گذريل چار ڏينھن کان علي محمد جوڳي کي منجھند جو ٽي وڳي کنڀي گم ڪيو ويو آھي جنھن کي اڃان تائين ظاھر ناھي ڪيو ويو..!
وطن دوست ساٿي علي محمد جوڳي سميت کنڀي گم ڪيل سمورن قومي ڪارڪنن کي آزاد ڪيو..!
#ReleaseAliMuhammadJogi
سر در قدم ِ يار فدا شود چه بجا شود،
اين بار ِ گران بود ادا شود چه بجا شود.
”سندم سر يار جي قدمن ۾ قربان ٿيو، ڏاڍو سٺو ٿيو،
ھي سِسي وڏو بار ھئي، اِھو بار لٿو، ڏاڍو سٺو ٿيو.‟
-صوفي شاھ عنايت شھيد
اسلام آباد میں انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ایمان زینب مزاری اور ان کے شوہر ایڈووکیٹ ہادی علی چھٹہ کی گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں
یہ اقدامات بنیادی شہری آزادیوں، آئینِ پاکستان اور قانون کی بالادستی پر براہِ راست اور کھلا حملہ ہیں۔
اختلافِ رائے رکھنے والوں، وکلاء، سیاسی کارکنوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو طاقت، دھمکیوں، گھروں پر چھاپوں اور جبری ہتھکنڈوں کے ذریعے خاموش کرانے کی کوششیں فسطائی طرزِ حکمرانی کی بدترین مثال ہیں، جو کسی مہذب، جمہوری اور آئینی ریاست میں کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتیں۔
ایمان زینب مزاری، ایڈووکیٹ ہادی علی چھٹہ اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنماؤں و کارکنوں کی گرفتاریاں اس تلخ اور خطرناک حقیقت کو بے نقاب کرتی ہیں کہ ملک میں آئین کو عملاً معطل کر کے قانون کو سیاسی انتقام، ذاتی مفا��ات اور مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکمران ٹولہ عوامی نفرت، سیاسی تنہائی اور اپنی بدترین نااہلی سے خوفزدہ ہو چکا ہے، اسی خوف کے عالم میں وہ ریاستی طاقت کا بے دریغ اور غیرقانونی استعمال کر رہا ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ ظلم، جبر، دھونس، چھاپوں اور گرفتاریوں کے ذریعے نہ تو حق کی آواز کو دبایا جا سکتا ہے اور نہ ہی عوام کو ہمیشہ کے لیے خاموش رکھا جا سکتا ہے۔
وکلا ، سیاسی کارکن اور انسانی حقوق کے کارکن پورے معاشرے کے ضمیر کی آواز ہوتے ہیں، اور جب ریاست خود ان آوازوں کو کچلنے پر اتر آئے تو یہ پورے نظامِ انصاف، جمہوریت اور شہری آزادیوں کے لیے ایک سنگین خطرے کی علامت ہوتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ زین بھٹو، ایمان مزار�� اور ایڈووکیٹ ہادی علی چھٹہ کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے اور ان تمام غیرقانونی گرفتاریوں و چھاپوں کی شفاف، آزاد اور غیرجانبدار تحقیقات کرائی جائیں۔
سندھ یونائیٹڈ پارٹی اور تحریک تحفظِ آئین پاکستان ہر مظلوم، ہر سیاسی کارکن، ہر وکیل اور ہر اس شہری کے ساتھ کھڑی ہے جس کے آئینی اور انسانی حقوق پامال کیے جا رہے ہیں، اور ہم آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد ہر فورم پر، جاری رکھیں گے۔
یہ جبر کا، یہ جہل کا، یہ زَر کا تسلط
تم دیکھنا اِک وقت میں، تینوں سے لڑیں گے
عشروں کے تدبر نے یہی حکم دیا ہے
ہم خاک نشیں اب، تخت نشینوں سے لڑیں گے !
#HBDSainGMSyed
مان جي ايم سيد جو پيروڪار ان لاءِ نه ٿيس ته هُو ڪو سيد هو بلڪہ مان سيد جو پيروڪار ان لاءِ ٿيس ته هُن اسان کي سنڌ ڏيکاري ۽ سنڌ سان عشق ڪرڻ سيکاريو .
(عبدالواحد آريسر صاحب)
#HBDSainGMSyed
هي 17 جنوري جو ڏينهن صرف سائين جي ايم سيد جي سالگره جو ڏينهن ناهي . اهو سنڌ وطن سان محبت ۽ وفا جي تجديد جو ڏينهن آ
فوٽو: سائين ۽ سهيل .
سائين کي سندس پسنديده ميوو پپيتو کارائيندي.
#HBDSainGMSyed
One of Sain’s greatest intellectual achievements is that he transformed the Sindhis—who were divided into castes, clans, tribes, religions, and sects—into the form and identity of a modern Sindhi nation.
#HBDSainGMSyed
The writings of Sain G.M. Syed, the founder of modern Sindhi nationalism, gave a formal and clear shape to Sindhi nationalism, the peaceful movement for the cause of Sindh, and the Sindhi identity of Sufism
#HBDSainGMSyed@antonioguterres@BradSherman@AdameMedia@GiaMari85