رجب بٹ کی اہلیہ ایمان شیخ کی روتے ہو�� ویڈیو دیکھی ۔مجھے بھی پہلے لگتا تھا کہ شاید یہ سارا معاملہ ویوز کا ہو مگر اس ویڈیو میں اک ماں نظر ا رہی تھی جو اپنے بچے کیلے اپنے شوہر کی منتیں کر رہی ہے وہ گھر بسانا چاہتی ہے ۔۔
رجب بٹ نے کہا کہ اس عورت نے میرا کبھی ساتھ نہی دیا جب میرا مشکل وقت تھا ۔۔
اس پر ایمان شیخ نے ویڈیو بیان دیا کہ جب اپ یو کے تھے میں اپکے والدین کے ساتھ رہی ۔ اپکی فیملی کے ساتھ کھڑی رہی ۔ اور اپ کہتے ہوں میں نے اپکے ماں باپ کی عزت نہی کی میں نے رو انہیں اپنے ماں باپ کا درجہ دیا تھا ۔۔
میں نے اج تک کبھی اونچی اواز میں بات نہی کی ہے ۔ نہ کبھی بحث کی ہے نہ کسی بارے میں ان سے بات کی ہو ۔۔ اپکو کون یہ کہانیاں سنا کر اپکے کان بھر رہا ہے ۔۔
اپ مجھ سے تصدیق کیے بغیر میڈیا پر ا کر بول دیتے ہو ۔۔مجھے رشتوں کی اہمیت کا پتہ ہے انکے تقدس کا پتہ ہے ۔
ایمان شیخ اس ویڈیو کے زریعے اس بات کو کلئیر کرنا چاہتی ہیں جو طلاق کی وجہ بنی ۔
رجب بٹ نے کہا کہ اس نے میری ماں کو پرفیوم چور کہا ہے ۔ اور یہ بات ایمان سے پوچھے بغیر اک طرف سٹوری سن کر اس نے فیصلہ کیا یہ اس گھر میں نہی اے گی ۔ جہاں سے معاملات خراب ہوے ۔۔
سوشل میڈیا ہم اور اپ لوگ اسے لٹکی ہوی طلاق کو چاہے ویوز کا نام دیں مگر یہ حقیقت ہے کہ یہ عورت اپنا گھر بسانا چاہتی ہے اپنے بچے کی وجہ سے اگر اسے سوشل میڈیا ویوز چاہیے ہوتے یہ رشتہ کب کا ختم کر کے اگے بھڑ چکی ہوتے ۔
مگر رجب بٹ اکلوتا ہے ماں بہن نہی چاہتی یہ واپس گھر اے یا رجب فل وقت شادی کرے ۔ کیونکہ وہ شروع سے اس شادی کے خلاف تھے ۔
ان دونوں کی محبت کی شادی ہے ۔ جو بدقسمتی سے اس موڑ پرا کھڑی ہے جہاں اک کم سن بچہ بغیر باپ کے سانسیں لے رہا ہے ۔ اولاد کیلے ہی شادی کی جاتی ہے مگر یہاں اولاد پیدا ہوی طلاق تھما دی ۔
*والدین متوجہ ہوں*
لڑکا دس سال کا ہوجائے تو اسے والد کے حوالے کردیں عورتوں کی محفلوں سے الگ کردیں....!!
گاڑی کا ٹائر بدلا ج�� رہا ہے تو اسے سکھاؤ،
مارکیٹ سے سامان لانا ہے تو اسے لے کر جائیں
اور بتائیں کہ جاؤ فلاں فلاں چیزیں لو
اور ساتھ ساتھ سمجھاتے رہو۔
دس سال کے بچے کو پتا ہونا چاہیے کہ
آلو پیاز کی قیمت کیا ہے ؟
قریبی دکان کہاں پر ہے،
فلاں کا گھر کونسا ہے،
کونسا مکینک اچھا کام کرتا ہے،
گھر آئے مرد مہمانوں کا کیسے استقبال کرنا ہے۔
اس کے ساتھ اپنے کپڑے استری کرنا،
اپنا بستر بنانا،
ضرورت کے وقت اپنے لئے کھانا گرم کرنا،
اپنا سبق وقت پر یاد کرنا،
وقت پر سونا وقت پر جاگنا،
یہ صرف کرنی کی باتیں نہیں ہیں اس پر عمل کرنا ہے۔
دس سال کا بچہ اب ایک عشرہ آگے آچکا ہےاب اسے کچھ نیا کرنے کو دل کرتا ہے اب اس کے لئے صرف ماں باپ کا پیار کافی نہیں ہوتا ہے۔
اس عمر میں مخلوط تقریبوں میں لے جانے سے احتیاط کریں اور کوشش کریں کہ جب خواتین کا کوئی پروگرام ہو تو بچے کو کسی اور دلچسپ سے کام میں مصروف کردو اور یہ سب کچھ پیار محبت سے کروانا ہے کہ بچے کو احساس ہو کہ یہ سب میرے خود کے لئے بہتر ہے نہ کہ اسے نوکروں کی ��رح حکم دو۔
اگر آپ اسے درست کاموں میں مصروف نہیں کریں گے تو وہ خود اپنے لئے کچھ دلچسپیاں تلاش کرے گا نئے دوست بنائے گا اور ایسی سرگرمیاں کرنے کی کوشش کرے گا جو والدین اس کے لئے بالکل پسند نہیں کریں گے۔
بچے کی تربیت کریں گے تو کل وہ آپ کو سود سمیت لوٹائے گا اور اگر صرف کھانے پینے پر دھیان دوگے تو پھر چیختے چلاتے رہ جاو گے کہ ہم نے تم پر خرچ کیا ہے پڑھایا لکھایا ہے لیکن ان پر اثر نہیں ہوگا اس لئے ان کو وقت دیں نیندیں قربان کریں۔
یہ کام مشکل ہے، بالکل آسان نہیں ہے لیکن یہ کرنا ہے اگر آپ کو اللہ نے اولاد کی نعمت سے نوازا ہے اور والدین کے رتبے پر فائز کیا ہے تو جان مت چھڑائیں، اس عہدے کا پاس رکھیں۔
اچھی تربیت کرنے سے ہی یہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک اور ممکنہ طور پر پرہیزگاروں کی رہنما بن سکتی ہے۔
@DreamyRover@sraj57454 I agree with you. But it is how we cognize it and it is better to write complete names especially when tweets have words capacity left.
29 days of Ramazan in KSA and 30 in Pakistan. No idea, if we fasted a day more or they fasted a day less.
This is beguiling.
ALLAH Malik.
#EidUlFitr#عيد_الفطر_المبارك
صدر صدام حسین نے گرفتاری کے بعد عدالت کو یہ درخواست کی کہ اسے قید کے دوران نہ تو کپڑے دهونے اور نہ ہی سگریٹ پینے کی اجازت ہے۔ اسے پچھلے دو سال سے جوتوں کا صرف ایک جوڑا دیا گیا ہے جو کب کا پھٹ چکا ہے۔ خیر عدالت نے یہ سارے مطالبات منظور کر لیے اور یوں جوتوں کے نئے جوڑے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ جیل کے اندر کپڑے دهونے اور سگریٹ پینے کی اجازت بھی دے دی گئی۔
صدام حسین عراق کا وہ حکمران تھا جو درجنوں محلات، ہزاروں قیمتی سوٹوں سینکڑوں جوتوں،هزاروں خوشبو کی بوتلوں اور لاتعداد قیمتی گاڑیوں کا مالک تھا
جس نے اپنی مونچھیں رنگنے کے لیئے کئی ماهرین کی ٹیم رکھی ہوئی تھی جس کے سگار هوانا سے آتے تھے جس کے لیے مشروبات فرانس کی کمپنیاں بناتی تھی جس کے کپڑوں کا ناپ لینے کے لیے ٹیلر لندن سے آتا تھا۔ جس کے صرف کپڑے دهونے کے لیے بغداد میں رائل واشنگ سینٹر بنایا گیا تھا جس کے دهوبی کو اعزازی کرنل کا رینک دیا گیا تھا۔ جس کے کسی بھی سوٹ کی باری تین سال کے بعد آتی تھی۔
میرا دل چاهتا ہے کہ صدام حسین مرحوم کی یہ تصویر جسمیں وہ خود اپنے ہاتھوں سے کپڑے دھو رہا ھے۔ دنیا کے تمام حکمرانوں کے بیڈ روم میں لگوا دوں اور ان سے عرض کروں کہ انسان آخر انسان ہے وہ خدا کبھی نہیں بن سکتا اور دنیا کے ہر صاحب اقتدار کا اقتدار ایک دن ختم هو جانا ہے اور دنیا کے ہر حکمران کو ایک نہ ایک دن اپنے اقتدار کے محل سے باهر ضرور آنا ہے کبھی اپنے قدموں پر تو کبھی دوسروں کے کندهوں پر۔
@hinaparvezbutt Hina! Are you really this average in wit, intellectual and comprehension of the facts?
Looking at your persona, it is so hard for me to digest the fact that someone with such a remarkable lookout, would act so peevishly in such matters. Ludicrous! Indeed. You can always avoid.