جن لوگوں کو بحثیت قوم شرم سے ڈوب مرنا چاہیے کہ ہمارے ہاں غربت افغانستان سے بھی زیادہ ہوگئی ہے ، وہ اس ملک پر ستر سال سے قابض سول اور فوجی حکمرانوں کا گریبان پکڑنے کی بجائے ، بے شرموں کی طرح طعنوں پر اتر آئے ہیں ۔ پوچھو اپنے حکمرانوں سے کہ 168 ارب ڈالر کا قرضہ اور 73 ارب ڈالر کی امریکی امداد کن لوگوں کے پیٹ کا ایندھن بنی ہے
اگر آپ مزدور یا تنخواہ دار طبقے کی بات کریں تو ننانوے فیصد کو دو وقت کی روٹی بمشکل ملتی ہے، باقی تمام بنیادی ضروریات کہاں سے کیسے پوری کریں، اللہ تعالی غارت کرے ان حکمرانوں اور جرنیلوں کو جنھوں نے پاکستانی عوام کو دو وقت کی روٹی اور زندہ رہنے کی بنیادی ضروریات سے محروم کر دیا ہے
ایک طرف ہم پاکستان کی سفارتی کامیابیوں اور میزائل پاور پر بڑا فخر کرتے ہیں دوسری طرف عالمی بنک کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان خطے کے اُن ممالک میں شامل ہے جہاں خط غربت سے نیچے افراد کی تعداد میں بہت اضافہ ہو چکا ہے اور خطے کے غریب ترین افراد کی تعداد میں سے 48 فیصد پاکستان میں رہتے ہیں
بلوچستان میں غنڈہ راج
سندھ میں ڈاکو راج
پنجاب میں رن ڈی راج
کشمیر میں رینجر راج
بلتستان میں ڈینجر راج کے بعد خیبرپختونخوا کی منتحب حکومت کو ہٹا کر کونجر راج کی باز گشت۔
عارضی مکان ہے، مختصر قیام ہے
فانی دنیا ہے، عنقریب اختتام ہے