یوتھیوبرز کی فیک نیوز انڈسٹری: عدلیہ مخالف مہم کا نیا باب
سپریم کورٹ بار انتخابات میں عاصمہ جہانگیر گروپ کی جیت کے بعد جھوٹے الزامات کا سلسلہ، جسٹس جمال مندوخیل تک کو نشانہ بنایا گیا
تحریر: طیب بلوچ
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں عاصمہ جہانگیر گروپ کی فتح نے جہاں وکلا برادری میں جمہوری عمل کو تقویت دی، وہیں مخصوص “یوتھیوبرز” کے ایک گروہ کو بری طرح بے نقاب کر دیا۔ یہ وہی عناصر ہیں جو ہر بار اپنی سیاسی وفاداریوں اور یوٹیوب کے ڈالروں کے ��ور پر قومی اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
انتخابات کے فوراً بعد ان یوٹیوبرز نے الزام تراشی کی نئی قسط شروع کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عاصمہ جہانگیر گروپ نے انتخابات سے پہلے 457 نئے وکلا کو سپریم کورٹ میں انرول کروا کر ووٹ بینک بڑھایا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ سپریم کورٹ انرولمنٹ کمیٹی ہر سال سینکڑوں نئے وکلا کو ان کی اہلیت اور تجربے کی بنیاد پر انرول کرتی ہے۔ مگر افسوس، یہ سچائی ان کی سنسنی خیز کہانیوں میں فٹ نہیں بیٹھتی۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ دو ایسے صحافیوں — یا یوں کہیے “یوتھیوبرز برائے کرائے” — نے قومی ٹی وی چینل پر بیٹھ کر جسٹس جمال خان ��ندوخیل پر الزام عائد کر دیا کہ انہوں نے کوئٹہ سے بڑی تعداد میں وکلا کو لائسنس جاری کیے۔ یہ الزام نہ صرف بے بنیاد ہے بلکہ ایک معزز جج کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی ش��وری کوشش ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عناصر عدالتی نظام کو بدنام کرنے کے منظم ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔
یہ وہی چہرے ہیں جو ماضی میں جسٹس اطہر من اللہ کی طرف سے جعلی ڈگری اور دوہری شہریت والے ججز کی بھرتی کے فیصلے کا کھلے عام دفاع کرتے رہے ہیں۔ ان کی منافقت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے — جب طاقتور لابیاں اپنے مفاد میں عدالتی اصول توڑیں تو یہ خاموش رہتے ہیں، لیکن جب بلوچستان جیسے پسماندہ علاقے کے وکلا میرٹ پر آگے بڑھتے ہیں تو انہیں برداشت نہیں ہوتا۔
درحقیقت یہ “یوتھیائی صحافت” نہیں بلکہ “پرسیپشن منجمنٹ انڈسٹری” ہے، جو چند ڈالروں کے عوض قومی اداروں کے خلاف نفرت بیچ رہی ہے۔ ان کی “تجزیہ نگاری” دراصل جعلی بیانیوں کا ہتھیار ہے جس کا مقصد عوام کے اعتماد کو کمزور کرنا اور عدلیہ کی ساکھ پر حملہ کرنا ہے۔
قوم کو سمجھنا ہوگا کہ یہ نام نہاد یوٹیوبرز اصل میں وہ ٹھیکیدار ہیں جنہوں نے خبر کے بجائے پروپیگنڈا فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔ آج وہ عدلیہ کے خلاف بول رہے ہیں، کل کسی اور ادارے کے خلاف ہوں گے۔
اب وقت آگیا ہے کہ قومی میڈیا ایسے زہریلے عناصر کو پرائم ٹائم کا پلیٹ فارم دینے کے بجائے ان سے لاتعلقی اختیار کرے۔ صحافت کا اصل فرض سچائی کی خدمت ہے، نہ کہ شور شرابے کے ذریعے فریب بیچنا۔
کیونکہ اگر سچائی کو یوٹیوب کی کمائیوں میں دفن کر دیا گیا، تو پھر قوم کے اعتماد اور اداروں کی عزت کا جنازہ نکلنے میں دیر نہیں لگے گی۔
شاہزیب خانزادہ نے صرف 2 منٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس انتہائی آسانی سے سمجھادیا. 👏👏
برطانیہ سے ملک ریاض کے منی لانڈرنگ کے 190 ملین پاؤنڈ پاکستان کو ملنے تھے، عمران خان نے یہ رقم ملک ریاض کے اکاؤنٹ میں ایڈجسٹ کردیے، بدلے 456 کنال زمین بشریٰ پنکی پیرنی کے نام کردی.