2011 میں ترک صدر نے کہا تھا وہ دن آئیگا ہم دمشق کی جامع اُمیہ مسجد میں نماز پڑھیں گے اور تلاوت کرینگے ۔ اور پھر تاریخ نے 30 جُون 2026 کا وہ دن لایا جب ترک وزیر داخلہ اور انٹیلیجنس چیف دمشق گئے اور اُسی مسجد میں تلاوت فرمائی ۔
“تُرک بھولتے نہیں ہیں “ سند رہے
A donkey belonging to a Palestinian farmer was reportedly stolen and dragged to death behind a vehicle by Israeli settlers, including Avichai Suissa, an Israeli settler sanctioned by the EU, according to local reports.
سوڈان میں ایک ماں اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے معصوم بچوں کو بھوک سے مرتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔
یا الله آج کے انسان کو کیا ہوگیا ہے. ان مظلوموں کی مدد کرنے والا کیا اس دنیا میں کوئی نہیں بچا ؟ ؟ ؟
🚨بھارت کی ٹرین میں ایک مسلمان خاتون کی خفیہ تصاویر لیتے ہوئے ایک ہندو شخص کو لوگوں نے پکڑ لیا۔ یہ شخص ان تصاویر کو استعمال کرتے ہوئے ChatGPT سے خاتون کی فحش جعلی تصاویر بنانے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس کو روکیں۔ موٹر سائیکل سے اُتاریں۔ چھتّیس چپیڑیں ماریں۔ چند دن اندر کریں تو ہی شاید اگلی مرتبہ یہ بھی سیکھے اور دوسرے بھی۔
اپنے ماں باپ کی زندگی تباہ کرتے ہیں ایسے بچے۔
اگر آپ کی بھی بیٹیاں ہیں ۔ تو آیت نور کے والد کی آواز بنیں ۔ وہ ہاتھ جوڑ کر کتنے کرب سے کہہ رہا ہے کہ میں غریب ہوں میرا ساتھ دیں ۔ میری بیٹی 14 روز س�� لاپتہ ہے ۔ مجھے نیند بھی نہیں آرہی ۔
آپ تمام لوگوں سے اپیل ہے کہ آواز ٹھائیں ۔
#JusticeForAyatNoor
قدرت کی کٹائی کا انجام، بال بال بچ گئے!
درختوں کی بے دریغ کٹائی نہ صرف ماحول کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ گلگت بلتستان سمیت شمالی علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بھی بن رہی ہے۔
لیکن یہ منظر بھی ملاحظہ کیجیے کہ قدرت کی طرف سے درختوں کی کٹائی کا کیا انجام ہوا۔ درخت کاٹتے ہوئے یہ شخص خود اسی درخت کی زد میں آ گیا، مگر اللہ نے اس کی جان بچا لی اور وہ بال بال بچ گیا۔
اگر درخت اپنی بڑی ٹہنیوں کے ساتھ اس پر گرتا تو صورتحال انتہائی خطرناک ہو سکتی تھی۔ قدرت کبھی کبھی اپنے انداز میں انسان کو احساس دلاتی ہے کہ درخت زندگی ہیں، انہیں بے دریغ کاٹنا نہیں بلک�� محفوظ کرنا چاہیے۔
جناب نواب زادہ نصر اللّہ خان سربراہ پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی ۱۹۷۷ کے اسلامی انقلاب کے اہم کردار ۔ انتہائی ایمان دار سیاستدان بہت شریف اور اہلبیت کے چاہنے والے
محمد مرسی مصر کے مقبول ترین عوام رہنما جنہوں نے اقوام متحدہ میں کھڑے ہوکر کہا تھا " جو ہمارے نبیﷺ کی عزت اور احترام نہیں کرے گا ہم بھی اس کا احترام نہیں کریں گے ۔
جس نے کہا تھا اپنے ملک کے شیروں کو قتل نہ کرو ، ورنہ تمہارے دشمنوں کے کتے تمہیں کھا جائیں گے۔
جس کو فوجی آمر سیسی نے قید کیا تو ترکیہ نے مصر سے سفارتی تعلقات ختم کرلئے اور اپنے سفیر کو واپس بلالیا ۔
محمد مرسی کو قاہرہ کی بدنام زمانہ اسکارپیئن جیل کی کال کوٹھڑی میں مسلسل 23 گھنٹے قیدِ تنہائی میں رکھا گیا۔
وہ شوگر، ہائی بلڈ پریشر اور گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، لیکن مصری حکومت نے انہیں بنیادی طبی سہولیات اور ادویات سے مکمل محروم رکھا۔
ہیومن رائٹس واچ اور ان کے خاندان نے اسے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت "سلو پوائزننگ" اور قتل قرار دیا۔
شہادت والے دن انہیں جاسوسی کے ایک جھوٹے مقدمے کی سماعت کے لیے لایا گیا تھا۔ انہیں ایک آواز بن�� شیشے کے پنجرے میں بند کیا گیا تھا۔ کمزوری کے باوجود انہوں نے جج کے سامنے کھڑے ہو کر تقریباً 20 منٹ تک انتہائی دلیری سے اپنا آخری بیان ریکارڈ کروایا
اپنا بیان ختم کرنے کے فوراً بعد ان پر غشی طاری ہوئی اور وہ پنجرے کے اندر ہی گر پڑے۔ رپورٹس کے مطابق وہ تقریباً 20 منٹ تک وہیں بے سدھ پڑے رہے اور ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
مصری حکومت ان کی مقبولیت سے اس قدر خوفزدہ تھی کہ عوام کو ان کے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی اور رات کے اندھیرے میں سخت ترین سیکیورٹی کے پہرے میں انہیں قاہرہ کے ایک قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
"میرے لیے آج ایک بڑی خوشی کا دن ہے کیونکہ آج Proof of Life Certificate کے اس جدید نظام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
پینشنرز، چاہے وہ سویلین پینشنرز ہیں یا فوجی پینشنرز، بزرگ ہیں یا خواتین ہیں، ان کی سہولت کے لیے یہ جو نظام متعارف کیا جا رہا ہے، اس سے بڑی انسانیت کی اور کوئی خدمت نہیں ہو سکتی۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک بہت بڑی عبادت ہے۔ ایک بزرگ کو سہولت دینا، معذور پینشنرز کی خدمت کرنا، اس کی بہت توقیر ہے۔ اس عظیم خدمت کو انجام دینے والے وفاقی وزراء، افسران، سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرنا چاہتا ہوں۔ "
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا پینشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹ (Proof of Life Certificate) کی افتتاحی تقریب سے خطاب
بریکنگ 🚨 غزہ سے واپس آنے والے ایک برطانوی سرجن نے اسرائیلی فوج کے بارے میں ایک سنسنی خیز دعویٰ کیا ہے: "فلسطینی بچوں کی لاشیں واپس کی گئیں جن کے دل، پھیپھڑے اور جگر نکالے گئے تھے۔"
ڈیڑھ فٹ زمین کے لیے انسانیت کہاں گئی؟
تھانہ جھنگ کے علاقے میں مبینہ طور پر صرف ڈیڑھ فٹ زمین کے تنازع پر ایک شخص کا نہتی عورت پر ہاتھ اٹھانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
اختلاف ہو سکتا ہے، زمین کا تنازع بھی ہو سکتا ہے، مگر کسی کمزور پر ہاتھ اٹھانا بہادری نہیں، بزدلی اور قانون سے بے خوفی کی علامت ہے۔ جب معاشرے میں قانون کی بالادستی کمزور پڑ جائے اور لوگوں کو اپنے ہاتھ میں انصاف لینے کی عادت پڑ جائے تو پھر معمولی تنازعات بھی ظلم کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون حرکت میں آئے، واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں اور اگر الزام درست ثابت ہو تو ذمہ دار شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
زمین کے چند فٹ انسان کی عزت اور حرمت سے بڑے نہیں ہوتے۔ معاشرہ تب ہی مہذب بنتا ہے جب طاقتور بھی قانون کے سامنے جواب دہ ہو۔
Traces of the blood of martyr Fathi Khazem, known as “Abu Raad,” at the scene after he was killed by Israeli army gunfire during a raid on his home in Jenin, with his body being withheld.