کالعدم تنظیم بی ایل ایف کی خاتون کمانڈر بلقیس دیدگ عرف الماس کی ہلاکت کے پیچھے محبت کے فریب، نازیبا ویڈیوز اور بلیک میلنگ کی ایک ایسی اندرونی کہانی منظرِ عام پر آئی ہے جس نے ہر سننے والے کو دنگ کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، بلقیس دیدگ کو تنظیم ہی کے ایک اور کمانڈر، شیرا�� عرف شیش ناگ، نے اپنی شناخت کی طرح انتہائی زہریلے اور شاطرانہ انداز میں اپنے جال میں پھنسایا۔
شیراز نے پہلے بلقیس کو محبت کے جھوٹے خواب دکھائے اور پھر دھوکے سے اس کی نازیبا ویڈیوز بنا لیں۔ بلقیس کے والدین انتہائی غریب اور معاشرتی دباؤ کا شکار تھے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شیراز عرف شیش ناگ نے اسے ان ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔
بدنامی کے خوف اور بلیک میلنگ سے مجبور ہو کر بلقیس کو اپنے گھر بار کو چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کرنا پڑا۔ لیکن وہاں اس کا کوئی احترام یا مقام نہیں تھا، بلکہ تنظیم کے اندرونی کیمپوں میں اس کا شدید استحصال کیا گیا اور اس کی مجبوری کا بھرپور فائدہ اٹھایا گیا۔ اسی ذہنی و جسمانی اذیت اور استحصال کے خوفناک چکر کا انجام آخر کار گوادر میں اس کی زندگی کے خاتمے کی صورت میں ملا۔
اس واقعے نے ��لوچ معاشرے میں ایک شدید بحث اور تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ صدیوں پرانی بلوچ روایات، جہاں خواتین کی عزت اور حرمت کو سب سے مقدم سمجھا جاتا ہے، ان تنظیموں کے ہاتھوں بری طرح پامال ہو رہی ہیں۔ مقامی عمائدین کا کہنا ہے کہ یہ تنظیمیں بلوچ حقوق کے نام پر دراصل بلوچ غیرت اور عزت کو نیلام کر رہی ہیں۔
عام بلوچ شہریوں میں یہ احساس شدت اختیار کر رہا ہے کہ ان تنظیموں کی سرگرمیوں سے نہ صرف بلوچ قوم بدنام ہو رہی ہے، بلکہ عام بلوچ خواتین کی عزت اور تحفظ بھی شدید خطرے میں ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ حقوق کی آڑ میں یہ گروہ خود بلوچوں اور ان کی خاندانی اقدار کے سب سے بڑے دشمن بن کر ابھرے ہیں، جن کا خمیازہ معصوم اور غریب خاندانوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
بلوچستان کی سرزمین ہزاروں سال پرانی تہذیب، تاریخ اور ثقافتی ورثے کی امین ہے۔ مہرگڑھ کی قدیم تہذیب سے لے کر تاریخی عبادت گاہوں تک، بلوچستان برصغیر کی تاریخ میں منفرد مقام رکھتا ہے۔
بلوچستان کے ضلع لسبیلہ میں واقع ہنگول نیشنل پارک پاکستان کے سب سے بڑے قومی پارکوں میں شامل ہے، جسے 1988 میں قومی پارک کا درجہ دیا گیا۔
اسی پارک میں صدیوں پرانا ہنگلاج ماتا مندر واقع ہے، جسے نانی مندر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ہندو مذہب کے مقدس ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہر سال ہزاروں عقیدت مند زیارت کے لیے آتے ہیں
بی ایل اے کے کارندے جہاں بھی چھپے ہوتے ہیں سیکیورٹی فورسز کے پاس ایسی ٹیکنالوجی اور وسائل ہیں کہ انہیں تلاش کرلیتے ہیں،مستونگ میں خفیہ اطلاع پر آپریشن کیا گیا جہاں بی ایل اے کا خفیہ ٹھکانہ تباہ کردیا گیا اور 3 کارندوں کو ہلاک کردیا گیا
بلوچ لڑکیوں کا ایسا گھناؤنا استعمال کبھی کسی نے نہیں کیا جو بی ایل اے اور بی ایل ایف کی جانب سے کیا جارہا ہے۔
گوادر حملے میں جو بلوچ لڑکی نظر آئی،اس کے پیچھے مسلسل کئی سال کی محنت ہے جو بی وائے سی کے پلیٹ فارم سے کی گئی۔
آپ جانتے ہیں کہ کوئٹہ چھوڑ کر گوادر میں دھرنے دیے جاتے تھے،درحقیقت وہ اسی مقصد کے تحت سب ہوتا تھا کہ بلوچ معصوم لڑکیوں کو اپنے عزائم کے لئے استعمال کیا جائے۔
جو لڑکیاں بلیک میلنگ یا استحصال کے باعث لاپتہ ہوئی تھیں،ان کے والدین نے رپورٹس بھی درج کرائیں اور دہشتگرد تنظیموں نے ریاست کے خلاف لاپتہ کرنے کا پروپیگنڈہ کیا۔آج وہی لڑکیاں زبردستی دہشتگرد حملوں میں استعمال کی جارہی ہیں۔
بلوچ بیٹی عالمی اعزاز جیت رہی ہے، دوسری طرف کچھ بلوچ خواتین مسلح تنظیموں کا حصہ بن رہی ہیں فرق راستوں کا ہے، شناخت کا نہیں
پنجگور کی ڈاکٹر گل سیمین میروانی نے ینگ کنسلٹنٹ گائناکالوجسٹ ��نٹرنیشنل ایوارڈ جیت کر ثابت کیا کہ مشکلات کو پیچھے چھوڑ کر محنت، تعلیم اور قابلیت کے ذریعے دنیا میں مقام بنایا جا سکتا ہے
یہ کامیابی اُن بلوچ خواتین کے لیے بھی ایک پیغام ہے جو مسلح تنظیموں کا حصہ بن چکی ہیں کہ بلوچ قوم کی خدمت کے لیے تشدد ہی واحد راستہ نہیں۔ علم، طب، تعلیم اور سماجی خدمت کے ذریعے بھی اپنی قوم کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے
ڈاکٹر گل سیمین جیسی بیٹیاں امید، حوصلے اور روشن مستقبل کی علامت ہیں بلوچ خواتین کی اصل طاقت اُن کی صلاحیتیں ہیں، اور بلوچستان کا مستقبل امن و ترقی سے جڑا ہے
@BalochInsight بی ایل اے کا اصل چہرہ سامنے آ گیا۔ نابالغ بلوچ بچوں کو ٹک ٹاک پر پھانسا، پہاڑوں میں لے جا کر ان کی عزت لوٹی، پھر بلیک میل کر کے چوری ڈکیتی اور خودکشی پر لگا دیا۔ یہ آزادی کی جنگ نہیں، بلوچ قوم کے ساتھ خیانت ہے۔ پاکستان آرمی زندہ باد، ان دہشت گردوں کا خاتمہ کرو!
@BalochInsight جس نے بھی کسی بلوچ بچی کو ذہنی دباؤ، بلیک میلنگ یا پروپیگنڈے سے ہتھیار تک پہنچایا، اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ثبوت سامنے لاؤ، نام لو، عدالت میں ثابت کرو، نعروں کے پیچھے مت چھپو۔
بلوچستان کے عوام صدیوں سے امن پسند ہیں۔ دہشت گردی اور علیحدگی پسندی نے صوبے کو ترقی سے محروم رکھا۔ سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں امید کی کرن ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم سب مل کر تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر پر توجہ دیں تاکہ بلوچستان واقعی ترقی یافتہ بن سکے۔ امن ہی حقیقی آزادی ہے!
@ZahidlBaloch نفرت اور مجبوری کا عنصر ہے بلیک میلنگ بھی کی جاتی ہے ان کے گھر والوں کو تنگ بھی کیا جاتا ہے اور بری ہرکتیں بھی ریکارڈ کی جاتیں ہیں تا کہ ان کو بلیک میل کیا جائے
زرین مگسی کا مسلح تنظیموں کو دوٹوک پیغام
بلوچیت کے نام پر خواتین کی تلاشی اور عوام کو ہراساں کرنا ناقابلِ قبول ہے! جھل مگسی کا رخ کرنے اور مقامی روایات و خواتین کے احترام کو پامال کرنے سے باز رہیں۔ بلوچیت عزت، غیرت، رواداری اور خواتین کے احترام کا نام ہے، خوف اور تذلیل کا نہیں۔
گوادر میں بی ایل ایف کے حملوں کو ناکام بنانے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے کلیئرنس آپریشن مکمل کرلیا،10 دہشتگرد ہلاک۔
کل رات گوادر میں گبد بارڈر کراسنگ اور گوادر شہر کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ کارروائیوں کی کوشش کی گئی
عوامی مقامات،املاک کو نقصان پہنچایا گیا،آگ لگائی گئی،��اڑیاں جلائی گئیں،ایک مقامی بلوچ شہری کو بھی شہید کردیا۔
سیکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ایک خاتون خودکش حملہ آور جو دھماکہ کرنے میں ناکام رہی اُس سمیت 10 دہشتگرد ہلاک ہوگئے،تاہم سیکیورٹی فورسز کا کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔
مقامی بلوچ عمائدین نے کہا ہے کہ حملے میں بی ایل ایف کی جانب سے بلوچ خاتون کو زبردستی استعمال کرنا بلوچ خواتین کی حرمت پر حملہ اور اُن کا کھلم کھلا استحصال ہے۔
اپڈیٹ
دہشتگردوں نے کُل 4 مقامات پر حملہ کیا جسے ناکام بنادیا گیا،حملے میں بارود سے بھری گاڑی بھی استعمال کی گئی لیکن دہشتگرد کسی ایک بھی ٹارگٹ پر کامیاب نہ ہوسکے۔اب تک کی اطلاعات کے مطابق تین سے زائد دہشتگرد مارے گئے۔
البتہ بلوچ مزدوروں اور ٹرک ڈرائیوروں کا نقصان ضرور کرکے فرار ہوئے ہیں دو مزدوروں اور ایک ٹرک ڈرائیور کو شہید کرگئے ہیں اور ان کے ٹرک جلادیے
بی ایل ایف نے کل گوادر میں دو چار حملہ آور بھجوائے،جنہیں سیکیورٹی فورسز نے موقع پر ہلاک کردیا،جبکہ دوسری جانب افغانستان میں کسی نامعلوم مقام پرپروپیگنڈے اور سوشل میڈیا کے لئے مواد سازی کی گئی۔
کسی خالی کمپاؤنڈ میں ویڈیو شوٹنگ کی گئی،یہ کیسا مقابلہ چل رہا ہے جس میں دوسری جانب سے فائرنگ ہی نہیں ہورہی؟کوئی جوابی فائرنگ ہی نہیں کررہا؟
🚨گوادر سمیت بلوچستان کے مختلف حصوں سے والدین نے اپنی بچیوں کے لاپتہ ہونے کی رپورٹس درج کرائی تھیں،کل گوادر حملے میں بی ایل ایف نے خود سامنے آنے کی بجائے خواتین کو سامنے کیا،ویڈیوز میں ایک دو لڑکیوں کو بندوق کیساتھ دیکھا جاسکتا ہے۔
یہ وہی لڑکیاں ہیں جن کے والدین نے رپ��رٹس درج کرائی تھیں کہ ان کی بیٹیاں ذہنی تناؤ کا شکار تھیں،الجھن کا شکار تھیں،انہیں کسی قسم کی بلیک میلنگ کا سامنا تھا یا پھر وہ کسی پروپیگنڈے کا شکار ہوچکی تھیں۔
بی وائی سی کے زیادہ تر اجتماع گوادر میں ہوتے تھے،کوئٹہ چھوڑ کر گوادر میں دھرنے دیے جاتے تھے،آج اُن دھرنوں کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ بلوچ بچیاں استحصال سہہ کر بندوق پکڑ کر بی ایل ایف جیسے گروہ کی معاونت کررہی ہیں
گوادر میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران 7 دہ ش ت گرد ہلاک ہو گئے سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، علاقے میں کلیئرنس آپریشن تاحال جاری ہے جس کا مقصد اردگرد کے علاقوں میں ممکنہ آئی ای ڈی (دھماکہ خیز مواد) کے خطرات کا خاتمہ اور علاقے کو مسلح افراد سے محفوظ بنانا ہے