مسلم لیگ ن کی عجب سیاست
اختیار ولی قانون کیخلاف پریس کانفرنس کررہے ہیں
ثوبیہ شاہد شفیع جان کیساتھ بیٹھ کر حق میں پریس کانفرنس کررہی ہیں
جلال خان نے گزشتہ شب خیبر پختونخوا اسمبلی مراعات قانون کے حق میں ٹوئٹ کیا
آج اختیار ولی کیساتھ بیٹھ کر اسی قانون کیخلاف پریس کانفرنس کرڈالی
کچھ ساتھی سوال کررہے ہیں کہ جب مراعات اور اختیارات والا قانون پاس ہو رہا تھا تو اپوزیشن کہاں تھی؟
جواب
تاحیات بلیو پاسپورٹ والی شق اپویشن کے احمد کنڈی نے تجویز کی تھی
جسے حکومت نے تسلیم کرتے ہوئے قانون کا حصہ بنایا
اپوزیشن نے اپنا کردار پورا ادا کیا ہے
خیبرپختونخوا اسمبلی کے اراکین کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے کی منظوری سے متعلق گردش کرنے والی تمام خبریں جھوٹی، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔پاسپورٹ جاری کرنا مرکزی حکومت کا ڈومین ھے ۔ صوبائی اسمبلی کے اراکین اور کابینہ کے ارکان پہلے سے مقررہ قواعد و ضوابط کے مطابق اپنی قانونی مراعات حاصل کر رہے ہیں، کوئی مراعات کا اضافہ نہیں ھو ا۔اراکین اسمبلی نے کوئی اضافی مراعات نہیں لی، بلیو پاسپورٹ کے حوالے سے کسی بھی منظوری کی خبریں حقائق پر مبنی نہیں ہیں
صوبائی وزیر شفیع جان
ملزمان نے اغوا کیا، تاوان مانگا اور زیادتی کا نشانہ بنایا، ملزم رضا ڈار رقم کا مطالبہ کرتا رہا، زیادتی نہیں کی۔ غیرملکی خواتین کا بیان
ایف آئی آر نائب وزیراعظم کے قریبی رشتہ دار رضا ڈار سمیت دیگر کیخلاف درج کیا گیا۔ ARY نیوز
@khurramzeeshan ذیشان صاحب میں کچھ بڑے صحافیوں کو سن رہا تھا، عمران خان کی بیماری کا ذکر کرتے ہوئے وہ بھول گئے کہ اس آنکھ کی بیماری کا نام کیا تھا،
اب ان��ازہ لگاؤ یہ قیادت ٹھنڈی کھوتی پر بیٹھی ہے کہ نامور ��حافی عمران خان کی بیماری کا نام ہی بھول گئے،
کشمیر کو "ہم پالتے ہیں" کہنے والوں کے لیے چند حقائق و صحافی فرحان خان کی تحقیقاتی رپورٹ:
مالی سال 2024-25 میں آزاد کشمیر نے تقریباً 71 ارب روپے ٹیکس ریونیو جمع کیا۔ اگر اس میں نان ٹیکس آمدن بھی شامل کر لی جائے تو مجموعی مقامی آمدن تقریباً 119 ارب روپے تک پہنچتی ہے۔
اگر پاکستان کے کسی ایک صوبے کے اعداد و شمار کے ساتھ اس کا موازنہ کریں تو صورتحال بڑی دلچسپ رہتی ہے۔
مثلا اسی سال خیبر پختونخوا کی اپنی صوبائی آمدن تقریباً 83 ارب روپے کے قریب رہی۔ جب آزاد کشمیر اور کے پی کے دونوں کا تقابلی جائزہ آبادی کے ساتھ کیا جائے تو فرق اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کی آبادی تقریباً 4 کروڑ 85 لاکھ ہے جبکہ آزاد کشمیر کی آبادی تقریباً 45 لاکھ کے قریب ہے۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو آزاد کشمیر کا فی کس ٹیکس بوجھ پاکستان کے کسی بھی انتظامی یونٹ سے زیادہ ہے۔
مالی سال 2024-25 میں آزاد کشمیر کا مجموعی بجٹ 224 ارب روپے تھا جس میں وفاقی ویری ایبل گرانٹ 105 ارب روپے شامل تھی۔ یہی وہ رقم ہے جسے اکثر سبسڈی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن یہ کسی غیر رسمی امداد کا حصہ نہیں بلکہ ایک طے شدہ مالیاتی ڈھانچے کے تحت دی جاتی ہے۔ 2018 میں اسلام آباد اور آزاد کشمیر کے درمیان ایک مالیاتی معاہدہ ہوا جس پر دونوں ط��ف کے اعلیٰ مالیاتی حکام کے دستخط موجود ہیں۔ اس معاہدے کے مطابق وفاقی ٹیکس پول سے آزاد کشمیر کو 3.64 فیصد حصہ دینے کا اصول طے کیا گیا۔ یہ ٹیکس پول فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی مجموعی وصولیوں سے بنتا ہے جو 11,740 ارب روپے تک رپورٹ کی گئی ہیں۔
اس فارمولے کے مطابق آزاد کشمیر کا حصہ 427 ارب روپے بنتا ہے۔ لیکن عملی طور پر اسی مد میں تقریباً 105 ارب روپے دیے گئے۔ اس فرق کو 322 ارب روپے کے قریب شمار کیا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر میں نیلم جہلم و منگلا سمیت متعدد منصوبے موجود ہیں جن سے تقریباً 2400 میگا واٹ بجلی قومی گرڈ میں شامل ہوتی ہے۔
اس کے بدلے میں خطے کو رائلٹی کے بجائے صرف واٹر یوز چارجز کی صورت میں تقریباً 1 ارب روپے دیے جاتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں دیگر پن بجلی منصوبوں، خاص طور پر پنجاب میں غازی بروتھا جیسے منصوبے پر تقریباً 82 ارب روپے سالانہ رائلٹی دی جاتی ہے۔ اگر اسی حساب کو بنیاد بنایا جائے تو آزاد کشمیر کا ممکنہ رائلٹی حق تقریباً 130 ارب روپے سالانہ کے قریب بنتا ہے۔
بیرون ملک ترسیلات زر بھی اس تصویر کا اہم حصہ ہیں۔ اندازاً 1.5 ملین کشمیری بیرون ملک مقیم ہیں جو سالانہ تقریباً 4 ارب ڈالر پاکستان بھیجتے ہیں (پاکستان کو آئی ایم ایف سے ملنے والی رقم دو ارب ڈالر ہے) ۔ یہ رقم ملک کی مجموعی ترسیلات زر کا تقریباً 10 فیصد بنتی ہے۔
اس کے علاوہ پاکستانی بینکاری نظام میں کشمیری شہریوں کے تقریباً 670 ارب روپے کے ڈپازٹس موجود ہیں جو مالیاتی نظام کی گردش میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اگر 3.64 فیصد NFC فارمولے کے مطابق 427 ارب روپے اور پن بجلی رائلٹی کے تقریباً 130 ارب روپے شامل کر لیے جائیں توآزاد کیشمیر کا مجموعی مالیاتی حجم موجودہ 224 ارب روپے کے بجٹ سے بڑھ کر تقریباً 650 ارب روپے تک پہنچ جاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کشمیر ایک autonomous economy ہے۔
#RightsMovementAJK
اعتزاز احسن کے سنہری الفاظ ہیں کہ باری سبکی آئیگی
پہلے بنگالیوں کی باری آئی،
پھر بلوچستان کی باری آئی،
پھر کے پی کی باری آئی،
پھر سندھ میں MQM کی باری آئی،
پھر PTI کی باری آئی پنجاب میں،
اور اب کشمیر کی باری آگئی،
انکے منہ کو خون لگا ہوا ہے
جو پاکستانی آج کشمیریوں کے زخموں پر نمک چھڑک کر، اپنی ہی دھرتی کے لوگوں کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے وفاداری کے سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں مصروف ہیں، وہ کسی نظریے یا اصول کے نہیں بلکہ صرف مفاد کے سپاہی ہیں۔
جسے آج اپنی مٹی کے مظلوم، اپنے ہی لوگ اور ان کا درد بُرا لگ رہا ہے، وہ کل کسی اور طاقت کے دربار میں بھی اسی فرمانبرداری سے حاضر ہو گا۔ کیونکہ ضمیر بیچنے والوں کی وفاداریاں عقیدوں سے نہیں، قیمتوں سے طے ہوتی ہیں۔
ایسے پاکستانیوں کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ حق اور باطل میں غلطی کر بیٹھے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ان کا قبلہ ہی مفاد ہے۔ ان کی حب الوطنی مفاد، ان کی وفا مفاد، ان کا ایمان مفاد اور ان کا ضمیر بھی مفاد کے ہاتھ گروی رکھا ہوا ہوتا ہے۔
آج یہ اپنے لوگوں کے خلاف ظالم کے قصیدے پڑھ رہے ہیں، کل اگر اس ظالم سے بڑا ظالم ان کے مفاد کی حفاظت کا یقین دلا دے تو یہی لوگ اس کے ج��نڈے اٹھائے کھڑے ہوں گے۔کیونکہ جن لوگوں کی بنیاد اصول پر نہیں بلکہ مفاد پر ہو، وہ درخت نہیں ہوتے، ہوا کے رخ پر گھومنے والے خشک پتّے ہوتے ہیں۔
قوموں کو بیرونی دشمن کم اور ایسے اندرونی کردار زیادہ تباہ کرتے ہیں، جو ہر دور میں ظلم کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور ہر بار اپنے مفاد کا نام حب الوطنی رکھ دیتے ہیں۔#شہ_رگ_کا_سانس_بند_نہ_کرو
#whereisimrankahn
#EndKhanIsolationNow
#RightsMovementAJK
#راولاکوٹ
#گولی_کیوں_چلائی
@CMShehbaz America must thank Pakistan for its successful mediation. Instead of getting stuck for decades and wasting trillions of taxpayer dollars—like in Vietnam and Afghanistan—US soldiers are going home in months. History proves it: peace is the only solution.
Kudos, Pakistan! 🇵🇰