مکمل تھریڈ پڑھنے کا شکریہ! اگر میں آپ کی زندگی میں 1٪ بھی اضافہ کر سکا ہوں تو: ✅ مجھے @SIMRIZ1127 فالو کریں اور کمنٹس باکس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔ 📷 اس تھریڈ کو لائیک کریں اور پہلی ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر دیں 📷
https://t.co/4iyiWzRPmc
یہ آسان کیوں کام کرتا ہے:
ہائی بلڈ پریشر ایک باغ کی نلی کی طرح ہوتا ہے جس میں بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے—آخرکار یہ نلی (آپ کی شریانوں) کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پوٹاشیم برتن کی دیواروں کو آرام دیتا ہے، اور وٹامن سی انہیں مضبوط اور لچکدار رکھتا ہے۔ ایک دن میں ایک درمیانی سنتری ایک قابل پیمائش فرق پیدا کر سکتی ہے۔
پاکستان کو سانپوں کا سر کچلنے کا دہائیوں پر محیط وسیع تجر��ہ ہے
✍️: مُحَمَّد شُعَيْبٌ شَيْخٌ
تامل ٹائیگرز کے بعد حوثی باغی؟ یمن کے پہاڑوں میں رات کے اندھیرے میں کون اُترتا ہے؟
● پاکستان کی سری لنکا کے ساتھ نہ کوئی مذہبی یکسانیت تھی، نہ نسلی تعلق، نہ ہی کوئی ایسا مشترکہ مفاد جسے معمولی سفارتی تعلقات سے آگے بڑھ کر دیکھا جاتا۔ لیکن جب ایک دوست ریاست کی بقا کا سوال آیا تو پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
● 26 سالہ طویل شورش نے سری لنکا کو لہولہان کیے رکھا۔ تامل ٹائیگرز ایک طاقت بن کر ابھر چکے تھے، مگر پھر حالات نے اچانک ایسا رخ بدلا کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ پاکستان نے سری لنکا کی مدد کی اور تامل ٹائیگرز کا ایسا قلع قمع ہوا کہ ان کے سرغنہ ویلوپِلّئی پرا��ھاکرن سمیت پوری تنظیم کا عسکری وجود بالآخر خلیجِ بنگال کی لہروں میں غرق ہو گیا۔
لیکن…
*سعودی عرب کا معاملہ تو بالکل مختلف ہے۔*
● یہ صرف ایک دوست ریاست نہیں، بلکہ پاکستان کا قریبی ترین برادر ملک، ہم عقیدہ ملک اور حرمین شریفین کا امین ہے اور اب معاملہ صرف جذبات یا مذہبی وابستگی تک محدود نہیں رہا۔
● حوثی باغیوں کی کارروائیوں نے خطے کے حالات کو ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ بابِ مندب جیسے انتہائی اہم بحری راستے میں رکاوٹیں، تجارتی جہازوں کو روکنے اور دھمکانے کی کارروائیاں اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے خطرے کی نوعیت ہی بدل دی ہے۔
تو پھر سوا�� بہت سادہ ہے:
● جو ملک سرحد پار جا کر ایک اتحادی ریاست کے وجود کی حفاظت کر سکتا ہے، وہ اپنے مقدس ترین مقامات، اپنے بھائی، اپنے دفاع اور اپنے قومی مفادات کے معاملے میں کیسے سمجھوتہ کر سکتا ہے؟
● حوثیوں کی اس سرکشی کو محض ایک علاقائی تنازع سمجھ کر نظر انداز کر دینا شاید اتنا آسان نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے کیونکہ پاکستان کو ایسے خطرات سے نمٹنے کا دہائیوں کا تجربہ حاصل ہے اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی ہر کارروائی کا اعلان پریس کانفرنس میں ہونا ضروری نہیں
*ہر جنگ سرحد پر لڑی جائے، یہ بھی ضروری نہیں اور ہر دشمن کو یہ معلوم ہو کہ وار کہاں سے آیا، یہ بھی ضروری نہیں*
● اصل طاقت کبھی کبھی شور میں نہیں، خاموشی میں چھپی ہوتی ہے۔ اسی لیے آنے والے برسوں میں شاید تاریخ کے کچھ ایسے صفحات کھلیں جنہیں آج کوئی پڑھ بھی نہیں سکتا۔ ممکن ہے یمن کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں—جبلِ نقم، جبلِ عتان، جبلِ مناخہ، جبلِ ہِلان اور مارب—کے بارے میں کبھی کوئی ایسی کہانی سامنے آئے جس کا آج کسی کو علم نہیں۔
*شاید کبھی یہ سوال اٹھے کہ رات کے اندھیرے میں ان پہاڑوں میں کون داخل ہوتا تھا؟ کون حوثی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں تک پہنچتا تھا؟ کس کے وار اتنے درست تھے کہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملتا؟ اور پھر وہ کون تھا جو کارروائی مکمل کرکے خاموشی سے واپس نکل جاتا تھا؟*
● نام شاید کبھی سامنے نہ آئے…
● مگر نشانیاں باقی رہیں گی۔
● اگر کبھی تاریخ نے ان خاموش کارروائیوں کا پردہ اٹھایا تو ممکن ہے دنیا کو معلوم ہو کہ حوثی عسکریت پسندوں کے خلاف یہ جنگ صرف یمن کے پہاڑوں تک محدود نہیں تھی، اس کے اثرات شاید ہزاروں میل دور تہران تک محسوس کیے جا رہے تھے، کیونکہ بعض اوقات جنگ کا اصل میدان وہ نہیں ہوتا جہاں دھماکے سنائی دیتے ہیں، اصل جنگ وہاں لڑی جا رہی ہوتی ��ے جہاں خاموشی چھائی ہوتی ہے۔ اور شاید چند سال بعد وقت خود بتائے گا کہ یمن کی ان تاریک راتوں میں پہاڑوں کے درمیان کون آتا تھا، کون ضرب لگاتا تھا، کون دشمن کے غرور کو خاک میں ملاتا تھا اور پھر اندھیرے میں ایسے غائب ہو جاتا تھا جیسے وہاں کبھی کوئی آیا ہی نہ ہو۔
Copied:
✍️: مُحَمَّد شُعَيْبٌ شَيْخٌ™
کرائم رپورٹر روزنامہ سماء ن��وز لاہور
پاکستان کو سانپوں کا سر کچلنے کا دہائیوں پر محیط وسیع تجربہ ہے
✍️: مُحَمَّد شُعَيْبٌ شَيْخٌ
تامل ٹائیگرز کے بعد حوثی باغی؟ یمن کے پہاڑوں میں رات کے اندھیرے میں کون اُترتا ہے؟
● پاکستان کی سری لنکا کے ساتھ نہ کوئی مذہبی یکسانیت تھی، نہ نسلی تعلق، نہ ہی کوئی ایسا مشترکہ مفاد جسے معمولی سفارتی تعلقات سے آگے بڑھ کر دیکھا جاتا۔ لیکن جب ایک دوست ریاست کی بقا کا سوال آیا تو پاکستان نے وہ کردار ادا کیا جسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
● 26 سالہ طویل شورش نے سری لنکا کو لہولہان ��یے رکھا۔ تامل ٹائیگرز ایک طاقت بن کر ابھر چکے تھے، مگر پھر حالات نے اچانک ایسا رخ بدلا کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ پاکستان نے سری لنکا کی مدد کی اور تامل ٹائیگرز کا ایسا قلع قمع ہوا کہ ان کے سرغنہ ویلوپِلّئی پرابھاکرن سمیت پوری تنظیم کا عسکری وجود بالآخر خلیجِ بنگال کی لہروں میں غرق ہو گیا۔
لیکن…
*سعودی عرب کا معاملہ تو بالکل مختلف ہے۔*
● یہ صرف ایک دوست ریاست نہیں، بلکہ پاکستان کا قریبی ترین برادر ملک، ہم عقیدہ ملک اور حرمین شریفین کا امین ہے اور اب معاملہ صرف جذبات یا مذہبی وابستگی تک محدود نہیں رہا۔
● حوثی باغیوں کی کارروائیوں نے خطے کے حالات کو ایک نئے اور خطرنا�� مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ بابِ مندب جیسے انتہائی اہم بحری راستے میں رکاوٹیں، تجارتی جہازوں کو روکنے اور دھمکانے کی کارروائیاں اور خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے خطرے کی نوعیت ہی بدل دی ہے۔
تو پھر سوال بہت سادہ ہے:
● جو ملک سرحد پار جا کر ایک اتحادی ریاست کے وجود کی حفاظت کر سکتا ہے، وہ اپنے مقدس ترین مقامات، اپنے بھائی، اپنے دفاع اور اپنے قومی مفادات کے معاملے میں کیسے سمجھوتہ کر سکتا ہے؟
● حوثیوں کی اس سرکشی کو محض ایک علاقائی تنازع سمجھ کر نظر انداز کر دینا شاید اتنا آسان نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے کیونکہ پاکستان کو ایسے خطرات سے نمٹنے کا دہائیوں کا ت��ربہ حاصل ہے اور شاید سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان کی ہر کارروائی کا اعلان پریس کانفرنس میں ہونا ضروری نہیں
*ہر جنگ سرحد پر لڑی جائے، یہ بھی ضروری نہیں اور ہر دشمن کو یہ معلوم ہو کہ وار کہاں سے آیا، یہ بھی ضروری نہیں*
● اصل طاقت کبھی کبھی شور میں نہیں، خاموشی میں چھپی ہوتی ہے۔ اسی لیے آنے والے برسوں میں شاید تاریخ کے کچھ ایسے صفحات کھلیں جنہیں آج کوئی پڑھ بھی نہیں سکتا۔ ممکن ہے یمن کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں—جبلِ نقم، جبلِ عتان، جبلِ مناخہ، جبلِ ہِلان اور مارب—کے بارے میں کبھی کوئی ایسی کہانی سامنے آئے جس کا آج کسی کو علم نہیں۔
*شاید کبھی یہ سوال اٹھے کہ رات کے ان��ھیرے میں ان پہاڑوں میں کون داخل ہوتا تھا؟ کون حوثی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں تک پہنچتا تھا؟ کس کے وار اتنے درست تھے کہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع تک نہ ملتا؟ اور پھر وہ کون تھا جو کارروائی مکمل کرکے خاموشی سے واپس نکل جاتا تھا؟*
● نام شاید کبھی سامنے نہ آئے…
● مگر نشانیاں باقی رہیں گی۔
● اگر کبھی تاریخ نے ان خاموش کارروائیوں کا پردہ اٹھایا تو ممکن ہے دنیا کو معلوم ہو کہ حوثی عسکریت پسندوں کے خلاف یہ جنگ صرف یمن کے پہاڑوں تک محدود نہیں تھی، اس کے اثرات شاید ہزاروں میل دور تہران تک محسوس کیے جا رہے تھے، کیونکہ بعض اوقات جنگ کا اصل میدان وہ نہیں ہوتا جہاں دھماکے سنائی د��تے ہیں، اصل جنگ وہاں لڑی جا رہی ہوتی ہے جہاں خاموشی چھائی ہوتی ہے۔ اور شاید چند سال بعد وقت خود بتائے گا کہ یمن کی ان تاریک راتوں میں پہاڑوں کے درمیان کون آتا تھا، کون ضرب لگاتا تھا، کون دشمن کے غرور کو خاک میں ملاتا تھا اور پھر اندھیرے میں ایسے غائب ہو جاتا تھا جیسے وہاں کبھی کوئی آیا ہی نہ ہو۔
Copied:
✍️: مُحَمَّد شُعَيْبٌ شَيْخٌ™
کرائم رپورٹر روزنامہ سماء نیوز لاہور
Alhamdulillah! 🤲❤️
Proud and grateful to celebrate 10 students achieving 50/50 marks in Computer Science. 🏆💯
A beautiful reward for their hard work, dedication, and commitment. Congratulations to my brilliant students! May Allah bless them with even greater success. Ameen. 🤲
Muhammad Irfan Shahid
Lecturer – Computer Science
KIPS Preparations – Jail Road, Faisalabad
انڈیا!!! تباہی کے مناظر
مظاہرین نے انڈین ایئر فورس کے اڈے کو نذرِ آتش کر دیا... جب دوسروں کے گھروں میں لگائی آگ اپنی دہلیز تک پہنچ جائے تو پھر حشر بُرا ہی ہوتا ہے۔