صادق آباد کے علاقے کوٹ سبزل جو سندھ اور پنجاب کی سرحد پر واقع ہے، وہاں جہانگیر ترین اور علی ترین کی جے ڈی ڈبلیو ایتھانول (Enthol) فیکٹری نے دو لاکھ سے زائد آبادی کی زندگی کو زہر آلود کر دیا ہے۔
اس فیکٹری سے نکلنے والا دھواں، کیمیکل، اور انتہائی تیز و ناقابلِ برداشت بدبو پورے علاقے میں پھیل چکی ہے۔ سانس لینا محال ہو چکا ہے، بچوں، بزرگوں اور خواتین کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
بغیر کسی حفاظتی پلان کے گندہ پانی تالابوں میں چھوڑ رہی ہے، جس سے زیرِ زمین پانی آلودہ ہو رہا ہے۔ پینے کا صاف پانی میسر نہیں رہا اور علاقہ مکین سخت اذیت میں مبتلا ہیں۔
اور یہ سب کچھ پنجاب حکومت کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے، مگر کوئی ادارہ حرکت میں نہیں آ رہا۔
کیا مریم نواز کی حکومت صرف اشرافیہ کے مفادات کی محافظ ہ��
یہ گوگی گوگی کرتے ہیں گوگی اقبال گجر کی بہو تھی جو (ن) لیگ کا ایم پی اے تھا، گوگی نے جو گوجرانوالہ کا کمشنر رکھا ہوا تھا اس کا نام زاہد اختر زمان تھا ماموں جی، آجکل وہ چیف سیکرٹری ہے۔
یہ الفاظ حذف کریں، ا س طرح نہیں۔ڈپٹی اسپیکر
کرپشن، دو نمبری میں جہاں باقی ادارے 78 سال میں پہنچے ہیں وہ سفر پیرا فورس نے چند ماہ میں طے کرلیا ہے۔ اوکاڑہ، رینالہ خورد میں یہ اہلکار موٹر سائیکل واش کروانے کے بعد پیسے دینے سے انکاری ہے۔ شرٹ سے اپنی Name Plate بھی اتاری ہے تاکہ شناخت نہ ہو۔
@CMComplaintCell@DC_OKARA
علی امین کی اس پالیسی سے متفق ہوں،جب وفاق اور پنجاب میں اپوزیشن کو ترقیاتی فنڈز نہیں ملتے تو خیبر ہختون خواہ میں نہیں دئیے جانے چاہیے،بلکہ اس حلقے میں اپنے بندے کو فنڈز دئیے جائیں اور میں دیتا رہا ہوں۔
سہیل آفریدی کو بھی یہی پالیسی اپنانی چاہیے۔
یو اے ای میں زیرِ حراست پاکستانی شہری محمد شعیب جاں بحق، اہل خانہ کو ڈیڑھ ماہ بعد اطلاع
پاراچنار کے علاقے بلیامین کے رہائشی پاکستانی شہری محمد شعیب، جو متحدہ عرب امارات میں بطور ٹیکسی ڈرائیور کام کرتے تھے، دورانِ حراست جاں بحق ہو گئے۔
اہل خانہ کے مطابق حالیہ علاقائی کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران محمد شعیب کو مارچ 2026 میں متحدہ عرب امارات کے حکام نے حراست میں لیا، جس کے بعد ان کے خاندان کو طویل عرصے تک ان کی گرفتاری، مقام اور حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
اہل خانہ کو 16 جون 2026 کو اطلاع دی گئی کہ محمد شعیب 29 اپریل 2026 کو جیل میں انتقال کر چکے تھے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ وفات کے تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد اطلاع دینا تشویش ناک ہے، جبکہ تاحال پوسٹ مارٹم رپورٹ اور موت کی وجوہات سے متعلق بھی واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
مرحوم محمد شعیب کی میت آج صبح پشاور ایئرپورٹ پہنچے گی، جہاں اہل خانہ اور عزیز و اقارب ان کا آخری دیدار کریں گے۔
اہل خانہ اور متعلقہ حلقوں نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور دیگر اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، متحدہ عرب امارات کے متعلقہ سفارتی حکام سے وضاحت طلب کی جائے اور تحقی��ات کی جائیں کہ محمد شعیب کو کن وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا، دورانِ حراست ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا اور ان کی موت کن حالات میں ہوئی۔
مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کر کے مرحوم کے اہل خانہ کو حقائق سے آگاہ کیا جائے اور انصاف فراہم کیا جائے۔