#OnThisDay
Speech of Former Prime Minister Imran Khan at #UNGA on September 27, 2019. He made a compelling case for Kashmir and all the Muslim Ummah.
#PTISMT
عاصم منیر کے بھیجے ہوئے قاتلوں نے آج راولاکوٹ میں پانچ معصوم لوگوں کو شہید کیا۔ آزاد کشمیر میں "کشمیر بنے گا پاکستان" نعرے اور خواب کا جنازہ اٹھ رہا ہے۔
جلد بازی میں جواب دینے کے بجائے وقت لگا کے مراد سعید کی ٹائم لائن کو اچھے سے دیکھنا ضروری سمجھا۔
مراد سعید پچھلے سال ہر مہینے کم و بیش 3-4 پوسٹ کرتے رہا۔ اکتوبر میں سہیل آفریدی کے سی ایم بننے کے بعد 26 اکتوبر کو پوسٹ کی اور پھر اُس کے بعد چار مہینے بعد فروری میں پوسٹ کی۔ جی چار مہینے کا عرصہ کوئی پوسٹ نہیں کی۔
مراد نے اکتوبر کے بعد سے اب تک 9 مہینوں میں صرف 7 پوسٹ کی ہیں، واحد فروری میں کی گئی پوسٹ میں عمران خان کی صحت پہ بات کی، باقی کی پوسٹ میں اپنے ہی گُن گاتے یا صفائیاں دیتے نظر آئے۔
اس مہینے جولائی میں دو دنوں میں دو پوسٹیں دونوں اپنی صفائی میں۔
کچھ ہے جو چل رہا ہے، میری ناقصر رائے میں دو صورتوں کے قوی امکانات ہیں:
1- سہیل آفریدی گینگ جو کچھ کر رہا ہے وہ مراد سعید کے مکمل آشیرباد سے کر رہا ہے۔
2- مراد سعید نومبر سے بھائی لوگوں کی دستِ شفقت میں ہے۔
(ایک تیسری صورت بھی ہو سکتی ہے، مگر اس سے مراد سعید کا بنا ہوا بُت ٹوٹ کے پاش پاش ہوتا ہے)
اگر اوپر دئیے گئے میں سے کوئی ایک بھی درست ہے اور کوئی تیسری وجہ نہیں ہے، تو پھر یہ بھی لکھ رکھئے کہ آفیشل کے اکاوئنٹ بھی مینج ہو چکے ہیں۔ تبھی تو اب خان کا اکاوئنٹ پاکستان لاو، آفیشل اکاوئنٹ پاکستان لاو کی کوئی بھی فرمائش نہیں کرتا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر پارٹی کے عہدیداران ٹاپ سے کم از کم مڈل مینجمنٹ لیول تک مینج ہو چکے ہیں۔
اس وقت اگر عمران خان کی زندگی کے لیے کوئی لڑ رہا ہے اپنی جان کی پروا کیے بغیر سر پہ حقیقی معنوں میں کفن باندھ کر اگر کوئی سڑکوں پہ نکلا ہوا ہے تو وہ عمران خان کی بہنیں ہیں۔ یا عمران خان کے لیے خان سے یکجہتی کے لیے نکلی ہوئی عوام۔ لیڈر شپ نے جس قدر بیغیرتی دکھائی ہے ایسی بیغیرتی ہیرا منڈی کی جسم فروش گشتیاں بھی نہیں دکھاتیں۔
مراد سعید ہو، سہیل آفریدی ہو، چاہے کوئی بھی کھمبا ہو، مجھے ایک آنے کی پروا نہیں ہے، نا ہی کوئی لحاظ ہے، ہم اس جنگ میں حقیقی آزادی کے لیے ہیں، کسی کے بھی عمران خان تک رسائی کی وجہ سے عزت نہیں ہے، عزت مزاحمت کی ہے، عزت حقیقی آزادی کے لیے جد و جہد کے لیے ہے۔
عمران خان نے یہ کہا تھا، عمران خان نے وہ کہا تھا کے پیچھے کسی کو چھپنے نہیں دیا جا سکتا، عمران خان جیل میں ہے، اور عمران خان کو قیدِ تنہائی میں رکھا ہوا ہے، اور مقصد واضح ہے، نا خان سے ملاقات ہو، نا خان کا پیغام باہر آئے اور باہر جو حرام ٹوپیاں یہ کھمبے عسکری تال پہ ناچ ناچ گھنگرو توڑ رہے ہیں یہ تماشہ ایسے ہی چلتا رہے۔
سوال کرنا ہو گا
جواب مانگنا ہو گا
گریبان پکڑنا ہو گا
حق چھیننا ہو گا
الف سے یے تک سب کے سب ہی عمران خان کے کھمبے ہیں، مراد سعید ہو چاہے کوئی اور ہے، اگر مزاحمت نہیں کر سکتے تو بہتر ہے عوام کو لالی پاپ چوسوانے کے بجائے جو عسکری چوس رہے ہیں وہ خود کسی کونے میں منہ چھپا کے چوسیں، عوام کے پاس اب انہیں دینے کو جوتوں اور گالیوں کے سوا کچھ نہیں بچا۔
------------------------------------------------------
ستمبر سے جولائی تک 10 مہینوں میں مراد سعید کی کی گئی پوسٹ کی تفصیل یہ رہیں۔
19 جولائی: علیمہ خان کی درخواست کہ وہ روپوش ہونے سے باہر آئیں، اسے مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ صرف اس وقت باہر آئیں گے جب عمران خان خود انہیں کہیں گے۔
17 جولائی: "نیم پلیٹ" کے تنازعے پر جواب دیا اور اپنی پوزیشن واضح کی۔
11 جون: آزاد کشمیر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں اپنے حلقے میں 13 جون کو ہونے والے احتجاج کے بارے میں پوسٹ کی۔
5 مارچ: اپنی کتاب کی اشاعت کے بارے میں پوسٹ کی۔
27 فروری: کے پی کے میں فوجی آپریشنز اور افغانستان کی صورتحال پر ایک طویل پوسٹ لکھی۔
25 فروری: عمران خان کی صحت کے بارے میں پوسٹ کی، اس وقت جب عمران خان کو الشفاء ہسپتال لے جایا گیا تھا۔
26 اکتوبر: شہید ارشد شریف کی یاد میں دو سطری پوسٹ۔
23 اکتوبر: ارشد شریف شہید کے بارے میں ایک اور مختصر پوسٹ، ڈھائی سطروں کی۔
10 اکتوبر: آخری مرتبہ مراد سعید نے ڈی جی آئی ایس پی آر کو براہِ راست جواب دیا تاکہ جھوٹے بیانیے کا رد کیا جا سکے۔ یہ آخری پوسٹ تھی جسے حقیقی معنوں میں "مزاحمت" قرار دیا جا سکتا ہے۔
26 ستمبر: سوات میں جرگے کی نوعیت کی ایک جلسے کے بارے میں پوسٹ، جو امن کے موضوع پر مرکوز تھی۔
24 ستمبر: ایک اور پوسٹ جس میں انہوں نے براہِ راست اس چیز کو "فوجی فسطائیت" قرار دیا۔
19 ستمبر: ایک بار پھر سوات میں جلسے کے بارے میں پوسٹ۔
17 ستمبر: فوج اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق ایک اور براہِ راست پوسٹ، جس میں فوج کے ممکنہ ملوث ہونے پر سوالات اٹھائے گئے
سہیل آفریدی چونک گئے
سٹریٹ موومنٹ - آزادی یا موت والے کنٹینر- رہائی فورس کا کیا بنا ؟
اگر عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی تو پھر آپ نے کون سے عمران خان کے احکامات مان لیے؟
سہیل آفریدی بولنے لگے: میں منافق نہیں ہوں
ڈرون حملے کے خلاف پرچہ کیوں نہیں کٹوایا؟
سہیل آفریدی کہنے لگے، میں مڈل کلاس سے ہوں
آپ عمران خان سے ملاقات کرانے کے لیے کتنی بار اڈیالہ جیل گئے ہیں؟
سہیل آفریدی بولے: جانے کا فائدہ نہیں، ملاقات نہیں ہونی۔ مجھے محسن نقوی صاحب نے بتایا تھا
عمران ریاض خان نے,isi کو ناکام ثابت کردیا!!
ایجنسیاں اپنا کام چھوڑ چکی ہے,
اسلیے ایجنسیوں کو ایک کے بعد ایک شکست ہورہی ہے, ایجنسیاں سیاست میں میں کمال مہارت سے عمران خان کی ملاقاتو کو روکنے میں مشغول ہے, خواتین کو کیسے قید رکھنا ہے!!