پارلیمان جس پر عوام کے ٹیکسوں سے سالانہ اربوں کے اخراجات اٹھتے ہیں،کے ایوانِ زیریں سے حزب اختلاف کا ایک مرتبہ پھر واک آؤٹ ظاہ�� کرتا ہے کہ شاید یہی ایک کام ہے جو انہیں کرنا ہے۔ یہ این آر او کے حصول اور نیب مقدمات، جو ہم نے قائم نہیں کئے، سے چھٹکارے کیلئے دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہے۔
کیا جمہوریت منتخب سیاسی رہنماؤں کو کرپشن اور لوٹ مار کی کھلی چھوٹ کا نام ہے؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انکے نزدیک جو شخص عوام کے ووٹ لیکر منتخب ہوجائے اسے قومی خزانے پر ڈاکہ زنی کا لائسنس مل جاتا ہے۔