کوئٹہ، 17 فروری
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا بلوچستان سول سروسز ا��یڈمی سے تربیت مکمل کرنے والے افسران سے خطاب۔
ریاستی نظم و نسق کی مضبوطی باصلاحیت اور باکردار افسران سے وابستہ ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
آج سے آپ کی اصل آزمائش عملی میدان میں شروع ہو رہی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
پالیسی سازی کی ذمہ داری حکومت جبکہ افسران عملدرآمد کے پابند ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
عوام اور حکومت کے درمیان خلیج کو ختم کرنا اور عام آدمی کو ریلیف دینا افسران کی بنیادی ذمہ داری ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
دیانت داری کامیابی کی کنجی اور بدعنوانی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان
میرٹ کی بنیاد پر منتخب افسران میرٹ کی بالادستی اور عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
ریاست مخالف پراپیگنڈے سے دور رہیں اور عوام میں آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت وفاداری کا شعور اجاگر کریں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
غیر متوازن ترقی صرف بلوچستان نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
تشدد سے ریاست کو غیر مستحکم نہیں کیا جا سکتا، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
نظم و ضبط پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، تاریخ میں پہلی بار زیر تربیت افسر کے خلاف کارروائی کی گئی، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا بلوچست��ن سول سروسز اکیڈمی کے یومیہ اجرتی ملازمین کی معاہداتی تعیناتی اور آئندہ بجٹ میں لائبریری کے قیام کا اعلان
حکومتِ بلوچستان کا مستحق خاندانوں کےلیے خصوصی رمضان پیکیج کا اعلان۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نےکہا صوبے کے 3 لاکھ 28 ہزار مستحق خاندانوں کو خصوصی رمضان پیکیج فراہم کریں گے۔ہر ضلع میں 8 رکنی ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹیاں قائم کر دی گئی ہیں، پیکیج ہر مستحق خاندان کی دہلیز تک پہنچایا جائے گا
کوئٹہ، 10 فروری
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی چیف منسٹر سیکرٹریٹ کوئٹہ آمد
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی صوبائی کابینہ اور اراکین اسمبلی کی جانب سے پرتپاک است��بال
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی بلوچستان کابینہ اور اتحادی جماعتوں کے اراکین سے ملاقات
مریم نواز شریف کو بلوچستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
سیکیورٹی فورسز کے لیے دس ارب روپے کی معاونت مثبت اور قابلِ تحسین اقدام ہے،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن عوامی فلاح کے لیے متحد ہیں، وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
خوشی ہے کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ میرا پہلا دورہ بلوچستان کا ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
بلوچستان کے عوام کا جذبہ اور پاکستان سے وابستگی قابلِ ستائش ہے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
بلوچستان کو درپیش چیلنجز میں حکومت پنجاب ہر ممکن تعاون کرے گی، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
ہم بلوچستان کے ساتھ ہیں، دہشت گردی کا خاتمہ قومی یکجہتی سے ممکن ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
بلوچستان میں امن، استحکام اور خوشحالی دیکھنا چاہتے ہیں، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
8 ��روری کو پولیس پر پتھراؤ اور عوام کے املاک کو نقصان پہنچانے والوں کو گرفتار کیا گیا تھا، 50 سے زائد 18 سال سے کم عمر بچوں کو کل ان کے والدین کو بلا کر رہا کر دیا گیا ہے۔ آپ ایک دفعہ دوبارہ چیک کر لیں اگر ابھی بھی کوئی کم عمر پولیس کے پاس ہے تو اس کی معلومات شئیر کیجئے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی 31 جنوری کے دہشتگردی واقعات میں شہید پولیس افسران، اہلکاران اور شہریوں کے گھروں میں آمد۔لواحقین سے اظہارِ یکجہتی، شہداء کے اہلِ خانہ کو ہر ممکن مدد اور سرپرستی کی یقین دہانی۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاست پوری قوت سے کھڑی ہے۔
@PakSarfrazbugti
کوئٹہ میں دہشتگردی کے واقعے میں شہید ہونے والے ڈی ایس پی میر فیصل کے گھر وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی آمد۔
اہلیہ سے ملاقات، بچوں کی کفالت اور تعلیم کی مکمل ذمہ داری لینے کا اعلان، جبکہ خاندان کو گھر فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔
شہداء کے اہلِ خانہ ریاست کی امانت ہیں۔
حکومت بلوچستان سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے پُرعزم ہے، صوبے میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی
@PakSarfrazbugti
بلوچستان میں غیر فعال سرکاری اسکولوں کی بحالی میں نمایاں پیش رفت جاری ہے، بلوچستان کا ضلع گوادر پہلا ضلع بن گیا جہاں تمام سرکاری اسکول فعال ہیں۔ بہت جلد پورے بلوچستان میں کوئی اسکول بند نہیں رہے گا اور نہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم ہوگا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی
بلوچستان میں گورننس کی بہتری کے لیے نئے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل وقت کی اشد ضرورت ہے، جس کے تحت کوہ سلیمان ڈویژن کے قیام کو عوامی سطح پر ملنے والی پذیرائی بلاش��ہ بلوچستان کے لوگوں کے لیے مثبت تبدیلی کی نوید ہے۔ رکھنی کے جلسے سے یہ بات واضح ہے کہ بلوچستان، بلوچ قوم اور ریاست پاکستان لازم و ملزوم ہیں، اور آج کا یہ اجتماع جذبۂ حب الوطنی کا مظہر اور ملک دشمن عناصر کے لیے ایک واضح پیغام ہے۔ اس اہم اقدام پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی داد کے مستحق ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ بلوچستان میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے ساتھ ساتھ ایسی مزید انتظامی اصلاحات اٹھائی جائیں تاکہ لوگوں کے لیے سروس ڈیلیوری کو بہتر بنایا جا سکے۔
پاکستان زندہ باد، بلوچستان پائندہ باد