بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آب��د کے ریکٹر ملک معراج خالد تھے۔ وائس چانسلر ہی کہہ لیجیے۔ میں بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی کے دوسرے سمسٹر کا طالب علم تھا۔یونیورسٹی نے فیسوں میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا۔ میں نے ملک معراج خالد کے خلاف ایک مقامی روزنامے میں کالم لکھ دیا۔ میں نے لکھا کہ ایک دودھ بیچنے والا ریکٹر بن جاتا ہے تو اس کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور وہ اپنا ماضی بھول جاتا ہے۔ یاد نہیں اور کیا کچھ لکھا لیکن وہ بہت ہی نا معقول تحریر تھی۔
اگلے روز میں کلاس میں پہنچا تو ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جناب ایس ایم رؤوف صاحب نے مجھے اپنے دفتر میں بلا کر کھا جانے والی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا کہ تمہیں ریکٹر صاحب نے طلب کیا ہے۔ مجھے خوب یاد ہے جب میں ان کے کمرے سے نکل کر جا رہا تھا تو انہوں نے غصے سے کہا: جنٹل میں گو اینڈ فیس دی میوزک۔
خیر میں ریکٹر آفس کی جانب چل پڑ�� اور راستے میں یہی سوچتا رہا کہ یہ تو طے ہے آج یونیورسٹی میں میرا آخری دن ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آج یونیورسٹی سے نکالا جاؤں گا تو گھر والوں سے کیا بہانہ بناؤں گا کہ کیوں نکالا گیا۔
وہاں پہنچا تو ریکٹر کے پی ایس اسماعیل صاحب کو بتایا میرا نام آصف محمود ہے، مجھے ریکٹر صاحب نے بلایا ہے۔ مجھے شدید حیرت ہوئی جب اسماعیل کے سپاٹ چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی اور کہنے لگے جائیے وہ آپ کے منتظر ہیں۔ لیکن اندر داخل ہوا توحیرتوں کے جہان میرے منتظر تھے۔ ملک صاحب اکیلے بیٹھے تھے۔ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا: سر میں آصف، آپ نے بلایا تھا؟
آپ ہی نے کالم لکھا تھا؟
جی سر میں نے لکھا تھا۔
تشریف رکھیے مجھے آپ سے کچھ باتیں کرنا ہیں۔۔۔۔اور میں جل تو جلال تو کا ورد کرتے ��وئے بیٹھ گیا۔
کافی دیر یونہی گزر گئی۔
ملک صاحب ولز کی ڈبیا گھماتے رہے۔ ایک ایک لمحہ اعصاب پر بھاری تھا۔ پھر ملک صاحب نے خاموشی کو توڑا اور کہا: کالم تو آپ نے اچھا لکھا لیکن آ پ کی معلومات ناق�� تھیں۔ میں صر ف دودھ فروش نہیں تھا۔میرے ساتھ ایک اورمعاملہ بھی تھا۔ میں نے اسی لیے آپ کو بلایا ہے کہ آپ کی معلومات درست کر دوں۔ میں صرف دودھ نہیں بیچتا تھا۔ میرے ساتھ یہ مسئلہ بھی تھا کہ جوتے نہیں تھے۔ میں دودھ بیچ کر سکول پہنچتا اور سائیکل وہیں کھڑی کر دیتا۔ گھر میں جوتوں کا ایک ہی جوڑا تھا جو والد صاحب کے زیر استعمال تھا۔ اس کا حل میں اور میرے ابا جی نے مل کر نکالا۔ ہمارے درمیان یہ طے ہوا کہ صبح میں یہ جوتے پہن کر جایا کروں اور جب میں واپس آ جاؤں تو یہی جوتے پہن کر ابا جی چوپال میں جا کر بیٹھا کریں۔ اب ڈر تھا کہ سائیکل چلانے سے جوتا ٹوٹ نہ جائے۔ اس لیے میں انہیں سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا تھا۔جب دودھ گھروں میں پہنچا کر کالج کے گیٹ کے پاس پہنچتا تو جوتا پہن لیتا۔ واپسی پر پھر سائیکل کے ساتھ لٹکا لیتا اور ننگے پاؤں سائیکل چلاکر گھر پہنچتا۔
ملک صاحب پھر خاموش ہو گئے۔ یہ دورانیہ خاصا طویل رہا۔پھر مسکرائے اور کہنے لگے: سریے والی بات تم نے ٹھیک کہی۔ واق��ی ،اللہ نے دودھ فروش کو نوازا تو اس کی گردن میں سریا آ گیا۔ بار بار دہراتے رہے: اللہ نے دودھ فروش کو نوازا لیکن اس کی گردن میں سریا آ گیا۔
پھر اسماعیل کو بلایا اور پوچھاکہ کیا قواعد و ضوابط کے مطابق میں فیس میں کیا گیا یہ اضافہ واپس لے سکتا ہوں۔اسماعیل نے کہا سر ریکٹر کے اختیار میں نہیں ہے۔ کہنے لگے اختیار میں تو نہیں ہے لیکن اگر میں نوٹیفیکیش جاری کر دوں تو پھر؟ اسماعیل کہنے لگے: سر آپ نوٹی فیکیشن جاری کر دیں تو ظاہر ہے اس پر عمل ہو گا۔ملک صاحب نے کہا جلدی سے نوٹیفیکیشن بنا لاؤ، فیسوں میں اضافہ نہیں ہو گا۔ میں کمرے سے باہر نکلا تو اس حکم نامے کی کاپی میرے ساتھ تھی، دل البتہ وہیں چھوڑ آیا تھا۔
ڈیپارٹمنٹ پہنچا تو ایس ایم اے رووف صاحب نے پوچھا، ہاں کیا ہوا؟ میں نے نوٹی فیکیشن آگے رکھ دیا، سر یہ ہوا۔ رووف صاحب کی آنکھوں میں جو حیرت تھی، مجھے آج بھی یاد ہے۔ آج اگر کوئی مجھ سے پوچھے: وائس چانسلر کیسا ہونا چاہیے؟ میں کہوں گا اسے ملک معراج خالد مرحوم جیسا ہونا چاہیے۔
(تحریر: آصف محمود کالم نگار/ اینکر)
One big reason why Pakistan's geopolitical profile has risen after #OperationSindoor:
Nations have discovered (what I always knew) that Pakistan military is peer competitor of the Indian military.
At a time of once-in-century shift in global geopolitics where Hard Power matters, this is an exceptional discovery for most Nations- especially the Muslim & Arab world!
Happy Birthday to the Legendary Imran Khan! 🎉
Imran Khan, a true cricket legend, led Pakistan to their first-ever World Cup title in 1992. Renowned for his leadership and all-rounder abilities, he’s celebrated as one of the greatest captains in cricket history.
I thought, with age & experience, I had developed patience to tolerate a lot of nonsense…. but even that ability is being severely tested several times a day now! 🤦♂️
Dear Alex, if you’re reading this tweet. I am really sorry for what has happened to you in my country. We are truly sorry as a nation. We were never like this. That’s all I can say. Even Pakistani nationals are sick of all these corrupt & illegal practices. Sorry again 🙏
Principal of Lahore’s Aitchison College resigns citing ‘unwarranted interference’ by Governor House - Pakistan - https://t.co/YFrFvzY8iz https://t.co/fvD3m1JipH
“Politics and nepotism have no place in schools,” Thompson asserted.
“Over the past year, other prejudiced actions by Governor House have contributed to a breakdown of governance and management, under which I had to finally draw a line.
https://t.co/tjN11ivGrU
WHAT A LEVEL: Two kids of Ahad Cheema have been granted full waiver for 3 years from fees of Aitchison College on the request of their mother. Are these guys poor or paupers?? But N-Leeg does not let any opportunity to make even a small bit of money go by !!
JUST NOW: We need to ensure a credible investigation of election interference is conducted in Pakistan.
Democracy and the will of the people — not military interests — must be our priority.
The results of Pakistan’s election should represent the will of the people.
For the sake of democracy and all Pakistanis, we are calling on the Biden Administration to withhold recognition of a new government until an investigation determines the election was not rigged.
5 years old - Dad knows everything!
7 years old - Dad knows.
10 years old - Maybe dad doesn’t know?!
12 years old - Dad doesn’t know.
14 years old - Dads gone crazy!
16 years old - Can’t take dad seriously.
18 years old - What does dad know?!
22 years old - Dads talking rubbish!
24 years old - I know more than dad!
26 years old - Dad seems to know some things after all.
30 years old - Think I should ask dad about this?!
40 years old - It’s amazing how dad went through all this!
45 years old - Dads been right all along.
50 years old - If dad was here, I could have learned a lot.
Pakistanis use Twitter to expose post-election interference. But now, Pakistani authorities are blocking Twitter access for the third straight day.
@StateDept should demand authorities restore access to Twitter. Our allies should meet basic standards of free speech & democracy.