@Ansari5k आमतौर पर बालों को एक बार कलर करने के बाद कम से कम 4 से 6 हफ्तों का अंतर (गैप) होना बहुत जरूरी है, ताकि बाल और स्कैल्प (खोपड़ी की त्वचा) खुद को दोबारा स्वस्थ बना सकें। रोज बालों को कलर करना, बालों के लिए 'केमिकल खुदकुशी' की तरह है।"
@Ansari5k آخری دنوں میں جب انہوں نے بال دھوئے، تو بالوں کی جڑیں (Hair Follicles) کیمیکلز کے شدید حملے کی وجہ سے اندر سے مر چکی تھیں۔ سائنس کی زبان میں اسے کیمیکل برن (Chemical Burn) کہتے ہیں پانی پڑتے ہی وہ کمزور بال، جو صرف کھوپڑی کے ساتھ ہلکے سے چپکے ہوئے تھے، جڑ سے ٹوٹ کر ہاتھ میں آ گئے
@Parizaad_reborn اس میں دیا گیا ڈیٹا سال 2024 کے آغاز کے معاشی حالات کے مطابق صحیح اور مستند ہے۔ یہ موازنہ واضح کرتا ہے کہ بنگلہ دیش نے پچھلی دو دہائیوں میں مسلسل معاشی ترقی کی ہے، جبکہ پاکستان کو سیاسی اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
@Parizaad_reborn بنگلہ دیش نے تعلیم اور بالخصوص خواتین کی تعلیم پر بہت کام کیا ہے، جس کی وجہ سے ان کی شرح خواندگی 77% سے 78% تک پہنچ چکی ہے، جبکہ پاکستان اب بھی 60% سے 62% کے آس پاس موجود ہے۔
@Parizaad_reborn بنگلہ دیش کی بنیادی طاقت اس کی ٹیکسٹائل اور تیار شدہ لباس (Ready-made Garments) کی صنعت ہے، جس کی بدولت اس کی برآمدات 55 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں۔ پاکستان کی برآمدات طویل عرصے سے 27 سے 30 ارب ڈالر کے درمیان رکی ہوئی ہیں۔
@Parizaad_reborn سال 2023-2024 میں پاکستان میں مہنگائی کی لہر تاریخی سطح پر تھی، جہاں یہ شرح 23% سے 30% کے درمیان رہی۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش میں بھی مہنگائی بڑھی لیکن وہ 9% سے 10% کے آس پاس رہی۔
@QasimKhanSuri دانتوں کے نیچے ٹریکنگ چپس لگانے اور تمام ڈینٹسٹ خریدنے کا دعویٰ صرف سوشل میڈیا کی حد تک ایک "پروپیگنڈا سٹوری" یا فکشن ہے، جس کا حقیقت اور سائنس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
@QasimKhanSuri جی پی ایس (GPS) کا کام کرنا: لوکیشن ٹریسنگ کے لیے جی پی ایس ریسیور چاہیے ہوتا ہے، جس کے لیے کھلی فضا یا انٹینا کی ضرورت ہوتی ہے۔ بند منہ اور کنک��یٹ کی عمارتوں کے اندر یہ ٹیکنالوجی اس طرح کام نہیں کر سکتی۔
@QasimKhanSuri سگنل بلاکنگ: انسانی جسم، ہڈیاں، گوشت اور دانتوں کا اینمل (Enamel) ریڈیو سگنلز کو شدید بلاک کرتے ہیں۔ دانت کے اندر لگی اتنی چھوٹی چپ کا سگنل باہر نکل کر سیٹلائٹ تک پہنچنا فزکس کے اصولوں کے مطابق ناممکن ہے۔
@QasimKhanSuri پاور سورس (Power/Battery): کسی بھی ایسی چپ کو جو مسلسل سگنل بھیجے (تاکہ لوکیشن ٹریس ہو سکے)، بجلی یا بیٹری کی ضرورت ہوتی ہے۔ دانت کے نیچے یا فلنگ (Filling) میں اتنی جگہ نہیں ہوتی جہاں ایسی بیٹری فٹ کی جا سکے جو سالہا سال کام کرے۔
@enkidureborn@manopatano اگر کوئی جماعت "مطلق دھاندلی" یا مکمل کنٹرول کے ساتھ الیکشن لڑ رہی ہو، تو وہ 35 یا 100 ووٹوں سے اپنے مرکزی امیدواروں (جیسے عاطف خان جو پٹھانکوٹ/مردان میں پی ٹی آئی کا بڑا چہرہ تھے) کو کبھی ہارنے نہ دے۔
@enkidureborn@manopatano 2018 کے الیکشن میں ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی تھی کہ انڈیا اور پاکستان کے تجزیہ کاروں کے مطابق، تقریباً 20 سے زائد نشستیں ایسی تھیں جہاں 'مسترد شدہ ووٹوں' کی تعداد ہار جیت کے مارجن سے زیادہ تھی۔ یعنی اگر وہاں صرف چند درجن مسترد ووٹوں کو درست تسلیم کروا لیا جاتا، تو پی ٹی آئی ۔
@enkidureborn@manopatano 6. NA-140 (شیخوپورہ) – خالد محمود
فاتح: جاوید لطیف (PML-N)
رنر اپ: خالد محمود (PTI)
ہار کا مارجن: یہ نشست بھی ن لیگ اور پی ٹی آئی کے درمیان کڑے مقابلے کے بعد تقریباً 800 ووٹوں کے فرق سے ن لیگ کے حق میں گئی تھی۔
@enkidureborn@manopatano 5. NA-37 (ٹانک) – حبیب اللہ خان
فاتح: اسعد محمود (MMA) — 28,170 ووٹ
رنر اپ: حبیب اللہ خان (PTI) — 27,651 ووٹ
ہار کا مارجن: 519 ووٹ
@enkidureborn@manopatano NA-230ڈاکٹر فہمیدہ مرزاجی ڈی اے / پی ٹی آئی اتحادی)
فاتح: رسول بخش چانڈیو (PPPP)
مارجن: یہاں ابتدائی طور پر پی ٹی آئی کی اتحادی فہمیدہ مرزا کو چند سو ووٹوں سے ہرا دیا گیا تھا، تاہم بعد میں دوبارہ گنتی میں وہ صرف 86 ووٹوں کے مارجن سے کامیاب قرار پائیں۔
@enkidureborn@manopatano 3. NA-91 (سرگودھا) – چوہدری عامر سلطان چیمہ
فاتح: ذو الفقار علی بھٹی (PML-N) — 110,525 ووٹ
رنر اپ: عامر سلطان چیمہ (PTI) — 110,421 ووٹ
ہار کا مارجن: صرف 104 ووٹ
یہاں بھی مقابلہ اتنا سخت تھا کہ بعد میں دوبارہ گنتی اور قانونی چارہ جوئی کے معاملات طویل عرصے تک چلتے رہے۔
@enkidureborn@manopatano NA-108فرخ حبیب کی
اگرچہ حتمی گنتی میں فرخ حبیب چند سو ووٹوں سے جی��ے تھے، لیکن پنجاب کی کئی دیگر نشستوں پر پی ٹی آئی کے امیدوار بالکل اسی طرح چند سو ووٹوں سے ہارے جیسے NA112 (ٹوبہ ٹیک سنگھ) میں پی ٹی آئی کے چوہدری اشفاق ن لیگ کے جنید انوار سے محض 300 کے قریب ووٹوں سے ہار گئے تھے۔