فریال تال پور کو فکر تھی کہ قیامت کے دن محترمہ بینظیر بھٹو کو سندھ کی تقسیم کا کیا جواب دیں گی، اب سوال یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو سندھ کے سرکاری اسکولوں میں 1561 میٹرک سے کم تعلیم یافتہ اساتذہ کی بھرتی کا کیا جواب دیں گی؟
حامد میر آن فائر 🔥
لاہور پی پی 173 راجگڑھ: میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے لنگر پر پولیس گردی اور فروعونیت!
ہینڈلرز کے اشارے پر پولیس کا میلاد کی تقریب پر دھاوا۔ لنگر تقسیم کرنے و��لوں پر تشدد، 16 افراد گرفتار اور 2 شہری جلتے تیل کے کڑاہے میں گر کر شدید زخمی!
زبیر نیازی کی والدہ سمیت 20 سے زائد خواتین اور بچوں کو مکان میں باہر سے تالے لگا کر محصور کر دیا گیا۔ ایڈووکیٹ شرجیل نیازی، سعدیہ ایوب، مبین احمد اور خالد اعوان سمیت متعدد شہری گرفتار۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال، شہریوں کو حراساں اور موبائل فونز چھینے جا رہے ہیں۔
@zubairniazi
Uff! From buggy rides to red carpets rolled on to green areas we are obsessed with maintaining the remnants of a colonial culture to ensure the divide between rulers & ruled remains as wide & distinct as possible!
مجھے وزیر اعلی پنجاب کے چین کے چار روزہ دورے کی سمجھ نہیں آئ۰ دورہ شروع ہوتا ہے ہفتہ کے دن۰ یعنی پہلے دو دن تو چھٹی میں گزر گئے اتوار کے شمول۰ پیر کے دن شاید کوئ پولیٹکل پارٹی کے سیکریٹری سے ملاقات اور کسی دفتر کا دورہ ممکن ہو۰ منگل کے دن واپسی اور چار روزہ دورہ اختتام پزیر۰ خلاصہ چار میں سے تین دن سفر اور چھٹی اور ایک دن خانہ پوری۰ قوم کے کتنے کروڑ ضائع اس پر کوئ بات نہیں کرے گا۰
یہ بات کہ سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے عمران خان کو شفاء ہسپتال نہیں لے جایا گیا یہ سفید جھوٹ ہے،میرا گھر شفاء ہسپتال سے چار ساڑھے چار منٹ کی پیدل واک پر،میں نے عمران خان کے اڈیالہ نکلنے سے پہلے شفاء ہسپتال کے اردگرد چکر لگایا،بلاشبہ ہر پولیس ناکے پر لوگ تھے،بلاشبہ لوگ کھڑے تھے،بیٹھے تھے اور شفاء ہسپتال جانے والے ہر رستے پر پھول پھینک رہے تھے مگر یہ لوگ اتنےہرگز نہیں تھے کہ کسی قسم کا بھی کوئی سیکیورٹی مسلہ پیدا ہوتا اور پھر ان لوگوں میں زیادہ تر وہ فیملیاں تھیں جو اپنے بچوں کے ساتھ آ رہی تھیں اور واپس جا رہی تھیں اور وہاں ہرگز ہرگز کوئی سیکیورٹی مسائل نہیں تھے،اصل بات یہ ہےکہ یہی ہونا تھا،سپریم کورٹ اور کروڑوں عوام کی توہین ہونی تھی اور عمران خان نے شفاء ہسپتال کی بجائے پمز ہسپتال جانا تھا۔۔
دنیا میں کونسی ایسی حکومت ہوگی کونسی ایسی سیاسی جماعت ہوگی جسکی لیڈرشپ ایک مخالف کو پہلے جیل میں جیسے رکھا تھا وہ بھی سب کے سامنے ہے اور جب عدالت نے حکم دیا آپ اس بندے کا علاج کروا لیں لیکن جو انہوں نے کیا ہے پاکستان کی تاریخ میں اسکی مثال نہیں ملتی اتنا بغض اتنی نفرت کہ آپ ایک بندے کا ہسپتال میں علاج کروانے کو تیار نہیں ہیں
اطہر کاظمی
اس وقت ملک پر مسلط ٹولہ ظالموں کا ایک جتھہ ہے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ عمران خان جیسے بڑے آدمی کے ساتھ اس قدر گھناؤنا سلوک کیا جائےگا۔
قوم خود فیصلہ کرے کہ یہ ظلم کب تک برداشت کرنا ہے۔۔۔
”عمران خان نے کہا، میری قوم کو بتائو یہ جیل میں میرے ساتھ کتنا ظلم کر رہے ہیں۔ یہ انسان نہیں ہیں، انہوں نے مجھے قید تنہائی میں ٹیلی ویژن یا پڑھنے کیلئے کسی بھی قسم کے مواد سے دور رکھا۔ میرے سر میں کچھ ہوتا تھا، میں نے ڈاکٹرز سے اپنی طبیعت کا کئی بار ذکر کیا مگر انہیں کوئی پرواہ نہیں۔“ ہمشیرہ اعظممئ خان، 9 ماہ بعد عمران خان سے ملنے کے بعد ملاقات کا احوال بتاتے ہوئے آبدیدہ
ڈاکٹر عظمی کو کیسے لیجایا گیا؟
اندھیرے میں جنگل میں لیجایا گیا؟
بتایا گیا یہ PIMS ہے
مکمل اندھیرا
فون کی بتی سے راستہ دکھایا
عمران خان ایک اندھیرے کمرے می پہلے سے موجود
ڈاکٹر عارف کے علاوہ کسی اور کو نہیں پہچانا
خان نے بتایا بہت ظلم کررہے ہیں
کون سی دوا کوئی پتا نہیں؟
"مجھے بار بار کہا کہ یہ بہت ظلم کررہے ہیں ، جیل میں جو ڈاکٹرز آئے نے کہا کہ یہ بیماری نہیں human contact نہ ہونے کی وجہ سے ہورہا ہے دو دن اخبار دیا پھر بند کردیا،عمران خان کی ایک آنکھ پر پٹی لگی ہوئی تھی"۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان
سپریم کورٹ نے جب دس مئی کو عمران خان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا تب اس وقت کی اسٹبلشمنٹ نے باہر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی تھی اور عمران خان نے جیل کے اندر سے پیغام دیا تھا کہ یہ سب کون کروا رہا ہے
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے عدالتی حکم کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کرنے جا رہی ہے۔ حالانکہ رانا ثنااللہ چند گھنٹے پہلے اس فیصلے کو میرٹ پر قرار دے کر اس فیصلے پر عملدرآمد کا کہہ چکے ہیں۔
ہو سکتا ہے اب کسی بڑی ’’گڑبڑ’’ کا احساس ہو گیا ہو۔ لیکن حکومت کو یہ ’’چھوٹے چھوٹے‘‘ مشورے دینے والے حکومت کے خیرخواہ نہیں، بدترین دشمن ہیں۔ اپنے ماضی کا ریکارڈ سامنے رکھیں۔ کچھ گریس کا مظاہرہ کریں۔ کچھ خدا خوفی کریں اور کم از کم اتنا سوچیں کہ کل کو تاریخ آپ کے فیصلوں کو کس نظر سے دیکھے گی۔۔۔
My brother and I are trying to travel to Pakistan to see our father. For 914 days, he has been held in solitary confinement while his health deteriorates and he is denied access to independent medical care.
Now the government is deliberately refusing to process our visas. Denying a prisoner treatment is cruel. Denying his children the right to see him is collective punishment. I call on international human rights organisations and governments to speak out and act before irreversible harm is done.