ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں کے یہاں جولوگ عقل شعوررکھتےہےقومی حقوق کےلئےآواز اٹھاتےہے
انکونامعلوم افرادکےذریعےدنیاسےاٹھا دئےجاتے
یا
غدارکافر ایجنٹ میں شمارہوتےہے
🟥 پختونخوا دو دہائیوں سے بدامنی، تباہ حال انفراسٹرکچر اور شدید معاشی بحران کا شکار ہے۔
🟥 صوبے کے 68 فیصد نوجوانوں کے لیے کوئی واضح پالیسی موجود نہیں، جس سے مستقبل مکمل طور پر غیر یقینی ہے
🟥 وفاق کی جانب سے قبائلی اضلاع کے ساتھ مسلسل ناانصافی اور وعدہ خلافی کا سلسلہ جاری ہے
🟥 قبائلی اضلاع کے لیے 157 ارب روپے خرچ کرنے کے دعوے کیے گئے، مگر زمینی حقائق ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں
🟥 2018 کے معاہدے کے مطابق 800 ارب روپے خرچ ہونے تھے، مگر یہ وعدہ بھی آج تک پورا نہیں ہو سکا
🟥 بدامنی کے باعث ترقی کا عمل مکمل طور پر جمود کا شکار ہے اور ریاست و عوام ��ے درمیان فاصلہ خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے
🟥 2025-26 کے بجٹ میں صرف 47 فیصد استعمال جبکہ 31 فیصد بجٹ لیپس ہونا حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے
🟥 صوبائی حکومت کی ناقص کارکردگی، منصوبہ بندی کا فقدان اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی کمی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں
🟥 130 ارب روپے کے ضمنی بجٹ پر ایوان کو اعتماد میں نہ لینا آئینی اور جمہوری سوالات کو جنم دیتا ہے۔
🟥 آئی ڈی پیز اور سیلاب متاثرین کے لیے 18 ارب اور 13 ارب روپے کے دعوے کیے گئے، مگر یہ واضح نہیں کہ یہ رقوم کہاں خرچ ہوئیں۔
🟥 تمام فنڈز اور پیکجز کی مکمل اور شفاف تفصیل عوام کے سامنے لائی جائے
نثار باز خان
رکن صوبائی اسمبلی، عوامی نیشنل پارٹی
#ANP | #ANPPakhtunKhwa | #NisarBaazKhan
میں پاکستان مسلم لیگ سے کہتا ہوں کہ ہمت کرو، جمہوریت اور آئین کی خدمت کرو۔ وہ آئین اور قوانین لاؤ جو عوام کو فائدہ دیں۔ ان وردی والوں سے اتنا نہ ڈرو انشاءاللہ ہم آپ کے ساتھ کھڑے ہوں گے جو بھی سختی ہوگی ہم سب ساتھ گزاریں گے اور ہر حد تک جائیں گے۔
#AimalWaliKhan | #ANP | #AwamiNationalParty
@AimalWali
میں لکھ کے دیتا ہوں کہ مسلم لیگ والوں کو بھی اسی دن پتا چلا ہوگا کہ بجٹ میں کیا ہے؟ ہماری بجٹ آئی ایم ایف میں بنتے ہیں، آپ اپنا وزیر نہیں بٹھا سکتے تو بجٹ کیا بنائیں گے؟
#AimalWaliKhan | #ANP
لوئر دیر: عوامی نیشنل پارٹی ��وئر دیر کے زیرِ اہتمام جندول میں شمولیتی تقریب کا انعقاد جس میں مختلف خاندانوں نے پاکستان تحریکِ انصاف سے مستعفی ہو کر عوامی نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ صوبائی جنرل سیکرٹری حسین شاہ یوسفزئی اور ضلعی صدر حاجی بہادر خان نئے شامل ہونے والے اراکین کو پارٹی کی سرخ ٹوپیاں پہنا رہے ہیں۔
#ANP | #ANPPakhtunkhwa | #ANPLowerDir
پنجگور میں سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں نازیہ شفیع اور ان کی والدہ کا غیر قانونی اغوا اور بہیمانہ تشدد ایک سنگین اور انسانیت سوز واقعہ ہے۔ شدید زخمی ہونے کے نتیجے میں نازیہ شفیع چند گھنٹوں بعد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے گئیں۔ یہ عمل انسانیت، اخلاقیات اور انسانی حقوق کے تمام عالمی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
بلوچستان میں ظلم اور بربریت کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ یہاں درندوں کو عام شہریوں، خاص طور پر خواتین، پر ظلم و جارحیت کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں، کوئی احتساب نہیں
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اس دل خراش واقعے کی فوری، آزاد اور شفاف تحقیقات کی جائیں، نازیہ شفیع اور ان کی والدہ پر سفاکانہ تشدد کرنے والے تمام اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے، اور بلوچ خواتین کے خلاف جاری ریاستی جبر و تشدد کا فوری خاتمہ کیا جائے۔
اور عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، اور بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تحریکوں پر لازم ہے کہ وہ بلوچ خواتین پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کے خلاف اپنی خاموشی توڑیں اور نازیہ شفیع، ماہ جبین بلوچ ��یسی خواتین کے تحفظ اور انصاف کے لیے آواز بلند کریں۔
اسلام آباد میں دہشت گردی کی روک تھام، گندم کی تقسیم اور سیلاب کی تباہ کاریوں پر اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوتی ہے، مگر احتجاج کے "چیمپین" صاحب اس میں شرکت سے یہ کہہ کر انکار کر دیتے ہیں کہ انہیں اپنے "خان" سے اجازت نہیں ملی۔ سوال یہ ہے کہ کل جو ون آن ون ملاقات ہوئی، کیا اس کی اجازت بھی لی گئی تھی؟ بند کمروں میں فیصلے نہ کرنے کی بھونگیاں مارنے والے کو کل بند کمرے میں اپنی اصل حیثیت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہوگا۔
یہ صوبہ اب بس ڈرامہ بازوں کے سپرد ہے،ایک جاتا ہے، دوسرا آ جاتا ہے، سٹیج وہی رہتا ہے... اور ہم تماشائی بن کر انجوائے کرتے رہتے ہیں۔
تاترہ اچکزئی نے ریٹائر ہوکر جزیرے نہیں لینے اور نہ جرنیلوں کیطرح بھاگ کر کہیں اور پناہ لینی ہے۔ بلکہ وہ ازل سے ابد تک اپنی پشتون سرزمین پر آباد ہے اور آباد رہیگی ۔ جنہوں نے اسکے خلاف کمپائن شروع کر رکھی ہے ، اور اپنے بھونکو اس پر چھوڑے ہوئے ہیں انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھاگنا ہے
تاترہ اچکزئی@ThaterraAchakکے خلاف جاری میڈیا ٹرائل انتہائی افسوسناک، شرمناک اور پست ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک ��علیم یافتہ، باشعور بہن، جو یونیورسٹی کی سطح پر درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، ان کے سنجیدہ خیالات اور آباؤ اجداد کی دھرتی سے محبت کے اظہار پر اس قدر شدید ردِعمل دینا ایک ایٹمی طاقت رکھنے والی ریاست کے کھوکھلے پن، غیر فطری وجود اور عدم برداشت کو برملا ظاہر کرتا ہے۔
The existing hybrid system, which is initiated by such figures as General Bajwa, General Faiz, and Imran Khan, cannot be regarded as national politics in any civic meaning. It is closer to authoritarianism, whereby the power is concentrated in the hands of individuals or small groups of people and is based on will, devotion or whims but not on laws. Such individualisation of power results in arbitrary rule where decisions made are more of the wishes of the leader as opposed to competence, selectivity in application of laws due to political reasons and even economic opportunities given as favours. These characteristics undermine the social institutions and change courts into political apparatus, legislatures into rubber stamps, civil services into nests of loyalists and the media into subservient instruments. This is characteristic of an authoritarian government and not participatory politics.
I am deeply saddened by the loss of civilian lives in the recent Pakistani aerial strikes on Afghanistan. A tragedy that claimed the lives of women, children, and aspiring young cricketers who dreamed of representing their nation on the world stage.
It is absolutely immoral and barbaric to target civilian infrastructure. These unjust and unlawful actions represent a grave violation of human rights and must not go unnoticed.
In light of the precious innocent souls lost, I welcome the ACB’s decision of withdrawing from upcoming fixtures against Pakistan. I stand with our people at this difficult time, our national dignity must come before all else.