کارپوریٹس بمقابلہ کسان!!
گندم 40کلو 3500
ڈیزل 40لیٹر 16120
گندم 50کلو4375
ڈی اے پی کھاد 50کلو15700
پھر زرعی زمین پر کالونیاں نہیں بنیں گی تو اور کیا بنے گا؟
ابھی ہمارے نون لیگ ڈنمارک کے صدر پاکستان ایک مہینہ رہ کر واپس آئے کھاتے پیتے بندے ہیں میرے دوست ہیں وہ مجھے اگلے دن کہنے لگے کہٗ پاکستان میں وہ جا ریسٹورنٹ جاتے جہاں چار بندوں کا بل پچاس ہزار آتا وہاں بیٹھنے کی جگہ نہی ہوتی شاپنگ مال بھی بھرے تو غربت کہاں ہے ؟
ہمُ جب پاکستان جاتے تو اسی غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں اصل حقیقت یہ کہ پاکستان میں 4 فیصد اپر مڈل کلاس جس کی آمدن پندرہ لاکھ سے زیادہ ایک فیصد سپر الیٹ ہے پاکستان کی آبادی کا ایک فیصد پچیس لاکھ ہے اور چار فیصد ایک کروڑ ہے پھر ایک کروڑ پاکستانی سمندر پار اس کی فیملیاں تو یہ ملا جلا کر کافی لوگ بنتے ہم جب پاکستان جاتے اسی پانچ چھ فیصد کو دیکھ رہے ہوتے ہیں جبکہ 95 فیصد لوگ تو عام بستیوں میں گاؤں دیہاتوں میں رہتے ان کے پاس دو وقت کی روٹی کے پیسے نہی آٹھ کروڑ ایسے جن کی مہینے کی آمدن آٹھ ہزار جبکہ ایک وقت کا دو بندوں کا اچھے ریستوران میں پندرہ بیس ہزار بل آتا تو بھرے بازار دیکھ کر غلط رائے مت قائم کریں
پنجاب اسلحہ لائسنس بنوانے کے لئےبائیومیٹرک تصدیق کی سہولت اب پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر
پنجاب اسلحہ لائسنس کی ویب سائٹ پر درخواست جمع کرائیں اور گھربیٹھے پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر بائیومیٹرک تصدیق کی کارروائی مکمل کریں
رُک جائیں، سکرول کرنا بند کریں۔ یہ زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع ہے۔ 🕋
خانہ کعبہ کو اس انداز میں ظاہر کیا گیا ہے جو کسی نسل نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ یہ پہلی بار ہوا ہے۔ خالص حیرت اور عقیدت۔ الحمدللہ اس نعمت پر۔
ڈیجیٹل پنجاب کی جانب ایک اور بڑا قدم!
پنجاب حکومت کی اس نئی ایپ کے ذریعے اب آپ کے موبائل میں ہی "تھانہ" موجود ہے
• پاسپورٹ
• شناختی کارڈ
• ڈرائیونگ لائسنس
کچھ بھی گم ہو، بس ایپ کھولیں اور رپورٹ درج کریں ! 👏
پٹرول سبسڈی کی شرائط
1-بائیک پنجاب میں رجسٹرڈ ہو
2- آپکا شناختی کارڈ ہو
3-صرف ایک بائیک کے آپ مالک ہوں
4- کوئ چار پہیوں والی گاڑی آپکے نام رجسٹر نا ہو
5- بجلی والی موٹرسائیکل پر بھی آپ اس سبسڈی کو لینے کے مجاز نہیں۔
Apply for it.
https://t.co/RjzSrjjpjD
ذہنی ورزش کیلئے سوشل میڈیا کا استعمال کیسے کریں؟
جسطرح اکثر لوگوں کو پتہ ہے کہ فاسٹ فوڈ صحت کیلئے اچھی نہیں لیکن فاسٹ فوڈ کھانا نہیں چھوڑتے یہ ایسے ہی ہے جیسے سب کو پتہ ہے کہ جسمانی ورزش ایک صحتمند زندگی کیلئے ضروری ہے لیکن کرتے نہیں
اسی طرح بہت سوں کو پتہ ہے کہ سوشل میڈیا فائدہ کم اور نقصان زیادہ کر رہا ہے اور یہ ہماری توجہ لے رہا ہے اور بدلے میں ذہنی تناؤ دے رہا ہے اور یہ ہماری سوچنے کی صلاحیت چھین رہا ہے اور بلا سوچے بولنے کی صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے لیکن ہم اسکے ساتھ ایسے ہی جڑے ہوئے ہیں گویا قبر میں پہلا سوال اسکے بارے ہونا ہے کہ تم نے سوشل میڈیا کتنا استعمال کیا
یہ نہیں کہ سوشل میڈیا سے فائدہ نہیں ہوا، اس نے لوگوں کے درمیان فاصلے کم کئے وہ جن کو آپ پڑھنا سننا چاہتے ہیں وہ سوشل میڈیا پر موجود ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس سے سیکھنے کی بجائے دوسروں کو گالی دینے کیلئے استعمال کرتے ہیں مسئلے کو سمجھنے کی بجائے اختلاف رائے رکھنے والے کو دشمن سمجھتے ہیں جوں جوں علم تک رسائی بڑھتی جا رہی ہے اسے حاصل کرنے کی جستجو کم ہوتی جا رہی ہے
کہتے ہیں کہ انٹرنیٹ نے علم اور مواقع کو democratise کیا ہے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اسکا مثبت استعمال کیا ہو؟ منفی استعمال کرنے والے کہیں زیادہ ہیں، اب مصنوعی ذہانت میں اتنی ترقی ہو گئی ہے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے اسکا مثبت استعمال کیا ہو؟ بہت کم ہیں، زیادہ تر کی نظر میں اسکی افادیت گوگل کی سطحی سرچ سے زیادہ نہیں حالانکہ گوگل بھی بہت کام کا انجن ہے اس سے بھی بھرپور استفادہ نہیں کیا گیا
سوشل میڈیا کمپنیوں نے یہ کام لوگوں کی بھلائی ذہن میں رکھتے ہوئے نہیں بلکہ کاروبار سمجھ کر شروع کیا تھا انکا الگروتھم وہ ٹریفک زیادہ دکھاتا ہے جیسی لوگ دیکھنا چاہتے ہیں وہ تبلیغ نہیں کرتا ہے کہ فلاں چیز آپکے لئے اچھی رہے گی تاہم یہ اسکی ذمہ داری میں ہونا چاہیئے انسان کی خواہشات لامحدود ہیں لیکن قوانین اور اخلاقیات معاشرے میں ہم آہنگی رکھنے اور انتشار سے بچانے کیلئے بنائے جاتے ہیں اسی طرح سوشل میڈیا کیلئے بھی قواعد و ضوابط چاہئیں
سوشل میڈیا انسانوں کو مرغوں کیطرح لڑانے کا پلیٹ فارم بنا ہوا ہے اور یہ صرف غصے اور گالی کا فروغ نہیں کر رہا بلکہ یہ ہماری سوچنے کی صلاحیت محدود کر رہا ہے سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال انسانوں کو شاہ دولہ پیر کے چوہے بنا رہا ہے اس بارے سوچیں قواعد و ضوابط بننے کا انتظار نہ کریں
ذہنی ورزش کیلئے سوشل میڈیا سے دو گھنٹے کم کرکے کوئی کتاب یا مضامین پڑھا کریں جو آپکو سوچنے پر مجبور کریں (آپ ایسے مضامین سوشل میڈیا سے بھی لے سکتے ہیں) اپنے ذہن میں آنے والے سوالات سے گھبرائیں نہیں اگر فوری جواب نہیں ملتا تو انہیں ادھر رہنے دیں بعض اوقات بات کوئی اور ہو رہی ہوتی ہے لیکن آپکے ذہن میں پھنسے ہوئے سوال کا جواب آ جاتا ہے
نیوٹن نے جب سیب کے گرنے سے کشش ثقل بارے جانا تھا تو وہ اسی لئے ممکن ہوا تھا کہ اسکے ذہن میں سوال تھا وگرنہ سیب تو پہلے بھی گرتے آ رہے تھے یہ کوئی انہونا عمل نہیں تھی لیکن سوال اچھوتا تھا لہذا آپ بھی سوچا کریں ہر وقت مسائل بیان کرنے کی بجائے انکے حل سوچا کریں
Call for Applications: University of Verona MSc Program
The deadline is April 12, 2026.
All information is available at the following link: https://t.co/oCUFawlcFj
یہ لاہور کا لیڈی ولنگڈن ہسپتال ہے اور یہ پاکستان میں ہیلتھ کی صورتحال ہے بچے پیدا ہونے والے حساس ترین آپریشن کی ویڈیو بنا کر اس کا مذاق اڑا کر سوشل میڈیا پر ڈال رہے دنیا کا مہذب ملک ہوتا تو ڈاکٹرز کا لائسنس جاتا اور متعلقہ وزیر سب استعفی دیتے
مگر ۔۔۔۔
When the President is so unbalanced that his own Director of National Intel is afraid to answer threat assessment questions honestly, America is in danger.
"Why do you guys even have a job?"
BRAVO to @RepJimmyGomez for not buying the BS. Our own President is an imminent threat.
تم نے لاسٹ ٹائم کہا تھا کہ ایران نیوکلر ویپن نہیں بنا رہا تم نے ایسا کہا تھا یا نہیں کہاتھا ،مجھے ہاں یا نہ میں جواب دو ،میرا وقت ضائع نہ کرو۔
تم لوگ اگر کہتے ہو کہ کوئی خطرہ ایران سے نہیں ہے تو پھر ٹرمپ کس طرح کہہ سکتا ہے کہ ہمیں خطرہ ہے اور وہ جو مرضی کرتا پھرے ۔اس کا مطلب ہے ٹرمپ کو اپ لوگوں کے کام کی کوئی پرواہ نہیں ،تو پھر تم لوگ اپنی کام چھوڑ دو ۔
میں اور میری بیوی بہت خوش تھے۔پندرہ سو ریال میری تنخواہ اور سترہ سو ریال میری بیوی کی تنخواہ یعنی کل تین ہزار دو سو ریال آمدن پاکستان سے تقریبا دس گنا زیادہ
سنہ دو ہزار ایک میں میں دوبئی سے دوحہ قطر
چودہ دن کے ٹورسٹ ویزا پر جانے کےلیے قطر ائیرویز پر سوار ہوا۔دوران پرواز ائیر ہوسٹس چند اخبارات ہر سیٹ پر لے کر جارہی تھی اور مسافروں کو ان کی پسند کا اخبار پڑھنے کےلیے دے رہی تھی۔جب وہ میری سیٹ پر آئی تو میں نے قطر کا مشہور انگریزی اخبار گلف ٹائمز لےلیا پڑھنے کےلیے۔
اخبار بینی کی میری عادت نے یہاں پھر میری مدد کی۔
میں نے گلف ٹائمز میں کلاسیفائیڈ اشتہار دیکھے۔مختلف اشتہار تھے۔ضرورت رشتہ اور چند کمپنیوں کے اشتہار چند نوکریوں کے بارے میں۔
یہاں میرے ذھن میں ایک اچھوتا خیال ایا۔میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں اپنا اشتہار دوں بجاے اس کے کہ میں نوکریوں کے اشتہار دیکھ کر نوکری ڈھونڈوں ۔
دوحہ قطر پہچا تو میری بیوی مجھے ائیرپورٹ لینے آئی ہوئی تھی۔یہ ہماری چھ ماہ کے بعد ملاقات تھی۔ایک رات ہم نے ہوٹل میں گزاری۔میں نے اپنی بیوی سے نوکری ڈھونڈنے کا اپنا آئیڈیا شئیر کیا۔اسے بہت پسند ایا۔اگلے دن میری بیوی نے سکول سے مجھے اپنے ساتھ ہوسٹل میں ٹھہرانے کی اجازت لے لی۔
اسی دن میں اپنی بیوی کے ساتھ قطر ٹیلی کام کے آفس گیا اور اپنی بیوی کے نام ایک سم لی۔اس وقت ابھی ٹورسٹ ویزا پر سم نہیں ملتی تھی۔چونکہ میری بیوی ورک ویزا پر تھی تو وہ سم لے سکتی تھی۔موبائل فون میں دوبئی سے لایا تھا تو اب ہمارے پاس فون اور رابطہ نمبر تھا۔اس کے بعد ہم گلف ٹائمز کے دفتر گئے اور میں نے ان سے اشتہار کی قیمت پوچھی تو انھوں نے کہا کہ بیس ریال میں تین دن آپ کا اشتہار چھپے گا۔میں نے اس میں کچھ اس طرح کا اشتہار دیا
ایک پاکستانی شہری جو کہ ٹورسٹ ویزا پر ہے اور اسے کوریئر ،کارگو اور ٹرانسپورٹ کے کام کا تجربہ ہے ۔اسے قطر میں نوکری درکار ہے اور اگر آپ کو اس طرح کے بندے کی ضرورت ہے تو اس نمبر پر کال کرکے اسے انٹرویو کےلیے بلایا جاسکتا ہے۔
اگلے دن اشتہار چھپا اور مجھے پہلے دن گیارہ کالز آئیں انٹرویو کےلیے۔تین دنوں میں سو سے زیادہ کالز ائیں۔میں نے اگلے چند روز میں تقریبا پچاس کمپنیوں کو وزٹ کیا اور انٹرویو دیے۔
قطر پہنچنے کے ٹھیک ساتویں دن مجھے ایک نوکری مل گئی اور میری پہلی تنخواہ پندرہ سو ریال طے ہوئی۔شام کو میں واپس اپنی بیوی کے ہوسٹل گیا اور ساتھ مٹھائی لےکر گیا نوکری کی خوشی میں۔
میں اور میری بیوی بہت خوش تھے۔پندرہ سو ریال میری تنخواہ اور سترہ سو ریال میری بیوی کی تنخواہ یعنی کل تین ہزار دو سو ریال آمدن پاکستان سے تقریبا دس گنا زیادہ
اب ہم بڑے آرام سے گھر کرائے پر لے کر اپنے بچوں کو اپنے پاس بلا سکتے تھے۔بس اب ضرورت تھی تو مجھے پہلی تنخواہ اور ورک ویزہ ملنے کی۔
لیکن ابھی عشق کے امتحان اور باقی تھے۔
اگلے دن نوکری پر میرا پہلا دن تھا میں رات کو نوکری سے واپس اپنی بیوی کے ہوسٹل آیا ہی تھا کہ ہمارے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی اور سکول کے ایک سٹاف نے میری بیوی کو بتایا کہ میں اب ایک لمحہ بھی وہاں نہیں ٹھہر سکتا اور مجھے ابھی وہاں سے جانا یوگا۔میری بیوی نے اس پر سٹاف سے بحث کی۔وجہ پوچھی جوکہ نہیں بتائی گئی۔میری بیوی نے کہا کہ اگر سکول نے میرے شوہر کو ہوسٹل میں میں ٹھہرنے کی اجازت کینسل کرنے کا فیصلہ کیا ہی تھا تو دن میں بتا دیتے تاکہ ہم کوئی اپنا بندوبست کرلیتے۔
بہر حال میں نے اپنی بیوی کو سمجھایا اور کہا کہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور میں کوئی بندوبست کرلوں گا۔اس طرح میں رات کو اپنا بیگ اٹھا کر ہوسٹل سے نکل گیا۔
بعد میں معلوم ہوا کہ یہ کچھ ٹیچرز کا جیلسی پر مبنی پریشر تھا جس کی وجہ سے انتظامیہ نے مجھے ایک طرح سے ہوسٹل سے نکال دیا تھا۔کیونکہ ان ٹیچرز کےلیے یہ یقین کرنا ہی مشکل تھا کہ قدسیہ کا شوہر نہ صرف قطر اپنے طور پر آگیا تھا بلکہ آتے ہی ایک ہفتے کے اندر اندر اسے نوکری بھی مل گئی تھی۔
پاکستان سے نکلنے سے پہلے میں نے انٹرنیشنل یوتھ ہوسٹل ایسوسیشن کی ممبر شپ لی تھی اور ان کے لاہور میں واقع دفتر سے ان کے دوبئی اور قطر میں واقع ہوسٹل کے فون نمبر اور ایڈریس لیے تھے۔میں نے قطر یوتھ ہوسٹل فون کرکے ان کا ایڈریس کنفرم کیا اور ٹیکسی ہر وہاں پہنچ گیا اور وہاں تیس ریال دے کر ایک مشترکہ روم میں ایک بستر لے کر سو گیا۔
اگلے دن میں نے اپنی کمپنی کے سٹاف وین ڈرائیور جوکہ ایک پشتون تھے سے اپنی رہائش کا مسلہ بیان کیا تو وہ مجھے آفس سے قریب اپنے دوستوں کے گھر لے گیا۔وہ سب باجوڑ پاکستان کے رہنے والے تھے۔بہت مہربان لوگ تھے۔مجھے وہاں بغیر اے سی کے ایک دس بائی بیس کا کمرہ دو سو ریال مہینہ پر مل گیا۔
اے سی کے ساتھ اس کا کرایہ پانچ سو ریال تھا۔
میں نے بغیر اے سی کے کمرہ لیا تو مجھے ڈرائیور نے کہا کہ قطر میں بہت گرمی ہوتی ہے اور اے سی کے بغیر رہنا بہت مشکل یوگا۔
میں نے اس سے کہا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ میں کن حالات سے گزر کر آیا ہوں اور یہ گرمی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی اور سخت گرمی میں میں بغیر کسی مسلہ کے اسی کمرے میں رہا۔
وہ سب پشتون بھائی بہت اچھے تھے۔میں تقریبا دو ماہ ان کے ساتھ رہا۔روزانہ رات کا کھانا ان کے ساتھ کھایا اور انھوں نے کھانے کا بل لینے سے انکار کر دیا ۔کہ میں ابھی نیا نیا پردیس آیا ہوں تو مہمان یوں۔
بہرحال چھ ماہ بعد اپنی بیوی کے ساتھ ملنے کے سات دن بعد ہی ہم دوبارہ جدا ہوگئے اور ایک ہی شہر میں رہنے کے باوجود علیحدہ رہنے پر مجبور ہوگئیے۔اب انتظار تھا تو میری پہلی تنخواہ کا اور ورک ویزا ملنے کا۔
جاری ہے
مسعود گوندل/لیبیا
نوٹ: میری زندگی کی اس سچی آپ بیتی کے پچھلے حصے کا لنک پہلے کمنٹ میں موجود ہے۔
چھ ستمبر دو ہزار تین کو اپنے بیٹے حسان کی برتھ ڈے کیک کے ساتھ دونوں باپ بیٹے کی ایک یادگار تصویر
#ManWithYellow4x4 #UnforgettableMoments #perdesi #OverseasPakistanis #Memories #overseas
حکومتِ پاکستان کی جانب سے ہاؤسنگ فنانس اسکیم میں اہم ترامیم
وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس، حکومتِ پاکستان نے Markup Subsidy & Risk Sharing Scheme for Affordable Housing Finance میں اہم تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو گھر کی سہولت فراہم کی جا سکے اور ہاؤسنگ و کنسٹرکشن سیکٹر کو فروغ دیا جا سکے۔
اہم نکات:
• اسکیم صرف پاکستانی شہریوں (CNIC ہولڈرز) اور پہلی بار گھر خریدنے والوں کے لیے ہے
• درخواست دہندہ کے نام پر پہلے سے کوئی رہائشی پراپرٹی نہیں ہونی چاہیے
اسکیم کے تحت فنانسنگ کی سہولت:
• گھر / فلیٹ کی خریداری
• اپنے پلاٹ پر گھر کی تعمیر
• پلاٹ خرید کر گھر کی تعمیر
گھر کے سائز کی نئی حد:
• پہلے: 5 مرلہ تک گھر یا 1360 اسکوائر فٹ فلیٹ
• اب: 10 مرلہ (2720 Sq.ft) تک گھر
• 1500 Sq.ft تک فلیٹ
زیادہ سے زیادہ قرض کی حد:
• پہلے: 20 لاکھ سے 35 لاکھ روپے
• اب: 10 ملین روپے (1 کروڑ) تک
مارک اپ / فنانسنگ ریٹ:
• پہلے: Tier 1 = 5% ، Tier 2 = 8%
• اب: دونوں کے لیے فلیٹ 5% مارک اپ
قرض کی مدت:
• 20 سال تک (سبسڈی پہلے 10 سال)
بینک چارجز:
• کوئی پروسیسنگ فیس نہیں
• پری پیمنٹ پینلٹی نہیں
Loan to Value (LT